





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
طاوس سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے متعدد صحابہ کو پایا، وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ہے، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ’’ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے، یہاں تک کہ (کسی کام کو) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی۔ یا پھر یہ کہا کہ (کسی کام کو) کر سکنا اور نہ کر سکنا بھی۔‘‘
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ہر چیز (اللہ کی مقرر کردہ) تقدیر کے تحت سامنے آتی ہے۔ یہاں تک کہ عاجزی بھی۔ یعنی جو کام کرنا واجب ہے، اسے ترک کرنا، اس میں ٹال مٹول کرنا اور اسے اس کے وقت سے مؤخر کرنا بھی۔ کام خواہ دنیوی ہو یا اخروی۔ اور یہاں تک کہ چاق و چوبند ہونا بھی، جس کے معنی ہیں، دنیوی اور اخروی امور میں نشاط اور مہارت۔ اللہ عز و جل نے عاجزی، قدرت و نشاط اور ہر ایک چیز کو مقدر فرما رکھا ہے۔ کوئی بھی چیز اللہ کے علم اور مشیت کے بغیر واقع نہیں ہوتی۔
مَطَر بن عُکامس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "’’جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں یہ فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ فلاں جگہ میں مرے گا، تو وہاں اس کی ضرورت رکھ دیتا ہے۔‘‘
رواه الترمذياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی جب کسی بندے کے حق میں یہ مقدر کرتا ہے کہ وہ ایسی زمین میں فوت ہوگا، جہاں وہ موجود نہیں ہوتا، تو اللہ تعالی وہاں اس کی کوئی حاجت وضرورت پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ وہ شخص وہاں جاتا ہے اور اسی زمین میں اس کی روح قبض کی جاتی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک مرتبہ ہم مسجد میں نبیﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک اونٹ سوار آیا اور اپنے اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد (ﷺ) کون ہیں؟ نبی ﷺ اس وقت صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے تکیہ لگائے بیٹھے شخص۔ چنانچہ وہ آپ سے کہنے لگا: اے فرزند عبدالمطلب! نبیﷺ نے فرمایا: ’’(پوچھ) میں تجھے جواب دیتا ہوں۔‘‘ اس نے نبیﷺ سے کہا: میں آپ سے کچھ دریافت کرنے والا ہوں اور اس میں سختی کروں گا، آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’(کوئی بات نہیں) جو چاہے پوچھ!‘‘ اس نے پوچھا: میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے مالک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے غریبوں پر تقسیم کریں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا: میں اس (شریعت) پر ایمان لاتا ہوں جو آپ لائے ہیں۔ میں اپنی قوم کا نمائندہ بن کر حاضر خدمت ہوا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
متفق عليهانس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دریں اثنا کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص اونٹ پر سوار ہوکر داخل ہوا اور اونٹ کو بٹھاکر باندھ دیا۔ پھر صحابۂ کرام سے دریافت کیا: تم میں محمد کون ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: یہ سفید رنگ والے شخص جو ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔ آپ سے اس شخص نے عرض کیا: اے عبد المطلب کے فرزند! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے کہا: میں نے تمہاری بات سن لی۔ سوال کرو میں جواب دوں گا۔ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں آپ سے کچھ سوالات کرنے والا ہوں اور سوال کرنے میں سخت لہجہ اختیار کروں گا۔ اس لیے آپ دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوں۔ یعنی آپ مجھ پر غصہ نہ کریں اور نہ میرے سوال سے تنگ ہوں۔ آپ نے عرض کیا: جو چاہے پوچھو۔ اس نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث کیا ہے؟ آپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ یعنی فرض نمازیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ شاہد ہے۔‘‘ پھر اس نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے سال بھر میں رمضان مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ پھر کہنے لگا: میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے امیروں سے صدقہ لے کر ہمارے فقیروں پر تقسیم کریں؟ یعنی زکاۃ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں، اللہ گواہ ہے۔‘‘ ضمام نے بالآخر اسلام قبول کر لیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ وہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ پھر اپنا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمام بن ثعلبہ ہیں اور قبیلہ سعد بن بکر سے تعلق رکھتے ہیں۔
زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, وہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے کسی واقعے کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ علم چلے جانے کے وقت ہو گا"۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! علم کیسے اٹھ جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے ہیں، اپنے بیٹوں کو پڑھاتے ہیں اور ہمارے بیٹے اپنے بیٹوں کو پڑھائیں گے؟ قیامت تک (اسی طرح سلسلہ جاری رہے گا۔) نبی ﷺ نے فرمایا: زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تو تجھے مدینے کے سب سے زیادہ سمجھ دار لوگوں میں خیال کرتا تھا۔ کیا یہ یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ لیکن وہ ان میں موجود کسی حکم پر عمل نہیں کرتے!"۔
رواه ابن ماجهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا: یہ وہ وقت ہوگا، جب لوگوں سے علم اٹھا لیا جا ئے گا۔ اس سے زیاد بن لبید انصاری رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا، جب کہ ہم قرآن پڑھتے اور یاد کرتے ہیں اور اللہ کی قسم ہم قرآن پڑھتے رہیں گے اور اپنی عورتوں اور بیٹوں اور پوتوں کو پڑھاتے رہیں گے؟ اس پر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: اے زیاد! تیری ماں تجھے گم پائے، میں تجھے مدینے کے علما میں شمار کیا کرتا تھا! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتایا کہ علم اٹھ جانے کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن اٹھ جائے گا، بلکہ علم اٹھنے کا مطلب ہے کہ اس پر عمل کرنا اٹھ جائے گا۔ کیوں کہ یہود ونصاری کے پاس بھی تورات وانجیل موجود ہیں، اس کے باوجود انہیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا اور نہ وہ ان کتابوں کے مقصد ومراد سے مستفید ہو رہے ہیں اور اپنے اس علم پر عمل کر رہے ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ پر چالیس سال کی عمر میں وحی نازل ہوئی۔ پھر آپ تیرہ سال مکہ مکرمہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا تو آپ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت فرمائی اور آپ نے وہاں دس برس قیام فرمایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے وفات پائی۔
متفق عليهعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کے نزول کا آغاز اور آپ کی بعثت چالیس سال کی عمر میں ہوئی۔ نزول وحی کے بعد آپ تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ کو مدینے کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ نے وہاں دس سال قیام کیا۔ پھر آپ ترسٹھ سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن اپنے چہرے کے بل کیسے چلائے جائیں گے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس (اللہ) نے انسان کو دو پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہیں ہے؟‘‘ حضرت قتادہ نے کہا: یقینا ہمارے رب کی عزت کی قسم! (وہ اس پر قادر ہے)۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کافر کو قیامت کے دن چہرے کے بل کیسے چلایا جائے گا؟! تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے اسے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا، کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے چہرے کے بل چلائے؟! یقینا اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا: "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کہہ دیجیے، میں قیامت کے دن آپ کے لیے اس کےبارے میں گواہ بن جاؤں گا۔‘‘ انہوں نے (جواب میں) کہا: اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ قریش مجھے عار دلائیں گے، کہیں گے کہ اسے (موت کی) گھبراہٹ نےاس بات پر آمادہ کیا ہے، تو میں یہ کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کر دیتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: "آپ جسے چاہتے ہوں اسے راہ راست پر نہیں لا سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ راست پر لے آتا ہے۔" [القصص: 56].
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے، جب کہ وہ مرض الموت میں تھے، یہ مطالبہ کیا کہ وہ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تاکہ آپ اس کی بدولت قیامت کے دن ان کے حق میں سفارش کر سکیں اور ان کے اسلام لانے کی گواہی دے سکیں، لیکن انہوں نے اس خوف سے کلمۂ شہادت پڑھنے سے انکار کر دیا کہ قریش کے لوگ انہیں سب وشتم کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے موت کے خوف سے کمزور پڑ کر اسلام قبول کر لیا! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر ایسی بات نہ ہوتی، تو وہ کلمۂ شہادت پڑھ کر آپ کے دل کو خوش کر دیتے اور آپ کی آرزو پوری کردیتے۔ اسی موقع پر اللہ نے وہ آیت نازل فرمائی، جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات پر قادر نہیں کہ اسلام قبول کرنے کی ہدایت دے سکیں، بلکہ صرف اللہ عز وجل ہی جسے چاہتا ہے اس کی توفیق دیتا ہے، جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مخلوق کی رہنمائی کرتے، ان کے سامنے حق بیان کرتے اور انہیں راہ مستقیم کی دعوت دیتے ہیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو غیر موجود دیکھ کر ان کے بارے میں پوچھا، تو ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس ان کے بارے میں جان کاری لے آؤں گا۔ چنانچہ وہ ثابت بن قیس کے یہاں گیا، تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس نے حال پوچھا، تو انھوں نے جواب دیا کہ حال برا ہے۔ ان کی آواز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے اونچی ہو جایا کرتی تھی، اس لیے ان کا عمل ضائع ہو گیا اور اب وہ جہنمی ہیں۔ چنانچہ وہ آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کہا تھا، سب سنا دیا۔ چنانچہ دوسری بار وہ ان کے پاس ایک بہت بڑی خوش خبری کے ساتھ گئے۔ دراصل آپ نے کہا تھا : "اس کے پاس جاؤ اور اسے بتادو کہ جہنمیوں میں سے نہیں، بلکہ جنتیوں میں سے ہیں۔"
متفق عليهایک بار اللہ کے نبی صلی اللہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو غیر حاضر دیکھا اور ان کے بارے میں پوچھا، تو ایک شخص نے بتایا کہ میں جاکر پتہ لگاتا ہوں اور آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ غائب کیوں ہیں؟ چنانچہ وہ شخص ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا، تو دیکھا کہ وہ اپنے گھر میں اداس ہوکر سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ اس شخص نے جب حال پوچھا، تو انھوں نے وہ کرب بتایا، جس سے وہ گزر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی آواز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے اونچی ہو جایا کرتی تھی اور اللہ نے ایسا کرنے والے کو یہ دھمکی دی ہے کہ اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ چنانچہ وہ شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ دیکھا اور سنا تھا، سب کچھ بتا دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ وہ دوبارہ ثابت بن قیس کے پاس جائیں اور ان کو یہ خوش خبری دیں کہ وہ جہنمی نہيں، بلکہ جنتی ہیں۔ ایسا اس لیے کہ ان کی آواز پیدائشی طور پر اونچی تھی اور وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم اور انصار کے خطیب تھے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جیسے وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو، کیوں کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو، کیوں کہ وہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ چناں چہ جس نے میرے لیے وسیلہ طلب کیا، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کی اذان سننے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ مؤذن کے ذریعے کہے جانے والے الفاظ کو اس کے پیچھے پیچھے دہرائے اور جیسا جیسا مؤذن کہتا جائے، ویسا ویسا وہ بھی کہتا جائے۔ بس "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کو چھوڑ کر۔ ان دونوں جملوں کے بعد "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" کہے۔ پھر اذان ختم ہونے کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر درود بھیجے۔ کیوں کہ جو شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایک بار درود بھیجے گا، اللہ تعالی اس کے بدلے میں فرشتوں کے سامنے دس بار اس کی تعریف کرے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ اللہ سے آپ کے لیے وسیلہ مانگا جائے۔ دراصل وسیلہ جنت کا ایک مقام ہے، جو اس کا سب سے اونچا مقام ہے اور وہ مقام اللہ کے تمام بندوں میں سے صرف ایک بندے کو میسر ہوگا اور آپ نے بتایا کہ مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی رہوں گا۔ دراصل آپ نے یہ بات بطور تواضع کہی ہے، کیوں کہ جب وہ اونچا مقام اللہ کے بس ایک ہی بندے کو میسر ہوگا، تو اللہ کا وہ ایک ہی بندہ آپ ہی ہوں گے۔ کیوں کہ آپ خیر الخلائق ہیں۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جس نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے اللہ سے وسیلہ مانگا، اسے آپ کی شفاعت نصیب ہوگی۔