





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: میری عظمت وجلال کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے (روزِ قیامت) نور سے بنے منبر ہوں گے۔ ان پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں گے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے مومنین کے ایک گروہ کا حال بیان کر رہے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے ان کے اعزاز میں ان کے لیے منبر اور بلند جگہوں کا انتظام ہو گا جن پر وہ بیٹھیں گے۔ ایسا اس وجہ سے ہوگا کیوں کہ انہوں نے اللہ کی خاطر اور اس کی تعظیم میں ایک دوسرے سے محبت کی ہوگی اور ایمان میں یکسانیت کی وجہ سے ایک دوسرے سے چاہت رکھی ہوگی۔ یہاں تک کہ انبیاء علیہم السلام بھی تمنا کریں گے کہ کاش وہ ان کی جگہ ہوتے۔ تاہم اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ وہ انبیاء سے بہتر ہیں۔کیونکہ کوئی مخصوص فضیلت عمومی فضیلت کو ختم نہیں کرتی۔
ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جنازہ (تیار کرکے) رکھا جاتا ہے اور لوگ يا آدمى اسے اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے آگے لے چلو، مجھے آگے لے چلو۔ اور اگر وہ نيک آدمی کا جنازہ نہیں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسان کے سوا ہر چيز اس کی یہ آواز سنتی ہے, اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو جائے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔جب جنازے کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر یہ میت نیک اور صالح ہو تو وہ اپنے سامنے دکھائی دینے والی جنت کی نعمتوں پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے جلدی لے کر چلو۔ اور اگر نیک نہ ہو تو پھر وہ اپنے گھروالوں سے کہتا ہے: ”ہائے ہلاکت! ہائے مصیبت!“ کیونکہ اسے اپنا بُرا ٹھکانہ نظر آرہا ہوتا ہے اور اس تک جانا اسے ناگوار ہوتا ہے۔ اس کی اس آواز کو حیوانات و جمادات سمیت تمام مخلوقات سنتے ہیں ماسوا انسان کے اور اگر انسان اسے سن لے تو غشی کھا کرگر جائے یا پھراس کی وجہ سے ہلاک ہی جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو انہیں حکم دیا کہ جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو جو بیٹھی ہے، سلام کرو اور سنو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔چنانچہ انہوں نے کہا: السلام علیکم۔ فرشتوں نے جواب دیا:السلام علیک و رحمۃ اللہ۔ ان فرشتوں نے لفظ رحمۃ اللہ کا اضافہ کیا“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو انہیں حکم دیا کہ فرشتوں کی ایک جماعت کو جا کر سلام کریں اور وہ انہیں جو جواب دیں اسے سنیں۔ یہ باہمی سلام و جواب ان کے لیے اور ان کے بعد ان کی اولاد کے لیے، جو رسولوں کے لائے گئے دین پر قائم ہوں گے، مشروع سلام ہو گا۔ چنانچہ آدم علیہ السلام نے کہا: السلام علیکم۔ اوراس کے جواب میں فرشتوں نے کہا: السلام عليك ورحمة الله۔ فرشتوں نے ”ورحمۃ اللہ“ کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ چنانچہ سلام کرنے اور اس کا جواب دینے کے لیے یہی الفاظ مشروع ٹھہرے۔دیگر احادیث میں ”ورحمۃ اللہ و برکاتہ“ کے الفاظ کی زیادتی آئی ہے چاہے یہ سلام کرنے میں ہو یا اس کا جواب دینے میں۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ہم مجلس لوگوں کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے: تم (اس کی) سفارش کرو، تمہیں بھی اجر ملے گا۔ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو پسند کرتاہے فیصلہ فرما دیتاہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”مَا شَاءَ“ یعنی (اللہ) جو چاہتا ہے (فیصلہ فرما دیتاہے)۔
متفق علیہیہ حدیث ایک بہت بڑے اصول اورایک بہت ہی مفید بات پر مشتمل ہے اور وہ یہ ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ بھلائی کے کاموں میں کوشاں رہے چاہے ان کے مقاصد اور ثمرات و نتائج حاصل ہوں، یا ان کا کچھ حاصل ہو، یا ان میں سے کچھ بھی پورا نہ ہو۔ جیسے کہ ضرورت مندوں کی حکمرانوں، بڑے لوگوں اور جن کے ساتھ ان کی ضروریات وابستہ ہیں ان کے پاس سفارش کرنا۔ بہت سے لوگوں کو اگر یہ یقین نہ ہو کہ ان کی سفارش قبول ہوگی تو وہ سفارش کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو اللہ کی طرف سے ملنے والی ایک بہت بڑی بھلائی سے اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ کی جاسکنے والی ایک نیکی سے اپنے آپ کو محروم کردیتے ہیں ۔ اسی لئے آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ ضرورتمندوں کی آپ ﷺ کےپاس سفارش کرکے ان کی مدد کیا کریں تاکہ اللہ تعالی سے اس کا فوری ثواب پاسکیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''سفارش کرو، تمہیں اجر ملے گا۔'' کیونکہ اچھی سفارش اللہ کو بہت محبوب اور پسندیدہ ہے ۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾ (النساء: 85) ”جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا“۔ فوری اجر پانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بھائی کے ساتھ نیکی اور بھلائی بھی کرتا ہے اور یوں اس کا اس پر احسان بھی ہوجاتا ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی سفارش کی بدولت اس شخص کی پوری یا جزوی مقصد برآری بھی ہوجائے۔ اچھی چیزوں اور بھلائی کے کاموں میں سعی وکوشش کرنا جن کے حاصل ہونے یا نہ ہونے دونوں کا امکان رہتا ہے بذات خود ایک فوری نیکی ہے اور نفس کو بھلائی کے کام میں مدد کرنے کا عادی بنانا ہے اور ایسی سفارشیں کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے جن کے قبول ہونے کا یقین،یا گمان ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ اور اللہ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہتا ہے فیصلہ فرما دیتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز کا ہونا یا نہ ہونا اللہ کے علم میں گذر چکا ہے اس میں سے جس چیز کا اللہ ارادہ کرتا ہے فیصلہ فرمادیتا ہے۔ چنانچہ جو شے مطلوب ہے وہ سفارش کا کرنا ہے ۔ اور اس پر ثواب مل کر رہتا ہے چاہے جس شے کی سفارش کی جائے وہ حاصل ہو یا پھر کسی رکاوٹ کی وجہ سے حاصل نہ ہوسکے ۔
ابو عبدالرحمن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ انبیاء میں سے ایک نبی کا قصہ بیان کررہے ہیں۔ صلوات الله وسلامه عليهم۔ جنہیں ان کی قوم نے مار مار کر لہولہان کردیا تھا ۔ وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے ہوئے کہتے جاتے ’’اے اللہ ! تو میری قوم کو معاف کردے کیونکہ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔
متفق علیہرسول اللہ ﷺ نے بیان کیا کہ ایک نبی تھے جن کی قوم نے ان کومارا (اور لہولہان کردیا) ۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے جاتے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے جاتے ۔ یہ صبر اور برد باری کی انتہاء ہے۔انہوں نے صرف دعا پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ان پر شفقت کرتے ہوئے ان کا عذر بھی پیش کیا کہ وہ امور کی حقیقت سے ناواقف ہیں ۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی امت پر رحمت نازل کرنا چاہتا ہے تو اس کے نبی کو فوت کر دیتا ہے اور اسے اس امت کے لیے آگے جا کر باعث اجر و پیش رو بنا دیتا ہے اور جب وہ کسی امت کی بربادی چاہتا ہے تو اس نبی کی زندگی میں ہی اس امت کو عذاب دیتا ہے۔ اور اس کی نظروں کے سامنے اسے برباد کردیتا ہے اور وہ اس کی ہلاکت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔کیوں کہ انھوں نے اسے جھٹلایا اور اس کی نافرمانی کی ہوتی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالی جب امتوں میں سے کسی امت کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اس کے نبی کو وفات دے دیتا ہے اور اس کی امت اس کے بعد باقی رہتی ہے چنانچہ وہ جنت میں اسے اس امت کا پیش رو اور اس کے لیے اسے سفارشی بنا دیتاہے۔ فَرَط کا حقیقی معنی ہے وہ شخص جو کسی سفر پر جانے والوں کے آگے آگے رہتا ہے تاکہ ان کے پڑاو کے لیے ضروری جگہ تیارکرے۔ پھر اپنے بعد آنے والے کے لیے سفارشی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا“۔ یعنی تمہارے لیے پانی کی تلاش میں میں تم سے پہلے حوض کوثر پر پہنچوں گا۔ اور اللہ تعالی جب کسی امت کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اسے اس حال میں عذاب دیتا ہے کہ اس کا نبی زندہ ہوتا ہے اور اس کی نظروں کے سامنے اسے ہلاک کرتا ہے۔ جیسا کہ نوح علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ یا دوسرے انبیاء کا اپنی قوموں کے ساتھ حال ہوا۔ اس مقام پر گویا نبی ﷺ اللہ تعالی کی اس امت پر رحمت کی خبر دے رہے ہیں اور آپ ﷺ ہی اس امت کو دی گئی رحمت ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ ”اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے“۔ اور اللہ تعالی نے وعدہ کیا کہ جب تک آپ ﷺ اس امت میں ہیں وہ اس پر عذاب نازل نہیں کرے گا اور ان پر اپنے فضل و کرم کی مزید عنایت کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں“۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب حنین کا معرکہ پیش آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں کچھ لوگوں کو ترجیح دی۔ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو بھی اتنا ہی مال عطا فرمایا۔ آپ نے عرب کے معزز لوگوں کو مال عطا فرمایا اور انھیں اس دن تقسیم میں ترجیح دی، تو ایک آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایسی تقسیم ہے، جس میں عدل نہیں کیا گیا اور اس تقسیم سے اللہ کی رضا کا قصد نہیں کیا گیا۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں یہ بات رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کروں گا۔ میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو وہ بات بتائی، جو اس آدمی نے کہی تھی۔ اس پر آپ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوکر سرخ ہوگیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے، تو پھر کون عدل کرے گا؟ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے۔ ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی اور انھوں نے صبر کیا! میں نے (اپنے جی میں) کہا: آئندہ میں ایسی بات آپ ﷺ کو نہیں بتایا کروں گا“۔
متفق علیہعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ بتا رہے ہیں کہ وہ غزوۂ حنین میں تھے۔ یہ غزوۂ طائف ہے، جو فتح مکہ کے بعد پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل طائف کے ساتھ جنگ کی اور ان سے آپ ﷺ کو اونٹوں، بھیڑ بکریوں اور درہم و دینار کی شکل میں بہت زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا۔ پھر آپ ﷺ نے مقام جعرانہ پر پڑاؤ کیا۔ یہ طائف کی سمت میں حرم کی حدود کے اختتام پر واقع ایک جگہ ہے۔ آپ ﷺ نے اس جگہ پڑاؤ کیا اور مال غنیمت کو اس غزوے کے شرکا کے مابین تقسییم کیا۔ آپ ﷺ نے اقرع بن حابس کو سو اونٹ دیے اور عیینہ بن حصن کو بھی سو اونٹ دیے اور عرب کے معزز لوگوں کو بھی مال سے نوازا۔ اس سے آپ ﷺ کی غرض انھیں اسلام کے ساتھ مانوس کرنا تھا؛ کیوں کہ اگر تحفے تحائف اور مال دینے سے ان لوگوں کا اسلام ٹھیک ہوجاتا، تو ان کے پیروکاروں خود بخود اسلام قبول کر لیتے اور اس سے اسلام کو قوت اور شان و شوکت حاصل ہوتی۔ جن کا ایمان مضبوط تھا انھیں آپ ﷺ نے مال نہ دیا؛ کیوں کہ آپ ﷺ کو ان کے ایمان پر اعتماد تھا۔ ایک آدمی نے جب دیکھا کہ نبی ﷺ قبائل کے سرداروں اور معززین قوم میں مال تقسیم کرتے جارہے ہیں اور کچھ لوگوں کو مال نہیں دے رہے، تو وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں عدل نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سے مقصود اللہ کی رضا جوئی ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب یہ سنا، تو وہ جلدی سے نبی ﷺ کے پاس آئے اور آنے سے پہلے قسم کھائی کہ وہ ضرور آپ ﷺ کو اس کے بارے بتائیں گے۔ جب انھوں نے نبی ﷺ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ سخت غصے میں آگئے اور آپ ﷺ کے چہرۂ انور کا رنگ تبدیل ہو کر خالص سرخ ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اللہ اور اس کا رسول عدل نہیں کریں گے، تو پھر عدل کون کرے گا؟ یعنی آپ ﷺ نے اس کی اس بات پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی موسی علیہ السلام پر رحم کرے، انھیں اس سے زیادہ تکلیف پہنچائی گئی، لیکن انھوں نے صبر کیا۔ ابن مسعود رضی اللہ نے جب رسول اللہ ﷺ کی یہ حالت دیکھی، تو دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ اگر میں ان لوگوں سے کوئی ایسی ناگوار بات سنوں گا، تو نبی ﷺ کو ہر گز نہ بتاؤں گا؛ کیوں کہ انھوں نے دیکھ لیا تھا کہ آپ ﷺ کو اس پر بہت غصہ آیا ہے۔ بشرطے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو، جس کی وجہ سے نبی ﷺ یا اسلام کو کوئی نقصان پہنچتا ہو۔
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "”زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ یہ بتا رہے ہیں کہ زکریا علیہ السلام جس پیشے کے ذریعے سے روزی کمایا کرتے تھے، وہ بڑھئی (کارپینٹری) تھا۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ ﷺ سے نماز کے بارے میں دریافت کیا گیا (کہ اسے کون پڑھائے؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابو بکر بہت رقیق القلب آدمی ہیں۔ وہ جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں رونا آ جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ وہ نماز پڑھائیں“۔ عائشہ سے مروی ایک اورحدیث میں ہے کہ: میں نے کہا: ابو بكر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے ان کی آواز لوگوں کو سنائی نہیں دے گی۔
متفق علیہجب رسول اللہ ﷺ کی تکلیف بڑھ گئی اور لوگوں کی امامت کرنا آپ ﷺ کے لیے ممکن نہ رہا تو آپ ﷺ کے پاس جو لوگ موجود تھے انہیں آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں کہ وہ آپ ﷺ کی جگہ پرامامت کریں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ جب قرآن پاک کی تلاوت فرماتے تو بہت رویا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں عذر پیش کیا تاہم اس باب کی حدیث میں ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قرآن کریم کے پڑھنے پر رونا ان کا اصلی مقصود نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد دراصل یہ تھا کہ کہیں لوگ ان کے والد سے بد شگونی نہ لیں۔ لہذا آپ رضی اللہ عنہا نے باطن کے علاوہ بات ظاہر کی۔ مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے بس یہ بات ناپسند تھی کہ کہیں یہ نہ ہو کہ جو شخص سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی جگہ کھڑا ہو اس سے لوگ بد شگونی لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے دو یا تین بار آپ ﷺ سےاس موضوع پر بات کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تم تو ان عورتوں کی طرح ہو جن سے یوسف علیہ السلام کو واسطہ پڑا تھا۔‘‘ مراد یہ ہے کہ تم ان عورتوں کی طرح ہو جن سے یوسف علیہ السلام کو سامنا تھا کہ جو دل میں ہے اس کے برخلاف ظاہر کر رہی ہو۔ یہ بات اگرچہ جمع کے صیغہ سے کی گئی تاہم اس سے مراد صرف عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں جیسا کہ یوسف والی عورتوں سے مراد صرف زلیخا ہے۔ حافظ ابن حجر نے ایسے ہی لکھا ہے۔ زلیخا اس وقت عزیز مصر کی بیوی تھی۔ ان دونوں کے مابین وجہ مشابہت یہ ہے کہ زلیخا نے عورتوں کو بلایا اور مہمان نوازی کی شکل میں ان کی عزت افزائی کی حالانکہ اس سے اس کی مراد کچھ اورتھی اور وہ یہ کہ وہ یوسف علیہ السلام کے حسن کو ملاحظہ کر سکیں اور یوں اسے اس کی محبت میں معذور گردانیں۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے اظہار اسی بات کا کیا کہ اپنے ابا سے امامت دور رکھنے سے ان کا منشا یہ ہے کہ مقتدی ان کے رونے کی وجہ سے ان کی آواز نہیں سن سکیں گے جب کہ ان کی مراد دراصل یہ تھی کہیں لوگ ان سے بد شگونی نہ لیں جیسا کہ انہوں نے حدیث کی بعض دوسری روایات میں اس کی صراحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ”مجھے آپ ﷺ سے بات کرنے پر جس شے نے آمادہ کیا وہ یہ تھی کہ میرا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا کہ لوگ آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کا آپ ﷺ کی جگہ پر کھڑا ہونا پسند کر لیں گے“۔