





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ کے لیے ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہوں، جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو ’بِسْمِ اللَّهِ‘ کہا، پھر جب اس کی پشت پر ٹھیک سے بیٹھ گئے تو ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہا، اور ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ﴾ پڑھا ”تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کر دیا، ہم تو اسے قابو میں کرنے کی قوت نہیں رکھتے تھے اور ہم سب کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے“، پھر تین مرتبہ ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ کہا، پھر تین مرتبہ ’اللہُ اَکْبَر‘ کہا، پھر ’سُبحانَكَ إنِّي ظَلَمتُ نَفسي فاغفِر لي فإنَّهُ لا يغفِرُ الذُّنوبَ إلا أنتَ‘ کہا یعنی ”تیری ذات پاک ہے، میں نے ہی اپنے آپ پر ظلم کیا پس تو مجھے معاف کر دے، کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا“، پھر ہنسے، پوچھا گیا: امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک بار دیکھا کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا جیسا کہ میں نے کیا پھر آپ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے: میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے کہ گناہوں کو میرے علاوہ کوئی نہیں بخش سکتا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔علی بن ربیعہ (جن کا شمار کبار تابعین میں ہوتا ہے) بیان کرتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ آپ کے پاس آپ کی سواری لائی گئی تاکہ آپ اس پر سوار ہوں۔ لغت کے اعتبار سے ’الدابة‘ کا اطلاق ہر اس جانور پر ہوتا ہے جو زمین پر رینگے۔ بعد ازاں عرف عام میں اسے چوپایوں کے ساتھ خاص کر دیا گیا۔ جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو کہا: ’بِسْمِ اللَّهِ‘ یعنی میں اللہ کے نام کے ساتھ سوار ہوتا ہوں۔ پھر جب اچھی طرح سے اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو فرمایا: ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ یعنی اس عظیم نعمت پر ساری تعریفین اللہ ہی کے لیے ہیں اور وہ نعمت یہ ہے کہ اس نے ایک نامانوس اوربدکنے والے جانور کو رام کر دیا اور اس پر سواری کے لیے اسے ہمارا فرماں بردار بنا دیا بایں طور کہ ہم اس کے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے ’الَّذِي سَخَّرَ‘ کے الفاظ کے ساتھ اس کی تصریح کی، یعنی اس سواری کو ہمارے قابو میں کر دیا جب کہ ہم میں اسے مسخر کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ ’وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ‘ یعنی اپنے اوپر ہونے والی نعمت پر کی جانے والی مقید حمد کے بعد فرمایا۔ ’الْحَمْدُ لِلَّهِ‘ یعنی ایسی حمد جو کسی شے کے ساتھ مقید نہیں۔ ’ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بار بار ایسا کہنے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی عظمت وجلال کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ بندہ اللہ کی ویسے قدردانی نہیں کرتا جیسا کہ حق ہے۔ اسے یہ حکم ہے کہ وہ حسبِ استطاعت فرماں برداری کرتا رہے۔ ’اللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ‘ یہ تکرار بڑائی کے بیان میں مبالغہ کے لیے ہے۔ پھر ’سُبحانَكَ‘ کہا یعنی میں تیری مطلق پاکی بیان کرتا ہوں۔ ’إنِّي ظَلَمتُ نَفسي‘ یعنی تیرے حق کی ادائیگی نہ کر کے یا اسے اہمیت نہ دے کر اور اس میں غور نہ کر کے (میں نے اپنی جان پر ظلم کیا) کیونکہ انہیں اس نعمت عظمیٰ کی شکر گزاری میں کوتاہی دکھائی دی چاہے وہ غفلت ہی کی وجہ سے ہو۔ ’فاغفِر لي‘ یعنی میرے گناہوں کو پوشیدہ رکھ بایں طور کہ ان پر سزا دے کر مواخذہ نہ کرنا۔ ’فإنَّهُ لا يغفِرُ الذُّنوبَ إلا أنتَ‘ ان الفاظ میں اپنی کوتاہی کا اور اس بات کا اعتراف ہے کہ اللہ کی کرم نوازیاں بہت زیادہ ہیں۔ ’ثُمَّ ضَحِكَ‘ یعنی ابن ربیعہ نے کہا۔ 'الشمائل' کے ایک تصحیح شدہ نسخے میں ہے کہ میں نے پوچھا ’اے امیر المومنین! آپ کس وجہ سے مسکرائے ہیں؟‘ چونکہ بظاہر کوئی ایسی باعثِ تعجب بات نہیں تھی جس پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اس لیے انہوں نے اس کا سبب دریافت کیا اور سوال پر ندا کو مقدم کیا جیسا کہ مخاطبت میں ادب کا تقاضا ہے۔ ’قَالَ: رَأَيْتُ‘ یعنی میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے بھی سوار ہوتے ہوئے ان جگہوں پر ذکر کیا تھا۔ پھر آپﷺ ہنسے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کیوں ہیں ہنس رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے، ’اپنے بندے سے‘ یہ اضافت عزت و تکریم کے لیے ہے۔ ’میرے گناہوں کو بخش دے وہ جانتا ہے یعنی بغیرغفلت کے وہ پوری طرح جانتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور شے میں حق تلفی کر رکھی ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی اس سے بری الذمہ ہو جائے، اس سے پہلے کہ (وہ دن آئے) جب نہ دینار ہوں اور نہ درہم۔ اگر اس کی کچھ نیکیاں ہوں گی تو جتنی اس نے حق تلفی کی ہو گی، اس قدر اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں نہیں ہوں گی، تو اس کے بھائی کی برائیوں کو لے کر اس کے کھاتے میں ڈال دیا جائےگا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث عدلِ اجتماعی کے ان مظاہر میں سے ایک مظہر کی تصویر کشی کرتی ہے، جنھیں اسلام اپنے ماننے والوں کے مابین عام کرنا چاہتا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مَنْ كَانَتْ عِندَهُ مَظْلَمَةٌ“: یعنی وہ شے جسے ظالم نے (ناحق) چھین لیا ہو یا پھر وہ اس کے درپے ہو۔ آپ ﷺ کا فرمان: ”اپنے بھائی کی“ یعنی اپنے دینی بھائی کی۔ اس جرم میں متعدد امور شامل ہیں: ”اس کی عزت“ یہ حق تلفی کی وضاحت ہے۔ اس سے مراد انسانی شخصیت کے وہ پہلو ہیں، جن کی حفاظت وہ کرتا ہے اوران کی ہتک کو برداشت نہیں کرتا، جیسےاس کی جان اور حسب و نسب۔ ”یا کوئی اور شے“ یعنی کوئی اور چیز ہو، جیسے اس کا مال چھیننا یا پھر اسے اس سے نفع اٹھانے سے روکنا یا پھر یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ (یعنی پہلے خاص عزت کا ذکر کیا اور پھر 'یا کسی اور شے میں حق تلفی' کہہ کراس کے متعلق ہر شے کو شمار کر دیا)۔ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ”وہ اس سے بری الذمہ ہو جائے“ یعنی ظالم مظلوم سے درخواست کرے کہ وہ اسے بری الذمہ کر دے۔”منه“ یعنی مظلوم سے۔ ”آج ہی“ کے الفاظ میں جلدی کرنے کی تاکید ہے۔ اس سے مراد دنیوی زندگی کے ایام ہیں؛ کیوںکہ اس کے مقابلے میں فرمایا: ”اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں نہ دینار ہوں گےاور نہ درہم“ اس سے مراد قیامت کا دن ہے اور اس پیرائے میں تنبیہ ہے کہ اس شخص پر اس سے بری الذمہ ہونا واجب ہے، اگرچہ اس حق تلفی کو زائل کرنے میں اسے درہم و دینارہی خرچ کرنے پڑیں؛ کیوں کہ بری الذمہ ہونے کے کے لیے اگر آج (دنیا میں) درہم و دینار کا لیا جانا اس سے آسان ہے کہ بری الذمہ نہ ہونے کی صورت میں نیکیاں لے لی جائیں یا پھر برائیاں (اس پر) ڈال دی جائیں، جیسا کہ آپ ﷺ نے یہ فرما کر اشارہ کیا کہ: ”اگر اس کی کچھ نیکیاں ہوں گی“ بایں طور کہ وہ ایسا ظالم مومن ہو، جسے مظلوم کی طرف سے معاف نہ کیا گیا ہو، تو اس کے نتیجے میں اس کے نیک اعمال لے لیے جائیں گے۔ ”اس سے“ یعنی اس شخص کی نیکیاں جس نے دوسرے پر ظلم کیا (لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی) اور اس طرح سے انھیں لے کر بدلہ چکایا دیاجائے گا۔ ”اس کی حق تلفی کے بقدر“ طاعت و معصیت کی مقدار اور کیفیت کو کیسے جانا جائے گا؟، اس کا علم اللہ سبحانہ و تعالی کے پاس ہے۔ اگر زیادتی کا مرتکب ہونے والا شخص قیامت کے دن نیکیوں سے تہی دامن ہوا، تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں“ یعنی اس کی نیکیاں باقی نہ بچیں یا پھر کوئی نیکی ہوئی ہی نہ، تو اللہ اسے ایسے طریقے سے عذاب دے گا جس سے اس کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور اس کا عذاب بڑھ جائے گا۔ مظلوم سے اس کی برائیاں لے کر ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگوں کو قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر مختون اٹھا کر میدان حشر کی طرف لایا جائے گا“۔ میں نے دریافت کیا کہ یار سول اللہ! مرد اور عورتیں سب اکٹھے، وہ تو ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! معاملہ ہی اتنا سخت ہو گا کہ انھیں اس کی سوجھے گی بھی نہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”معاملہ اس سے کہیں اہم ہو گا کہ انھیں ایک دوسرے کو دیکھنے کا خیال آئے“۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو اس حال میں جمع کرے گا کہ نہ ان کے پاؤں میں جوتے ہوں گے اور نہ ان پر کپڑے ہوں گے۔ وہ غیر مختون ہوں گے۔ وہ اپنی قبروں سے اس حال میں نکلیں گے، جیسے اس دن تھے، جب ان کی ماؤں نے انھیں جنا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ننگے مرد اور ننگی عورتیں، وہ تو ایک دوسرے کو دیکھیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:معاملہ ہی اتنا بڑا اور سخت ہو گا کہ انھیں یہ سوجھے گا بھی نہیں یا یہ کہ اس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سبحانہ و تعالی ایسے دو آدمیوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہو گا (پھر بھی) وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے۔ اُن میں سے ایک تو اللہ کی راہ میں لڑکر شہید ہوا تھا پھر اللہ نے قاتل کو توبہ کی توفیق بخشی اور وہ مسلمان ہوگیا اور پھر شہید ہو گیا۔
متفق علیہاللہ تعالی دو ایسے آدمیوں کو دیکھ کر مسکراتا ہے جو دونوں ہی جنت میں جائیں گے۔ بایں طور کہ مسلمان اللہ کے دین کی سربلندی میں لڑ رہا ہو گا کہ ایک کافر اسے قتل کر دے گا اور وہ جنت میں چلا جائے گا۔ پھر اللہ قاتل کو توبہ کی توفیق دے گا اور وہ مسلمان ہو جائے گا اور پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہوا وہ بھی شہید ہو جائے گا۔
عبد الله بن عمر رضي الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(روز قیامت) تمام لوگ رب العالمین کے روبرو کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ اپنے آدھے کانوں تک پسینے میں ڈوبے ہوں گے“۔
متفق علیہلوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر رب العالمین کے روبرو کھڑے ہوں گے تاکہ وہ ان کو (ان کے اعمال کا) بدلہ دے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ کے کانوں کے نصف تک پسینہ پہنچ رہا ہو گا۔
انس ابن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھا لیتے تو آپ ﷺ (آخر میں) اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے گندگی کو جھاڑ کر اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ (کھانے کے) برتن کو اچھی طرح صاف کر دیا جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے“۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”شیطان تم میں سے ہر ایک کے ہر کام کے وقت موجود ہوتا ہے حتی کہ کھانے کے وقت بھی، لہذا اگر تم میں سے کسی سے اُس (کے کھانے ) کا لقمہ گر جائے تو (وہ اُس لقمے کو اٹھا لے اور) اس لقمے پرجو گندگی لگ گئی ہو اُسے صاف کر لے اور پھر اُسے کھا لے اور اُس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے اور جب وہ کھانے سے فارغ ہو تو اپنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس کے کھانے کے کس سے حصے میں برکت ہے“۔
اس حديث کی دونوں روایتوں کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حدیث میں شیطان سے ڈرایا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے تمام افعال میں اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ چنانچہ مناسب یہ ہے کہ انسان (اس سے مقابلے کے لیے) تیار اور اس سے چوکنا رہے اور اس کی مزین کردہ باتوں سے دھوکا نہ کھائے۔ انسان کے سامنے جو کھانا آتا ہے اس میں برکت ہوتی ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ برکت کھانے کے اس حصے میں ہے جسے اس نے کھا لیا ہے یا پھر اس حصے میں جو اس کی انگلیوں پر لگا ہے یا جو پلیٹ کے پیندی میں لگا رہ گیا ہے یا پھر اس لقمے میں جو نیچے گر گیا ہے۔چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سب کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ اسے برکت حاصل ہو سکے۔ برکت کا حقیقی معنی ہے بھلائی کا زیادہ ہونا، اس کا باقی رہنا اور اس سے نفع اٹھانا۔ یہاں مراد وہ کھانا ہے جس سے غذائیت حاصل ہو، جس میں کوئی گندگی نہ ہو اور جو اللہ تعالی کی اطاعت گزاری کی قوت پیدا کرے۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا کھاتے ہوئے ایسی شے نکلتی ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سنو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل چکی ہے تو اس جگہ مت جاؤ اور اگر کسی جگہ طاعون پھیل جائے اور تم اس جگہ ہو تو پھر اس جگہ سے باہر مت نکلو“۔
متفق علیہاگر کسی جگہ کوئی وبا پھیل چکی ہو اور آدمی اس جگہ نہ ہو تو خود اپنی اور دوسروں کی صحت کی حفاظت کے پیش نظر اس کے لیے اس جگہ جانا جائز نہیں ہے اور اگر مرض کسی ایسی جگہ پھیل جائے جہاں وہ پہلے سے موجود ہو تو اس صورت میں اس کا وہاں سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی تقدیر پر صبر کرے تاکہ اجر کا سزاوار ہو سکے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اشج عبد القيس سے کہا کہ ”تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں: بردباری اور وقار (یعنی جلد بازی نہ کرنا)‘‘۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے قبیلہ بنی عبد قیس کے اشج نامی شخص سے کہا کہ تمہارے اندر دو خصلتیں یعنی عادتیں ایسی ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول پسند کرتے ہیں۔ وہ دو عادتیں بُردباری اور عدم عجلت ہیں۔اس لیے کہ اشج نے متانت اور وقار اختیار کرکے اپنے قرین مصلحت امور میں غور وفکر کیا اور اپنی قوم کے ساتھ آپ ﷺ کے پاس آنے میں جلدبازی سے کام نہیں لیا۔ ان کی بُردباری آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو ان کی سلامتِ عقل اورانجام کار پر گہری نظر کے حامل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمھیں روزِ قیامت حق والوں کے حق ضرور ادا کرنے ہوں گے حتی کہ بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔روزِ قیامت مظلوم اپنے ظالم سے بدلہ لے گا حتی کہ بغیر سینگ والی بکری بھی سینگ والی بکری سے بدلہ لے گی اور تہمارا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔