





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ہم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس رقعوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے۔ ایک بار آپ نے کہا : "شام کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول! ایسا کس بنا پر ہے؟ تو فرمایا : "کیوں کہ رحمن کے فرشتے اس کے اوپر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن جب وہ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مختلف رقعوں سے، جن پر قرآن کی آیتیں لکھی ہوئی تھیں، قرآن یک جا کر رہے تھے۔ اس دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "شام والوں کے لیے سعادت و خوشخبری ہے"۔ یعنی شام اور اہل شام کے لیے آرام و سکون اور خوشگوار زندگی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا آخر کیوں فرمایا؟ تو جواب دیا: "کیوں کہ رحمن کے فرشتے اس کے اوپر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں"۔ یعنی فرشتے شام کی سرزمیں اور اس کے باشندوں کے اوپر اپنے پر پھیلا کر انھیں گھیرے میں لیے ہوئے ہیں، اس پر برکت نازل کر رہے ہیں، ہلاکتوں اور اذیتوں سے اس کا بچاو کر رہے ہیں اور کفر اور فتنوں سے اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے یا پھر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں نبوت کے بعد دور اول میں حاصل ہوئی تھیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مطلق ہے اور اس سے دوام لازم نہيں آتا۔ واللہ اعلم۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ” جس وقت آفتاب کا کنارہ نکلے نماز کو چھوڑ دو یہاں تک کہ خوب اچھی طرح ظاہر ہوجائے اور جس وقت آفتاب کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو چھوڑ دو یہاں تک کہ خوب اچھی طرح غائب ہو جائے اور آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کے وقت نماز کا قصد نہ کرو کیونکہ آفتاب شیطانوں- راوی کو شک ہے- یا شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جس وقت آفتاب کا کنارہ نکلے جس کا ظہور سب سے پہلے ہوتا ہے تو نماز کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ خوب اچھی طرح ظاہر اور بلند ہو جائے اور جس وقت آفتاب کا کنارہ غائب ہو جائے تو نماز کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غائب ہو جائے اور آفتاب کے نکلنے اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور منع کرنے کا سبب بتایا کہ آفتاب نکلنے اور غروب ہونے کے وقت شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا اور غروب ہوتاہے، یعنی اس کے سر کے دونوں جانب؛ کیونکہ وہ طلوع آفتاب کے وقت اپنے آپ کو سورج کی طرف کرکے کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ سورج اس کے سر کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلے چنانچہ جو اس وقت سجدہ کرے گا وہ اس کا قبلہ ہو جائے گا۔ اسی طرح غروب کے وقت بھی وہ کھڑا ہوتا ہے تاکہ آفتاب اس کے سر کے دونوں سینگوں کے درمیان غروب ہو، چنانچہ جو اس وقت سجدہ کرے گا اس کا وہ قبلہ ہو جائے گا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا تاکہ عبادت میں مشابہت نہ ہو۔
عامر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے علقمہ سے پوچھا کیا لیلۃ الجن کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول ﷺ کے ساتھ تھے؟ کہتے ہیں کہ علقمہ نے کہا، میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور کہا کہ لیلۃ الجن کو تم میں سے کوئی رسول ﷺ کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا نہیں۔ لیکن ایک رات ہم رسول ﷺ کے ساتھ تھے، چنانچہ آپ گم ہو گئے تو ہم نے آپ ﷺ کو پہاڑ کی وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا، مگر آپ ﷺ نہیں ملے، تو ہم نے کہا کہ آپﷺ کو جن اڑا لے گئے یا آپ ﷺ کو چپکے سے قتل کر دیا گیا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رات برے طور سے بسر کی، جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ ﷺحراء پہاڑ کی طرف سے آرہے ہیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو رات میں گم پایا ، ہم نے آپ کو تلاش کیا تب بھی آپ نہ ملے، چنانچہ ہم نے رات بڑی تکلیف میں کاٹی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جنوں کا ایک ایلچی آیا تو میں اس کے ساتھ گیا اور میں نے جنوں کو قرآن سنایا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتائے اور جنوں نے آپ ﷺ سے توشہ مانگا، آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے لیے ہر اس جانور کی ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے وہ تمہارے ہاتھ میں آتے ہی وافر مقدارمیں اس پر گوشت چڑھ جائے گا، اور ہر مینگنی تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے بھائیوں کی خوراک ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عامر شعبی رحمہ اللہ نے علقمہ رحمہ اللہ سے پوچھا (ان دونوں میں سے ہر ایک بزرگ تابعی ہیں) کیا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃُ الجن کو رسول ﷺ کے ساتھ تھے ؟ چنانچہ علقمہ نے خبر دیا کہ انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے خبر دیا کہ لیلۃُ الجن کو ان میں سے کوئی حاضر نہیں تھا، ہاں البتہ وہ سب کسی ایک رات نبی ﷺ کے ساتھ تھے، چنانچہ آپ ﷺ گم ہو گئے، تو ان لوگوں نے آپ ﷺ کو پہاڑ کی وادیوں اور راستوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا ، مگر آپ ﷺ نہیں ملے، تو وہ لوگ ڈرے کہ آپﷺ کو کہیں چپکے سے قتل تو نہیں کر دیا گیا، یا آپ ﷺ کو جن اڑا لے گئے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رات بڑے رنج وغم کے عالَم میں کاٹی، جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ ﷺحراء پہاڑ کی طرف سے آرہے ہیں ، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! ہم نے آپ کو رات میں گم پایا ، ہم نے آپ کو تلاش کیا تب بھی آپ نہ ملے، چنانچہ ہم نے نے رات بڑے رنج وغم کے عالَم میں کاٹی! تو آپ ﷺ نے فرمایاکہ میرے پاس جنوں کا ایک ایلچی آیا تھا، میں اس کے ساتھ چلا گیا تھا اور میں نے جنوں کو قرآن سنایا۔ پھر نبی ﷺ صحابہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتائے اورصحابہ کو بتایا کہ جنوں نے آپ ﷺ سےکھانا مانگا، تو آپ ﷺ نے انہیں خبر دیا کہ ان کا کھانا ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے، ان کے ہاتھ میں آتے ہی اُس پر وافر مقدار میں گوشت چڑھ جائے گا، اور اسی طرح ہر جانور کی مینگنی ان کے چوپایوں کے لیے چارہ ہو جائے گا، پھر نبی ﷺ نے اپنی امت کو منع فرمایا کہ ان ہڈیوں اور چوپایوں کے گوبر سے استنجا کریں، کیونکہ یہ ان کے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے، پھر وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے پس مرتبے کے اعتبار سے اس کے نزدیک وہی مقرب ہوتا ہے جو فتنہ ڈالنے میں سب سے بڑا ہو۔ ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے اس اس طرح کیا، تو شیطان کہتا ہے: تو نے کوئی (بڑا کام) سر انجام نہیں دیا۔ فرمایا: پھر ان میں سے ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے (فلاں آدمی) کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈال دی، فرمایا: شیطان اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے: ہاں! تو (نے بڑا کام کیا) ہے“۔ اعمش کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے کہا: ”وہ اسے اپنے سے چمٹا لیتا ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ابلیس اپنے تخت یعنی تختِ شاہی کو پانی پر رکھتا ہے، پھر جنوں میں سے اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں اور انہیں گمراہ کریں، تو مرتبے کے اعتبار سے ابلیس کا سب سے قریبی وہ شیطان ہوتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں سب زیادہ بڑھا ہوا ہو، ان شیاطین میں سے ایک آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے ایسا اور ایسا کیا یعنی مثال کے طور پر میں نے چوری کا حکم دیا اور شراب پینے پر ابھارا وغیرہ، تو ابلیس اس سے کہتا ہے: تو نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا یا یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو کارنامہ شمار کیا جائے، یہاں تک کہ انہیں شیطانوں میں سے ایک اور آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے فلاں کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی اور شوہر نے بیوی کو طلاق دے دیا، ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور اسے اپنے سے چمٹا کر اس کا معانقہ کرتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: ”ہاں! تو ہے“ یعنی تو ہی وہ شیطان ہے جس نے میری چاہت پوری کر دی اور لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کے مابین فساد برپا کرنے کی میری آرزو و خواہش کو عملی جامہ پہنا دیا۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "تمھارے بارے میں مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ ایک آدمی قرآن پڑھے، یہاں تک کہ جب اس پر قرآن کی چمک دمک نظر آنے لگے اور وہ اسلام کا معاون وحامی بن چکا ہو، تو اس کو اللہ کى مشیئت کے مطابق کسى اور چیز سے بدل دے, اس سے علاحدگی اختیار کر لے، اسے پس پشت ڈال دے، اپنے پڑوسی پر تلوار لے کر چڑھ دوڑے اور اس پر شرک کی تہمت لگائے۔" وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے نبی! دونوں میں سے کون زیادہ شرک کا حق دار ہے، تہمت لگانے والا یا وہ جس پر تہمت لگائی جائے؟ تو فرمایا : "بلکہ تہمت لگانے والا"۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں جن باتوں کا سب سے زیادہ ڈر تھا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک آدمی قرآن کی تعلیم حاصل کرے، لوگوں کو اس کے چہرے پر قرآن کا نور، اس کا حسن اور پاکیزہ اثرات دکھائی دیں، ساتھ ہی وہ اسلام اور مسلمانوں کا حامی اور ان کا دفاع کرنے والا بھی بن چکا ہو، لیکن اچانک اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہوئے اسلام سے دامن چھڑا لے، قرآن سے ترک تعلق کر لے، اپنے پڑوسی کا قتل کرنے لگے اور اس پر شرک کی تہمت لگانے لگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ دونوں میں سے شرک کا زیادہ حق دار کون ہے؟ یہ آدمی جس نے اپنے پڑوسی کا قتل کیا اور اس پر شرک کی تہمت لگائی یا اس کا پڑوسی؟ تو آپ نے جواب دیا : وہ آدمی جس نے اپنے پڑوسی پر شرک کی تہمت لگائی اور اس کا قتل کیا، وہی شرک کا زیادہ حق دار ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے جواب دیا: ہاں! اس نے پوچھا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے بیچ کتنا فاصلہ تھا؟ جواب دیا: "دس پشتوں کے گزرنے کے برابر"۔ اس نے پوچھا: نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان؟ جواب دیا: "دس پشتوں کے گزرنے کے برابر"۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! رسولوں کی تعداد کتنی تھی؟ جواب دیا: "تین سو پندرہ"۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں بیان کر رہے ہیں کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ ہاں وہ نبی تھے۔ پھر اس نے آدم اور نوح علیہما السلام کے بیچ کا زمانی فاصلہ جاننا چاہا، تو آپ نے بتایا کہ یہ فاصلہ دس پشتوں کے گزرنے کی مدت کے برابر تھا۔ پھر اس نے نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے بیچ کا زمانی فاصلہ پوچھا، تو آپ نے اس کے جواب میں بھی وہی کہا کہ دس پشتوں کے گزرنے کے برابر فاصلہ تھا۔ پھر اس نے رسولوں کی تعداد پوچھی، تو بتایا کہ ان کی تعداد تین سو پندرہ تھی۔
واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا اور قریش میں سے بنو ہاشم کو منتخب کیا پھر بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب کیا۔میں اولادِ آدم کا سردار ہوں مگر اس پر فخر نہیں۔ میں پہلا شخص ہوں گا جس سے قبر شق کی جائے گی، سب سے پہلے میں سفارش کروں گا اور میں ہی پہلا ہوں گا جس کی سفارش قبول کی جائے گی“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرب میں سے کنانہ کو منتخب کیا اور ان کو بنی اسماعیل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر قریش کو منتخب کیا اور اس کو قبیلہ کنانہ کے بقیہ قبائل پر فضیلت عطا فرمائی، پھر بنی ہاشم کو منتخب کیا اور اس کو قریش کی بقیہ قبائل پر فضیلت دی۔ پھر محمد ﷺ کو منتخب کیا اور ان کو بنی ہاشم پر فضیلت دی۔ آپ ﷺ کُلْ اولاد آدم کے سردار ہیں اور سب سے بڑھ کر فضیلت والے ہیں۔ ان سب کے باوجود آپ ﷺ نے کسی ایک پر فخر نہیں کیا بے شک آپ ﷺ اس مقام پر اللہ کی طرف سے ملنے والی وحی کی وجہ سے پہنچے ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ ہی وہ ہوں گے جن کو قیامت کے دن سب سے پہلے اٹھایا جائے گا۔ آپ ﷺ ہی پہلے انسان ہوں گی جو سفارش کریں گے اور آپ ﷺ ہی وہ پہلے ہوں گے جن کی سفارش قبول کی جائے گی۔
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "میرے پانچ نام ہیں: میں محمد اور احمد ہوں۔ میں 'الماحی' (مٹانے والا) ہوں کہ میرے ذریعے سے اللہ کفر کو مٹائے گا۔ میں 'الحاشر' (جمع کرنے والا) ہوں کہ میرے بعد لوگوں کو جمع کیا جائے گا۔ میں 'العاقب' (آخری نبی) بھی ہوں"۔
متفق علیہاس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پانچ نام تھے: محمد، احمد، الماحی (مٹانے والا) جس کے ذریعے سے اللہ کفر اور اس پر چلنے والوں کا صفایا کرے گا، الحاشر (جمع کرنے والا) جو قیامت کے دن دیگر لوگوں سے پہلے اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور العاقب (آخری نبی) جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ یعنی آپ آخری نبی تھے اور آپ کے بعد اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پانچ نام ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے بس اتنے ہی نام ہیں، بلکہ صحیح حدیثوں سے آپ کے اور بھی کئی نام ثابت ہیں۔ جیسے المقفی (آخری نبی)، نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) اور نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) وغیرہ۔
سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ و سلم نے ہمارے سامنے اپنے کئ نام بیان کیے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں۔ آپ نے فرمایا : "میں محمد، احمد، المقفی (آخری نبی)، الحاشر (جمع کرنے والا) اور نبی الرحمۃ (رحمت والا نبی) ہوں"۔ یزید کہتے ہیں: "نبی التوبۃ (توبہ والا نبی) اور نبی الملحمۃ (جنگ والا نبی) بھی آپ کے نام ہیں"۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے کئی نام بیان کیے ہیں، جن میں سے یہنام ہمیں یاد رہ گئے ہیں : محمد، احمد، المقفی یعنی آخری نبی، الحاشر یعنی سب سے پہلے میدان حشر میں لائے جانے والا انسان، نبی الرحمۃ یعنی اپنی لائی ہوئی شریعت کے حوالے سے سارے جہان والوں کے حق میں اور کچھ خصائص کی بنا پر بطور خاص ایمان والوں کے حق میں مہربان و شفیق، نبی التوبہ یعنی نیت اور زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کے ذریعے توبہ قبول ہونے کا پیغام لانے والے نبی، جب کہ کچھ اگلی امتوں میں توبہ کے لیے ضروری تھا کہ آدمی اپنی جان لے لے، یا پھر نبی التوبہ (توبہ والے نبی ) کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نبی جس کی امت میں توبہ کے معاملات بکثرت ہوا کریں گے، کیوں کہ جب آپ کی امت تعداد کے اعتبار سے سب سے بڑی ہوگی، تو اس میں توبہ کے واقعات بھی دیگر امتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوں گے۔ آپ کا ایک نام نبی الملحمۃ (جنگ کا نبی) بھی ہے، کیوں کہ آپ اللہ کے کلمہ کی سر بلندی کے لیے جہاد کے حریص تھے۔