Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ وہ آپ کی قبر کو اس بت کی طرح بننے نہ دے، لوگ جس کی عبادت کرتے ہيں۔ مثلا اس کی غلو آمیز تعظیم کرتے ہیں اور اس کی جانب منہ کرکے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اللہ نے ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور کر دیا، جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا، کیوں کو ان کو مسجد بنانا ان کی عبادت اور ان کے بارے میں غلو آمیز عقیدے کا ذریعہ ہے۔
اس حدیث میں نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ مومن کو اس کے جان و مال وغیرہ میں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر وہ صبر کرے گا تو اللہ ان مصائب پر اسے ثواب دے گا اور یہ کہ مصیبت جتنی بڑی اور خطرناک ہوتی ہے اس پر اللہ کی طرف سے اتنا ہی بڑا ثواب ملتا ہے۔ پھر نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ مصائب کا آنا اللہ تعالیٰ کی مومن کے ساتھ محبت کی علامت ہے اور یہ کہ جو اللہ کی قضا و قدر میں لکھا ہے وہ لا محالہ ہو کر رہنا ہے لیکن جو شخص صبر و رضا کا مظاہرہ کرتا ہے اسے اللہ تعالی اپنی رضا کے ساتھ نوازے گا اور اسے ثواب دے گا اور جو برہم ہوتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس پر برہم ہوتا ہے اور اسے سزا دیتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ہے کہ وہ تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے۔ جب انسان نیکی کا کوئی کام کرتا ہے اور اسے اللہ اور غیراللہ دونوں کے لیے کرتا ہے، تو اسے اللہ قبول نہیں کرتا، بلکہ عمل کرنے والے کے منہ پر دے مارتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام کرتے وقت خالص اللہ کی رضامندی کا حصول سامنے رکھنا چاہیے، کیوں کہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کی رضامندی کے حصول کے لیے کیا جائے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں اپنے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ محبت کے اعلی درجے پر فائز ہیں۔ آپ کو اللہ کے یہاں محبت کا وہی مقام حاصل ہے، جو ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اسی لیے آپ نے اس بات کی نفی کر دی ہے کہ اللہ کے علاوہ آپ کا کوئی خلیل ہو۔ کیوں کہ آپ کا دل اللہ کی محبت، تعظیم اور معرفت سے بھرا ہوا ہے، لہذا اس میں کسی اور کے لیے کوئی جگہ نہيں ہے۔ ہاں، اگر کوئی مخلوق آپ کا خلیل ہوتا، تو یہ مقام ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوتا۔ پھر آپ نے محبت کے بارے میں جائز حد سے آگے بڑھنے سے متنبہ کیا، جیساکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے نبیوں اور نیک لوگوں کی قبروں کے ساتھ کیا اور ان کو معبود بنا کر اللہ کی بجائے پوجنا شروع کر دیا اور ان کى قبروں کو سجدہ گاہ اور عبادت گاہ بنا لیا۔ آپ نے اپنی امت کو ان کے نقش قدم پر چلنے سے منع کیا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بے شک اللہ کو غیرت آتی ہے اور وہ نفرت اور ناپسند کرتا ہے۔ اللہ کو غیرت اس بات پر آتی ہے کہ مؤمن زنا، لواطت، چوری اور شراب نوشی جیسے گناہ کے کام کرے، جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اللہ، اس کے ناموں اور صفات کو چھوڑ کسی اور کی قسم کھائی اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا یا شرک کیا۔ کیوں کہ قسم سے اس چیز کی تعظیم لازم آتی ہے، جس کی قسم کھائی جاتی ہے۔ جبکہ ہر قسم کی تعظیم صرف اللہ کے لیے ہے۔ لہذا قسم صرف اللہ، اس کے ناموں اور اس کی صفات کی کھائی جائے گی۔ قسم کھانا چھوٹا شرک ہے۔ لیکن اگر قسم کھانے والے کے دل میں اس چیز کی عظمت جس کی وہ قسم کھا رہا ہے‘ اللہ کی تعظیم کی جیسی یا اس سے بھی زیادہ ہو ، تو اس کا یہ عمل بڑا شرک بن جائے گا۔
اس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم منافقوں کے بارے میں اور نماز میں، بالخصوص عشا اور فجر کی نماز میں ان کی سستی کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آپ یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اگر منافقوں کو پتہ ہو جائے کہ ان دونوں نمازوں کو جماعت ميں شامل ہوکر مسلمانوں کے ساتھ ادا کرنے سے کتنا بڑا اجر و ثواب ملتا ہے، تو وہ اسی طرح گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چل کر ان دونوں نمازوں ميں شریک ہوں، جس طرح بچے چلنا سیکھنے سے پہلے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بار اس بات کا ارادہ کر لیا تھا کہ کسی کو اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کا حکم دے دیں، پھر کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر، جو لکڑیوں کے گٹھر لیے ہوئے ہوں، ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل ہوکر نماز پڑھنے کے لیے مسجد نہیں آتے اور ان کے سمیت ان کے گھروں کو جلا ڈالیں۔ کیوں کہ انھوں نے جماعت میں شامل نہ ہو کر جو گناہ کیا ہے، وہ بہت بڑا ہے۔ لیکن آپ نے ایسا نہيں کیا، کیوں کہ گھروں میں معصوم عورتیں، بچے اور معذور لوگ بھی ہوتے ہیں، جن کا کوئی گناہ نہیں ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ سب سے برے لوگ کون ہیں؟ آپ نے بتایا کہ سب سے برے لوگ وہ لوگ ہيں، جو اس وقت باحیات رہیں گے، جب قیامت قائم ہوگی۔ اسی طرح سب سے برے لوگوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو قبروں کو مسجد بنا لیں گے۔ یعنی قبروں کے پاس یا قبروں کی جانب منہ کرکے نماز پڑھیں گے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ آپ کو اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔ شرک اصغر سے مراد دراصل ریا ہے۔ یعنی انسان لوگوں کو دکھانے کے لیے کام کرے۔ پھر آپ نے لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرنے والوں کو قیامت کے دن ملنے والی سزا کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے کہا جائے گا کہ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے عمل کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا وہ تم کو ان کاموں کا بدلہ دے سکتے ہیں، جو تم ان کو دکھانے کے لیے کیا کرتھے تھے؟!