





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "وہ شخص ہم میں سے نہیں، جس نے رخسار پیٹا، گریبان چاک کیا اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بین کیا۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت والوں کے کچھ افعال سے منع اور خبردار کیا ہے۔ فرمایا : وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے: 1- جو رخسار پیٹے۔ آپ نے بطور خاص رخسار پیٹنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس طرح کے موقعوں پر عام طور سے رخسار ہی پیٹا جاتا ہے۔ ورنہ چہرے کے باقی حصے کو پیٹنا بھی ممانعت میں داخل ہے۔ 2- جس نے جزع فزع کرتے ہوئے گریبان پھاڑا۔ 3- دور جاہلیت کے لوگوں کی بول بولے۔ مثلا ہائے ہائے اور بربادى کا الاپ لگائے, نوحہ اور ماتم وغیرہ کرے۔
سمرہ بن جنب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دوزخیوں میں سے کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں ٹخنوں تک آگ ہوگی، کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ ہوگی، کچھ وہ ہوں گے جن کی کمر تک آگ ہوگی اور کچھ لوگ وہ ہوں گے جن کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ آ رہی ہو گی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں قیامت کے دن سے اور دوزخ کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے کیونکہ نبی ﷺ وضاحت فرما رہے ہیں کہ قیامت کے دن کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کے ٹخنوں، گھٹنوں اور کمر تک آگ پہنچ رہی ہو گی اور کچھ لوگ ایسے ہوں گے جن کی گردن تک آگ پہنچ رہی ہو گی۔ چنانچہ عذاب کے لحاظ سے لوگ ایک دوسرے سے متفاوت ہوں گے اور ان کے مابین یہ تفاوت دنیا میں ان کے اعمال کے لحاظ سے ہو گا۔ ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا : "اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا : اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا، میں تیرے گناہوں کو بخشتا رہوں گا، چاہے وہ جتنے بھی ہوں، میں اس کی پرواہ نہيں کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کے بلندی کے برابر ہو جائيں، پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے، تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہيں ہے۔ اے ابن آدم! اگر تو میرے پاس زمین کے برابر گناہ لے کر اس حال میں آئے کہ تونے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تیرے پاس زمین کے برابر بخشش لے کر آؤں گا۔"
رواه الترمذياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے حدیث قدسی میں فرمایا: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا رہے گا، میری رحمت کی امید لگائے رہے گا اور نا امید نہیں ہوگا، میں بے پرواہ ہوکر تیرے گناہ پر پردہ ڈالتا رہوں گا اور اسے مٹاتا رہوں گا۔ خواہ یہ گناہ کبیرہ گناہوں کے زمرے میں ہی کیوں نہ آتا ہو۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ اتنے زیادہ بھی ہو جائيں کہ آسمان اور زمین کے درمیان کے خلا کو بھر دیں اور اس کے بعد بھی تم مجھ سے بخشش طلب کرو، تو گناہوں کی کثرت کی کوئی پرواہ کیے بغیر میں تجھ کو بخش دوں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو موت کے بعد میرے پاس اس حال میں آئے کہ تیرے گناہوں اور نافرمانیوں سے روئے زمین بھری ہوئی ہو اور تو موحد بن کر فوت ہوا ہو اور کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں ان گناہوں اور نافرمانیوں کے مقابلے میں روئے زمین بھر مغفرت سے کام لوں گا۔ کیوں کہ میری بخشش کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ میں شرک کے علاوہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بندہ (روزِ قیامت) اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہوگی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔قیامت کے دن ہر بندے کو اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہوگی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور محبوب ہے۔ تاہم خیر تو دونوں ہی میں ہے۔ جو چیز تمہارے لیے فائدے مند ہو، اس کی حرص رکھو اور اللہ سے مدد مانگو اور عاجز نہ بنو۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آ جائے، تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا ہوجاتا۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ کی تقدیر ہے اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کیوں کہ ”اگر“ شیطان کے عمل دخل کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ ویسے تو ہر مومن میں خیر ہوتی ہے، لیکن ایمان، عزیمت اور مال وغیرہ طاقت کے پہلوؤں میں قوی مومن اللہ عز و جل کے یہاں کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مومن کو ایسے اسباب اختیار کرنے کی وصیت فرمائی جن سے دنیا وآخرت کی بھلائی حاصل ہو سکے‘ ساتھ ہی اللہ پر اعتماد، اس سے مدد مانگنے کا جذبہ اور اس پر بھروسہ شامل حال ہوں۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عاجزی، سستی اور دونوں جہانوں میں نفع پہنچانے والی چيزوں سے پیچھے رہنے سے منع فرمایا ہے۔ جب مومن پوری تندہی سے عمل کرے، اسباب اختیار کرے، اللہ سے مدد اور خیر طلب کرتا رہے، تو اس کے بعد بس اتنا بچ جاتا ہے کہ اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کر دے اور اس بات کا یقین رکھے کہ اللہ جو کرے گا، وہ خیر ہی ہوگا۔ اس کے بعد اگر کوئی مصیبت لاحق ہو، تو یہ نہ کہے : "اگر میں ایسا کر لیتا، تو ایسا اور ایسا ہوتا۔" "کیوں کہ لفظ (اگر) شیطان کے عمل کے راستے کھول دیتا ہے۔" یعنی انسان تقدیر پر اعتراض اور فوت شدہ چيز پر افسوس کرنے لگتا ہے۔ انسان کو راضی بہ رضا رہتے ہوئے اور خود سپردگی کا ثبوت دیتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہیے : "یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اللہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے۔" لہذا جو کچھ ہوا، وہ اللہ کے ارادے کے مطابق ہوا۔ کیوں کہ وہ جو چاہتا ہے، کر گزرتا ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہيں سکتا اور اس کے حکم کو کوئی روک نہیں سکتا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا! وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا! اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا! وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا! کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا!۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ وہ کہے گا: اے میرے رب میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا آپ تو رب العالمین ہیں؟!، یعنی آپ کو تو ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کی بیمار پرسی کرتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں بیمار ہوا تو تُو نے میری بیمار پرسی نہیں کی؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بیماری کا لاحق ہونا ناممکن ہے؛ کیوں کہ بیمار ہونا صفتِ نقص ہے جب کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے عیبوں سے پاک ہے، لیکن یہاں بیماری سے مراد اس کے نیک اور صالح بندوں میں سے کسی بندے کا بیمار ہونا ہے جو کہ اس کے خاص لوگ ہوتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اس کی بیمار پرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا! اور یہ نہیں فرمایا کہ تُو اس کا اجر میرے پاس پاتا جیسا کہ آگے چل کر کھانے اور پینے کے بارے میں فرمایا، بلکہ یہاں تو یہ فرمایا کہ تُو مجھے اس کے پاس پاتا، اور یہ بات مریض کی اللہ تعالیٰ سے قربت پر دلالت کرتی ہے، اسی لیے علماء کا کہنا ہے کہ مریض کا کسی شخص کے لیے دعاء یا بد دعاء کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں سنا جاتا ہے۔ اللہ کا یہ فرمان : اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا!، یعنی میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تُو نے مجھے نہیں کھلایا، یہ تو بات تو طَے شدہ ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے لیے تو کھانا طلب نہیں کرتا اس کا فرمان ہے: ﴿وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ﴾ ”وہی ہے جو کھانے کو دیتا ہے، اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا“ (الأنعام: 14) وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے اسے نہ کھانے کی ضرورت ہے نہ تو پینے کی حاجت ہے، لیکن دنیا میں اس کے بندوں میں سے کسی بندے کو بھوک لگی تو ایک شخص نے باوجود جاننے کے اسے کھانا نہ کھلایا تو ارشاد فرمایا: اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا“ یعنی اس کھلانے کا ثواب میرے پاس میرے خزانون سے پاتا میرے پاس ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اللہ کا یہ فرمان: اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو تُو نے مجھے نہیں پلایا، یعنی میں نے تجھ سے پینے کی کوئی چیز مانگی تو تُو نے مجھے نہیں دی تو بندہ کہے گا :میں کیسےآپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں؟، یعنی آپ کو تو کھانے پینے کی ضرورت ہی نہیں، تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے کو پیاس لگی یا اس نے تجھ سے پانی مانگا، اور تو نے اسے نہیں پلایا، کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پانی پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی پیاسا آپ سے پانی مانگے تو اسے پانی پلانے پر آپ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس پلانے کا ثواب (خزانوں میں) جمع ہو گا، ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم حجۃ الوداع کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے، جب کہ نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے اور ہم نہیں سمجھتے تھے کہ حجۃ الوداع کا مفہوم کیا ہے۔۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور مسیح دجال کا تفصیلی ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنے بھی نبیوں کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا، ہر ایک نے دجال سے اپنی امت کو ڈرایا ہے، نوح علیہ السلام اور ان کے بعد آنے والے دیگر انبیاء نے بھی اپنی امت کو اس سے ڈرایا اور وہ تم ہی میں سے نکلے گا۔ پس یاد رکھنا کہ تم کو اس کے جھوٹے ہونے کی اور کوئی دلیل نہ معلوم ہو تو یہی دلیل کافی ہے کہ تمہارا پروردگار، کانا نہیں ہے اور وہ مردود اپنی دائیں آنکھ سے کانا ہو گا، اس کی آنکھ ایسی معلوم ہو گی جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ!۔خوب سن لو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے آپس کے خون اور اموال اسی طرح حرام کر دیے ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت، تمہارے اس شہر اور اس مہینہ میں مسلَّمْ ہے۔ ہاں بولو! کیا میں نے (اپنا ربانی پیغام تم تک) پہنچا دیا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم بولے کہ آپ نے پہنچا دیا۔ پھر فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا، تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہ جملہ دہرایا۔ افسوس! (آپ نے ”ويلكم“ فرمایا یا ”ويحكم“، راوی کو شک ہے) دیکھو، میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے (مسلمان) کی گردنیں مارنے لگو۔
متفق علیہعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہم کہا کرتے تھے کہ حجۃ الوداع کیا ہے؟ اور ہمیں پتہ نہیں تھا کہ حجۃ الوداع کیا ہے۔ حجۃُ الوداع، اس حج کو کہا جاتا ہے جو نبی ﷺ نے ہجرت کے دسویں برس کیا۔ جس میں آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنا وداعی پیغام دیا اور اس میں مسیح دجال کا ذکر کرتے ہوئے اس کے معاملہ کو بہت زیادہ تشویشناک قرار دیا اور اس سے بچاؤ اختیار کرنے کی پورے شد و مد کے ساتھ تلقین فرمائی، پھر آپ ﷺ نے یہ خبر دی کہ سارے ہی انبیاء کرام، اپنی اقوام کو دجال سے ڈرایا کرتے تھےاور انھیں اس کا خوف دلایا کرتے اور اسے بہت خطرناک بتاتے تھے اور یہ کہ یقینا اس کا معاملہ تم سے مخفی نہ رہے گا کیوں کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے اور اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی دائیں آنکھ سے کانا ہے جو ایسے معلوم ہوتی ہے کہ نمایاں طور پر ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر آپس میں ایک دوسرے کا خون بہانے اور ناحق اموال ہڑپنے کو، اسی طرح حرام کردیا ہےجس طرح قربانی کے اس دن کی حرمت ہے، شہرِ مکہ کی حرمت ہے اور ماہ ذی الحجہ کی حرمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا:کیا میں نے تمہیں(دین اسلام کی) وہ تمام باتیں پہنچادیں جسے تم تک پہنچانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی؟ تمام صحابہ کرام نے فرمایا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اے اللہ! تبلیغِ رسالت کے تئیں، امت کی اس گواہی پر تو گواہ رہنا۔ آپ ﷺ نے اس جملہ کو تین بار دہرایا۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ آپ کی وفات کے بعد کافروں کی طرح نہ ہوجائیں کہ ایک دوسرے کی گردن زدنی کرنے لگیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی نبی آیا، اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے (دجال) سے ضرور ڈرایا۔ آگاہ رہو! وہ دجال کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”ک ف ر“ لکھا ہوا ہوگا“۔
متفق علیہاللہ کے فرستادہ ہر نبی نے اپنی امت کو مسیح دجال سے ڈرایا اور متنبہ کیا ہے۔ کیونکہ انہیں اس کے نکلنے اور اس کی سخت فتنہ پردازی کا علم تھا۔ نیز انہوں نے اپنی امتوں کے لیے اس کی کچھ صفات بھی بیان کی ہیں۔ اس حدیث میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کانا ہوگا، جب کہ اللہ تعالیٰ اس عیب سے پاک ہے۔ اسی طرح اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے مابین ”ک ف ر“ (کفر) لکھا ہوگا۔
حذیفہ بن یمان اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا۔ مومن کھڑے ہوں گے يہاں تک کہ جنت ان کے قریب کر دی جائے گی۔ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آ کر ان سے درخواست کریں گے کہ: اے ہمارے باپ! ہمارے ليے جنت کھلوائيے۔ اس پر وہ جواب دیں گے: تمھیں تمہارے باپ کی خطا ہی نے تو جنت سے نکلوایا تھا۔ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ۔ آپ ﷺ نےفرمایا: پس لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں، میرے خلیل ہونے کا مقام تو اس سے بہت پیچھے ہے۔ تم لوگ موسی علیہ السلام کے پاس جاؤ جن سے اللہ نے براہ راست کلام کیا تھا۔ چنانچہ وہ موسی علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم عیسی علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ تو عیسی علیہ السلام جواب دیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ چنانچہ وہ محمد ﷺ کے پاس آئیں گے۔ آپ ﷺ کھڑے ہوں گے اور آپ ﷺ کو (شفاعت کی) اجازت دے دی جائے گی۔ اور امانت اور صلہ رحمی کو چھوڑ ديا جائے گا تو وہ دونوں پل صراط کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہو جائیں گے۔ تم میں سے پہلا گروہ بجلی کی طرح گزر جائے گا۔ میں نے دریافت کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! بجلی کی طرح گزرنے کے کیا معنی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نہيں ديکھا کہ بجلی کیسے پلک جھپکنے میں گزر کر واپس لوٹ آتی ہے۔ پھر (دوسرا گروہ) ہوا کے گزرنے كى طرح، پھر پرندے کے گزرنے کی طرح، پھر پیادہ تیز ڈوڑنے والے مضبوط ترین آدميوں کی طرح (گزريں گے)۔ لوگ اپنے اعمال کے مطابق گزر رہے ہوں گے اور تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے ہوئے فرما رہے ہوں گے: اے ميرے پروردگار! تو (انہیں جہنم سے) محفوظ رکھ، تو (انہیں ) سلامتی سے گزار دے، يہاں تک کہ بندوں کے اعمال (انہيں تیز رفتاری کے ساتھ گزارنے سے) عاجز آ جائیں گے، حتی کہ آدمی گھسٹتا ہوا آئے گا، اسےچلنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اور پل صراط کے دونوں کناروں پر آنکڑے لٹکے ہوں گے اور جس کے بارے ميں انھیں حکم ہوگا اسے اپنی گرفت ميں لے لیں گے۔ چنانچہ کچھ تو زخمی ہوں گے لیکن نجات پا جائیں گے اور کچھ کو پٹخ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے! جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو حساب وکتاب اور جزا و سزا کے لیے جمع کرے گا۔ مومن لوگ کھڑے ہوں گے اور جنت کو ان کے قریب کر دیا جائے گا تاہم اسے ان کے لیے کھولا نہیں جائے گا کیونکہ قیامت کے دن میدان حشر میں بہت لمبے وقت کے لیے ٹھہرنا ہو گا۔ چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس جا کر ان سے گزارش کریں گے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں درخواست کریں کہ وہ ان کے لیے جنت کو کھول دے۔ آدم علیہ السلام انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیں گے کہ وہ اس کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ان کی خطا کی وجہ سے ہی تو ان سب کو جنت سے نکلنا پڑا تھا۔ وہ انہیں ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج دیں گے کیونکہ وہ اللہ کے خلیل ہیں اور خلت محبت کا سب سے بلند درجہ ہے۔ وہ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے لیکن وہ بھی انہیں یہ جواب دیں گے کہ وہ اس مقامِ بلند کے حامل نہیں ہيں۔ وہ ان سے کہیں گے کہ موسی علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے ان سے بغیر کسی واسطے کے براہ راست کلام کیا تھا۔ چنانچہ وہ موسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہ بھی ان سے کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ تم عیسی علیہ السلام کے پاس جاؤ جنہیں اللہ تعالی نے اپنے کلمے سے پیدا فرمایا۔ چنانچہ وہ عیسی علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہ بھی ان سے یہی کہیں گے کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ بالآخر وہ ہمارے نبی محمد ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ ﷺ سے گزارش کریں گے کہ آپ ﷺ اللہ سے درخواست کریں کہ اللہ ان کا فیصلہ فرما دے اور ان کے لیے جنت کو کھول دے۔ آپ ﷺ ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے (اللہ سے شفاعت کی) اجازت کے طلب گار ہوں گے۔ آپ ﷺ کو اجازت دے دی جائے گی۔ پھر امانت اور رحم آکر پل صراط کے دونوں اطراف میں کھڑے ہو جائیں گے۔ پل صراط جہنم پر تانا ہوا پل ہو گا جس پر سے لوگ اپنے اعمال کے حساب سے گزریں گے۔ جو شخص دنیا میں نیک اعمال میں جلدی کرتا ہوگا وہ اس پل پر سے تیزی سے گزر جائے گا اور جو اس کے برعکس ہوں گے ان کا معاملہ بالکل الٹ ہوگا۔ ان لوگوں میں سے کچھ تو نجات پا کر نکل جائیں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو جہنم میں گر جائیں گے اور جہنم کے تہ تک ستر سال کے بعد پہنچیں گے کیونکہ جہنم کی تہ بہت دور ہے۔ اللہ کی پناہ!