





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم نے جو گناہ زمانۂ جاہلیت میں کیے ہیں، کیا ان کا بھی مؤاخذہ ہم سے ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا"۔
متفق عليهاس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے کی فضیلت بیان کر رہے ہیں۔ جو شخص اسلام لائے اور پھر اس کا اسلام ٹھیک رہے اور وہ صدق واخلاص سے متصف رہے، تو ان گناہوں پر اس کا مؤاخذہ نہیں ہوگا، جو اس نے جاہلیت میں کیے تھے۔ اور جو شخص اسلام لانے کے بعد بھى برا ہى رہا، بایں طور کہ دل میں نفاق چھپائے رکھا یا دین سے مرتد ہوگیا، تو اس سے ان تمام اعمال کا حساب و کتاب ہوگا، جو اس نے کفر اور اسلام کی حالت میں کیے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں, رمضان میں روزہ رکھوں اور حلال کو حلال سمجھوں اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو آپ ﷺ کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "ہاں!" اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا-
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ وضاحت فرمائی کہ جو شخص پانچ وقت کی فرض نمازوں کی پابندی کرے اور نوافل نہ پڑھے، رمضان کے روزے رکھے اور نفلی روزے نہ رکھے، حلال کو حلال سمجھ کر انجام دے اور حرام کو حرام سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پاکیزگی نصف ایمان ہے۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے، سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے، ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے، تو (کچھ اعمال کے عوض) اپنا سودا کرتا ہے، پھر یا تو خود كو آزاد کرنے والا ہوتا ہے يا خود کو تباہ کرنے والا"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس حدیث میں بتا رہے ہیں کہ ظاہری طہارت وضو اور غسل سے حاصل ہوتی ہے اور یہ طہارت نماز کے لیے شرط ہے۔ "الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے۔" الحمد للہ در اصل اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کرنے اور اسے صفات کمال سے متصف کرنے سے عبارت ہے۔ قیامت کے دن اس کلمہ کو ترازو پر وزن کیا جائے گا، تو اس سے عمل کو تولا جانے والا ترازو بھر جائے گا۔ "سبحان الله اور الحمد لله" یہ دونوں کلمات ہر قسم کے نقص سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسے اس کی جلالت شان کے مطابق کمال مطلق کے وصف سے موصوف کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کی محبت اور اس کی تعظیم بھی ہم رکاب ہوتی ہے۔ یہ دونوں کلمات آسمان وزمین کے درمیان کی وسعت کو بھر دیتے ہیں۔ "نماز نور ہے" جو بندے کے دل کو، اس کے چہرے کو، اس کی قبر کو اور اس کی آخرت کو منور کرتی ہے۔ "صدقہ دلیل ہے۔" صدقہ مؤمن کے سچے ایمان والے ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وہ اس منافق سے مختلف ہے، جو صدقہ سے دامن کش رہتا ہے، کیوں کہ وہ اس اجر وثواب کو سچ نہيں جانتا، جس کا وعدہ صدقہ کرنے والے سے کیا گیا ہے۔ "صبر روشنی ہے۔" صبر نفس کو جزع فزع کرنے اور تقدیر پر ناراضگی ظاہر کرنے سے روکنے کا نام ہے۔ ضیا ایسی روشنی کو کہتے ہیں، جس کے ساتھ حرارت اور جلانے کے اوصاف پائے جائیں۔ جیسے کہ سورج کی روشنی۔ صبر کو ضیا اس لیے کہا گیا ہے کہ صبر کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نفس سے لڑنے اور اسے خواہشات سے روکنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب انسان صبر سے کام لیتا ہے، تو اس کی راہیں روشن رہتی ہیں اور وہ صحیح راستے پر گامزن رہتا ہے۔ یہاں صبر سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت گزاری پر گام زن رہا جائے، اس کی نافرمانی سے اجتناب کیا جائے دنیاوی مصائب ومشکلات کا مقابلہ پامردی کے ساتھ کیا جائے۔ "قرآن تمہارے حق میں دلیل ہے۔" قرآن انسان کے حق میں دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تلاوت کرے اور اس کی تعلیمات پر عمل کرے۔"یا پھر تمہارے خلاف دلیل ہے۔" قرآن انسان کے خلاف دلیل اس وقت ہوتا ہے، جب وہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اس کی تلاوت کرنے سے گریز کرے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمام لوگ جد وجہد کرتے، زمین میں پھیل جاتے اور نیند سے بیدار ہوکر اپنے مختلف مشاغل کی غرض سے گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے اپنی جان کو جہنم سے آزاد کر لیتے ہیں، جب کہ کچھ لوگ اس راہ سے بھٹک کر گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہيں، تو اللہ ان کو جہنم میں داخل کرکے ہلاک کردیتا ہے۔
معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں اللہ کے نبی ﷺ کے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، جس کا نام عفیر تھا۔ اسی دوران آپ نے فرمایا: ’’اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ پر حق یہ ہے کہ جو کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، اللہ تعالیٰ اسے عذاب نہ دے۔‘‘ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول اللہ ﷺ ! کیا میں لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو، ورنہ لوگ اسی پر بھروسہ کرکے بیٹھ جائیں گے۔‘‘
متفق عليهنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ وضاحت فرمائی ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے۔ بندوں پر اللہ کا حق یہ کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ جب کہ اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے ان موحد بندوں کو عذاب نہ دے، جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ پھر معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ دے دوں، تاکہ وہ اس فضل وکرم کو جان کر خوش ہوسکیں؟ لیکن آپ نے انھیں ایسا کرنے سے منع کردیا، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس پر توکل کرکے بیٹھ نہ رہیں۔
جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک آدمی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں؟ آپ نے جواب دیا: ’’جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا، اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا، و ہ جہنم میں داخل ہو گا۔‘‘
رواه مسلمایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی دو باتوں کے بارے میں پوچھا، جن میں سے ایک دخول جنت کو واجب کر دیتی ہے اور دوسری دخول جہنم کو واجب کردیتی ہے- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: جنت کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہو۔ جب کہ جہنم کو واجب کرنے والی بات یہ ہے کہ انسان کی موت اس حال میں ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو۔ چنانچہ اللہ کی الوہیت، اس کی ربوبیت یا اس کے اسماء و صفات میں کسی کو شریک اور ہم مثل قرار دیتا ہو۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیں کہ مجھے اس کے بارے میں آپ کے بعد کسی اور سے سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "تم کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔“
رواه مسلم وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ایک صحابی سفیان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گزارش کی کہ آپ ان کو ایک ایسی بات سکھا دیں، جس کے اندر پورے اسلام کا نچوڑ آ جائے، تاکہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے بارے میں آپ کے علاوہ کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے۔ چنانچہ آپ نے ان سے کہا: تم بس اتنا کہہ دو کہ میں نے اللہ کو ایک مانا اور اس کے رب، اکیلا برحق معبود اور خالق ہونے پر ایمان لایا۔ اور اس کے بعد اللہ کی فرض کی ہوئی چیزوں کو ادا کرتے ہوئے اور اس کی حرام کی ہوئی چیزوں سے دور رہتے ہوئے اس کی اطاعت گزاری کرو اور اسی پر کاربند رہو۔
عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلا دیے جائیں گے۔ ہر دفتر حد نگاہ تک ہوگا۔ پھر اللہ عزوجل پوچھے گا: کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں اے میرے رب! پھر اللہ کہے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، اے میرے رب! اللہ کہے گا (کوئی بات نہیں) تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پرکوئی ظلم نہ ہوگا۔ پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر "أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" لکھا ہوگا۔ اللہ فرمائے گا: جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر موجود رہو۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ فرمائے گا: تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ تمام دفتر (رجسٹر) ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں۔ پھر وہ سارے دفتر ہلکے ثابت ہوں گے اور پرچہ بھاری۔ اللہ کے نام کے ساتھ (یعنی اس کے مقابلہ میں) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہوسکتی"۔
رواه الترمذي وابن ماجهنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ایک شخص کو منتخب کرکے تمام مخلوقات کے سامنے لائے گا۔ اسے دراصل حساب و کتاب کے لیے پکارا جائے گا۔ چناں چہ اللہ تعالی اس کے سامنے ننانوے دفتر پھیلا دے گا، جوکہ اس کی ان بد اعمالیوں کے صحیفے ہوں گے، جو وہ دنیا میں کیا کرتا تھا۔ ہر دفتر تا حد نگاہ پھیلا ہوگا۔ پھر اللہ عز وجل اس شخص سے کہے گا: کیا تم ان دفتروں میں تحریر کردہ کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا میرے محافظ اور کاتب فرشتوں نے تمہارے اوپر ظلم کیا ہے؟ وہ شخص جواب دے گا: نہیں، اے میرے رب! ایسا نہیں ہے۔ اللہ عز وجل عرض فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے، جسے تم دنیا میں کیے ہوئے اپنے ان برے کاموں کے بدلے میں پیش کر سکو؟ مثلا یہ کہ یہ گناہ بھول چوک میں یا غلطی سے یا جہالت کی بنا پر انجام پاگئے۔ وہ شخص کہے گا: نہیں، اے میرے رب! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ اللہ عز وجل فرمائے گا: (کوئی بات نہیں) ہمارے پاس تمہاری ایک نیکی ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس کے بعد اللہ عز وجل اس شخص سے کہے گا : جاؤ اپنے اعمال کے وزن کی جگہ پر حاضر ہو جاؤ۔ وہ شخص فرط تعجب سے کہے گا: اے میرے پروردگار! ان دفتروں کے سامنے اس پرچہ کی کیا حیثیت؟! اللہ عز وجل فرمائے گا: آج تمہارے اوپر کوئی ظلم وزیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: چنانچہ تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے گا اور اس پرچی کو دوسرے پلڑے میں۔ بالآخر وہ پلڑا اوپر اٹھ جائے گا، جس میں سارے دفتر ہوں گے اور وہ پلڑا جھک جائے گا، جس میں وہ پرچی رکھی ہوگی۔ اس طرح اللہ تعالی اس شخص کو اپنی مغفرت سے نوازے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا، تو جبریل علیہ السلام کو جنت کی طرف بھیجا اور فرمایا: جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا، پھر واپس آئے اور کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گیا۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب پھر جاؤ، جنت اور اس میں جنتیوں کے لیے بنائی ہوئی چیزوں کو دیکھو۔ انہوں نے جا کر دیکھا تو پایا کہ جنت کو ناگوار چیزوں سے گھیر دیا گيا ہے۔ چناں چہ واپس آکر کہا : تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”جاؤ جہنم اور اس کے اندر میں نے اہل جہنم کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو آگ کے شعلے ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ چناں چہ واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! کوئی اس میں داخل نہیں ہوگا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا، تو اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا۔ پھر فرمایا: اب جا کر دیکھو۔ انہوں نے جاکر دیکھا تو پایا کہ اسے خواہشات سے گھیر دیا گیا ہے۔ لہذا واپس آکر کہنے لگے: تیری عزت کی قسم! مجھے خطرہ ہے کہ کوئی بھی شخص اس سے بچ نہیں سکے گا۔ ہر شخص اس میں داخل ہوگا"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے جب جنت و جہنم کو پیدا کیا تو جبریل علیہ السلام سے فرمایا: جاؤ جنت کو دیکھو۔ چنانچہ وہ گئے اور دیکھ کر واپس آئے۔ جبریل نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم! جو شخص بھی جنت کے بارے میں اور اس میں موجود نعمتوں اور آسائشوں کے بارے میں سنے گا، ضرور اس میں داخل ہونا چاہے گا اور اس کی خاطر عمل کرے گا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے جنت کو نا گوار اور مشکل چیزوں سے گھیر دیا۔ یعنی جنت کے ارد گرد اوامر کی بجا آوری اور نواہی سے اجتناب کا حصار لگا دیا۔ چنانچہ جو شخص اس میں داخل ہونا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری کر دیا کہ وہ ان ناگواریوں سے گزر کر آئے۔ پھر اللہ عز وجل نے فرمایا: اے جبریل! اب جاؤ اور جنت کو دیکھو۔ چنانچہ حضرت جبریل گئے اور جنت کو دیکھا اور آکر عرض کیا: اے میرے ربر! تیری عزت کی قسم! مجھے خوف ہے کہ جنت کی راہ میں جو صعوبتیں اور مشقتیں ہیں، ان کی وجہ سے کوئی اس میں داخل نہ ہوسکے گا۔ اسی طرح جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا: اے جبریل! جاؤ جہنم کو دیکھ کر آؤ۔ چنانچہ وہ گئے اور جہنم کا معاینہ کیا، پھر لوٹ کر آئے اور عرض کیا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم! اس میں جو عذاب، پریشانیاں اور مشقتیں ہیں، ان کے بارے میں جو بھی سنے گا، وہ اس میں جانا ناپسند کرے گا اور اس کے اسباب سے بھی دور رہے گا۔ چنانچہ اللہ عز وجل نے جہنم کو مرغوب اور لذت آمیز چیزوں سے گھیر دیا اور پھر فرمایا: اے جبریل! جاؤ اور جہنم کو دیکھ کر آؤ۔ چناں چہ حضرت جبریل گئے اور دیکھ کر واپس آئے، تو عرض کیا: اے میرے پروردگار! تیری عزت کی قسم، مجھے خدشہ ہے کہ اس سے شاید ہی کوئی شخص بچ پائے گا، کیوں کہ اس کے ارد گرد مرغوب اور لذت آمیز چیزوں کا حصار لگا ہوا ہے۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دیں تھیں"۔ فرمایا : اوراس وقت اس کا عرش پانی پر تھا"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالی نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال قبل تمام مخلوقات کی تقدیریں، مثلا موت و حیات اور روزی وغیرہ کو تفصیل کے ساتھ لوح محفوظ میں تحریر کردی تھیں۔ یہ تمام باتیں اللہ عز وجل کی قضا و قدر کے مطابق واقع ہوکر رہیں گی۔ چناں چہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ اللہ تعالی کی قضا و قدر کے مطابق ہو رہا ہے۔ چنانچہ بندے کو جو کچھ حاصل ہوا وہ اس سے چوکنے والا نہیں تھا اور جو اس سے چوک گیا وہ اسے حاصل ہونے والا نہیں تھا۔