Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ لوگ پہنچے۔ پہنچنے کے بعد انھوں نے آپ کی تعریف میں کچھ باتیں کہیں، جو آپ کو پسند نہيں آئیں۔ انھوں نے کہا : "آپ ہمارے سید ہیں"۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے کہا: "سید تو اللہ ہے"۔ اسی کے پاس مخلوقات کی مکمل سرداری ہے۔ سب اس کے غلام ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا : "آپ ہم میں سب سے فضیلت والے" یعنی سب سے اونچے مرتبے، شرف و منزلت اور امتیازی شان والے ہیں۔ "اور آپ ہم میں سب سے صاحب جود و سخا" یعنی داد و دہش کرنے والے اور اونچی شان کے حامل ہيں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہدایت کی کہ آپ کو سادہ الفاظ میں مخاطب کریں اور بھاری بھرکم الفاظ تلاش نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان انہیں مبالغہ آرائی کی راہ پر لے جائے، جو شرک اور اس کے اسباب کی طرف لے جاتا ہے۔
روز قیامت رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے اور اللہ کو سجدہ کریں گے اور اس سے دعا کریں گے۔ پھر اللہ تعالی آپ ﷺ کو شفاعت عظمی کی اجازت مرحمت فرماتے ہوئے کہے گا: مانگیں، آپ کو دیا جائے گا، شفاعت کریں، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی یعنی آپ کا سوال قابل قبول اور آپ کی شفاعت مقبول ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر، قربانی کے دن، جمرہ عقبہ میں کنکر مارنے کی صبح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران آپ نے ان کو کچھ کنکر چن کر لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ انھوں نے سات کنکر چن کر پیش کیے۔ ہر کنکر چنے کے دانے کے برابر تھا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کنکروں کو اپنی ہتھیلی میں رکھ کر ہلایا اور فرمایا : اسی سائز کے پتھر مارا کرو۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دینی معاملوں میں غلو و تشدد سے کام لینے اور حد سے آگے بڑھنے سے منع فرمایا۔ کیوں کہ دینی معاملوں میں یہی غلو، حد سے تجاوز، افراط اور انتہا پسندی نے پچھلی امتوں کو ہلاک کیا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دور جاہلیت کی کچھ چيزوں کا ذکر، ان سے خبردار رکھنے اور یہ بتانے کے لیے فرمایا کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور کچھ بھی اس کے فیصلے اور تقدیر سے ہٹ کر نہيں ہوتا۔ اور وہ چیزیں درج ذیل ہیں: 1- دور جاہلیت کے لوگ سمجھتے تھے کہ مرض بذات خود متعدی ہوا کرتی ہے۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتا دیا کہ کوئی بیماری طبعی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتی۔ اس کائنات کا تصرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی بیماری اتارتا اور اٹھاتا ہے۔ یہ سب اس کے ارادے اور فیصلے کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ 2- دور جاہلیت کے لوگ جب سفر یا تجارت کے ارادے سے نکلتے، تو کسی پرندے کو بھگاتے۔ وہ اڑ کر دائيں طرف جاتا، تو خوش ہو جاتے۔ لیکن اگر بائیں طرف جاتا، تو برا شگون لیتے اور لوٹ جاتے۔ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح پرندہ اڑا کر برا شگون لینے سے منع فرمایا اور بتایا کہ یہ ایک غلط عقیدہ ہے۔ 3- دور جاہلیت کے لوگ کہتے تھے: کسی گھر پر الو بیٹھ جائے، تو اہل خانہ مصیبت میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اس طرح برا شگون لینے سے منع فرمایا۔ 4- آپ نے صفر مہینے سے برا شگون لینے سے منع فرمایا۔ صفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صفر ایک کیڑا ہے، جو جانور یا انسان کے پیٹ میں پیدا ہو جاتا ہے۔ عربوں کا عقیدہ تھا کہ یہ خارش کی بیماری سے بھی زیادہ متعدی بیماری ہے۔ چنانچہ آپ نے اس عقیدے کی نفی کر دی۔ 5- آپ نے کوڑھ کے مرض کے شکار انسان سے اسی طرح بھاگنے کا حکم دیا ہے، جس طرح شیر سے بھاگا جاتا ہے۔ دراصل یہ حکم اپنے لیے احتیاط، طلب عافیت اور اللہ کے حکم کردہ اسباب پر عمل کرنے کے قبیل سے ہے۔ کوڑھ ایک بیماری ہے، جس کا شکار ہونے والے انسان کے جسم کے اعضا گلنے لگتے ہيں۔
نُشرہ (ایک قسم کا منتر ہے جو جادو کے توڑ کے لیے پڑھا جاتا ہے) حسن بصری رحمہ اللہ کا کلام بظاہر نُشرہ کی مطلقاً نفی کرتا ہے، اس لیے کہ جادو کو وہی شخص ختم کرسکتا ہے جو اس کے بارے میں جانتا ہو۔ یہ جادو کو جادو کے ذریعے سے ختم کرنے پر محمول ہے جو کہ شیطانی کام ہے۔ ابن القیم رحمہ اللہ علیہ نے اس کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جادو کا علاج جائز دواؤں اور تلاوت قرآن کے ذریعے سے کرنا جائز ہے۔ جب کہ جادو کا علاج جادو ہی کے ذریعے سے ناجائز اور حرام ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس حدیث میں بیان کر رہے ہیں کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمین باوجود اس کے کہ بہت بڑے ہیں تاہم اللہ تعالی کی ہتھیلی میں ان کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے ہم میں سے کسی کی ہتھیلی پر رائی کا ایک چھوٹا سا دانہ ہوتا ہے۔ یہ نسبت کی نسبت کے ساتھ تشیبہہ ہے نہ کہ ہتھیلی کی ہتھیلی کے ساتھ۔کیونکہ اللہ کی تعالی کی جس طرح ذات کے ساتھ کوئی شے مشابہہ نہیں اسی طرح اس کی صفات کے ساتھ بھی کوئی شے مشابہہ نہیں ہے۔
نبی ﷺ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بتا رہے ہیں کہ کرسی باوجود اپنی وسعت اور عظمت کے عرش کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے زمین کے کسی وسیع و عریض صحراء میں پڑا لوہے کا ایک چھلّا ہوتا ہے۔ اس سے عرش کے خالق کی عظمت اور اس کی قدرت تامہ کا علم ہوتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عہد جاہلیت کے لوگوں کا یہ عقیدہ باطل ہے کہ بیماری اللہ کے فیصلے اور اس کی لکھی تقدیر کے بغیر ہی ایک شخص سے دوسرے شخص کی جانب منتقل ہو جایا کرتی ہے۔ اسی طرح بدشگونی لینا بھی باطل ہے۔ بدشگونی نام ہے کسی مسموع یا مرئی چیز، جیسے پرندوں، جانوروں، معذور لوگوں، اعداد یا دنوں وغیرہ سے بدفالی لینے کا۔ اس حدیث میں بدشگونی کے لیے " الطيرة" لفظ کا استعمال اس لیے ہوا ہے کہ عہد جاہلیت میں بدشگونی کا یہ طریقہ بہت مشہور تھا۔ ہوتا یہ تھا کہ عرب کے لوگ جب سفر یا تجارت وغیرہ کوئی کام شروع کرنا چاہتے، تو پرندہ اڑا کر دیکھتے۔ اگر پرندہ دائیں اڑتا، تو اسے نیک فال سمجھ کر قدم آگے بڑھاتے اور اگر بائيں اڑتا، تو بدشگونی کے عقیدے کے تحت قدم پیچھے واپس کھینچ لیتے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آپ کو فال اچھی لگتی ہے۔ فال یہ ہے کہ انسان کو کوئی اچھی بات سن کر فرحت و سرور حاصل ہو اور وہ اپنے رب سے حسن ظن قائم کر لے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ مدینے میں رہنے والے انصار کی محبت کمال ایمان کی علامت ہے۔ ایسا اس لیے کہ انھوں نے اسلام اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بڑھ چڑھ کر مدد کی، مسلمانوں کو پناہ دینے کی کوشش کی اور اللہ کے راستے میں جان و مال کی قربانی دی۔ آپ نے بتایا کہ ان سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ جو انصار سے محبت رکھے گا، اللہ اس سے محبت رکھے گا اور جو انصار سے بغض رکھے گا، اللہ اس سے بغض رکھے گا۔