





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینے کے ایک بلند مقام پر چڑھے۔ پھر فرمایا: کیا تم لو گ بھی دیکھ رہے ہو، جو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ (عن قریب ) تمھارے گھروں میں فتنے اس طرح برس رہے ہوں گے، جیسے بارش برستی ہے۔
متفق علیہرسول اللہ ﷺ نے مدینے کے بلند قلعوں میں ایک اونچی جگہ سے دیکھا اور صحابہ سے فرمایا کہ کیا جو میں دیکھ رہا ہوں تمھیں نظر آ رہا ہے؟ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فتنے تمھارے گھروں کے درمیان اس طرح اتر رہے ہیں جیسے موسلادھار بارش ہورہی ہو! یہ در اصل مدینے میں ہونے والی جنگوں اور فتنوں کی طرف اشارہ تھا، جیسے عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت اور واقعۂ حرہ وغیرہ۔
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اور قیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گیے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کے اشارہ سے (اس نزدیکی کو) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلایا۔“
متفق علیہنبی ﷺ قیامت کے قریب آنے کی خبر دے رہے ہیں، کہ آپ ﷺ کی بعثت اور یومِ قیامت اتنے قریب قریب ہیں کہ جتنے اللہ کے نبی ﷺ کی دو انگلیاں قریب ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو لمبا کیا تاکہ دوسری تمام انگلیوں سے وہ ممتاز ہو جائیں۔ دوسری بعض احادیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ دو انگلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیاں تھیں۔ ’’سبّابہ‘‘ جو درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان ہے۔ ان دونوں کو ملانے سے یہ مل جاتے ہیں اور ان میں تھوڑا سا فرق ہوتا ہے، جو ایک ناخن یا اس کے نصف کے برابر ہوتا ہے، اسے ’سبّابہ‘ کہتے ہیں اس لیے کہ انسان جب کسی کو گالی دینا چاہتا ہے تو اس انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس کو ’سباحہ‘ بھی کہتے ہیں اس لیے کہ انسان اللہ کی تعظیم کے وقت اسے اٹھاتا ہے اور اس سے آسمان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا اختتام قریب ہی ہے، دور نہیں۔
تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : "یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے (دنیا و آخرت کی) ذلت قبول کر لی جائے؛ ایسی عزت جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ایسی ذلت جس سے اللہ کفر کی وجہ سے دوچار کرے گا۔" تمیم داری رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ اس فرمان رسول ﷺ کی صداقت میں نے اپنے خاندان میں دیکھی ہے کہ ان میں سے جو مسلمان ہوگیا، اسے خیر، شرافت اور عزت نصیب ہوئی اور جو کافر رہا، اسے ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔
رواه أحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عن قریب یہ دین روئے زمین کے تمام گوشوں میں پھیل جائے گا۔ جہاں بھی رات اور دن کا سلسلہ ہے، وہاں یہ دین پہنچ جائے گا۔ شہر و بستی اور دیہات و صحرا کا ایسا کوئی گھر باقی نہيں رہے گا، جہاں یہ دین پہنچ نہ جائے۔ لہذا جو اس دین کو قبول کرے گا اور اس پر ایمان رکھے گا، وہ اسلام کی طاقت کی برکت سے طاقت ور ہو جائے گا۔ اس کے برخلاف جو اسے ٹھکرا دے گا، وہ رسوا اور ذلیل ہوگا۔ پھر صحابی تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بتائی ہوئی اس بات کا تجربہ انھیں خود اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہوا۔ جو مسلمان ہو گئے، ان کو عزت ملی اور جنھوں نے کفر کیا، انھیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں مسلمانوں کو جو مال دینا پڑتا ہے وہ اس پر سوا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کس بنا پر قتل کیا اور مقتول کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس کا کس بنا پر قتل ہوا"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی، جو آپ کی جان کا مالک ہے، قسم کھاکر بتایا ہے کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ قتل کی واردات بہت زیادہ بڑھ جائے گی، یہاں تک کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو بھی پتہ نہیں ہوگا کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گيا۔
جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی جانب ایک سریہ بھیجا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ لوگ بچاو کے لیے سجدے میں گر پڑے، لیکن انھیں تیزی سے قتل کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اس کی اطلاع اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو ان کى آدھی دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: "میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں، جو مشرکوں کے بیچ رہتا ہو"۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ تو فرمایا : "ان میں سے ایک کی آگ دوسرے کو نہيں دکھنی چاہیے"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خثعم قبیلے کی ایک حصے کی جانب، جو کافر تھا، لشکر کی ایک ٹکڑی بھیجی۔ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کچھ لوگ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ مسلم ہيں، سجدہ کرنے لگے۔ لیکن، چونکہ وہ مشرکوں کے ساتھ رہ رہے تھے، اس لیے مسلمانوں نے انھیں مشرک سمجھ کر بنا وقت گنوائے قتل کر دیا۔ لیکن جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ مسلمان ہی تھے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کى دیت عام مسلمانوں کى دیت سے آدھی رکھى۔ پوری دیت ادا کرنے کے لیے اس لیے نہيں کہا کہ اس قتل کے وقوع کا سبب وہ خود ہی تھے۔ شریعت نے کافروں کے علاقے میں رہنے کو حرام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مسلمان کافر سے اتنا قریب نہ رہے کہ اگر ان میں ایک آگ جلائے تو دوسرے کو دکھنے لگے۔ اس طرح کا حکم کفر اور اس کے پیروکاروں سے براءت کے اظہار کی بنا پر دیا گیا ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: "میں ضرور یہودیوں اور نصرانیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ مسلمان کے سوا کسی کو نہيں چھوڑوں گا"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور نصرانیوں کو جزیرۂ عرب سے نکال باہر کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، تاکہ اس کے اندر ایک سے زیادہ دین کا وجود نہ رہے، پورا جزیرۂ عرب توحید سے آباد رہے اور اس میں شرک کی کوئی نشانی باقی نہ رہے۔ دراصل کافروں کے پڑوس میں اور ان کے ساتھ رہنا بری چيز ہے اور یہ بہت سی برائیوں کا سبب بنتا ہے۔ اس سے اس بات کا ڈر رہتا ہے کہ کہیں سیدھے سادے اور کم علم و فہم والے مسلمان ان کی مشابہت اختیار کرنے نہ لگیں، ان کے عقائد کو بہتر سمجھنے نہ لگیں اور ان کی تقلید کرنے کی جانب راغب نہ ہو جائیں۔ اس لیے مسلمانوں کا الگ رہنا، اپنے ملک اور شہر میں بود و باش اختیار کرنا اور الگ عقیدے کے حامل لوگوں کے بیچ رہنے سے بچنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہودی، نصرانی اور مجوسی وغیرہ تمام کافر ملتوں کو جزیرۂ عرب سے نکالنا ضروری ہے، کیونکہ جزیرۂ عرب، جہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترا کرتی تھی، مسلمانوں کے لیے خاص ہے اور کسی بھی صورت میں اس کے اندر کسی غیر مسلم کا رہنا صحیح نہیں ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اللہ کے ننانوے یعنی ایک کم ایک سو نام ہیں، جو ان کی حفاظت کرے گا، وہ جنت میں داخل ہوگا"۔
متفق علیہاس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے ناموں میں سے ننانوے نام ایسے ہیں کہ جو ان کی حفاظت کرے گا، ان پر ایمان رکھے گا اور ان کے ایسے مدلولات پر عمل کرے گا، جو اللہ سبحانہ و تعالی کے ساتھ خاص نہیں ہیں، تو اس کے لیے جنت ہے۔ یہاں یہ بتا دیں کہ اللہ کے ان ناموں میں سے کسی بھی نام کی قسم کھانا جائز ہے اور اس سے قسم واقع بھی ہو جائے گی۔ چنانچہ وہ قسم، جسے توڑنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے، وہ قسم ہے، جو اللہ کی، رحمن کى اور رحیم کی یا اس کی کسی صفت کی، جیسے اس کے چہرے، اس کی عظمت وجلال اور عزت کی کھائی جائے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابن جدعان زمانۂ جاہلیت میں صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا۔ کیا یہ عمل اسے فائدہ پہنچائے گا؟ آپ نے فرمایا: "یہ عمل اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اس نے کبھی یہ نہیں کہا: اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کردینا"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن جدعان کے بارے میں، جو کہ اسلام سے قبل قریش کا ایک سردار تھا خبر دیا- اور اس نے رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے کئی اچھے کام کیے تھے، جن کی ترغیب اسلام نے دی ہے، بتایا کہ یہ اعمال آخرت میں اس کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ کیوں کہ وہ اللہ کے ساتھ کفر کرتا تھا اور اس نے کبھی یہ دعا نہیں کی تھی کہ اے میرے رب! قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دینا۔
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں نماز فجر پڑھائی۔ اس دن رات کو بارش ہوئی تھی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے فرمایا: ’’تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : ’’(اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ) میرے کچھ بندوں نے مجھ پر ایمان کے ساتھ صبح کی اور کچھ بندوں نے کفر کے ساتھ صبح کی۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہم پر بارش ہوئی وہ تو میرا مؤمن بندہ اور ستارے کا منکر ہے اور جس نے کہا کہ ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی وہ میرا منکر اور ستارے پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ میں، جو کہ مکہ سے قریب ایک گاؤں ہے، صبح کی نماز پڑھائی۔ اس دن رات میں بارش ہوئی تھی۔ جب سلام پھیر چکے اور نماز سے فارغ ہو گئے، تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے دریافت کیا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے ربنے کیا فرمایا؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ بارش کے وقت لوگوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ لوگ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و رحمت سے ہم پربارش نازل ہوئی اور نزول بارش کو اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتا ہے، تو ایسا شخص اللہ پر ایمان لانے والا ہے، جو اللہ اس جہان کا خالق اور کائنات میں تصرف کرنے والا ہے۔ ایسا شخص ستارے کا منکر ہے۔ اس کے برخلاف جو یہ کہتا ہے کہ فلاں اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی، وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا اور ستارے پر ایمان رکھنے والا ہے۔ یاد رہے کہ یہ کفر اصغر ہے۔ کیوں کہ اس نے نزول بارش کو ستارے کی طرف منسوب کیا، جب کہ اللہ نے ستارے کو نہ تو بارش کا شرعی سبب بنایا ہے اور نہ تقدیری سبب۔ البتہ جو شخص نزول بارش اور دیگر زمینی حوادث کو ستاروں کے طلوع ہونے یا ٹوٹ کر گرنے جیسی حرکات کی طرف منسوب کرے اور یہ عقیدہ رکھے کہ وہی حقیقی فاعل ہیں، تو وہ شخص کفر اکبر کا مرتکب ہے۔