





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جو شخص دنیا میں کسی دوسرے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہے ہيں کہ جب کوئی مسلمان کسی بھی معاملے میں اپنے کسی مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرتا ہے، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ کیوں کہ انسان کو بدلہ اسی جنس کا دیا جاتا ہے، جس جنس کا اس کا عمل ہوتا ہے۔ اللہ کی پردہ پوشی کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن میدان حشر میں لوگوں کے سامنے اس کی کمیوں، کوتاہیوں اور گناہوں پر پردہ ڈال دے گا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ان پر اس کا مواخذہ نہ ہو اور اس کے سامنے ان کا ذکر نہ کرے۔
ابو مسلم خولانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : مجھے حبیب و امین نے بتایا ہے۔ وہ میرے نزدیک حبیب بھی ہے اور امین بھی۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا: ہم نو، آٹھ یا سات لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : "کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" حالاں کہ ہم نے انہیں دنوں آپ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ لہذا ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے پھر فرمایا : "کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے؟" چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا دیے اور کہا : ویسے تو ہم پہلے آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ لیکن اب بتائیں کہ آپ سے کس چیز کی بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اطاعت گزار رہو گے اور ایک جملہ آہستہ آواز میں کہا کہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگو گے“۔ (راوی کہتے ہیں:) اس کے بعد میں نے اس جماعت میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کا کوڑا گر جاتا، تب بھی کسی سے اسے اٹھا کر دینے کے لئے نہ کہتے۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم چند صحابہ کے ساتھ تھے کہ اسی درمیان آپ نے تین دفعہ ان سے بیعت کرنے اور کچھ چیزوں کی پابندی کرنے کا عہد لینے کے لئے کہا، جو اس طرح ہیں : 1- ایک اللہ کی عبادت اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہتے ہوئے کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا۔ 2- دن اور رات میں فرض پانچ نمازیں ادا کرنا۔ 3- شریعت کے دائرے میں رہ کر مسلم حکمرانوں کی اطاعت کرنا۔ 4- اپنی ساری ضرورتیں اللہ سے مانگنا اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے گریز کرنا۔ یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے دھیمی آواز میں کہی۔ صحابہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے جن باتوں پر بیعت کی تھی، ان پر اس طرح عمل کر کے دکھایا کہ راوی حدیث کا کہنا ہے : ان صحابہ میں سے بعض کا حال میں نے یہ دیکھا کہ اگر ان کا کوڑا گر جاتا، تو اسے بھی کسی سے اٹھاکر مانگنا گوارا نہيں کرتے۔ وہ خود سواری سے اتر کر اٹھا لیتے۔
عبداللہ بن مسعود - رضی اللہ عنہ - سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے فاقے لاحق ہوجائے اور وه لوگوں سے بیان کرے، تو ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا اور اگر وہ اسے اللہ کے حضور ظاہر کرے تو اللہ تعالیٰ جلد یا بدیر اسے رزق عطا فرمائے گا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جسے فاقے لاحق ہوجائے“ فاقہ بمعنی سخت حاجت، اس کا اکثر استعمال فقر اور تنگدستی میں ہوتا ہے۔ ” اور وه لوگوں سے بیان کرے“ یعنی اس نے لوگوں کے سامنے اپنے فاقے کو بیان کیا اور ان سے از راہ شکوہ بیان کر کے ان سے اس فاقے کو دور کرنے کی مدد مانگی۔ ایسا کرنے سے ”ایسے شخص کا فاقہ دور نہیں کیا جائے گا“ یعنی اس کی حاجت ختم نہیں ہوگی اور نہ اس کا فاقہ دور ہوگا، جب کبھی اسی کی کوئی حاجت پوری ہوگی تو دوسری حاجت پیش آئے گی جو اس سے بھی سخت ہوگی۔ ”جس نے اسے اللہ کے حضور ظاہر کیا“ یعنی اپنے مولیٰ پر اعتماد کیا۔ اللہ تعالی جلد اسے عنقریب مال عطا کرے گا اور اسے بے نیاز کر دے گا۔ ”یا بدیر“ یعنی آخرت میں اسے رزق (ثواب کی شکل میں) دیے گا۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”يُثَبِّتُ اللهُ الذِينَ آمَنُوا بالقَوْلِ الثَّابِتِ في الحَيَاةِ الدُّنْيَا وفي الآخِرَةِ‘‘ [سورہ ابراہیم: 27] (اللہ ایمان والوں کو اس پکی بات کے ذریعہ مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں (بھی) اور آخرت میں (بھی))ــــــــــــــــ کا یہی مطلب ہے۔
متفق عليهہر مومن سے قبر کے اندر کچھ سوالات کیے جائيں گے۔ سوالات اس کام پر متعین دو فرشتے کریں گے، جن کا نام کئی حدیثوں میں منکر اور نکیر آیا ہے۔ چنانچہ وہ اس بات کی گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہيں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہيں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہی وہ قولِ ثابت ہے، جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا: "ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ پکی بات کے ساتھ مضبوط رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔" [إبراهيم: 27].
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں تا آں کہ لوگ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جو لوگ یہ کرلیں گے وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کر لیں گے سوائے اس حق کے جو اسلام کی وجہ سے واجب ہوگا، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمہ ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کو مشرکوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی برحق معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں اور گواہی کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے دن اور رات میں فرض پانچ وقت کی نمازیں ادا نہ کرنے لگيں اور حق داروں کو فرض زکاۃ نہ دینے لگیں۔ جب وہ اتنا کر لیں گے، تو اللہ ان کی جان اور ان کے مال کو تحفظ فراہم کر دے گا اور ان کا قتل حلال نہیں رہ جائے گا۔ ہاں، اگر وہ ایسا جرم کر بیٹھیں کہ اس کی بنا پر اسلامی احکام کی رو سے قتل کے حق دار ٹھہر جائيں تو الگ بات ہے۔ پھر اللہ قیامت کے دن ان کا حساب لے گا، جو ان کے دلوں کی بات جانتا ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری خاطر میری امت سے غلطی، بھول چوک اور مجبوراً کرائے گئے کام کو معاف کر دیا ہے۔“
اسے ابن ماجہ اور بیہقی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔اللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ نے آپ کی امت سے درج ذیل تین احوال میں ہونے والے گناہوں کو معاف کر دیا ہے: 1- غلطی سے ہونے والے گناہ۔ یعنی ایسے گناہ جو بالارادہ نہ کیے گئے ہوں۔ مثلا کوئی مسلمان کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے، لیکن اس سے کچھ اور ہو جائے۔ 2- بھول چوک سے ہونے والے گناہ۔ یعنی کسی مسلمان کو کوئی بات یاد تو ہو، لیکن جب کرنے کا وقت آئے، تو بھول جائے۔ ایسا ہونے پر کوئی گناہ نہيں ہے۔ 3- زور زبردستی سے کرایا گیا گناہ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کو کوئی ایسا کام کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، جسے وہ کرنا نہیں چاہتا اور اس کے پاس حالات کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی صورت حال میں اسے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ اس حدیث کا تعلق ایسے گناہ سے ہے، جن کا تعلق بندہ اور اس کے رب سے ہو۔ کسی مامور فعل کو بھول جانے سے وہ ساقط نہيں ہو جاتا۔ اسی طرح اگر کسی کے بھول کر کوئی کام کردینے سے کسی مخلوق کا کچھ نقصان ہو جائے، تو مخلوق کا حق ساقط نہيں ہوگا۔ مثلا غلطی سے کسی کا قتل کر دے، تو دیت دینی ہوگی۔ اسی طرح کسی کی گاڑی کا نقصان کر دے، تو اس کا ہرجانہ دینا ہوگا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی، تو میرے گھر میں تھوڑے سےجَو کے سوا جو ایک طاق میں رکھا ہوا تھا اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے (جاندار) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی، یہاں تک کہ کافی عرصہ گزر گیا۔ پھر میں نے اسے ناپا تو وہ ختم ہو گیا۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی جب وفات ہوئی، تو ان کے گھر میں تھوڑے سے جَو کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ”شَطْرُ شَعيرٍ“ کے معنی تھوڑے سے جَو کے ہیں، جیسا کہ امام ترمذی نے بیان کیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مدت تک اسی جو کو کھاتی رہیں جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔ جب انہوں نے اسے وزن کر لیا تو وہ ختم ہو گیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس تھوڑے سے اناج میں آپﷺ کی برکت شامل رہی، لیکن اسے وزن کیے بغیر، جو کہ توکل پر دلالت کرتا ہے۔ خرید وفروخت کے وقت وزن کرنا مطلوب ہے اس لے کہ بیچنے اور خریدنے والے کے حقوق اس سے وابستہ ہیں، البتہ خرچ کرتے وقت وزن (حساب) کرنا مستحب نہیں ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کو قیامت کے دن اس کے رب کے قریب لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی اسے اپنے پہلو میں لے لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کراتے ہوئے پوچھے گا: کیا تمہیں یہ گناہ یاد ہے؟ کیا تمہیں یہ گناہ یاد ہے؟ وہ کہے گا کہ اے میرے رب! مجھے یاد ہے۔ اس پر اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں اس گناہ کے معاملے میں تیری ستر پوشی کی اور آج میں اسے تیرے لیے معاف کرتا ہوں۔ پھر اسے اس کی نیکیوں کا دفتر دے دیا جائے گا“۔
متفق علیہاللہ عز وجل قیامت کے دن مومن بندے کو قریب کرے گا، اُسے میدانِ حشر میں موجود لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رکھتے ہوئے اس سے اس کے گناہوں اور معاصی کا پوشیدہ طور پر اقرار کرائے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا تو اِس گناہ کو جانتا ہے؟ کیا تو اُس گناہ کو جانتا ہے؟ وہ ان کا اقرار کر لے گا تو اس پر اللہ تعالی فرمائے گا کہ میں ںے دنیا میں تمہاری ستر پوشی کی اور انسانوں کے سامنے تمہیں رسوا نہیں کیا۔ میں آج بھی ان سے تمہاری ستر پوشی کروں گا اور تمہارے ان گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے، ان میں سے ننانوے حصے اپنے پاس روک لیے اور ایک حصہ زمین میں اتارا۔ اسی ایک حصے کی وجہ سے تمام مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنا کھر اپنے بچے سے ہٹالیتا ہے کہ کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ اس نے ان میں سے ایک رحمت جنوں، انسانوں، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اتاری ہے۔ اسی ایک حصۂ رحمت کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر نرمی کرتے اور رحم سے پیش آتے ہیں اور اسی کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ جب کہ اللہ نے ننانوے رحمتیں پیچھے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذريعہ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پررحم کرے گا“۔ اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ انھی میں سے ایک وہ رحمت ہے جس کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے جب کہ ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے (محفوظ) ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، سو رحمتیں پیدا کیں۔ ہر رحمت اتنی ہے جتنی آسمان و زمین کے مابین مسافت ہے۔ پھر ان میں سے ایک رحمت کو اس نے زمین میں رکھ دیا، اسی کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر اور جنگلی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کو اس (دنیوی) رحمت کے ساتھ ملا کر مکمل فرمائے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاللہ تبارک و تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے بنائے اور ان میں سے ایک حصہ دنیا میں نازل کیا اور بقیہ ننانوے حصے قیامت کے دن کے لیے اپنے پاس روک رکھا۔ اسی ایک رحمت ہی کی وجہ سے تمام مخلوقات یعنی جن و انس، چوپائے اور کیڑے مکوڑے آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں یہاں تک کہ گھوڑی جو پھرتیلے پن اور ادھر ادھر منتقل ہونے میں مشہور ہے وہ بھی احتیاط کرتی ہے کہ کہیں اپنے بچے کو گزند نہ پہنچا دے چنانچہ اسے نقصان پہنچنے کے اندیشے کی وجہ سے اپنا کھر اوپر اٹھا لیتی ہے۔ اسی رحمت کی وجہ سے جنگلی جانور اپنے بچے پر شفقت کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں موخر کر رکھی ہیں تاکہ ان کے ذریعہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے۔ دوسری حدیث: اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخليق کے دن ہی سو رحمتوں کو پيدا فرمایا۔ ہر رحمت اتنی ہے کہ اس سے آسمان اور زمین کے مابین کی جگہ بھر جائے۔ اللہ تعالی نے ان میں سے ایک رحمت کو دنیا میں رکھا جس کی وجہ سے ماں اپنے بچے پر اور حیوانات و پرندے باہم ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں۔ پھر روزِ قیامت اللہ رب العالمين (اس کے ساتھ) ننانوے رحمتیں ملا کر اسے پورا فرما دے گا۔ جب اس ایک رحمت کی بدولت انسان کو اس تلخیوں بھری دنیا میں اللہ عز و جل کی اتنی عظیم الشان نعمتیں ملتی رہتی ہیں تو پھر سو رحمتوں کے ساتھ آخرت کے بارے میں آپ کا گیا گمان ہے جو جائے قرار و جزا ہے۔