





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عطاء ابن ابی رباح سے کہا کہ کیا تمہیں میں ایک جنتی عورت کو نہ دکھاؤں؟ عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ضرور دکھائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک سیاہ فام عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ مجھے مرگی کا دورہ پڑتا ہے اور اس کی وجہ سے میرا ستر کھل جاتا ہے۔ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو صبر کرو تمہیں اس پر جنت ملے گی اور اگر چاہو تو میں تمہارے لیے اللہ سے اس مرض سے نجات کی دعا کر دیتا ہوں“۔ اس نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گی۔ پھر اس نے کہا کہ (مرگی کے وقت) میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ دعا فرما دیں کہ میرا ستر نہ کھلا کرے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی۔
متفق علیہحدیث شریف میں اس بات کا بیان ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے شاگرد عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: کیوں نہیں! حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس سیاہ فام عورت کو دیکھ لو۔ سیاہ فام عورت جس کی طرف توجہ بھی نہیں جاتی اور زیادہ تر لوگ اسے پہنچانتے تک نہیں۔ اسے مرگی کا دورہ پڑتا اور اس کا ستر کھل جاتا تھا۔ اس نے نبی ﷺ کو اس بارے میں بتایا اور آپ ﷺ سے گزارش کی کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اسے مرگی کے مرض سے شفاء مل جائے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:”اگر تم چاہو تو میں اللہ سے تمہارے لیے دعا کر دیتا ہوں اور اگر تم چاہو تو پھر صبر کرو اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی“۔ تواس نے جواب دیا کہ میں صبر کرتی ہوں۔ اگرچہ اس عورت کو مرگی کی وجہ سے درد اور اذیت ہوتی تھی لیکن اس نے جنت کو پانے کے لیے صبر کو اختیار کیا۔ تاہم اس نے آپ ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میرا ستر کھل جاتا ہے۔ اللہ سے دعا کردیں کہ میرا ستر نہ کھلے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ ننگی نہ ہوا کرے۔بعد ازاں اسے مرگی کا دورہ تو پڑتا لیکن اس کا ستر نہیں کھلتا تھا۔
ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کی اپنے بھائی کےحق میں پیٹھ پیچھے دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کے سر پر ایک فرشتہ متعین ہوتا ہے اور جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے دعائے خیرکرتا ہے تو اس پر یہ متعین کردہ فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تیرے لیے بھی اس کی مثل ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔مسلمان کی اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کی گئی دعا اللہ کے ہاں مقبول ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اس کے سر پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے: آمین، اور تیرے نصیب میں بھی وہی خیر ہو جس کی دعا تو نے اپنے بھائی کے لیے کی ہے۔
ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں، جو تم نہیں دیکھتے۔ آسمان سے چرچرانے کی آواز نکلتی ہے اور اس کا ایسی آواز دینا بالکل بجا ہے۔ آسمان میں چار انگشت کے برابر بھی جگہ نہیں، جہاں کوئی فرشتہ اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ کچھ جانتے ہوتے، جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ، بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو پاتےاور اللہ سےفریادیں کرتے ہوئے گلیوں چوراہوں میں نکل آتے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں وہ کچھ دیکھتا اور جانتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور تم نہیں جانتے۔ آسمان سے ایسے آواز آتی ہے جیسی کجاوے پر بیٹھتے ہوئے اس میں سے آواز آتی ہے اور ایسی آواز آنی بھی چاہئے۔ آسمان میں چار انگل کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ اللہ کے سامنے اپنی پیشانی ٹیکے سجدہ ریز نہ پڑا ہو۔ اللہ کی قسم! اگر تم اللہ کے جلال کی عظمت اور اس کے انتقام کی شدت کو ویسے جانتے ہوتے جیسے میں جانتا ہوں تو تم اس کی غالبیت کے خوف کی وجہ سے ہنستے کم اور روتے زیادہ اور خوف کی شدت کی وجہ سے تم بستروں پر اپنی عورتوں سے بھی لطف اندوز نہ ہو سکتے اور با آواز بلند اللہ تعالی سے مدد مانگتے ہوئے تم راستوں میں نکل آتے۔
معاذ ابن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غصے کو پورا کرنے کی قدرت ہونے کے باجود اسے دبا لیتا ہے، اسے اللہ سبحانہ و تعالی روز قیامت سب مخلوق کے سامنے بلائیں گے اور اختیار دیں گے کہ جنت کی بڑی آنکھوں والی حوروں میں سے جسے چاہے، چن لے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ انسان کو جب کسی شخص پر غصہ آ جائے اور وہ اس کی گرفت پر قادر ہونے کے باجود محض اللہ کی رضا کے لئے اسے چھوڑ دے اور جن اسباب کی بنا پر اسے غصہ آیا، ان پر صبر کرے، تو اس کو یہ عظیم اجر ملتا ہے کہ اسے روزِ قیامت تمام مخلوق کے سامنے بلایا جائے گا اور اختیار دیا جائے گا کہ وہ جنت کی خوب صورت عورتوں میں سے جسے، چاہےچن لے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا، جب کہ آج کے دن میرے سایے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل محشر کو آوا ز دے گا اور فرمائے گا: ” أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي؟“ کہ (میرے جلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟) وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں، اس سے واقف ہونے کے باوجود اللہ تعالی یہ سوال اس لیے کرے گا؛ تاکہ میدان حشر میں ان کے مقام ومرتبے کا اعلان کر دے اور یہ اعلان در اصل خود اللہ تعالی کی عظمت بیان کرنے کا ایک بہانہ ہوگا۔ اس طرح اس کے معنی یہ ہوں گے: کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیوی سے مقاصد سے اوپر اٹھ کر میرے جلال اور عظمت کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي“ آج میں انھیں اپنے سایے میں رکھوں گا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا سایے کی نسبت اپنی طرف کرنا، اضافت تشریفی ہے اور اس سے مراد عرش کا سایہ ہے۔ مسلم کے علاوہ دیگر روایات میں ہے: میرے عرش کے سایے میں۔ ” يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي“ یعنی اس دن رحمٰن کے عرش کے سایے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر ، پانی کو ایک انگلی پر، مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا:میں ہی بادشاہ ہوں۔ اس پر نبی کریم ﷺ ہنس پڑے، جس سے آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ در اصل آپ کا یہ ہنسنا اس یہودی عالم کی تصدیق میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن“۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے: ”اور پہاڑ و درخت ایک انگلی پر۔ پھر انھیں حرکت دیتے ہوئے فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں! میں اللہ ہوں!“ اور بخاری کی روایت میں ہے: ”آسمانوں کو ایک انگلی پر، پانی و مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھے گا“۔
متفق علیہابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک یہودی عالم نے نبی ﷺ کے پاس آکر بتایا کہ وہ اپنی کتابوں میں پاتا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی ایک انگلی پر آسمانوں کو، ایک انگلی پر زمینوں کو، ایک انگلی پر درخت کواور ایک انگلی پر مٹی کو اٹھائے گا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ پانی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اٹھائے گا۔ یہ کل پانچ انگلیاں ہوئیں جیسا کہ صحیح روایات میں موجود ہے؛ البتہ اللہ کی انگلیاں مخلوقات کی انگلیوں کی طرح نہیں ہیں۔ پھر اللہ عز و جل اپنی عظمت و قدرت کا قدرے اظہار کرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں حرکت دے گا اور اپنی حقیقی بادشاہت، مطلق کمالِ تصرف اورالوہیتِ حقہ کا اعلان کرے گا! چنانچہ آپ اس کی بات کی تصدیق کے طور پر ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی اور حال یہ ہے کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن“۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روز قیامت اللہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور پھر فرمائے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں وہ لوگ جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو متکبر بنے پھرتے تھے؟ پھر اللہ ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور کہے گا: میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں جو سرکش بنے پھرتے تھے؟ کہاں ہیں جو متکبر بنے پھرتے تھے؟“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے صحابۂ کرام کو بتایا کہ قیامت کے دن اللہ عز وجل ساتوں آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا اور ساتوں زمینوں کو لپیٹ کر اپنے بائیں ہاتھ میں لے لے گا اور یہ کہ وہ جب بھی ان میں سے کسی کو لپیٹے گا تو ان سرکشوں اور متکبروں کو تحقیر آمیز لہجے میں پکار کر اعلان کرے گا کہ وہی حقیقی و کامل بادشاہت کا مالک ہے، جس میں نہ کوئی کمزوری آتی ہے اور نہ ہی وہ کبھی ختم ہوتی ہے اور یہ کہ اس کے سوا ہر بادشاہ، غلام، انصاف پرور اور ظالم سب ختم ہو جانے والے اور اس کے سامنے بے حیثیت ہیں۔ اللہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے) جواب ده نہیں اور سب (اس کے آگے) جواب ده ہیں۔
عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موتیوں سے بنے ایک گھر کی بشارت دی جس میں نہ کوئی شور شرابہ ہوگا اور نہ ہی کوئی تھکن۔
متفق علیہنبی ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام کے واسطے سے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں کھوکھلے موتیوں سے بنے ایک محل کی خوشخبری دی جس میں نہ تو پریشان کن آوازیں ہوں گی اور نہ ہی تھکن۔ اُم المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ سب سے پہلی خاتون ہیں جن سے نبی ﷺ نے شادی کی۔ نبی ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو آپ ﷺ کی عمر پچیس سال جب کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر چالیس سال تھی۔ وہ اس وقت ثیبہ تھیں اور آپ ﷺ کی چاروں بیٹیاں اور تینوں یا دونوں بیٹے ان ہی سے پیدا ہوئے۔ ان کے ہوتے ہوئے آپ ﷺ نے کسی دوسری عورت سے شادی نہ کی یہاں تک کہ وہ وفات پا گئیں۔ رضی اللہ عنہا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت ہی عقل مند، ذہین اور حکیم خاتون تھیں جن کی اخلاقی صفات اور خوبیاں مشہور ہیں۔
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم دن کے آغاز میں رسولﷺکے پاس تھے کہ آپﷺکے پاس کچھ ایسے لوگ آئے، جو ننگے بدن تھے، وہ اون کی دھاری دار چادریں یا کمبل ڈالے ہوئے اور گردنوں میں تلوار لٹکائے ہوئے تھے۔ ان کی اکثریت مضر قبیلے سے بلکہ سارے ہی مضر سے تھے۔ جب رسول اللہﷺنے ان کی فاقہ زدگی کا مشاہدہ فرمایا، تو آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ آپ (گھر) کے اندر تشریف لے گئے اور باہر آگئے۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انھوں نے اذان دی، (پھر جب لوگ نماز کے لیے جمع ہوگئے تو) تکبیر کہی اور آپﷺنے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: (لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو، جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا فرمایا) یہاں سے (یقینا اللہ تمھاری خبر نگہبانی کرنے والا ہے۔)تک۔ (سورۂ نساء:۱) اس کے بعد سورۂ حشر کی آخری آیت پڑھی۔( اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ہر نفس کو چاہیے کہ اس نے کل(قیامت) کے لیے جو آگے بھیجا ہے، اسے دیکھے)۔ ( اس کےبعد آپ نے صدقہ و خیرات کی ترغیب دی) فرمایا: ہر آدمی کو چاہیے کہ صدقہ کرے؛ دینار و درہم کا ، کپڑے کا، گندم کے صاع کا ، کھجور کے صاع کا، حتی کہ فرمایا گرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لے کر آیا، (جو اتنی بھاری تھی کہ) اس کی ہتھیلی اس کو اٹھانے سے عاجز آر ہی تھی؛ بلکہ عاجز ہو چکی تھی۔ پھر لوگ ( لے لے کر ) پے در پے آتے رہے، یہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر دیکھے؛ ایک کھانے کے سامان کا اور دوسرا کپڑوں کا۔ تب میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺکا چہرۂ انور اس طرح چمک رہا تھا، گو یا سونے کا ٹکڑا ہو۔ پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: "جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی اور جو اسلام میں کوئی بُرا طریقہ جاری کرے گا، اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جریر بن عبد اللہ البجلی رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بہت عظیم حدیث ہے، جس سے نبیﷺکی اپنی امت پر شفقت اور مہربانی کا اندازہ ہوتا ہے۔ صحابۂ کرام دن کے ابتدائی حصے میں نبیﷺکے ساتھ بیٹھے تھے کہ اتنے میں کچھ لوگ آئے، جن میں سے اکثر یا سب کے سب مضر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے دھاری دار چادریں لپیٹ رکھی تھیں اور اپنی تلواریں لٹکائی ہوئے تھے۔ یعنی ہر انسان کے بدن پر ایک کپڑا تھا، جسے اس نے اپنا ستر چھپانے کے لیے لپیٹ رکھا تھا اور اپنی گردن پر باندھا ہوا تھا۔ ان کے پاس حکم کی بجا آوری کے لیے تلواریں تھیں۔ رضی اللہ عنہم۔ ان کی یہ حالت زار دیکھ کر نبیﷺ کا چہرۂ انور متغیر ہو گیا اور اس کا رنگ بدل گیا۔ یہ لوگ مضر قبیلے سے تھے جو عرب کے معزز ترین قبائل میں سے تھا۔ حاجت مندی کی وجہ سے ان کا یہ حال ہو گیا تھا۔ آپ ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے۔ پھر آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کو کہا۔ لوگوں کو نماز پڑھائی اور پھر انھیں خطبہ دیا۔ آپ ﷺنے اپنی عادت کے مطابق اللہ تعالی کی حمد بیان کی اور پھر اللہ تعالی کا یہ فرمان تلاوت کیا: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً﴾ (النساء:1) ترجمہ: ”اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائیں۔ اس اللہ سے ڈرو، جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتے داری کے تعلقات کو بگاڑنے سے بچو۔ بے شک الله تم پر نگرانی کر رہا ہے“۔ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کو بھی پڑھا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ﴾ (الحشر: 18)ترجمہ: ”اے ایمان والو! الله سے ڈرو اور ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور الله سے ڈرو؛ کیوں کہ الله تمھارے کاموں سے خبردار ہے“۔ پھر آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا: ”ہر آدمی کو چاہیے کہ صدقہ کرے؛ دینار و درہم کا ، کپڑے کا ، گندم کے صاع کا ، کھجور کے صاع کا ، حتی کہ فرمایا گو کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو“۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خیر کے کاموں پر بہت زیادہ حریص تھے اور بہت تیزی کے ساتھ اور بڑھ چڑھ کر ان میں حصہ لیا کرتے تھے۔ وہ اپنا اپنا گھر گئے اور صدقے کا سامان لے کر آئے۔ یہاں تک کہ ایک شخص درہموں سے بھرا ایک تھیلا لے کر آیا، جسے اٹھانے میں اسے بہت مشکل ہو رہی تھی، بلکہ وہ اس سے اٹھ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے اسے نبی ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ راوی حدیث نے کھانے اور کپڑوں وغیرہ کے دو بڑے ڈھیر دیکھے، جو مسجد میں جمع تھے۔ نبیﷺ کا چہرۂ انور جو پہلے متغیر ہو چکا تھا، اب ایسے چمک رہا تھا، جیسے سونا ہو۔ ان فقرا کی حاجت پوری کرنے کے لیے جیسے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، اس پرخوشی کی وجہ سے آپ ﷺ کے چہرے پر چمک اور روشنی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں کوئي اچھا طریقہ جاری کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر اجر ملے گا۔ جب کہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی اور جو اسلام میں کوئی بُرا طریقہ جاری کرے گا، تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کے برابر گناہ ہوگا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں کی جاۓ گی“۔ نبی ﷺ کے فرمان: (مَنْ سَنَّ فِي الإِسْلامِ سُنَّةً حَسَنَةً) میں سنت سے مراد یہ ہے کہ جس نے کسی سنت پر عمل کا آغاز کیا۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ جس نے کوئی نیا طریقہ ایجاد کیا، کیوں کہ جس نے اسلام میں کوئی نئی شے ایجاد کی، وہ مردود ہوتی ہے نہ کہ اچھی۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جس نے سب سے پہلے عمل کا آغاز کیا، جیسے اس آدمی نے کیا تھا، جو تھیلا لے کر آیا تھا۔ رضی اللہ عنہ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو جب توفیق ملتی ہے، تو وہ اسلام میں کسی سنت کو فروغ دیتا ہے، چاہے اس میں پہل کرکے ہو یا اسے زندہ کرکے۔