





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے“۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ ہھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مطلب نہیں بلکہ (وقتِ نزع) مومن کو جب اللہ کی رحمت، اس کی رضامندی اور اس کی جنت کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، تو اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ اور جب کافرکو (نزع کے وقت) اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص الله سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تواللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے؟ پھر تو ہم سب ہی موت کوناپسند کرتے ہیں! آپ ﷺ نے فرمایا: یہ مراد نہیں۔ پھر نبی ﷺ نے بتایا کہ جب انسان اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اس کا مطلب يہ ہے کہ اللہ تعالی نے مومنوں کے لئے جنت میں جو عظیم اجر اور بے شمار انعامات تیار کر رکھے ہیں ان پر ایک مومن شخص کا ایمان ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اس کو پسند کرتا ہے اور دنیا اس کی نگاہوں میں ہیچ ہو جاتی ہے، وہ اس کی پروا نہیں کرتا؛ کیونکہ عنقریب وہ اس سے بہتر جہان کی طرف منتقل ہوجائے گا۔ چنانچہ وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے لگتا ہے، بالخصوص موت کے وقت جب اسے اللہ کی رضامندی اور رحمت کی خوش خبری سنائی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالی سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اس سے ملاقات کا مشتاق ہو جاتا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے۔ جب کہ اس کے بر عکس کافر شخص، العیاذ بااللہ، اسے جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضى کا مژدہ سنایا جاتا ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے. چنانچہ اللہ تعالی بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ اسی لیے جاں کنی کے بیان والی حدیث میں آیا ہے کہ کافر کی روح کو جب اللہ کے غضب اور ناراضی کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اس کے جسم میں دوڑنے اور بھاگنے لگتی ہے۔ اسی وجہ سے کافر کی روح اس کے جسم سے کھینچ کر نکالی جاتی ہے جبکہ وہ ناپسند کرتا ہے کہ اس کی روح نکلے کیونکہ اسے برے انجام کی خبر دی جاتی ہے۔ العیاذ باللہ۔ اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ﴾ ”اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کہ یہ ﻇالم لوگ موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے کہ ہاں اپنی جانیں نکالو“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سيحان، جيحان، فرات اور نيل سب جنت کی نہریں ہیں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس دنیا کی چار نہریں سيحان، جيحان، فرات اور نيل کو آپ ﷺ نے جنت کی نہریں قرار دیں۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت میں جنت کی نہریں تھیں لیکن جب انہیں دنیا میں اتارا گیا تو ان پر دنیا کی نہروں کی فطرت و طبیعت غالب آگئی اور یہ دنیا کی نہروں میں سے ہو گئیں۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گرانی بڑھ گئی ہے لہٰذا آپ (کوئی مناسب) نرخ مقرر فرما دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، (میں نہیں) وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا، روزی مہیا کرنے والا ہے اور میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ کے زمانے میں اشیاء کی قیمتیں زیادہ ہوگئیں، لوگوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے قیمتیں متعین کر دیں، تو آپ نے فرمایا ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا اور روزی میں اضافہ کرنے والا“ یعنی اللہ تعالیٰ ہی چیزوں کو سستی اور مہنگی کرتا ہے، وہ جس پر چاہے رزق تنگ کرتا ہے اور جس پر چاہے فراخی کرتا ہے، یعنی جو قیمتیں مقرر کرتا ہے وہ اللہ سے اس چیز میں جھگڑا کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے اور گرانی و ارزانی سے متعلق لوگوں کے حقوق جو اللہ کے عطاء کردہ ہیں روکتا ہے۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ جب اللہ سے ملوں، تو مجھ سے کسی جانی و مالی ظلم و زیادتی کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہ ہو“ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیمتیں مقرر کرنے سے یہ بات مانع ہے کہ کہیں میں لوگوں کے اموال میں ان پر ظلم نہ کر جاؤں، اس لیے سامان میں مالک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا ظلم ہے۔ تاہم اگر تاجر وغیرہ چیز قصداً مہنگی کریں، تو انتظامیہ اور حاکم وقت کو عمومی قائدے ”جلبِ منفعت اور دفعِ ضرر“ کے پیشِ نظر بیچنے اور خریدنے والوں کے درمیان اشیاء کی منصفانہ قیمت متعین کرنے کا اختیار ہے۔ اور اگر گراں فروشی میں تاجروں کے اختیار اور حیلے سے نہ ہو، بلکہ طلب بڑھنے اور رسد گھٹنے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہو، تو حاکمِ وقت کو قیمت متعین کرنے کا اختیار نہیں۔ بلکہ لوگوں کو کُھلی طور پر معاملات کرنے چھوڑ دے، تاکہ اللہ ان میں سے بعض کو بعض کے رزق کا ذریعہ بنائے۔ لہٰذا اس کے پیش نظر تاجروں کے لیے مروجہ قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں۔ یہی اس حدیث سے مقصود ہے۔
یعلی ابن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کھلی فضاء میں بغیر ازار کے غسل کر رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گیے اور اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا: ”اللہ تعالی حیادار ہے، پردہ پوشی کرنے والا ہے اور حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہائے تو ستر کو چھپا لے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو کھلی فضاء میں برہنہ ہو کر نہا رہا تھا۔ اس پر آپ ﷺ منبر پر تشریف لے گیے اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اللہ عز وجل انتہائی حیا والا اور انتہائی پردہ پوشی کرنے والا ہے اور وہ حیا اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے۔ چنانچہ جب تم میں سے کوئی غسل کرے ستر کو چھپا لے۔ یعنی 'الحیی' اور 'الستیر' اللہ کے اسماء میں سے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی حیا اور پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے۔ چنانچہ کسی مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ جب غسل کرے تو لوگوں کے سامنے اپنی شرم گاہ کھول دے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو چھپائے۔ ’حیا‘ اللہ کے شایان شان اس کی ایک صفت ہے جو کہ انسانوں کی ’حیا‘ کی مانند ہر گز نہیں ہے جس میں تغیر اور انکساری ہوتا ہے اور یہ حیا کسی شخص میں اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اسے کسی معیوب یا مذموم شے کا اندیشہ ہو۔ اللہ کی حیا سے مراد ہر ایسی شے کو ترک کر دینا ہے جو اللہ کی رحمت کی وسعت، اس کے کمالِ جود و کرم اور اس کے درگزر اور حلم کی عظمت سے مناسبت نہیں رکھتی۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب میرا بندہ ایک بالشت میری طرف بڑھتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میری طرف بڑھتا ہے تو میں چار ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جب وہ میری طرف چار ہاتھ بڑھتا ہے تو میں تیزی سے اس کی طرف بڑھتا ہوں“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جب بندہ ایک بالشت اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اللہ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، اور جب بندہ اور زیادہ اپنے رب کے قریب ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اس سے قریب ہوتا ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے پاس آتا ہے تو اللہ دوڑ کر اس کے پاس آتا ہے۔ قریب ہونا اور آنا دونوں صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں۔ ہم بغیر تکییف و تمثییل کے اور بغیر تحریف و تاویل کے ان پر ایمان لاتے ہیں۔
اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں جو ہر آواز سنتا ہے، خولہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگیں، ان کی گفتگو مجھے سنائی نہیں دے رہی تھی، چنانچہ اللہ عزوجل نے ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا“ نازل فرمائی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی شادی اوس بن صامت سے ہوئی تھی۔ اوس رضی اللہ عنہ نے خولہ رضی اللہ عنہا سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے یعنی تو مجھ پر حرام ہے۔ چنانچہ وہ آپ ﷺ کے پاس چلی گئیں اور آپ ﷺ کو اپنا قصہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو اس پر حرام ہو چکی ہے۔ وہ آہستہ آواز میں یہ بات کہہ رہی تھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے قریب ہونے کے باوجود (ان کی گفتگو) مخفی رہی، (خولہ کہہ رہی تھیں) کہ اب جب کہ میں بوڑھی ہو چکی ہوں، اس نے میرے ساتھ ظہار کر لیا؟ میں اللہ تعالیٰ سے اپنی بچوں کے حال کی شکایت کرتی ہوں، اگر میں اسے اپنے ساتھ رکھوں تو وہ بھوکے رہیں اور اگر میں انہیں اُن کے پاس چھوڑ دوں تو وہ انہیں ضائع کردیں گے۔ یہ خولہ رضی اللہ عنہا کا آپ ﷺ کے سامنے مجادلہ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا﴾ ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا“ (سورہ مجادلہ:1) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں: الحمدُ للهِ الذي وَسِعَ سَمْعُه الأصواتَ“ یعنی تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہ کی ہوئی ہے، اس سے کوئی چیز فوت نہیں ہو سکتی اگر چہ پوشیدہ ہو۔ جب خولہ رضی اللہ عنہا آ کر آپ ﷺ سے اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی، تو دھیمی آواز میں بول رہی تھیں تاکہ قریب میں اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نہ سن لیں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ساتوں آسمانوں کے اوپر اس کی بات سنی اور مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (یہ آیت) اللہ تعالیٰ کے سننے کی صفت سے متصف ہونے کی سب سے مضبوط دلیل ہے۔ یہ دین میں ایک بدیہی سا طے شدہ امر ہے، اس کا انکار صرف وہی شخص کرتا ہے جو راہِ ہدایت سے بھٹک چکا ہو۔ اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ صحابہ کرام ظاہرِ نصوص یعنی جس کی طرف پہلی دفعہ سمجھ میں آتی ہے، پر ایمان لائے تھے۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کو ان سے اور دوسرے مکلف لوگوں اور اپنے رسول سے مطلوب تھا۔ اس لیے کہ یہ جس پر وہ ایمان لائے تھے اور جس کا انہیں اعتقاد تھا اگر یہ غلط ہوتا تو (اللہ) ان کو اس پر قائم نہ رکھتا اور ان کے سامنے درست بات بیان کردی جاتی۔ جب کہ کسی سے بھی ان نصوص کے ظاہری مفہوم میں تاویل منقول نہیں، نہ ہی صحیح سند سے اور نہ ہی ضعیف سند سے، حالانکہ اس کے اسباب بکثرت موجود تھے۔
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے“۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ مندہ نے ”کتاب التوحید“ میں روایت کیا ہے۔ - امام بخاری نے اسے اپنی کتاب ”خلقُ أفعالِ العبادِ“ میں روایت کیا ہے۔”ہر کاریگر اور اس کی کاریگری کو اللہ تعالی ہی پیدا کرنے والا ہے“ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ بندوں کے افعال بھی مخلوق ہیں، اللہ تعالی ہی بندوں کو پیدا فرمایا ہے اور وہی ان کے افعال کا بھی پیدا کرنے والا ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: زمین وآسمان کی ہر مخلوق کا خالق اللہ سبحانہ وتعالی ہے، اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اس کے سوا کوئی رب نہیں، اور اللہ تعالی نے بندوں کو اس کی اور اس کے رسولوں کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اس کی معصیت سے روکا ہے، وہ متقی، احسان کرنے والے اور انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں سے راضی ہوتا ہے، وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا، نہ ہی فاسق لوگوں سے راضی ہوتا ہے، اس نے فحش اور بے حیائی کا حکم نہیں دیا، نہ ہی وہ اپنے بندوں کے لیے کفر اور فساد کو پسند فرماتا ہے۔ بندے حقیقی معنوں میں فاعل (کرنے والے) ہیں اور اللہ تعالی ان کے افعال (حرکات وسکنات) کا خالق ہے، بندے ہی مومن، کافر، نیک اور صالح، فاجر وفاسق، نمازی اور روزہ دار ہیں، بندوں کے پاس کام کرنے کی قدرت ہے اور وہ صاحب ارادہ بھی ہیں جبکہ اللہ تعالی ان کا خالق ہے، ان کی قوتوں اور ان کے ارادوں کا پیدا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿لِمَن شَاءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ، وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾ ” تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو، اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے“۔
ابو رمثہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا کہ مجھے اپنی پشت پر جو یہ چیز ہے دکھائیں کیونکہ میں طبیب آدمی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طبیب صرف اللہ ہے اور تم تو بس نرمی و مہربانی کرنے والے شخص ہو۔ اس کا طبیب تو وہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابو رمثہ ایک طبیب تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے دونوں شانوں کے مابین مہر نبوت کو ابھرے ہوئے دیکھا تو انہیں گمان گزرا کہ یہ زائد مادوں سے پیدا شدہ گلٹی ہے یا پھر کوئی جلدی بیماری ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی ﷺ سے اس کا علاج کرنے کی اجازت چاہی۔ نبی ﷺ نے یہ کہہ کر ان کی پیشکش کو رد فرما دیا کہ:”طبیب تو اللہ ہے“ یعنی دوائے شافی کے ساتھ بیماری کا حقیقی علاج کرنے والا تو وہی ہے۔ ”بل أنت رجل رفيق“ تم تو بس مریض کے ساتھ لطف و مہربانی سے پیش آنے والے ہو کیونکہ طبیب دواء اور بیماری کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے جبکہ صحت اور شفاء دینے پر قادر تو صرف اللہ ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺکے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دیےہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے ( کان کی ) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا ۔ عیینہ بن بدر ، اقرع بن حابس ، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہ تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ ۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص نے اس پر کہا کہ ان لو گو ں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب آپ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ:’’تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالاں کہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور میرے پاس آسمان کی خبر (وحی) صبح و شام آتی ہے۔‘‘راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی ، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند اٹھائے ہوئے تھا ، کھڑا ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ ! اللہ سے ڈریئے۔ آپﷺنے فرمایا ، افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں۔‘‘ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟‘‘، آپﷺ نے فرمایا:’’نہیں شاید وہ نما ز پڑھتا ہو‘‘، اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ:بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’مجھےاس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج کروں اور ان کے پیٹ چاک کروں‘‘، راوی نے کہا پھر آپ ﷺ نے اس ( منافق ) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا ۔ آپﷺنے فرمایا کہ ’’ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار (شدہ جانور) سے پار نکل جاتا ہے۔‘‘ (راوی) کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا۔‘‘
متفق علیہنبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا۔ وہ لوگوں کو اللہ کی دعوت دیتے، صاحب نصاب سے زکوۃ وصول کرتے اور ان کے تنازعات کے فیصلے کرتے تھے۔ یہ حجۃ الوداع سے پہلے کی بات ہے۔ پھرحضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے واپس آئے اور حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے مکہ میں ملے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سونے کا ڈلا (ٹکڑا) بھیجا تھا جس سے مٹی بھی صاف نہیں کی گئی تھی اس لیے وہ خالص سونا نہیں تھا کیونکہ وہ مٹی کے ساتھ مختلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ ڈلا مذکورہ بالا چار افراد کے مابین تقسیم کر دیا اس امید پر کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ وہ چوں کہ اپنے قبائل کے سردار تھے اس لیے اگر وہ اسلام قبول کر لیتے تو ان کی پیروی میں بہت بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتی۔ اس لیے رسول اللہﷺ نے ترغیبِ اسلام اور تالیفِ قلب کے لیے وہ سونا ان کو دے دیا۔ ان میں سے جن مسلمانوں کو دیا تو اس کا مقصد ایمان پر مضبوطی اور ثابت قدمی تھا۔ سونے کا یہ ڈلا خمس میں سے تھا اوراہلِ علم نےاس کو بعید خیال کیا ہے کہ یہ اصل مال غنیمت میں سے تھا، یہ بھی امکان ہے کہ یہ مالِ زکوۃ میں سے ہو۔ جب رسول اللہﷺ نے ان مذکورہ بالا افراد کو دیا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا:ان چاروں کی بہ نسبت ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ یہ مال ہمیں دیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ علم ہوا تو آپﷺنے فرمایا: ”تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور آسمان سے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت میں مجھ پر اعتبار کیا ہے اور مجھے زمین پر رسالت سے نوازا ہے اور اے اعتراض کرنے والے اورراہِ راست سے بھٹکے ہوئے جو تیرے ہمنوا ہیں! تم لوگ مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟! تم مجھ پر دنیا کے حقیر چیز پر اعتبار نہیں کر تےکہ میں اس کو وہاں رکھوں جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ: ”جو آسمان میں ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر بلندی کی دلیل ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو آسمان پر ہے۔ یہاں پر ’فی‘ بمعنی ’علی‘ ہے کیوں کہ عرب ’فی‘ کو ’علی‘ کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ﴾ ”زمین پر چلو پھرو“ اور اسی طرح فرمایا: ﴿وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ﴾ ”کہ میں تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی دوں گا“ تو اس کا مطلب ہے علی الارض (زمین پر) اور علی جذوع النخل (کھجور کےتنوں پر) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ”في السماءِ“ (آسمان پر) یعنی آسمان سے اوپر عرش پر۔ یہ حدیث اللہ تعالیٰ کے اِس قول کے مثل ہے: ﴿أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ، أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا﴾ ”کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگیے ہو کہ آسمان والا تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے اور اچانک زمین لرزنے لگے، یا کیا تم اس بات سے نڈر ہوگیے ہو کہ آسمانوں والا تم پر پتھر برسائے پھر تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا کہ میرا ڈرانا کیسا تھا“۔ اس دوران ایک شخص کھڑا ہوا (جس کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے ، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا ، تہبند ٹخنوں سے اوپر اٹھائے ہوئے تھا، نبی کریم ﷺ سے کہنے لگا: اللہ سے ڈریے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”افسوس تجھ پر کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں“ یعنی نبی کریم ﷺ لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور تقویٰ کا حق رکھتے ہیں۔ یہ اس کا صریح ظلم تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اس لیے کھڑا کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کے ڈر کی نصیحت کرے اور آپ ﷺ سے یہ کہے کہ (اللہ سے ڈریے) اس کے باوجود کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کیا تھا وہ عین تقویٰ کے مطابق اور عظیم اطاعات میں شامل تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے لیے، اس کے دین کی مدد کے لیے اور لوگوں کی ہدایت کے پیش نظر ان کو نواز رہے تھے۔جب یہ شخص چلا گیا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسولﷺ!مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، ممکن ہے وہ نماز پڑھتا ہو“ خالد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ :بہت سارے نمازی جو زبان سے کچھ کہتے ہیں لیکن ان کے دل میں ویسا نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں“ یعنی میں لوگوں کےساتھ ان کے ظاہر کے مطابق ہی معاملہ کروں اور ان کے باطن میں کیا ہے اس کو چھوڑ دوں اسے اللہ بہتر جانتا ہے وہ خود ہی اس کا حساب کر لے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ کہنے والے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جارہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے اور اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“، مقصد یہ خبر دینا تھا کہ اس گمراہ آدمی کی نسل سے ایسے افراد آئیں گے جو اس کے راستے پر چلنے والے ہوں گے، قرآن کی کثرت قرأت اور حفظ کی وجہ سے تلاوت بڑی خوش الحانی سے کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے دلوں تک نہیں پہنچے گا۔ اس کا جو مقصود و معنی ہے وہ نہیں سمجھیں گے اورغیر موضوع لہ معنی مراد لیں گے۔ کیوں کہ یہ گمراہ اور جاہل ہوں گے اس لیے اسلام سے بھی بغیر متاثر ہوئے بڑی آسانی اور تیزی سے خارج ہو جائیں گے گویاکہ یہ اسلام میں داخل ہی نہیں تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں گے لیکن ایمان ان کے دل میں جگہ نہیں پائے گا، اور نہ ہی ان کے چہروں سے اسلام کا تصور نظر آئے گا اس لیے یہ چیزیں ان کے اوصاف میں شامل ہوں گی کہ: وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے، کافروں کو بتوں کی عبادت کی دعوت دیں گے۔اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں ان لوگوں کو پالیتا تو (قومِ) ثمود کی طرح ضرور انھیں قتل کر دیتا“یعنی میں پوری طاقت سے قتل کرتا کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑتا۔