





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
بحالہ بن عبدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں لکھا: ”ہر جاوگر مرد اور عورت کو قتل کردو“۔ بحالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے تین جادوگرنیوں کو قتل کیا۔ عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے انہیں جادو کردیا، تحقیق پر اس باندی نے اقرار کرلیا تو انہوں نے عبد الرحمن بن زید کو اسے قتل کردینے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اسے قتل کردیا۔ ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ولید کے پاس ایک آدمی کرتب دکھایا کرتا تھا، اس نے ایک آدمی کو ذبح کردیا اور اس کے سر کو دھڑ سے الگ کردیا، اس پر ہمیں بہت تعجب ہوا، اس نے سر کو دوبارہ جوڑ دیا؛ چنانچہ جندب ازدی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کردیا۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔چونکہ جادو اپنے یقینی مفاسد و برے نتائج یعنی قتل، باطل طریقے سے مال ہتھیانے اور میاں بیوی کے مابین تفریق پیدا کرنے کے اعتبار سے خطرناک ترین معاشرتی بیماریوں میں سے ایک بیماری ہے، اس کا کچھ حصہ تو کفر ہے اس لیے کہ اس میں شیطانوں سے استعانت اور ان کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالی نے جادو گر کو قتل کر دینے کا حکم دے کر اس کی مکمل طور پر بیخ کنی کے لیے ایک شافی علاج فراہم کر دیا تاکہ معاشرہ اپنے فضائل وپاکیزگی اور راست روی کے ساتھ صحیح ڈگر پر چل سکے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم پر عمل کیا۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو ”لا الہ الا اﷲ اور اﷲ اکبر“ کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے، بے شک وہ بہت سننے والا اور بہت قریب ہے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ وہ لوگ ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ وہ بہ آواز بلند تہلیل وتکبیر کر رہے تھے۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”أيها الناس اربعوا على أنفسكم“ یعنی اپنے آپ پر کچھ نرمی برتو اور آواز بلند کرکے اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو۔ تم کسی ایسی ذات کو تو پکار نہیں رہے ہو جو بہری اور غیر موجود ہو بلکہ تم تو ایک سمیع و مجیب اور قریب ذات کو پکار رہے ہو یعنی اللہ عزّ وجلّ کو جسے اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ تم تسبیح و تحمید اور تکبیر کہتے ہوئے آواز بلند کرکے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالو۔ کیونکہ اللہ سنتا بھی اور دیکھتا بھی اور وہ قریب بھی ہے اگرچہ وہ آسمانوں سے اوپر ہے تاہم وہ ہر شے کو محیط ہے۔ عزوجل۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”تدعون سميعاً بصيراً قريباً“ یہ اللہ تعالی کے لیے مبالغے کے صیغے ہیں کیونکہ اللہ تعالی میں یہ صفات بدرجہ اتم موجود ہیں چنانچہ کوئی بھی جنبش چاہے وہ کتنی بھی مخفی ہو اس کی سماعت سے نہیں چوکتی۔ وہ رات کے اندھیرے میں چکنے سخت پتھر پر چلتی ہوئی چیونٹی کے رینگنے کی آواز کو بھی سنتا ہے بلکہ اس سے بھی مخفی آوازوں کو سنتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی آنکھوں کے سامنے کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ وہ تمہاری سُروں اور تہمارے سانس کی آوازوں اور ہر ان کلمات کو سنتا ہے جو تم بولتے ہو اور تمہاری حرکات کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنے پکارنے والے کے قریب ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوق سے آگاہ ہے اور ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ سب اس کے قبضہ میں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے عرش پر ہے اور اپنی تمام مخلوقات سے بالاتر ہے۔ اپنی تمام مخلوقات میں سے اس پر کوئی شے پوشیدہ نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ سمع و بصر اور قرب اللہ کی صفات ہیں جو اس کے لیے بلا تکییف و تمثیل اور بلا تحریف و تاویل اس انداز میں ثابت ہیں جو اس کی ذات کے شایانِ شان ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو عذاب دینا چاہتا ہے، تو اُس کا عذاب ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے اور پھر آخرت میں لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھایا جائے گا“۔
متفق علیہنبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ان کے بُرے اعمال کی وجہ سے سزا کے طور پر عذاب دینا چاہتا ہے۔ ”أصابَ العذابُ من كان فيهم“ یعنی اس قوم میں موجود ہر شخص پر عذاب بھیجتا ہے اگرچہ کوئی ایسا بھی ہو جو بقیہ قوم کی روش پر نہ چلتا ہو، اللہ تعالیٰ ظاہری اور علی الاعلان گناہ کی وجہ سے تمام لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔ ”ثم بُعِثوا على أعمالهم“ یعنی پھر ہر ایک کو اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے گا، اگر اس کے اعمال اچھے ہوں تو اس کا انجام بھی اچھا ہوگا اور اگر اعمال بُرے ہوں تو انجام بھی بُرا ہوگا۔ یہ عذاب نیک لوگوں کی پاکی کا ذریعہ ہوگا اور گناہ گاروں کے لیے عذاب اور زحمت ہوگا۔ اور ان کو اپنے اعمال کے مطابق اٹھانا عدل و انصاف کے تقاضے پر مبنی ہے، اس لیے کہ ان کے نیک اعمال کا بدلہ آخرت میں دیا جائے گا، دنیا میں جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ ان کے گناہوں کے کفارے کے طور پر ہوتی ہے۔ لہٰذا دنیا میں گناہ گاروں پر آنے والا عذاب دوسرے لوگوں پر بھی آتا ہے جو انہیں گناہ کرنے سے باز نہیں رکھتے تھے۔ یہ ان کی مداہنت کا بدلہ ہوگا، پھر قیامت کے دن ان میں سے ہر ایک کو اٹھایا جائے گا اور اپنے عمل کے مطابق انہیں بدلہ دیا جائے گا۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بيان کرتے ہيں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں ہمارے پاس تشريف لانے ميں اتنی تاخير کردی کہ قریب تھا کہ سورج کی ٹکیہ کو ہم دیکھ لیتے۔ پھر آپ ﷺ تیزی سے باہر تشریف لائے اور نماز کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ نے مختصر نماز پڑھائی۔ جب آپﷺ نے سلام پھیرا تو خود پکار کر ہم سے فرمایا: تم جیسے اپنی صفوں میں بیٹھے ہو ویسے ہی بیٹھے رہو۔ پھر آپ ﷺ ہماری طرف مڑے اور فرمایا: میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے میں آج تمہارے پاس آنے سے رکا رہا۔ میں رات کو اٹھا اور وضو کرکے جس قدر میرے نصیب میں تھی میں نے نماز پڑھی۔ پھر میں نماز میں ہی اونگھنے لگا یہاں تک کہ گہری نیند سو گیا۔اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے رب تبارک و تعالی کے پاس ہوں جو بہترین صورت میں ہے۔ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ پوچھا: ملأ اعلی (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں تو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اللہ تعالی نے یہ بات تین دفعہ پوچھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ اللہ نے اپنی ہتھیلی میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دی یہاں تک کہ مجھے اپنے سینے پر اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ تو میرے لیے ہر شے واضح ہو گئی اور میں جان گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: اے محمد!۔ میں نے جواب دیا: اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔ فرمایا: ملأِ اعلی کا کس بات پر جھگڑا ہو رہا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ: (گناہوں کا ) کفارہ بننے والے اعمال میں۔ فرمایا: کفارہ بننے والے اعمال کیا ہیں؟ میں نے جواب دیا: باجماعت نمازوں کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مساجد میں بیٹھنا، ناگوار حالات ميں کامل اور اچھے طریقے سے وضو کرنا۔ پوچھا: اور کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟ میں نے جواب دیا: کھانا کھلانے، نرم گفتاری اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو اس وقت نماز پڑھنے کے متعلق۔ پھر اللہ تعالی نے فرمایا: مانگو۔ میں نے کہا: اے اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں اور ( میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر اپنی رحمت فرما اور جب تو کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہے تو مجھے فتنے ميں مبتلا کئے بغير موت دے دینا۔ میں تجھ سے تیری محبت، ہر اس شخص کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ہر اس عمل سے محبت کی توفیق طلب کرتا ہوں جو تیری محبت کے قريب کردے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ حق ہے، اس پر غور کرو اور اسے سیکھو۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک دن نماز فجر کے لیے نبی کريم ﷺ نے نکلنے میں تاخير کردی یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہو گیا۔ پھر آپ ﷺ تیزی کے ساتھ باہر تشریف لائے اور اقامتِ نماز کا حکم دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں مختصر نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو صحابہ کو حکم دیا کہ وہ صفوں میں اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے رہیں۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں بتلايا کہ آپ ﷺ کو کس وجہ سے نماز فجر میں تاخیر ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ رات کو نماز تہجد کے لیے اٹھے، وضو فرمایا اور جتنی رکعتیں اللہ کو منظور تھیں اتنی ادا کیں اور پھر اپنی نماز کے دوران ہی سو گئے۔ خواب میں آپ ﷺ نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ مقرب فرشتے کس شے کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: میں تو کچھ نہیں جانتا۔ یہ سوال و جواب تین دفعہ ہوا۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین رکھ دی یہاں تک کہ آپ ﷺ کو اپنے سینے میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی۔ نبی ﷺ نے جن اوصاف سے اپنے رب عز و جل کو متصف کیا ہے وہ حق اورسچ ہيں اور اللہ تعالی نے جن اوصاف سے اپنے آپ کو متصف کیا ہے ان پر جوں کا توں بغیر کسی تمثیل کے ایمان لانا اور ان کی تصدیق کرنا واجب ہے۔ جسے اسے سمجھنے میں کچھ اشکال یا اشتباہ ہو تو وہ ویسے ہی کہہ دے جیسے وہ پختہ علم والے لوگ کہتے ہیں جن کی اللہ تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں بتایا کہ ان کے سامنے جب کوئی مشتبہ بات آتی ہے تو وہ کہتے ہیں: (آمنّا به كُلٌّ من عند ربِّنا۔) ترجمہ: ’’ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔‘‘ اس شخص کو چاہیے کہ جس بات کا اسے علم نہ ہو اس کے درپے نہ ہو، کیونکہ اس سے اس کے ہلاکت میں پڑنے کا اندیشہ ہے۔ مومن لوگ تو جب بھی اس طرح کی بات سنتے ہیں وہ کہہ دیتے ہیں کہ ایسا اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں بتلایا ہے اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی کہا ہے۔ ایسا کہنا ان کے ایمان اورجذبۂ اطاعت گزاری میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی نبی ﷺ کے کندھوں کے مابین رکھی تو آپ ﷺ کے سامنے ہر بات کھل گئی اور آپ ﷺ کو جواب کا علم بھی ہو گیا چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے ایسی خصلتوں کے بارے میں گفتگو، بحث اور جھگڑا کر رہے ہیں جو گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں۔ ان کےجھگڑنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ان اعمال کے اثبات اور انہیں لے کر آسمان کی طرف چڑھنے میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اس سے مراد ان کا ان کی فضیلت اور شرف کے بارے میں گفتگو کرنا ہے۔ یہ خصلتیں یہ ہیں: نماز باجماعت کے لیے پیدل چل کر جانا، نمازوں کے ختم ہو جانے کے بعد ذکر، تلاوتِ قرآن اورعلم سیکھنے اور سکھانے کے لیے مساجد میں بیٹھنا، پورے طریقے سے وضو کرنا اور وضو کے پانی کوان تمام جگہوں تک پہنچانا جہاں تک پہنچانا شرعاً ضروری ہو، ان حالات میں بھی جن ميں وضو کرنا ناگوار محسوس ہوتا ہو جیسے سخت سردی میں۔ رب تعالی شانہ نے پھر پوچھا: مقرب فرشتے اور کن باتوں میں جھگڑ ا کرتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو کھانا کھلانے میں، لوگوں سے اچھے انداز اور نرم لہجے میں بات کرنے میں اور رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگو۔ اس پر نبی ﷺ نے اللہ سے دعا کی کہ وہ اسے ہر نیکی کو کرنے، ہر برائی کو ترک کرنے اور فقراء اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق دے اور یہ کہ اللہ آپ کو بخش دے اور آپ پر رحم فرمائے اور جب اللہ کا کسی قوم کو فتنہ میں مبتلا کرنے اور انہیں راہ حق سے گمراہ کرنے کا ارادہ ہو تو وہ آپ ﷺ کو فتنے اور گمراہی سے بچاتے ہوئے اس سے پہلے ہی موت دے دے اور یہ کہ اللہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ سے اور ہر اس شخص سے محبت کرنے کی توفیق دے جو اللہ سے محبت کرتا ہو اور ہر اس عمل کو آپ ﷺکے لیے محبوب بنا دے جو اللہ کی قربت کا ذريعہ ہو۔ پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام کو بتایا کہ یہ خواب برحق ہے اور انہیں حکم دیا کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے معانی اور احکامات کو سیکھیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی، تو اپنی مشیت کے بقدر ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جنت میں پیدا کیا اور ان کی شکل بنائی، تو انہیں کچھ عرصہ ایسا ہی چھوڑے رکھا، اس میں روح نہیں پھونکی۔ ابلیس ان کے گرد گھومنے لگا اور دیکھتا رہا تاکہ یہ معلوم کرے کہ یہ کیا چیز ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ اندر سے خالی ہے اور درمیان سے کھوکھلی ہے، تو وہ جان گیا کہ یہ کمزور مخلوق ہے اور اپنے آپ سے وسوسے دور نہیں کرسکتا یا یہ جان لیا کہ یہ پیٹ کی طرف سے گناہ کرسکتا ہے، تو اس نے اسے درخت کھانے پر لگا دیا یا اسے علم ہوا کہ اندر سے خالی مخلوق کمزور ہوتی ہے۔ یہاں بعض لوگ ”في الجنة“ کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو آدم علیہ السلام کو زمین کے اجزاء سے پیدا کیا ہے (وہ جنت میں کیسے پہنچ گئے؟!)۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں یہ احتمال ہے کہ انہیں ایسا چھوڑا گیا، جب کچھ عرصہ ایسا ہی گزرا اور روح پھونکنے کے لیے شکل تیار کی گئی، پھر انہیں جنت لے جا کر روح پھونکی گئی۔
نواس بن سمعان رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ نے دجال کا ذکر کیا تو اس طرح اس کی ذلت و حقارت اور اس کے فتنے کی بڑائی بیان کی کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔ چنانچہ جب ہم (بعد میں) آپ ﷺ کے پاس گئے، تو آپ ﷺ ہمارے اندر موجود اضطراب کو بھانپ گئے۔ پس آپ ﷺ نے پوچھا: تمھارا کیا حال ہے؟ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! صبح آپ نے دجال کے فتنے کا ذکر کیا اور اسے حقیر اور خطرناک کرکے بیان کیا، یہاں تک کہ ہم نے اس کی بابت یہ گمان کیا کہ وہ یہاں کھجوروں کے جھنڈ میں ہی موجود ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دجال کے علاوہ اور چیزوں سے مجھے تمھاری بابت زیادہ شدید اندیشہ ہے، اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو تمھاری جگہ میں خود اس سے نمٹ لوں گا۔ اور اگر میری زندگی کے بعد نکلا تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا۔ اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا جانشین ہے (میری بجائے اللہ نگران ہے)۔ وہ دجال نوجوان اور گھنگریالے بالوں والا ہوگا۔ اس کى ایک آنکھ ابھری ہوئی ہوگی۔ گویا کہ میں اسے عبد العزی بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۔ اگر تم میں سے کوئی اسے پائے، تو اس پر سورت کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ وہ شام اور عراق کے درمیانی راستے پر نکلے گا۔ اور پھر دائیں بائیں (ہرطرف) فساد برپا کرے گا، اے اللہ کے بندوں! (اس وقت) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ وہ کتنی مدت زمین پر ٹھہرے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: چالیس دن: ایک دن ایک سال کے برابر، ایک دن ایک ماہ کے برابر اورایک دن جمعے (یعنی ایک ہفتے) کے برابر، اور اس کے باقی دن تمہارے عام دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لیے ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، تم اس کا اندازہ کر کرکے پڑھنا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! زمین میں اس کی تیز رفتاری کس قدر ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بارش کی طرح، جس کو ہوا پیچھے کی طرف سے دھکیل رہی ہو۔ وہ لوگوں کے پاس آئے گا اور انہیں دعوت دے گا۔ چنانچہ وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کے حکم کو مانیں گے۔ تب وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ درخت اگائے گی۔ شام کو ان کے جانور اس حالت میں لوٹیں گے کہ ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے، اور تھن کامل طور پر بھرے ہوں گے، اور ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی۔ پھر وہ کچھ اور لوگوں کے پاس آ ئے گا اور انہیں اپنے ماننے کی دعوت دے گا۔ وہ لوگ اس کی بات کو رد کر دیں گے۔ پس وہ ان سے واپس لوٹے گا تو وہ قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے،ان کے اموال میں سے ان کے پاس کچھ نہیں رہ جائے گا۔ اور وہ کسی ویرانے سے گذرے گا تو اسے کہے گا: اپنے خزانے نکال دے۔ تو اس کے خزانے شہد کی سردار مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ پھر وہ ایک بھرپور جوان کو بلائے گا اور اس پر تلوار سے وار کرے گا، جو اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے نشانے پر تیر مارا جاتا ہے۔ پھر اسے بلائے گا تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ چمک رہا ہوگا اور وہ ہنس رہا ہوگا۔ پس دجال اسی حال میں ہوگا کہ اللہ تعالی مسیح ابن مریم ﷺ کو بھیج دے گا۔ چنانچہ وہ (آسمان سے) دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد رنگ کا جوڑا پہنے ہوئے، اپنی ہتھیلیاں دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔ جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی کے قطرے گریں گے اور جب اپنا سر اٹھائیں گے تو موتی کی طرح چاندی (یعنی پانی) کی بوندیں گریں گی۔ جس کافر کو بھی ان کے سانس کی بھاپ پہنچے گی وہ مر جائے گا۔ اور ان کی سانس وہاں تک پہنچے گی جہاں تک ان کی نظر جائے گی۔ چنانچہ عیسیٰ عليہ السلام دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لد کے پاس پالیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر عیسی علیہ السلام ایسے لوگوں کے پاس آئيں گے جن کو اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا ہوگا۔ پس عیسی علیہ السلام ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں جنت میں ملنے والے ان کے درجات بتائیں گے۔ پس وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسی ﷺ کی طرف وحی کرے گا کہ میں نے اپنے کچھ بندے ایسے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں۔ لہٰذا تو میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر ان کی حفاظت فرما۔ اور اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا، وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، ان کا پہلا گروہ بحیره طبريہ سے گزرے گا اور اس کا پورا پانی پی جائے گا۔ اور ان کا آخری گروہ وہاں سے گزرے گا تو وہ کہے گا کہ یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔ عیسیٰ عليہ السلام اور آپ کے ساتھی محصور ہوں گے یہاں تک کہ ان کو بیل کی سری (بھوک کی وجہ سے) تمہارے آج کے سو دینا سے بہتر معلوم ہوگی۔ پس اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مر جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی زمین پر اتریں گے تو زمین میں ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں پائیں گے جو ان کی (لاشوں کی) گندگی اور بدبو سے خالی ہو۔ لہٰذا اللہ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ سے دعا مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ بختی اونٹوں کی گردنوں کے مثل بڑے پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھائیں گے اور جہاں اللہ کو منظور ہوگا، وہاں پھینک دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسی بارش برسائے گا جو ہر گھر اور خیمہ تک پہنچے گی اور ساری زمین کو دھو کر آئینہ کی طرح صاف وشفاف کردے گی۔ پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنے پھل اگا اور اپنی برکت واپس لا۔ پس اس وقت ایک گروہ ایک انار سے کھائے گا اور اس کے چھلکے سے سایہ حاصل کرے گا، اور دودھ میں اتنی برکت ڈال دی جائے گی کہ ایک دودھ والی اونٹنی ایک جماعت کو کافی ہو جائے گی، ایک دودھ والی گائے لوگوں کے ایک قبیلہ کو کافی ہوگی اور ایک دودھ والی بکری لوگوں کے ایک گھرانے کو کافی ہوگی۔ پس وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا جو ان لوگوں کو ان کی بغلوں کے نیچے سے لگے گی، پس وہ ہر مومن اور مسلمان کی روح قبض کرلے گی۔ (اس کے بعد) صرف بد ترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اس زمین پر گدھوں کی طرح علانیہ لوگوں کے سامنے عورتوں سے جماع کریں گے۔ لہٰذا انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔دجال کا خروج قيامت کی بڑى نشانيوں ميں سے ايک نشانی ہے، جيسا کہ حديث ميں بيان کيا گيا ہے۔ اور يہ ان غيبی أمور ميں سے ہے جس پر رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی خبر کے مطابق ايمان لانا اور اس کی تصديق کرنا واجب ہے۔ اسی لیے دجال کی مکمل صفت بيان کر دی گئی ہے تاکہ مسلمانوں پر اس کا معاملہ واضح رہے۔ لوگوں کی آزمائش کے لئے اللہ رب العالمين نے اسے بہت سے اختيارات اورخوارق سے نوازا ہے، مکہ اور مدينہ کو چھوڑ کر وہ ساری دنيا کا چکر لگائے گا اور اس کا خاتمہ عيسیٰ عليہ السلام کے ہاتھوں ہوگا۔ پھر اس کے بعد قيامت کی ايک اور نشانی کے طور پر ياجوج ماجوج کا ظہور ہوگا، جو دنيا کو فتنہ وفساد سے بھر ديں گے۔ عيسیٰ عليہ السلام اور مومنين اللہ رب العالمين سے گريہ وزاری ميں لگ جائيں گے يہاں تک کہ اللہ رب العالمين انھیں ان سے نجات د ے گا۔ اور ان بڑی بڑی نشانيوں کے بعد قیامت قائم ہوگی، جب کہ اللہ رب العالمين مومنين کی روحوں کوقبض کر لیا ہوگا اور قيامت برے لوگوں پر قائم ہوگی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو پکار کر فرماتا ہے کہ اللہ تعالی فلاں بندے سے محبت کرتا ہے اس لیے تو بھی اس سے محبت رکھ۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اہلِ آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لیے تم سب بھی اس سے محبت کرو چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور زمین میں اس کے لیے مقبولیت لکھ دی جاتی ہے“۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فُلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ اس سے آسمان والے بھی محبت کرنے لگتے ہیں، پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت لکھ دی جاتی ہے۔ اور جب رب تعالیٰ کسی بندے سے ناراض ہوتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے کہ میں فُلاں سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرتے ہیں، پھر آسمان والوں میں اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ فلاں سے نفرت کرتا ہے اس لیے تم لوگ بھی اس سے نفرت کرو۔ پھر زمین میں اس کے لیے نفرت لکھ دی جاتی ہے“۔
متفق علیہجب اللہ تعالی کسی شخص سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے کہ:میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ اس میں فرشتوں پر اس کی فضیلت کا بیان ہے۔ چنانچہ جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں اور آسمان والوں میں پکار کر کہتے ہیں کہ: اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں جو کہ فرشتے ہیں۔ پھر زمین میں بھی اس کے لئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ چنانچہ زمین میں موجود اہل ایمان اور دین دار لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ اور جب اللہ کسی سے نفرت کرتا اور اس پر ناراض ہوتا اور اسے ناپسند کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلا کر کہتا ہے: میں فلاں سے نفرت کرتا ہوں، تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ اللہ کی اس سے نفرت کے واسطے جبریل علیہ السلام بھی اس سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر جبریل علیہ السلام آسمان والوں میں پکار کر کہتے ہیں:اللہ فلاں سے نفرت کرتا ہے، تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ آسمان والے بھی اس سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر زمین میں بھی اس کے لئے نفرت رکھ دی جاتی ہے۔ چنانچہ زمین والے اس سے نفرت کرتے ہیں اور اسے ناپسند کرتے ہیں۔
انس بن مالک اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے، تو میں اُس سے ایک ہاتھ (گز) قریب ہوتا ہوں اور جب بندہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھ قریب ہوتا ہوں، جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہجو شخص نیکیوں کے ذریعے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کم ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا زیادہ ثواب و اکرام سے نوازتا ہے اور جب جب وہ نیکی میں بڑھتا جاتا ہے تو وہ اس کے ثواب میں اضافہ کرتا ہے اور فوری طور پر اس پر اپنی رحمت اور فضل نچھاور کرتا ہے۔ اور یہ تفسیر اس اعتبار سے ہے کہ یہ حدیث صفات کی احادیث میں سے نہیں ہے، جیسا کہ اہل سنت و جماعت کے ایک بڑے گروہ کا مذہب ہے جو صفات کو ثابت کرتے ہیں اور انہی میں سے ابن تیمیہ ہیں اور ایک دوسری جماعت نے صفتِ ھرولۃ ’دوڑ کر آنے کی صفت‘ کو بغیر اس کی کیفیت میں کلام کیے اللہ تعالی کے لیے اثبات کیا ہے۔
محمد بن زيد بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے ان کے دادا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ہم اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے ايسی باتيں کرتے ہيں جو ان باتوں کے بر خلاف ہوتی ہيں جو ہم ان کے پاس سے باہر نکل کر کرتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق شمار کرتے تھے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے پاس آئےاورکہا :جب ہم لوگ اپنے بادشاہوں کے پاس جاتے ہيں تو ان سے کوئی بات کہتے ہيں اور جب ان کے پاس سے باہر نکلتے ہيں تو اس کے برعکس بات کہتے ہيں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نبی ﷺ کے زمانے ميں اسے نفاق سمجھتے تھے۔ايسا اس ليے کہ ان لوگوں نے گفتگو ميں جھوٹ بولا اور خير خواہی کرنے کے بجائےخيانت کی۔ لہٰذا امراء، وزيروں، سلاطين اور بادشاہوں کے پاس آنے والے شخص پر واجب ہےکہ وہ حقيقت بيانی سے کام لے۔