





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک تم یہودیوں سے جنگ نہ کرو اور نوبت یہاں تک نہ پہنچے کہ جس پتھر کے پیچھے کوئی یہودی چھپا ہو وہ پتھر کہے کہ اے مسلمان! یہ دیکھو میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، اسے قتل کردو۔‘‘
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان جنگ نہ ہو- اور نوبت یہاں تک نہ پہنچے کہ کوئی یہودی مسلمانوں کی نگاہ سے چھپنے کے لیے پتھر کے پیچھے جاکر پناہ لے اور اللہ تعالی پتھر کو قوت گویائی عطا کرے اور وہ مسلمان کو آواز دے کر بتائے کہ اس کے پیچھے یہودی چھپا ہے اور وہ آکر اسے قتل کرڈالے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ وقت بہت ہی نزدیک ہے، جب تمھارے درمیان مریم کا بیٹا اترے گا۔ اس وقت وہ منصف حاکم ہوگا۔ صلیب توڑ دے گا۔ خنزیر کو قتل کرے گا۔ جزیہ ختم کر دے گا۔ مال کی اس قدر بہتات ہوگی کہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قسم کھاکر بتا رہے ہیں کہ عیسی علیہ السلام کے اترنے کا وقت بہت نزدیک ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان شریعت محمدی کے مطابق انصاف کے ساتھ حکومت چلائیں گے۔ وہ صلیب توڑ دیں گے، جس کی نصاری تعظیم کرتے ہیں، خنزیر کو قتل کريں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور سارے لوگوں کو اسلام قبول کرنے پر آمادہ کریں گے۔ اس وقت مال و دولت کی اتنی بہتات ہوگی, ہر آدمی کے پاس اتنا پیسہ ہوگا اور اتنی برکتیں اتریں گی کہ کوئی مال قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوگا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی، جب تک وقت اتنا سکڑ نہ جائے کہ سال مہینے کی طرح ہو جائے، مہینہ ہفتے کی طرح ہو جائے، ہفتہ دن کی طرح ہو جائے، دن گھنٹے کی طرح ہو جائے اور گھنٹہ کھجور کے پتے کو جلنے میں لگنے والے وقت کی طرح ہو جائے۔"
رواه أحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وقت سکڑ جائے گا۔ چنانچہ سال مہینے کی طرح گزر جائے گا، مہینہ ہفتے کی طرح بیت جائے گا، ہفتہ دن کی طرح چلا جائے گا، دن ایک گھنٹے کی طرح اڑن چھو ہوجائے گا، اور گھنٹہ اتنی تیزی کے ساتھ گزر جائے گا کہ اس میں بس اتنا ہی وقت لگے گا، جتنا وقت کھجور کے پتے کو جلنے میں لگتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مُٹھی میں لے گا اور آسمان کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اس کے بعد کہے گا : میں بادشاہ ہوں؛ زمین کے بادشاہ کہاں گئے؟"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کے دن اللہ زمین کو سمیٹ کر اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا اور اسے ختم اور فنا کر دے گا اور پھر کہے گا : میں ہی بادشاہ ہوں! زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "”میرے حوض کا پھیلاؤ ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوش بو کستوری سے زیادہ عمدہ ہوگی۔ اس کے آب خورے آسمان کے ستاروں کی طرح ہوں گے۔ جو شخص اس حوض کا پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔“
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ قیامت کے دن آپ کے پاس ایک حوض ہوگا، جس کی لمبائی ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہوگی اور اس کی چوڑائی بھی اسی قدر ہوگی۔ اس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید ہوگا، اس کی خوشبو شان دار اور مشک سے بھی زیادہ عمدہ ہوگی، اس کے آب خورے اتنی بڑی تعداد میں ہوں گے جتنی بڑی تعداد میں آسمان میں ستارے ہیں۔ جو شخص اس حوض کا پانی ان پیالوں سے پی لے گا، اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
اسما بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "میں حوض پر موجود ہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب! یہ تو میرے آدمی اور میری امت کے لوگ ہیں"۔ مجھ سے کہا جائے گا : کیا آپ کو معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا کام کیے تھے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہيں کہ قیامت کے دن آپ اپنے حوض پر ہوں گے، تاکہ دیکھیں کہ آپ کی امت کے کون لوگ حوض پر آتے ہیں۔ اس دن کچھ لوگوں کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کو قریب آنے سے روک دیا جائے گا، تو آپ فرمائیں گے : اے میرے رب! یہ میرے لوگ اور میری امت کے افراد ہیں! چناں چہ آپ سے کہا جائے گا: کیا آپ کو پتہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد انہوں نے کون سے اعمال کیے؟ اللہ کی قسم! یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے اور اپنے دین سے پھرتے رہے۔ نہ یہ آپ میں سے ہیں اور نہ یہ آپ کی امت کے افراد ہیں۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے پو چھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! حوض کے برتن کیسے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اس حوض کے برتن آسمان کے تمام ستاروں اور سیاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے۔ یاد رکھو! میں بات تاریک اور صاف آسمان والی رات کی کر رہا ہوں۔ جنت کے برتن ایسے ہوں گے کہ جو ان سے پی لے گا، وه کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اس میں جنت کے دو پر نالے آکر گر رہے ہوں گے۔ جو اس کا پانی پی لے گا، وہ کبھی پیاسا نہيں ہوگا۔ اس کی چوڑائی اس کی لمبائی کے برابر ہوگي۔ یوں سمجھو کہ عمان سے ایلہ تک پھیلا ہوگا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔‘‘
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہ بتایا ہے کہ قیامت کے دن آپ کے حوض پر جو برتن ہوں گے، ان کی تعداد آسمان کے ستاروں اور سیاروں سے زیادہ ہوگی۔ اوریہ ستارے اور سیارے اندھیری رات میں، جس میں چاند نکلا ہوا نہ ہو، واضح نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ چاندنی رات میں چاند کی روشنی کی وجہ سے ستارے واضح طور پر دکھائی نہیں دیتے۔ ساتھ ہی وہ تاریک رات ایسى ہو کہ جس میں بادل نہ ہوں کیوں کہ آسمان میں بادل ہوں، تو تارے نظر نہیں آتے۔ جنت کے برتن سے جو شخص نوش کر لے گا، اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ یہی آخری بار ہوگا، جب وہ پیاس کی وجہ سے پانی پیے گا۔ آپ کے حوض میں جنت کے دو پرنالے آکر گریں گے اور اس کی چوڑائی اور لمبائی دونوں برابر ہوگی۔ چنانچہ حوض کے چاروں کنارے برابر ہوں گے۔ اس کی لمبائی کی مسافت عمان جوکہ ملک شام کے بلقا نامی شہر میں ایک جگہ ہے اور أیلہ جوکہ شام کے کنارے میں واقع ایک مشہور شہر کا نام ہے، کے درمیان کی مسافت کے برابر ہوگی۔ حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کا ذائقہ شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمھاری دنیا کی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول اللہ ﷺ! یہ دنیا کی آگ ہی کافی تھی۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ آگ اس پر انہتر (69) حصے زیادہ کردی گئی ہے اور اس کا ہر حصہ دنیا کی آگ کے برابر گرم ہے۔‘‘
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصے میں سے صرف ایک حصہ ہے۔ آخرت کی آگ کے اندر جو قوت حرارت ہوگی، وہ دنیا کی آگ کی حرارت سے انہتر حصہ زیادہ ہوگی۔ ان میں سے ہر حصہ حرارات میں دنیا کی آگ کی طرح ہوگا۔ دریافت کیا گیا: اے اللہ کے رسول! دنیا کی آگ ہی اس میں جانے والوں کو عذاب دینے کے لیے کافی تھی! آپ نے فرمایا: جہنم کی آگ دنیا کی آگ پر انہتر حصے زیادہ کردی گئی ہے. ان میں سے ہر حصہ دنیاوی آگ کی طرح شدید حرارت والا ہوگا۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہيں : رسول اللہ ﷺ، جو صادق اور مصدوق ہیں، نے بیان فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کی پیدائش کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ امتزاج کی شکل میں) چالیس دن اور چالیس رات تک رہتی ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں تک گاڑھے اور جامد خون کی صورت میں رہتی ہے۔ اس کے بعد اتنے ہی دنوں تک گوشت کے لوتھڑے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے۔ وہ اس کی روزی، اس کی موت، اس کا عمل و کردار، اور اس کا نیک بخت یا بدبخت ہونا لکھتا ہے۔ اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ کوئی شخص زندگی بھر اہل جنت کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھی ہوئی تقدیر اس کے آگے آجاتی ہے اور وہ اہل جہنم کے عمل کرکے جہنم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص زندگی بھر اہل جہنم کے عمل کرتا ہے اور جب اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو لکھی ہوئی تقدیر اس کے آگے آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے عمل کرکے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘
متفق عليهعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، جو کہ اپنے قول میں سچے ہیں اور مصدوق بھی ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ کو صادق قرار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے ہرایک کی پیدائش کی بنیاد اس کی ماں کے پیٹ میں (نطفہ امتزاج کی شکل میں) جمع کی جاتی ہے، بایں طور کہ انسان جب اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے تو اس کی بکھری ہوئی منی عورت کے شکم میں چالیس دن تک نطفے کی شکل میں جمع کی جاتی ہے۔ پھر وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یعنی گاڑھے اور جامد خون کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ دوسری چالیسویں دن تک یہی شکل رہتی ہے۔ پھر وہ مضغہ بن جاتا ہے۔ یعنی گوشت کے ٹکڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گوشت کا اتنا بڑا ٹکڑا، جسے ایک بار میں چبایا جا سکے۔ تیسرے چالیس دنوں میں یہی شکل رہتی ہے۔ پھر اس کے پاس اللہ تعالی فرشتہ بھیجتا ہے، جو تیسرے چالیسویں دن ختم ہونے کے بعد اس میں روح پھونکتا ہے۔ اس فرشتہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ چار چیزیں لکھ دے۔ اس کا رزق یعنی وہ اپنی عمر میں کس قدر نعمتیں حاصل کرنے والا ہے، لکھا جاتا ہے۔ اس کی موت لکھی جاتی ہے۔ یعنی دنیا میں وہ کتنی مدت تک رہنے والا ہے۔ اس کا عمل لکھا جاتا ہے کہ وہ کیا عمل کرے گا اور یہ کہ وہ بد بخت ہوگا یا خوش بخت؟ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بتایا کہ انسان بظاہر لوگوں کی نظر میں جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے اور نیک عمل میں منہمک رہتا ہے، وہ اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ یعنی جنت تک پہنچنے میں صرف اتنی ہی مسافت رہ جاتی ہے جتنی ایک ہاتھ زمین کی ہوتی ہے کہ اچانک لکھی ہوئی تقدیر اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ جہنمیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور اس کا خاتمہ اسی عمل پر ہوتا ہے۔ چناں چہ وہ جہنم رسید ہوجاتا ہے۔ کیوں کہ عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے کہ انسان اس پر ثابت قدم رہے اور بدلے نہیں۔ جب کہ دوسرا انسان وہ ہے جو جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جہنم میں داخل ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ گویا اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک ہاتھ زمین کا فاصلہ رہ گیا ہو۔ پھر اس پر لکھی ہوئی تقدیر غالب آجاتی ہے۔ چنانچہ وہ جنتیوں کا عمل کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔