





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم تمام حالات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
رواه مسلمام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے ذکر کے بہت زیادہ حریص تھے اور آپ ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
جُندُب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم مضبوط وتونگر نوجوان لڑکے تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا جس سے ہمارے ایمان میں مزید اضافہ ہوا۔
رواه ابن ماجهجندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم طاقت ور اور مضبوط، قریب البلوغ نوجوان تھے۔ چنانچہ ہم نے قرآن سیکھنے سے پہلے نبی ﷺ سے ایمان سیکھا، پھر ہم نے قرآن سیکھا تو اس سے ہمارے ایمان میں اور اضافہ ہو گیا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں جن کی مثل پر لوگ ایمان لائے، اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجی ہے، چنانچہ میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکار ان سب سے زیادہ ہوں گے"۔
متفق عليهنبی ﷺ نے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالى نے تمام انبیاء کرام کی تائید فرمائی اور انہیں ایسی خارق عادت آیات اور معجزات عطا فرمائے جن سے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جاتا ہے اور جو آپ کے دیکھنے والوں سے آپ کی سچائی پر ایمان لانے کا تقاضا کرتے ہیں، نیز یہ کہ چیلنج کے مقابلے میں وہ عاجز آجاتا ہے، اس طور پر کہ وہ اسے خود سے دفع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن بسا اوقات وہ انکار کرتا اور عناد برتتا ہے۔ آپﷺ کا معجزہ اور نشانی وہ قرآن ہے جسے اللہ نے آپ کی طرف وحی کی۔ یہ اپنے کثیر فائدے، عمومی افادیت، دعوت وحجت اور مستقبل کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایک واضح اور دائمی معجزہ ہے۔ چنانچہ اس کی افادیت ہر حاضر وغائب اور ہر موجود اور آئندہ آنے والے کے لیے عام ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔
قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قراءت کیسی تھی؟ تو انھوں نے فرمایا: ”مد والی تھی“، پھر انھوں نے بسم الله الرحمن الرحيم پڑھ کر سنائی؛ آپ بسم اللہ کو کھینچتے، الرحمن کو کھینچتے اور الرحیم کو کھینچتے تھے۔
رواه البخاريانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ قرآن کیسے پڑھتے تھے؟ تو انھوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ کی قراءت مد والی تھی؛ آپ ﷺ الله کے لام کو، الرحمن کے میم کو اور الرحیم کی حا کو کھینچتے تھے۔“
ابن ابی مُلَیکَہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کی کسی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے -ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: میرے خیال میں وہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں- کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔“ ان سے عرض کیا گیا کہ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے۔ تو انہوں نے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی۔ ابو عامر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا: پھر ابن ابی مُلَیکَہ نے ہمیں {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} پڑھ کر سنایا، پھر {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} پر ٹھہرے، پھر {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} پر ٹھہرے۔
رواه أحمدام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ کی قرأتِ قرآن کیسی تھی؟ اس پر انہوں نے کہا: تم لوگ اس جیسی قراءت نہیں کر سکتے، تو ان سے کہا گیا: ہمیں بتا دیجیے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن ابی مُلَیکَہ نے نبی ﷺ کی قراءت کا طریقہ بیان کرنے کے لیے ہمارے سامنے ٹھہر ٹھہر کر قراءت کی، چنانچہ انہوں نے پڑھا: {الحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}، پھر ٹھہر گئے، {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}، پھر ٹھہر گئے، {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر حال میں قرآن پڑھایا کرتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ جنبی ہوتے۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه وأحمدنبی ﷺ اپنے صحابہ کو ہر حال میں قرآن کی تعلیم دیتے اور پڑھاتے تھے، سوائے اس کے کہ آپ اپنی اہلیہ سے جماع کی وجہ سے حالتِ جنابت میں ہوتے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی: ’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے‘ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے تم ظاہر کرو یا چھپاؤ‘ اللہ تعالی اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے سزا دے اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے‘‘ [البقرة: 284]، تو یہ آیت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر بڑی گراں گزری۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان اعمال کا مکلف کیا گیا جن کی ہم طاقت رکھتے ہیں، (جیسے) نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ اور (اب) آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «کیا تم وہی کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی؟ بلکہ تم کہو: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے»۔ انھوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اے ہمارے رب! ہم تجھ سے بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔ جب لوگوں نے (یہ کلمات) پڑھے اور ان کے ساتھ ان کی زبانیں رواں ہو گئیں تو اللہ نے اس کے بعد یہ آیت نازل فرمائی: ’’رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس کی طرف اللہ تعالی کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے‘ یہ سب اللہ تعالی اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے‘ اس کے رسولوں میں سے سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے‘ انہوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی‘ ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔‘‘ [البقرة: 285]۔ جب انھوں نے ایسا کر لیا تو اللہ تعالی نے اسے منسوخ فرما دیا اور اللہ عز و جل نے یہ نازل فرمایا: ’’اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا‘ جو نیکی وہ کرے وہ اس کے لیے اور جو برائی وہ کرے وہ اس پر ہے‘ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول گئے ہوں یا خطا کی ہو تو ہمیں نہ پکڑنا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر اس طرح بوجھ نہ ڈالنا جس طرح تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہ ہو۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘ (پھر کہا:) ’’اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر! تو ہی ہمارا مالک ہے‘ ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما۔‘‘ [البقرة: 286] اللہ تعالی نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘
رواه مسلمجب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: {آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ تعالی ہی کی ملکیت ہے} تخلیق، ملکیت، تصرف اور تدبیر کے اعتبار سے، {وَإِنْ تُبْدُوا} یعنی تم ظاہر کرو اور اعلان کرو {مَا فِي أَنْفُسِكُمْ} اس چیز کا جو تمہارے دلوں اور سینوں میں ہے {أَوْ تُخْفُوهُ} یا اسے پوشیدہ رکھو اور اپنے دلوں میں چھپائے رکھو {يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ} تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم سے اس کا حساب لے گا۔ ”جسے چاہے بخش دے“ اپنے فضل و رحمت کی بنا پر، ”اور جسے چاہے عذاب دے“ اپنے عدل کی بنا پر، ”اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے“ کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی۔ جب صحابہ کرام نے یہ سنا تو یہ بات ان پر بہت شاق گزری، کیونکہ اس میں دل میں آنے والے خیالات پر بھی مواخذہ تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہمیں ان جسمانی اعمال کا مکلف کیا گیا تھا جنہیں انجام دینے کی ہم طاقت رکھتے ہیں؛ جیسے نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ۔ لیکن اب آپ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے اور یہ ہماری طاقت سے باہر ہے۔ تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم بھی ویسا ہی کہنا چاہتے ہو جیسا کہ یہود و نصاریٰ نے کہا تھا کہ ’ہم نے سنا اور نافرمانی کی‘؟ بلکہ یوں کہو: "ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے‘۔“ چنانچہ صحابہ نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مان لیا، اور کہا: ”ہم نے سنا اور اطاعت کی، ہم تیری بخشش طلب کرتے ہیں اے ہمارے رب! اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔“ جب مسلمانوں نے اپنی زبانوں سے اس کا اقرار کیا، اور ان کے دل اس کے مطیع ہو گئے؛ تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ اور آپ کی امت کے تزکیے کے لیے اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: ”آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالمُؤْمِنُونَ“ اور ان کی زبانیں اور دل حکم الہی کے تابع ہو گئے۔ "یہ سب اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان ﻻئے، اس کے رسولوں میں سے کسی میں ہم تفریق نہیں کرتے"۔ بلکہ ہم ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے حکم کی اطاعت کی، اور اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش اور درگزر طلب کرتے ہیں، اور حساب کے دن تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ جب انہوں نے ایسا کیا اور اللہ کے احکامات کے لیے سمع وطاعت کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہہ دیا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا؛ تو اللہ نے اس امت کے تئیں تخفیف فرمائی اور اس آیت کو اپنے اس فرمان سے منسوخ فرما دیا: "اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کا ثواب اسی کے لیے ہے، اور اس نے جو گناہ اور برائی کی اس کا وبال اسی پر ہے"، اور اللہ کسی کو دوسرے کے گناہ پر نہیں پکڑتا اور نہ ہی اس کے دل میں آنے والے وسوسوں پر۔ {رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا} اے ہمارے رب! ہمیں نہ پکڑنا، یعنی ہمیں سزا نہ دینا، {إِنْ نَسِينَا} اگر ہم بھول گئے ہوں۔ یعنی ہمیں یاد نہ رہا ہو، {أَوْ أَخْطَأْنَا} یا خطا کی ہو۔ یعنی ہم نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے صحیح بات کو چھوڑ دیا ہو، تو اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا ہے۔ {رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا} اے ہمارے رب! اور ہم پر بوجھ نہ ڈال یعنی مشقت اور گرانی نہ ڈال، {كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا} جیسا کہ تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا یعنی بنی اسرائیل اور ان کے علاوہ دوسروں پر، تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔ {رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ} یعنی ایسی ذمہ داریاں، آزمائشیں اور معاملات ہم پر نہ ڈال جنہیں اٹھانے سے ہم عاجز ہیں، اللہ نے فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔ {وَاعْفُ عَنَّا} ہمارے گناہوں کو مٹا کر ہم سے درگزر فرما، {وَاغْفِرْ لَنَا} ہمارے گناہوں کو بخش دے، ان پر پردہ ڈال دے اور ان سے تجاوز فرما، {وَارْحَمْنَا} اپنی وسیع رحمت سے ہم پر رحم فرما، {أَنْتَ مَوْلَانَا} تو ہی ہمارا مالک اور آقا ہے؛ {فَانْصُرْنَا} حجت اور غلبے کے ساتھ ہماری مدد فرما {عَلَى الْقَوْمِ الكَافِرِينَ} كافروں کے ساتھ قتال اور جہاد میں، تو اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی، اور فرمایا: ہاں، میں نے ایسا کر دیا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک یہودی شخص نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین، آپ کی کتاب میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے، انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ اس نے کہا: {اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا} [المائدة: 3]۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور اس جگہ کو بھی جہاں یہ نبی ﷺ پر نازل ہوئی، جب کہ آپ ﷺ جمعہ کے دن عرفہ میں قیام فرما تھے۔
متفق عليهایک یہودی شخص امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا: ”آپ کی کتاب قرآن میں ایک آیت ہے جسے آپ لوگ پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہود کی جماعت پر ہماری کتاب تورات میں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کون سی آیت؟“ ان لوگوں نے کہا: ”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام بطور دین پسند کر لیا۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس دن اور اس جگہ کو جانتے ہیں جہاں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ یہ عید کے دن یعنی جمعہ کو نبی ﷺ پر اس وقت نازل ہوئی جب آپ عرفات میں کھڑے تھے، اور یہ دونوں دن مسلمانوں کے نزدیک بڑے عظمت والے ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمایا: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} [المائدة: 45] اور {فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ (آیات) یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل فرمائیں۔ ان میں سے ایک نے دورِ جاہلیت میں دوسرے پر غلبہ پا لیا تھا، یہاں تک کہ وہ اس بات پر راضی اور متفق ہو گئے کہ غالب گروہ اگر مغلوب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت پچاس وسق ہوگی، اور اگر مغلوب گروہ غالب گروہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت سو وسق ہوگی۔ چنانچہ وہ اسی پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد پر دونوں ہی گروہ کمزور پڑ گئے، اس وقت رسول اللہ ﷺ کو سیاسی غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا، اور نہ ہی آپ نے انہیں زیر کیا تھا، بلکہ آپ صلح کی حالت میں تھے۔ پھر مغلوب گروہ نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ تو غالب گروہ نے مغلوب گروہ کو پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس سو وسق بھیجو۔ اس پر مغلوب گروہ نے کہا: کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دو قبیلوں کا دین ایک ہو، نسب ایک ہو، اور شہر ایک ہو، (پھر بھی) ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟ ہم نے تو یہ تمہیں تمہارے ظلم اور خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب محمد ﷺ تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ نہیں دیں گے۔ اس پر ان کے درمیان جنگ چھڑنے ہی والی تھی، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان منصف بنا لیں۔ پھر غالب گروہ کو خیال آیا اور انہوں نے آپس میں کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمہارے حق میں ان کے خلاف دوگنی دیت کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ اور انہوں نے یعنی مغلوب گروہ نے سچ ہی کہا، انہوں نے ہمیں یہ آدھی دیت صرف ہمارے ظلم اور ان پر ہمارے غلبے کی وجہ سے دی تھی۔ لہٰذا تم محمد ﷺ کے پاس کسی کو خفیہ طور پر بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں حَکَم مان لینا، اور اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو ان سے بچنا اور انہیں حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس خفیہ طور پر بھیجا تاکہ وہ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی رائے معلوم کریں۔ چنانچہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے اپنے رسول کو ان کے سارے معاملے اور ان کے ارادے سے آگاہ فرما دیا۔ تب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیات نازل فرمائیں: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41] سے لے کر اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدة: 47]۔ پھر انہوں نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا: اللہ کی قسم! یہ آیات انہی کے بارے میں نازل ہوئیں، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مراد یہی دونوں تھے۔
رواه أحمدمدینے کے یہودیوں میں بنو قریظہ اور بنو نضیر تھے۔ جاہلیت میں ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے پر غالب آ گیا تھا۔ چنانچہ ان کے مابین یہ صلح طے پائی کہ غالب قبیلے کے ہاتھوں قتل ہونے والے مغلوب قبیلے کے ہر فرد کی دیت صرف پچاس وسق ہوگی، جب کہ مغلوب قبیلے کے ہاتھوں قتل ہونے والے غالب قبیلے کے ہر فرد کی دیت اس سے دوگنی یعنی سو وسق ہوگی۔ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ وہ اسی حال پر قائم رہے یہاں تک کہ نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے، اور دونوں گروہ آپ ﷺ کی تشریف آوری پر آپ کے تابع ہو گئے۔ حالانکہ اس وقت آپ ﷺ نے ابھی تک اپنے دشمنوں پر فتح نہیں پائی تھی اور نہ ہی انہیں اپنی اطاعت پر مجبور کیا تھا؛ کیونکہ یہ ہجرت کے بالکل ابتدائی ایام کی بات تھی اور آپ ﷺ (ان کے ساتھ) صلح کے مرحلے میں تھے۔ اس درمیان کمزور قبیلے کے ہاتھوں طاقتور قبیلے کا ایک شخص قتل ہوگیا، اس پر طاقتور قبیلے نے کمزور قبیلے کو پیغام بھیجا کہ معاہدے کے مطابق ہمیں سو وسق بھیجو۔ کمزور قبیلے نے کہا: کیا کبھی دو ایسے قبیلوں میں بھی ایسا ہوا ہے جن کا دین، نسب اور وطن ایک ہو، (پھر بھی) ان میں سے ایک کی دیت دوسرے کی دیت سے آدھی ہو؟! ہم نے تو تمہیں یہ محض تمہارے ظلم اور تم سے خوف کی وجہ سے دیا تھا۔ لیکن اب جب کہ محمد ﷺ تشریف لاچکے ہیں، ہم تمہیں یہ ہرگز نہیں دیں گے۔ چنانچہ قریب تھا کہ ان دونوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے، پھر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے درمیان حَکَم بنائیں۔ پھر طاقتور قبیلے نے غور کیا اور کہا: اللہ کی قسم! محمد ﷺ تمھیں ان کے مقابلے میں دو گنا نہیں دیں گے جتنا وہ تمہیں دیتے ہیں۔ اور انہوں نے سچ ہی کہا، انہوں نے یہ مال ہمیں محض ہمارے ظلم اور ان پر ہماری زبردستی کی وجہ سے ہی دیا تھا۔ لہٰذا تم لوگ محمد ﷺ کے پاس خفیہ طور پر کسی کو بھیجو جو تمہارے لیے ان کی رائے معلوم کرکے آئے۔ اگر وہ تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ دیں تو انہیں اپنا حَکَم بنا لینا، اور اگر وہ تمہاری مرضی کے مطابق فیصلہ نہ دیں تو انہیں چھوڑ دینا اور اپنے درمیان حَکَم نہ بنانا۔ چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کی رائے جاننے کے لیے منافقین میں سے کچھ لوگوں کو خفیہ طور پر رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا۔ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی اور اپنے رسول کو ان کے تمام معاملے اور ان کے ارادوں سے باخبر کر دیا۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے سورہ مائدہ میں اپنا یہ فرمان نازل فرمایا: {يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الذِينَ قَالُوا آمَنَّا} [المائدة: 41]۔ اپنے اس فرمان تک: {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمِ الْفَاسِقُونَ} [المائدۃ: 47] پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان ہی دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: ”اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں۔“ [المائدة: 44] اور {... وہی لوگ ظالم ہیں۔} [المائدة: 45] اور {...وہی لوگ فاسق ہیں} [المائدة: 47]، اور اللہ عز وجل نے انھی دونوں کو مراد لیا ہے۔