





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر اُمت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے میری امت! ہمارے امین ابو عبیدہ بن الجراح ہیں“۔
متفق علیہتمام امتوں میں سے ہر امت میں ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو امانت میں دوسروں سے زیادہ معروف ہوتا ہے۔ امانت کے لحاظ سے اس امت کے سب سے زیادہ مشہور شخص ابو عبیدہ عامر بن الجراح رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگرچہ ان میں اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں صفتِ امانت ایک مشترک صفت تھی تاہم حدیث کے سیاق سے یہ پتا چلتا ہے کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس صفت میں دوسروں سے بڑھ کر تھے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی شخص کو نہیں دیکھا، جس کے متعلق نبی کریمﷺنے فرمایا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: تیر مارنا جاری رکھ، میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہوں۔
متفق علیہعلی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انھوں نے نبیﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد کسی کے لیے یہ کہا ہو کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان! علی رضی اللہ عنہ نے نبیﷺ کو غزوۂ احد میں یہ کہتے سنا کہ کفار پر تیر اندازی کرتے رہو، میرے ماں باپ تجھ پر قربان!۔ یعنی میں اپنے ماں باپ کو پیش کرتا ہوں کہ وہ تیرے اوپر فدا ہوں اور تو محفوظ رہے۔ البتہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ نے غزوۂ خندق کے موقع زبیر رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اپنے والدین کے فدا ہونے کی بات کہی۔ ان دونوں احادیث کی تطبیق اس احتمال کے ساتھ ہوتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کو اس کا علم نہ ہو یا پھر ان کی مراد بطور خاص غزوۂ احد کے موقع پر ہے۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں سے) فرمایا کرتے تھے: ”میرے بعد تمھارا معاملہ کچھ ایسا ہے، جو مجھے فکرمند رکھتا ہے۔ تمھارا خرچ وہی اٹھائیں گے، جو صابر لوگ ہیں“۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اللہ تمھارے باپ کو جنت کے چشمۂ سلسبیل سے سیراب فرمائے۔ اس سے ان کی مراد عبد الرحمن بن عوف تھے۔ انھوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو -کہا جاتا ہے کہ- چالیس ہزار (دینار) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رحمہ اللہ بیان کر رہے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کہتے ہوئے اپنی ازواجِ مطہرات سے مخاطب ہوئے کہ مجھے اپنی وفات کے بعد تمھارے معاملے اور تمھارے گزر بسر کے بارے فکر لاحق ہے؛ کیوں کہ میں نے تمھارے لیے کوئی میراث نہیں چھوڑی اور تمھارے اوپر خرچ کرنے کا بار صرف صبر کرنے والے لوگ ہی برداشت کریں گے۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ رحمہ اللہ سے کہا کہ اللہ تیرے باپ عبد الرحمن بن عوف کو جنت کے اس چشمے سے سیراب کرے، جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ کیوں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ نے ازواج رسول ﷺ کے لیے ایک باغ بطور صدقہ دے دیا تھا، جو چالیس ہزار دینار میں فروخت ہوا تھا۔
عبدالرحمن بن ابی عُمیرہ جو کہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ ! تو ان کو ہدایت دے، انھیں ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے معاویہ بن ابی سفیان کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انھیں خیر کا راستہ دکھانے والا بنائے، ان کو اپنی ذات کے اعتبار سے ہدایت یافتہ بنائے اور ان کے ذریعے دوسرے لوگوں کو ہدایت بھی دے۔
اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور اس فتنے کا ذکر فرمایا: جس کے ذریعے آدمی کی اس کی قبر میں آزمائش ہو گی۔ نبی ﷺ نے جب اس کا ذکر کیا، تو مسلمانوں نے اونچی آواز سے گریہ شروع کر دیا، جس کی وجہ سے میں رسول اللہ ﷺ کی بات نہ سن سکی۔ جب ان کے رونے کی آواز تھمی، تو میں نے اپنے قریب موجود ایک شخص سے پوچھا کہ اے فلاں! اللہ تجھے برکت دے، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے وحی آئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائش میں ڈالے جاؤگے، مسیح دجال کی آزمائش کی مانند“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔اسما بنت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ ﷺ انھیں نصیحت فرما رہے تھے اور آخرت کے دن کی یاد دہانی کرا رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے قبر اور اس کے احوال کا ذکر شروع فرما دیا۔ آپ ﷺ نے قبر کے امتحان کے فتنہ کا بھی ذکر کیا۔ قبرکے فتنے سے مراد دو فرشتوں یعنی منکر اور نکیر کا بندے سے اس کے رب، اس کے نبی اور اس کے دین کے بارے پوچھنا ہے۔ اس سوال و جواب کو فتنے کا نام اس لیےدیا گیا، کیونکہ یہ ایک بڑا آزمائش ہوگی، جس سے بندے کے ایمان اور یقین کا امتحان لیا جائے گا۔ جسے اس امتحان میں صحیح جواب دینے کی توفیق مل گئی، وہ کامیاب ہو گیا اور جو ناکام رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ جب آپ ﷺ نے اس بات کا ذکر فرمایا، تو مسلمان قبر کے اس فتنے کے خوف سے چیخ اٹھے۔ اس شور کی وجہ سے اسما رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جب آواز تھمی، تو اسما رضی اللہ عنہا نے اپنے قریب بیٹھے ایک شخص سے دریافت کیا کہ اے فلاں! بارک اللہ لک، رسول اللہ ﷺ نے اپنی گفتگو کے آخر میں کیا فرمایا تھا؟ اس شخص نے آپ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے کہ عنقریب لوگوں کی قبروں کے اندر آزمائش ہو گی، دجال کی آزمائش کی طرح۔ یعنی جس طرح دجال کا فتنہ بڑا سخت اور مشکل ہو گا، اسی طرح قبر کا فتنہ بھی۔
ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو ایک آواز سنی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
متفق علیہایک (دفعہ) رسول اللہ ﷺ غروبِ آفتاب کے وقت باہر نکلے تو یہودیوں کی ایک آواز سنی کہ انھیں قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہود کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میت کو یا تم میں سے کسی کو دفنایا جاتا ہے، تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے، نیلی آنکھ والے دو فرشتے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے۔ وہ دونوں میت سے پوچھتے ہیں تم اس شخص (یعنی محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟۔ پس (مومن) وہی کہتا ہے جو وہ دنیا میں کہا کرتا تھا۔ یعنی یہ کہ وہ ﷲ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بے شک محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں: ہمیں علم تھا کہ تو یہی کہے گا۔ پھر اس کے لیے اس کی قبر چاروں طرف سے ستر، ستر گز تک وسیع کر دی جاتی ہے۔ پھر اس کو اس کے لیے روشن کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے :سو جا۔ وہ کہتا ہے :میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹنا چاہتا ہوں؛ تاکہ انہیں اپنے حالات سے آگاہ کر دوں۔ وہ دونوں اس سے کہتے ہیں : تو اس پہلی رات کی دلہن کی طرح سو جا جسے اس کے گھر والوں میں سے صرف اس کا محبوب ترین شخص ہی جگاتا ہے۔ (وہ اسی حال میں رہے گا) یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اسے اسی حال میں اس کی قبر سے اٹھاے گا۔ اور اگر وہ منافق ہو تو کہتا ہے : میں نہیں جانتا میں نے وہی کہا جو میں نے لوگوں کو کہتے سنا۔ دونوں فرشتے اسے کہتے ہیں : ہم جانتے تھے کہ تو یہی کہے گا۔ پھر زمین سے کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے سکڑ جا۔ پس زمین اس کے لیے سکڑ جاتی ہے اور اس کے دونوں پہلو ایک دوسرے میں دھنس جاتے ہیں۔ پس وہ اسی عذاب میں مبتلا رہے گا، یہاں تک کہ ﷲ تعالیٰ روزِ قیامت اسے اس کی قبر سے اٹھاے گا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔جب میت کو دفنایا جاتا ہے تو دو سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے فرشتے آتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ اسے کہتے ہیں: اس شخص کے بارے تو کیا کہا کرتا تھا؟ در اصل ان کی مراد نبی ﷺ ہوتے ہیں۔ وہ شخص کہتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس پر وہ کہتے ہیں کہ ہمیں علم تھا کہ تو ایسا ہی کہے گا۔ پھر اس کی قبر ہر طرف سے ستر سترگز کشادہ کر دی جاتی ہے اور اسے منور کر دیا جاتا ہے۔ پھر اسے کہا جاتا ہے کہ سوجا۔ وہ کہتا ہے: میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جا کر انہیں اپنی اس خوش حالی کی خبر دے دوں؛ تاکہ وہ اس سے خوش ہوجائیں اور میرے سلسلے میں کوئ غم نہ کریں۔ اس پر وہ کہیں گے: ایسے سو جا جیسے دلہن سوتی ہے اور اس کے گھر والوں میں سے اس کا محبوب ترین شخص ہی اسے جگاتا ہے۔ اس پر وہ میٹھی نیند سو جاتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اسے اٹھائیں گے۔ اور اگر وہ شخص منافق ہو تو (دونوں فرشتوں کے سوال کے جواب میں) کہتا ہے: میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا یعنی یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو میں نے بھی انہیں کی جیسی بات کہہ دی، میں نہیں جانتا کہ آیا یہ واقعی نبی ہیں یا نہیں۔ اس پر وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ تھا کہ تو ایسا ہی کہے گا۔ پھر زمین کو حکم ہو تا ہے کہ آپس میں مل کر اس پر اکٹھی ہو جا اور اس پر تنگ ہو جا۔ اس کے اعضا اکھٹے ہو کراس کے اندر گھس جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ سختی کے ساتھ بھینچے جانے اور زور سے دباے جانے اور اس کے اعضا کے نچڑ جانے اور ایک پہلو کے دوسرے پہلو تک پہنچ جانے کی وجہ سے اس کی پسلیوں کی ہیئت ہی خراب ہو جاتی ہے۔ یہ اسی طرح عذاب میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ روز قیامت اللہ تعالی اسے اس کی قبر سے اٹھائیں گے۔
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو؛ میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک موت کی لہر جو تم میں ایسے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے۔ پھر مال کی کثرت اس قدر ہو گی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہی رہے گا۔ پھر ایک فتنہ ظاہر ہو گا جو عرب کے ہر گھر تک جا پہنچے گا۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (رومی عیسائیوں) کے درمیان ہو گی، لیکن وہ غداری کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کر دیں گے جس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔غزوہ تبوک میں عوف بن مالک نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ دباغت شدہ چمڑے سے بنے ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ: چھ ایسی علامات کو شمار کر لو جو قیامت سے پہلے واقع ہوں گی: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح۔ اس علامت کا وقوع عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ہوا۔ پھر ایک جان لیوا وبا آئے گی جو تم میں پھیل جائے گی اور تم اس تیزی کے ساتھ مرو گے جیسے مویشیوں میں وباء پھیلنے سے وہ مرتے ہیں۔پھر مال کی کثرت ہو جائے گی یہاں تک کہ اگر کسی شخص کو سو دینار دیے جائیں گے تو وہ ناراضگی کا اظہار کرے گا کیوں کہ اس کی نظر میں یہ بہت تھوڑی رقم ہو گی۔ کہتے ہیں کہ یہ کثرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ظاہر ہوئی جب فتوحات کی کثرت ہو گئی تھی۔ پھر اس کے بعد ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گا اور عرب کا کوئی گھر ایسا نہیں بچے گا جس میں یہ داخل نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل اور اس کی وجہ سے اس کے بعد ظہور پذیر ہونے والے فتنے ہیں۔ پھر مسلمانوں اور رومیوں کے مابین صلح ہو گی تاہم وہ مسلمانوں کے ساتھ غداری کریں گے اور اسی جھنڈوں کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے چڑھ آئیں گے جن میں سے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار جنگ جو ہوں گے اور ان کی کل تعدا نو لاکھ ساٹھ ہزار ہوگی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ سرزمینِ حجاز سے ایک بہت بڑی آگ نہ نکل آئے جو بُصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی“۔
متفق علیہقیامت تب تک نہ آئے گی جب تک کہ مکہ و مدینہ اور اس کے گرد و نواح سے ایسی آگ نمودار نہ ہو جائے جو شام میں واقع بُصریٰ شہر میں موجود اونٹوں کی گردنیں روشن کر دے گی۔ مدینہ میں سن چھ سو چَوّن (654) ہجری میں ایک آگ ظاہر ہوئی تھی جو بہت بڑی تھی۔ یہ مدینہ کے مشرقی جانب مقامِ حرہ کے پیچھے سے نمودار ہوئی تھی۔ شام اور باقی تمام علاقوں کے رہنے والے لوگ اس آگ کے بارے میں تواتر کے ساتھ جانتے ہیں اور اس وقت کے علماء نے بھی اپنی کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے جیسے امام نووی، امام قرطبی اور امام ابو شامہ رحمہم اللہ۔