





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "غلو کرنے والے ہلاک ہو گئے۔" یہ بات آپ نے تین بار فرمائی۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم -آسمانی ہدایت اور دلیل کے بغیر- اپنے دین و دنیا اور اپنے اقوال و افعال میں بال کی کھال نکالنے والوں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بیان کردہ شرعی حد سے آگے بڑھنے والوں کی ناکامی اور خسارے کی نشان دہی کی ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَقَالُوا لا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلا سُوَاعًا وَلا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا﴾ ”اور انھوں نے کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ہی ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر کو چھوڑنا“۔ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ قوم نوح کے نیک آدمیوں کے نام ہیں۔ جب وہ فوت ہو گیے تو شیطان نے ان کے دل میں یہ بات ڈالی کہ ان کی کوئی یادگار بنائیں وہ جہاں بیٹھتے ان کی یادگار بنا دیتے اور ان کے نام پر اس کا نام رکھتے۔ سو انھوں نے ایسا کیا لیکن ان کی عبادت نہیں کی جاتی تھی یہاں تک کہ وہ بھی فوت ہو گیے اور اصل بات بھی بھلا دی گئی تو ان کی عبادت شروع کر دی گئی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کریمہ کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں کہ یہ معبودان جن کا اللہ تعالیٰ نے تذکرہ کیا کہ قومِ نوح نے ان کی عبادت کو جاری رکھنے کی ایک دوسرے کو وصیت فرمائی جب کہ ان کے نبی نوح علیہ السلام نے انھیں اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے روکا تھا۔ یہ دراصل ان کی قوم کے نیک لوگ تھے، لوگوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر ان کی شان میں غلو کیا، یہاں تک کہ ان کی تصاویر نصب کردیں، چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ بعد میں چل کر یہی تصاویر بت ہوگئیں اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جانے لگیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی یا اس کے قرض کا کچھ حصہ معاف کردیا، اسے قیامت کے دن اللہ تعالی اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہو گا"۔
رواه الترمذي وأحمداللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ جس نے کسی تنگ دست قرض دار کو مہلت دی یا اس کے قرض کا کچھ حصہ معاف کردیا، بدلے میں قیامت کے دن اللہ تعالی اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، جس دن سورج بندوں کے سروں سے قریب ہو جائے گا اور انہیں سورج کی بڑی سخت تپش کا سامنا ہوگا۔ اس دن سایہ اسی کو نصیب ہوگا، جسے اللہ تعالیٰ سایہ فراہم کرے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اسے آزمائش میں ڈالتا ہے۔"
رواه البخارياللہ کے نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی مؤمن بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، تو اسے جان، مال اور اہل و عیال کے سلسلے میں آزمائش میں ڈالتا ہے، کیوں کہ اس سے بندے کو اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کا موقع ملتا ہے، اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اس کے درجات بلند ہوتے ہيں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو)؛ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیا سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ چنانچہ جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے دوری اختیار کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے طاقت بھر بجا لاؤ۔"
متفق عليهاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا کہ شرعی احکام کی تین قسمیں ہيں: وہ احکام جن سے خاموشی برتی گئی ہے، نواہی، اوامر۔ جہاں تک پہلی قسم یعنی ان احکام کا تعلق ہے، جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے، کوئی حکم وارد نہيں ہوا ہے، تو یاد رہے کہ اشیا میں اصل عدم وجوب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وجوب یا تحریم نازل نہ ہو جائے، کسی ایسی چيز کے بارے میں سوال نہ کرنا ضروری تھا، جو سامنے نہ آئی ہو۔ کیوں کہ اللہ نے بندوں پر رحمت کے طور پر اسے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد سوال اگر فتوی لینے یا دین کے ضروری مسائل کا علم حاصل کرنے کے ارادے سے کیا جائے، تو نہ صرف یہ کہ جائز، بلکہ مامور بہ ہے۔ لیکن سوال اگر تعنت اور تکلف کے طور پر ہو، تو اس حدیث کی رو سے اس طرح کا سوال کرنا منع ہوگا۔ کیوں کہ اس طرح کا سوال بالآخر اسی طرح کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جو بنی اسرائیل کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ان کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایسے میں اگر کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے، تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، لیکن انھوں نے بال کی کھال نکالنی شروع کی، تو ان کے لیے راہ تنگ ہوتی جلی گئی۔ دوسری قسم منہیات کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے چھوڑنے والے کو ثواب ملے گا اور کرنے والے کو سزا ہوگی۔ لہذا اس طرح کے کاموں سے دور رہنا واجب ہے۔ تیسری قسم اوامر کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور چھوڑنے والے کو سزا۔ اس طرح کے کاموں کو، جب تک قدرت ہو، کرنا واجب ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں اور آپ اپنے رب پاک سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں اور انھیں صاف صاف بیان کر دیا ہے۔ چنانچہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کر سکا، تو اس کےکھاتے میں اللہ تعالی اپنے ہاں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اس نے ارادہ کرنے کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے یہاں دس نیکیوں سے سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے۔ اس کے برخلاف جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا، لیکن اس پر عمل نہ کیا، تو اللہ تعالی اپنے یہاں اسے ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر ارادہ کرنے کے بعد اس نے اس کا ارتکاب بھی کر لیا، تو اللہ تعالی اسے صرف ایک برائی ہی لکھتا ہے“۔
متفق عليهاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی اور پھر فرشتوں کو بتایا کہ ان کو کیسے لکھا جائے۔ لہذا جس نے کوئی اچھا کام کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور اسے کر نہ کر سکا، تب بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اگر اسے کر لیا، تو اس کے لیے دس سے سات سو، بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ دراصل نیکی میں یہ اضافہ دل کے اندر موجود اخلاص اور اس کام سے دوسروں کو ہونے والے فائدے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف جس نے کوئی برا کام کرنے کا پختہ ارادہ کیا اور پھر اسے اللہ کے لیے چھوڑ دیا، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ لیکن اگر اسے دلچسپی نہ ہو نے کی وجہ سے چھوڑا اور اس کے اسباب پر بھی ہاتھ نہ لگایا، تو کچھ نہیں لکھا جاتا۔ جب کہ اسے قدرت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑا، تو اس کی نیت کو اس کے خلاف لکھا جاتا ہے۔ اور اگر اسے کر لیا تو اس کے کھاتے میں ایک گناہ لکھا جاتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ بندوں کے رنگ وروپ اور ان کے کی جسموں کو نہیں دیکھتا کہ خوب صورت ہيں یا بد صورت؟ تندرست ہیں یا بیمار؟ ان کی دولت بھی نہیں دیکھتا کہ کم ہے یا زیادہ؟ اللہ عز و جل ان چیزوں اور ان چیزوں میں ان کے تفاوت کی بنیاد پر ان کا حساب نہیں لیتا۔ اللہ ان کے دلوں اور دلوں کے اندر موجود تقوی، یقین، سچائی، اخلاص یا پھر ریاکاری اور شہرت طلبی کو دیکھتا ہے۔ اللہ بندوں کے اعمال کو دیکھتا ہے کہ صحیح ہیں یا غلط اور انھیں باتوں کی بنیاد پر ان کو جزا یا سزا دیتا ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا۔ اس کے کپڑے بہت سفید اور بال بہت کالے تھے۔ اس پر سفر کے آثار بھی نہیں دکھائی دے رہے تھے اور ہم میں سے کوئی اسے جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر بیٹھا۔ اپنے گھٹنے کو آپ کے گھٹنے سے لگا لیا اور اپنی ہتھیلیاں اپنى رانوں پر رکھی۔ پھر بولا : اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر اللہ کے گھر تک جانے کی استطاعت ہو، تو اس کا حج کرو۔" یہ سن کر وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور پھر خود آپ کی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر بولا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور ہر اچھی و بری تقدیر پر ایمان لاؤ"۔ وہ بولا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر بولا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو، تو وہ توتمھیں دیکھ رہا ہے"۔ وہ کہنے لگا: اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جس سے سوال کیا جا رہا ہے، وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا"۔ اس نے کہا : اچھا تو مجھے اس کی نشانیاں بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "(نشانیاں یہ ہیں کہ) لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی۔ تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، مفلس اور بکریاں چرانے والے لوگ محلات تعمیر کرنے میں ایک دوسرے پر فخر کیا کریں گے"۔ اس کے بعد وہ چلا گیا۔ میں کچھ دیر تک ٹھہرا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : "اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا؟" میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں"۔ آپ ﷺ نے فرمایا : "وہ جبریل (علیہ السلام) تھے۔ وہ تمھیں تمھارے دین کے معاملات سکھانے آئے تھے"۔
رواه مسلمعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ جبریل علیہ السلام صحابۂ کرام کے پاس ایک اجنبی شخص کی شکل اختیار کر کے آئے۔ ان کے کچھ صفات اس طرح تھے کہ ان کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور بال بہت زیادہ کالے تھے۔ ان کے جسم پر سفر کا کوئی اثر، جیسے تھکاوٹ، دھول مٹی، بالوں کا بکھرا ہوا ہونا اور کپڑوں کا میلا کچیلا ہونا وغیرہ نہیں دکھ رہا تھا۔ وہاں موجود کوئی شخص ان کو پہچان بھی نہيں پا رہا تھا۔ اس وقت صحابہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے سامنے ایک طالب علم کی طرح بیٹھ گئے اور اس کے بعد آپ سے اسلام کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں دونوں گواہیوں کا اقرار، پانچ وقتوں کی نمازیں قائم کرنا، زکوۃ اس کے حق داروں کو دینا، رمضان مہینے کے روزے رکھنا اور استطاعت رکھنے والے کے لیے کعبہ کا حج کرنا شامل تھا۔ جواب سننے کے بعد سوال کرنے والے نے کہا : آپ نے سچ کہا ہے۔ صحابہ کو اس بات کا تعجب ہوا ان کا سوال کرنا یہ دکھاتا ہے کہ وہ جانتے نہیں ہيں، لیکن وہ آپ کی بات کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔ پھر انھوں نے آپ سے ایمان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے جو جواب دیا، اس میں ایمان کے چھ ارکان شامل ہيں، جو کچھ اس طرح ہيں؛ اللہ کے وجود اور اس کے صفات پر ایمان رکھنا، اسے اپنے افعال، جیسے تخلیق وغیرہ میں اکیلا ماننا اور بس اسی کو عبادت کا حق دار جاننا، اس بات پر ایمان رکھنا کہ فرشتے، جن کو اللہ نے نور سے پیدا کیا ہے، اس کے معزز بندے ہیں، جو اس کی نافرمانی نہيں کرتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ کی جانب سے رسولوں پر اترنے والی کتابوں، جیسے قرآن، تورات اور انجیل وغیرہ پر ایمان رکھنا، انسانوں کو اللہ کا دین پہنچانے والے رسولوں، جیسے نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان رکھنا، آخرت کے دن پر ایمان رکھنا، جس میں موت کے بعد کی برزخی زندگی کے ساتھ ساتھ اس بات پر ایمان بھی شامل ہے کہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہوکر اٹھنا اور حساب وکتاب کے مرحلہ سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد اس کا ٹھکانہ یا تو جنت ہوگا یا پھر جہنم اور اخیر میں اس بات پر ایمان رکھنا کہ اللہ نے اپنے سابقہ علم اور اپنی حکمت کے مطابق ساری چیزوں کی مقدار مقرر کرکے ان کو لکھ رکھا ہے اور بعد میں وہ ساری چیزیں اللہ کے ارادے سے اور اس کے اندازے کے مطابق ہی سامنے آتی ہيں اور وہی ان کی تخلیق بھی کرتا ہے۔ پھر انھوں نے آپ سے احسان کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ احسان یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت اس طرح کرے، گویا وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر وہ اس مقام تک نہ پہنچ سکے، تو اللہ کی عبادت یہ سوچ کر کرے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہاں پہلا مقام مشاہدے کا ہے، جو کہ سب سے اونچا ہے اور دوسرا مقام مراقبے کا ہے۔ پھر انھوں نے آپ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ قیامت کب آئے گی، یہ بات ان باتوں میں سے ہے، جن کو اللہ نے کسی کو نہيں بتایا ہے۔ لہذا اس کا علم کسی کے پاس نہيں ہے۔ نہ جس سے پوچھا گیا ہے، اس کے پاس اور نہ پوچھنے والے کے پاس۔ بعد ازاں انھوں نے آپ سے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے بتایا کہ اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ باندیوں اور اس کے بطن سے جنم لینے والے بچوں کی بہتات ہوگی یا پھر یہ کہ بچے اپنی ماؤں کی بہت زیادہ نافرمانی کرنے لگیں گے اور ان کے ساتھ باندیوں جیسا سلوک کریں گے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ آخری زمانے میں بکریوں کے چرواہوں اور فقیروں کے سامنے دنیا کے دروازے کھول دیے جائیں گے اور وہ خوب صورت اور مضبوط محلوں کے معاملے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ اخیر میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ پوچھنے والے جبریل تھے، جو صحابہ کو اسلام سکھانے کے لیے آئے تھے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کی، جو اس کا حصہ نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہیں ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کے متعلق ہمارا حکم نہیں ہے، تو وہ قابل قبول نہيں ہے“۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے دین کے اندر ایسی کوئی نئی چیز ایجاد کی یا ایسا کوئی نیا کام کیا، جو قرآن اور حدیث سے ثابت نہ ہو، تو اسے اسی کے منہ پر مار دیا جائے گا اور اللہ کے یہاں قبول نہیں کیا جائے گا۔