





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب ہو گیا، تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے، جو مجھے جنت میں لے جائے اور جہنم سے دور رکھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے اور بے شک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے، جس کے لیے اللہ آسان کر دے۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے، جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا"۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ”تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ“ کی تلاوت ” يَعْمَلُونَ“ تک فرمائی“ (ترجمہ: ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کیا میں تمھیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیے)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دین کی بنیاد اسلام ہے اور اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دار و مدار ہے، وہ نہ بتا دوں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسے اپنے قابو میں رکھو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں، اس پر پکڑے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری ماں تم پر روئے، اے معاذ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ (یا فرمایا : اپنے نتھنوں کے بل) جہنم میں ڈالے جائیں گے؟“۔
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمدمعاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہيں : میں ایک سفر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھا۔ چلتے ہوئے ایک دن میں آپ سے قریب پہنچ گیا، تو عرض کیا : اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائيں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور رکھے۔ آپ نے کہا : تو تم نے ایک ایسے عمل کے بارے میں پوچھا ہے، جو نفس پر شاق گزرتا ہے، لیکن اللہ کی توفیق شامل حال ہو جائے، تو آسان بھی ہے۔ اسلام کے فرائض ادا کرو : 1- تم بس ایک اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ۔ 2- دن اور رات میں پانچ وقت کی فرض نمازوں کو ان کی شرطوں، ارکان اور واجبات کے ساتھ قائم کرو۔ یہ پانچ نمازیں ہیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ 3- فرض زکاۃ نکالو۔ زکاۃ دراصل ایک مالی عبادت ہے، جو شرعی طور پر مقررہ مقدار تک پہنچنے والے مال پر واجب ہوتی ہے اور حق داروں کو دی جاتی ہے۔ 4- ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ روزہ نام ہے فجر طلوع ہونے سے لے کر سورج ڈوبنے تک کھانے پینے اور دیگر روزہ توڑنے والی چيزوں سے رکے رہنے کا۔ 5- خانۂ کعبہ کا حج کرو۔ دراصل حج نام ہے اللہ کی عبادت کی خاطر مناسک کی ادائیگی کے ارادے سے مکہ کا رخ کرنے کا۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کیا میں تم کو خیر کے دروازوں تک پہنچانے والا راستہ نہ بتاؤں؟ وہ راستہ یہ ہے کہ فرائض کے بعد نوافل کا اہتمام کیا جائے : 1- نفلی روزہ۔ نفلی روزہ انسان کو گناہ میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔ کیوں کہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے اور قوت نفسانی کو کمزور کرتا ہے۔ 2- نفلی صدقہ گناہ کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور اس کے اثر کو مٹا دیتا ہے۔ 3- رات کے آخری تہائی حصے میں تہجد کی نماز پڑھنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالی کا یہ قول پڑھا: {تتجافى جنوبهم} ان کے پہلو دور رہتے ہیں {عن المضاجع} سونے کی جگہوں سے۔ {يدعون ربهم} وہ نماز، ذکر، تلاوت اور دعا کے ذریعے اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ {خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون، فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين} (اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے، وه خرچ کرتے ہیں۔کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لیے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔) یعنی لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے اعمال کے بدلے میں قیامت کے دن ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بہم پہنچانے والی کیا کیا چیزیں اور جنت میں کیا کیا نعمتیں پیدا کر رکھی ہیں۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: کیا میں تم کو دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں؟ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ضرور، اے اللہ کے رسول! اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: دین کی بنیاد اسلام یعنی دونوں گواہیاں (شہادتین) ہیں۔ ان کے ذریعہ انسان کے ہاتھ میں دین کی بنیاد آجاتی ہے۔ اس کا ستون نماز ہے۔ نماز کے بغیر اسلام کا وجود نہیں ہے۔ بالکل ویسے ہی، جیسے ستون کے بغیر کسی گھر کا وجود نہیں ہوتا۔ جو نماز کا پابند ہے، اس کا دین مضبوط اور بلند ہے۔ جب کہ اسلام کی سربلندی کا ذریعہ جہاد اور اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے دین کے دشمنوں سے جنگ کرنا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا : کیا میں تم کو ایسی چيز نہ بتاؤں، جس سے گزری ہوئی تمام چيزیں مضبوط اور پختہ ہوجاتی ہیں؟ آپ نے اپنی زبان پکڑ لی اور فرمایا : اس پر قابو رکھو اور غیر ضروری باتیں نہ بولو۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا ہماری کہی ہوئی باتوں کا ہمارا رب ہم سے مؤاخذہ کرے گا، حساب لے گا اور سزا دے گا؟ آپ نے جواب دیا : تمھاری ماں تم کو گم پائے۔ یاد رہے کہ اس جملے سے مراد بد دعا نہیں ہوتی۔ عرب کے لوگ اس کا استعمال انسان کو کسی ایسی بات پر متنبہ کرنے کے لیے کرتے ہيں، جس سے اسے متنبہ ہونا چاہیے تھا۔ پھر آپ نے فرمایا: لوگوں کو ان کے منہ کے بل صرف اس لیے ہی گھسیٹا جائے گا کہ وہ اپنی زبان سے کفریہ کلمات نکالتے‘ سب وشتم‘ غیبت وچغل خوری اور بہتان تراشی وغیرہ کرتے ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ پاک ہے اور پاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے۔ اللہ نے اپنے مومن بندوں کو اسی چیز کا حکم دیا ہے، جس کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا“ [سورہ مومنون : 51] (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ“ [سورہ بقرہ : 172] (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھاؤ، پیو۔) پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر پر نکلا ہوا ہو، اس کے بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہو۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہے: ”اے میرے رب! اے میرے رب!“ حالاں کہ اس کا کھانا حرام، اس کا پینا حرام، اس کا لباس حرام اور حرام ہی سے اس کی پرورش ہوئی ہو۔ ایسے میں بھلا اس کی دعا کہاں سے قبول ہوگی؟“
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ بلاشبہ اللہ پاک ہے، مقدس ہے، کمیوں اور عیوب سے منزہ ہے اور کمالات سے متصف ہے۔ وہ انہی اعمال، اقوال اور اعتقادات کو قبول کرتا ہے، جو پاک ہوں اور جنھیں صرف اللہ کی رضاجوئی کے لیے اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ اللہ کا تقرب صرف اسی طرح کی عبادتوں کے ذریعے حاصل کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ اعمال کی پاکیزگی کا ایک اہم ترین ذریعہ حلال کھانا کھانا ہے۔ حلال کھانا کھانے سے انسان کا عمل پاک صاف ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ نے رسولوں کو حلال روزی کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح اہل ایمان کو بھی دیا ہے۔ ارشاد باری ہے : ”يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا“ [سورہ مومنون : 51] (اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔) نیز ارشاد فرمایا: ”يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ“ [سورہ بقرہ : 172] (اے ایمان والو! جو پاکیزه چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انھیں کھاؤ۔) پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حرام غذا کھانے سے خبردار فرما دیا۔ کیوں کہ حرام غذا عمل کو فاسد کر دیتی ہے اور اسے اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے نہیں دیتی۔ چاہے قبول ہونے کے ظاہری اسباب جتنے بھی پائے جائیں۔ مثلا : 1- کسی نیکی کے کام، جیسے حج، جہاد اور صلہ رحمی وغیرہ کے لیے لمبا سفر کرنا۔ 2- انسان کا پریشان حال ہونا۔ جیسے اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور دھول مٹی لگنے کی وجہ سے اس کے جسم اور کپڑے کا رنگ بدلا ہوا ہو۔ اور یہ سب کچھ اس بات کى دلیل ہے کہ ایسا شخص مضطر ہے۔ 3- دعا کے لیے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھانا۔ 4- اللہ کے اسما کو وسیلہ بنانا اور الحاح و زاری کے ساتھ دعا کرنا۔ مثلا یا رب یا رب کہنا۔ قبولیت دعا کے مذکورہ اسباب پائے جانے کے باوجود انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ کیوں کہ اس کا کھانا حرام کا، اس کا پینا حرام کا، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کی پرورش حرام غذا سے ہوئی ہے۔ لہذا اس کی دعا قبول ہو ہی نہیں سکتی۔
مقداد بن عمرو کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ اگر میرا کسی کافر سے سامنا ہو جائے اور ہم ایک دوسرے سے لڑائی شروع کر دیں اور وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے اور پھر مجھ سے بچنے کے لیے ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہے کہ میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کیا، تو کیا میں ایسا کہنے کے بعد بھی اسے قتل کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے قتل نہ کرو"۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے تو میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور ہاتھ کاٹنے کے بعد ایسا کہا؟ (کیا پھر بھی اسے قتل نہیں کرنا چاہیے؟) آپ ﷺ نے فرمایا : "اسے قتل نہ کرو۔ اگر تم اسے قتل کر دو گے، تو وہ اس جگہ پر آ جائے گا، جس پر اس کو قتل کرنے سے پہلے تم تھے اور تم اس جگہ پر چلے جاؤ گے، جس پر وہ اس کلمے کو کہنے سے پہلے تھا"۔
متفق عليهمقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ جب میدان جنگ میں ان کا سامنا کسی کافر سے ہو جائے، دونوں اپنی اپنی تلوار لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائيں، کافر ان کے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اسے کاٹ دے، پھر بھاگ کر ایک درخت کی آڑ لے لے اور کہنے لگے کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے، تو کیا میرے لیے اس کا قتل حلال ہوگا، جب کہ اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا ہے؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تم اسے قتل مت کرو۔ جواب سن کر انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ دیا، اس کے باوجود میں اس کا قتل نہ کروں؟ آپ نے فرمایا : تم اس کا قتل مت کرو۔ کیوں کہ اب اس کا خون کرنا حرام ہو چکا ہے۔ اگر مسلمان ہو جانے کے بعد بھی تم اس کا قتل کر دوگے، تو وہ مسلمان ہو جانے کی وجہ سے معصوم الدم ٹھہرا اور تم اس کا قتل کرنے کی وجہ سے بطور قصاص مباح الدم ہو گئے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ حرقہ کی طرف (مہم پر) بھیجا۔ ہم نے ان لوگوں کو صبح کے وقت ان کے پانیوں پر انہیں جالیا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک انصاری آدمی قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تک پہنچے اور جب ہم نے اسے گھیرلیا تو اس نے کہا ”لا الہ الا ﷲ“۔ انصاری صحابی نے تو (یہ سنتے ہی) ہاتھ روک لیا لیکن میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو اس واقعہ کی خبر نبی ﷺ تک پہنچی۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا:’’اسامہ! کیا تم نے کلمہ لا الہ الا اﷲ کا اقرار کرنے کے بعد بھی اسے قتل کر ڈالا؟‘ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس نے صرف جان بچانے کے لیے اس کا اقرار کیا تھا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کیا تم نے اسے ’لا الہ الا ﷲ‘ کا اقرار کرنے کے بعد قتل کر ڈالا؟“ آپ ﷺ یہ جملہ بار بار مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہو گئی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان ہی نہ ہوا ہوتا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: كيا اس نے لا إله إلا الله کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اس نے ایسا اسلحے کے خوف سے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا کہ تجھے پتہ چل جاتا کہ اس نے خلوص دل سے پڑھا تھا یا نہیں؟، پھر آپ ﷺ بار بار یہی بات دُہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش ! میں اسی روز مسلمان ہوا ہوتا۔ جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکوں کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کا آمنا سامنا ہو گیا۔ مشرکوں میں ایک شخص تھا، وہ جس مسلمان کی طرف چاہتا بڑھ کر اسے قتل کر دیتا۔ آخر ایک مسلمان نے اس کو غفلت کی حالت میں جا لیا۔ ہم آپس میں گفتگو کرتے تو کہتے تھے کہ وہ مسلمان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر جب انھوں نے تلوار اس پر سیدھی کی تو اس نے کہا:لا الٰہ الا اللہ لیکن انھوں نے اسے مار ڈالا۔ اس کے بعد قاصد خوشخبری لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ آپ ﷺ نے اس سے حال پوچھا۔ اس نے سب حال بیان کیا یہاں تک کہ اس شخص کے بارے میں بھی بتا دیا کہ اس نے کیا کیا۔ آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تم نے کیوں اس کو مار ڈالا؟، انہوں (اسامہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ ! اس نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی، فلاں اور فلاں کو قتل کر دیا اور کئی آدمیوں کا نام لیا۔ میں جب اس پر حملہ آور ہوا اور اس نے تلوار کو دیکھا تو لا الٰہ الا اللہ پڑھنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کو قتل کر دیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ انھوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش کی دعا کردیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ پھر آپ ﷺ نے اس سے زیادہ کچھ نہ کہا اور یہی کہتے رہے کہ: قیامت کے دن جب یہ کلمہ لا الہ الا اللہ آئے گا تو تم کیا جواب دو گے؟۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہنبی ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک سریہ میں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا۔ جب وہ ان لوگوں پر جا کر حملہ آور ہو گئے تو مشرکین میں سے ایک شخص بھاگ اٹھا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری آدمی اسے قتل کرنے کے ارادے سے اس کے پیچھے لگ گئے۔ جب انہوں نے اسے جا لیا تو اس نے کہا: لا الہ الا اللہ۔ انصاری آدمی نے تو اسے چھوڑ دیا کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا لیکن اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ جب وہ مدینے واپس لوٹے اور نبی ﷺ تک یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا ’لا الہ الا اللہ‘ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ! وہ تو یہ کلمہ صرف قتل ہونے سے بچنے کے لیے پڑھ رہا تھا اور اس کی آڑ لے رہا تھا۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں یقینی طور پر اس کا علم ہو جاتا۔ قیامت کے دن جب کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ آئے گا تو پھر تم کیا کرو گے۔ تمہاری کون سفارش کرے گا۔اس وقت تمہاری طرف سے کون جھگڑا کرے گا جب کلمہ توحید کو لایا جائے گا اور تمہیں کہا جائے گا کہ تم نے اس کلمہ کو پڑھنے والے کو کیسے قتل کر دیا؟۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی قبول نہ کیا ہوتا۔ کیوں کہ اگر وہ کافر ہوتے اور پھر مسلمان ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتا۔ لیکن اب تو مسلمان ہونے کی حالت میں ان سے یہ فعل سر زد ہو گیا۔
ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہ ہٹیں گے، جب تک اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کس چیز میں فنا کیا، اس کے علم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اس سے کیا کیا، اس کے مال کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ اسے کہاں کھپایا۔"
رواه الترمذياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں قیامت کے دن کوئی بھی شخص حساب کی جگہ سے جنت یا جہنم کی جانب اس وقت تک بڑھ نہیں سکے گا، جب تک اس سے کچھ باتیں پوچھ نہ لی جائيں : 1- اس نے اپنی زندگی کن کاموں میں گزاری؟ 2- اس نے جو علم حاصل کیا تھا، کیا اسے اللہ کے لیے حاصل کیا تھا، کیا اس پر عمل کیا تھا اور کیا اسے اس کے مستحق تک پہنچایا تھا؟ 3- اس کے پاس جو مال تھا، اسے کہاں سے کمایا تھا؟ کمائی کے راستے حلال تھے یا حرام؟ ساتھ ہی اسے کہاں خرچ کیا تھا؟ اللہ کی رضامندی کے کاموں میں یا ناراضگی کے کاموں میں۔ 4- اسے جو جسم، قوت، عافیت اور جوانی ملی ہوئی تھی، اسے کن کاموں میں خرچ کیا تھا؟
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا : "میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا، جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اللہ اس کے ہاتھ پر فتح عطافرمائے گا"۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں : اس ایک دن کے علاوہ میں نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی۔ وہ مزید کہتے ہیں : میں نے اس امید سے کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے گا، اپنی گردن اونچی کر دی۔ وہ آگے کہتے ہیں : تاہم رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب کو بلایا، ان کو جھنڈا دیا اور فرمایا : "جاؤ، پیچھےمڑ کر نہ دیکھو، یہاں تک کہ اللہ تمھیں فتح عطا کردے"۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : علی کچھ دور گئے، پھر ٹھہر گئے، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور بلند آواز سے پکار کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! میں کس بات پر لوگوں سے جنگ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "ان سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے ایسا کرلیا، تو انھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال تم سے محفوظ کرلیے۔ ہاں، ان سے کوئی حق جڑ جائے، تو بات الگ ہے۔ ان کاحساب اللہ پر ہوگا"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کو بتایا کہ آئندہ کل مسلمانوں کو مدینہ کے قریب واقع ایک شہر خیبر کے یہودیوں پر فتح مل جائے گی۔ یہ فتح ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر نصیب ہوگی، جسے آپ علَم، جو لشکر کا شعار ہوا کرتا ہے، عطا کریں گے، اس شخص کا ایک وصف یہ ہوگا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کو اس سے محبت ہے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ ایک وہی دن تھا، جب ان کے اندر امارت کی محبت جاگی اور دل میں بلائے جانے کی خواہش اس امید میں پیدا ہوئی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ بیان کردہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت حاصل کرنے کی سعادت ان کو حاصل ہو جائے۔ وہ اپنے جسم کو دراز کر کے قد کو ذرا اونچا کرنے لگے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نظر پڑجائے، ان کا نام پکار لیا جائے اور علَم عطا کر دیا جائے۔ تاہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابو طالب کو بلایا، علَم عطا کر دیا اور حکم دیا کہ لشکر کے ساتھ چل پڑیں اور دشمن سے ملنے کے بعد ان قلعوں پر فتح حاصل ہو جانے تک راحت کی طلب میں یا صلح کی بنا پر جنگ سے دست بردار نہ ہوں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ چل پڑے۔ ایک بار رکے بھی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم کی مخالفت سے بچنے کے لیے پیچھے مڑے نہيں، خیبر کی جانب منہ کر کے ہی بلند آواز سے پوچھا : اے اللہ کے رسول! میں لوگوں سے کس بات پر جنگ کروں؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : ان سے اس وقت تک جنگ کرو، جب تک اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی برحق معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ اگر انھوں نے تمھاری اس دعوت کو قبول کر لیا اور اسلام میں داخل ہوگئے، تو انھوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو تم سے محفوظ کر لیا۔ ہاں، اگر کوئی ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اسلام کے احکام کی روشنی میں قتل کے حق دار بن جائيں، تو بات الگ ہے۔ باقی ان کا حساب و کتاب لینا اللہ کا کام ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاں عرش پر موجود کتاب (لوح محفوظ) میں لکھا کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے“۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”میری رحمت میرے غضب پر غالب آگئی ہے“۔ ایک اور روایت کے یہ الفاظ ہیں: ”میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے“
متفق علیہجب اللہ عز و جل نے ساری مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش پر موجود اپنے پاس ایک کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت زیادہ ہے اور میرے غضب کے مقابلے میں مجھ پر غالب ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ﴾ ”میری رحمت تمام اشیاء پر محیط ہے“ چنانچہ یہ چیز ایک مسلمان کو مایوس اور ناامید نہ ہونے پر آمدہ کرتی ہے۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومنوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت و مودّت اور باہمی ہمدردی کی مثال ایک جسم کی طرح ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے، بایں طور کہ نیند اڑ جاتی ہے اور پورا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمایا ہے کہ خیرخواہی، رحمت، آپسی تعاون، مدد اور نقصان سے ہونے والی اذیت کے احساس کے معاملے میں مسلمانوں کا حال ایک جسم کے جیسا ہونا چاہیے کہ جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے، تو اس کے ساتھ پورا جسم رات جاگتا ہے اور بخار کا شکار رہتا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم ايک سفر ميں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے ایک منزل پر قيام کيا، ہم ميں سے بعض اپنے خيمے درست کر رہے تھے، بعض تيراندازی ميں مقابلہ کررہے تھے اور بعض اپنے مويشيوں ميں لگے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز لگائی: ’’نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔‘‘ ہم سب رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے جو بھی نبی ہوا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی امت کی رہنمائی ايسے کاموں کی طرف کرے جن کو وہ ان کے لیے بہتر جانتا ہے۔ اور ان کو ان کاموں سے ڈرائے جن کو وہ ان کے لیے برا جانتا ہے۔ اور تمہاری اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں رکھ دی گئی ہے اور اس کے آخری حصے ميں آزمائش اور ايسے معاملات پيش آئیں گے جن کو تم برا سمجھو گے اور ایسے فتنے ظہور پذير ہوں گے جو ایک دوسرے کو معمولی بنا دیں گے۔ ايک فتنہ سامنے آئے گا تو مومن کہے گا: یہی ميری ہلاکت کا باعث ہو گا۔ پھر وہ دور ہو جائے گا۔ پھر (کوئی اور) فتنہ ظہور پذير ہو گا تو مومن کہے گا: یہی سب سے بڑا فتنہ ہے۔ پس جس شخص کو يہ پسند ہو کہ وہ جہنم کی آگ سے دور کرديا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے، تواس کو موت اس حالت ميں آنی چاہیے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ کئے جانے کو پسند کرے، اور جو شخص کسی امام کی بيعت کرے اور اسے اپنا ہاتھ اور اپنے دل کا پھل دے دے (یعنی دل میں اس کی بیعت کے پورا کرنے کا عزم رکھے) تو اسے چاہیے کہ مقدور بھر اس کی اطاعت کرے۔ پھر اگر کوئی دوسرا شخص آکر اس سےحکومت چھیننے کے لیے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن ماردو۔”
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ کی طرف دعوت دینے والوں پر بھی وہی لازم ہے جو انبیاء پر لازم تھا یعنی اچھائی کو بیان کرنا، اس کی ترغیب دینا، اس کی طرف لوگوں کى راہنمائی كرنا، اور برائی کی وضاحت کرنا اور اس سے ڈرانا۔ اس حدیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ اس امت کا ابتدائی حصہ تو خیر میں رہا اور آزمائش سے محفوظ رہا ليکن اس امت کے آخری حصے کو اس طرح شر اور آزمائش پیش آئے گی کہ آنے والے فتنے پہلے کے فتنوں کو معولی اور ہلکا بناديں گے اور ان سے نجات توحید کے اقرار، سنت کی پیروی، لوگوں سے حسن سلوک اور حاکم کی بیعت کی پابندی, اس کے خلاف عدم بغاوت اور ہر اس شخص سے قتال کے ذريعہ ہی ممکن ہوگی جو مسلمانوں کی جماعت کا شیراہ بکھیرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔