Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر اور حدیبیہ میں شریک رہا ہو، کبھی جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ یہ ان دونوں موقعوں پر حاضر رہنے والے صحابہ کے لیے بہت بڑی خرش خبری ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ابو بکر صدیق اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما نبیوں کے بعد سب سے افضل انسان اور نبیوں اور رسولوں کے بعد جنت میں جانے والے افضل ترین انسان ہيں۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آپ کے دونوں نواسے یعنی علی بن ابی طالب و فاطمہ بنت رسول کے دونوں بیٹے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما فضیلت کے اعتبار سے جوانی کی حالت میں فوت ہونے والے اور جنت میں داخل ہونے والے تمام لوگوں کے سردار ہوں گے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں نبیوں اور خلفائے راشدین کو چھوڑ کر تمام جنتی جوانوں کے سردار ہوں گے۔
ایک دن رسول اللہ ﷺ حسن رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر مسجد کی طرف نکلے اور حسن رضی اللہ عنہ اس وقت چھوٹے سے بچے تھے۔ رسول اللہ ﷺ مسجد میں منبر پر چڑھے اور لوگوں کو بتایا کہ ان کا یہ بیٹا سردار، باعزت خاندانی اور شریف النسب ہے اور روئے زمین پر پائے جانے والے سب سے معزز گھرانے سے اس کا تعلق ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی ایسی دو جماعتیں جو آپس میں لڑائی جھگڑا اور قتال کر رہی ہوں گی اُن کے مابین صلح کرائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے خاص طور پر ان دو جماعتوں کو آپس میں ملا دے گا اور اس میں عام مسلمان بھی ہوں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حدیث رسول اللہﷺ کی نبوت کی علامات میں سے ایک علامت ہے جیسا کہ آپ ﷺ نے معزز شہزادے حسن بن علی - رضی اللہ عنہما - کے بارے میں بتایا کہ وہ مسلمانوں کو ایک کلمہ پر جمع کر دیں گے اور ان کے مابین صلح کراکے دونوں جماعتوں کے نزاع کو ختم کر دیں گے۔ اور یہ معاویہ - رضی اللہ عنہ- کے حق میں خلافت سے دستبرادری کے ذریعہ ہوا، جس سے کلمہ متحد ہوگیا، اورلوگوں کا خون محفوظ رہا، اور ایسا سنہ 40، یا 41 ہجری کے سال ہوا۔
رسول اللہ ﷺ کے نواسے حسن اور حسین جو محبت رکھتا ہے گویاہ کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتا ہے۔ اور جو ان کو ناپسند کرتا ہے گویا وہ رسول اللہﷺ سے نفرت کرتا ہے۔یہ بات ان کے مقام و مرتبہ کی دلیل ہے۔
بے شک اللہ تعالی جب کسی بندہ کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس کی موت سے پہلے نیک عمل کی توفیق دے دیتا ہے تاکہ اس کی وفات اس عمل پر ہو اور اسے حسنِ خاتمہ نصیب ہو جائے اور وہ انجامِ کار کے طور پر جنت میں داخل ہوجائے۔
مدینے کی دو یہودی بوڑھی عورتیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان دونوں کو جھٹلادیا اور ان کی تصدیق کرنا گوارانہ کیا؛ کیوں کہ یہودیوں کےجھوٹ، دین میں افتراپردازی اورکتاب میں تحریف کی وجہ سے ان کا دل مطمئن نہ ہو سکا۔ وہ ان کے پاس سے چلی گئیں۔ جب رسول اللہﷺ ان کے پاس تشریف لائے، تو ان یہودی عورتوں کی بات بتائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں نے سچ کہا! بے شک مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے، جسے تمام جانور سنتے ہیں! عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی کوئی ایسی نماز نہیں دیکھی، جس میں آپ نے عذاب قبر سے پناہ نہ مانگی ہو۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ ساتھ انصار کے ایک قبیلے بنی نجار کے باغ سے گزر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے ایک خچر پر سوار تھے۔ اچانک خچر راستے سے ہٹا اور بدک گیا۔ قریب ہی تھا کہ وہ نبی ﷺ کو اپنی پیٹھ سے گرا دیتا۔ اس جگہ چار یا پانچ یا چھے قبریں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ان قبروں میں مدفون لوگوں سے کون واقف ہے؟۔ ایک شخص نے کہا کہ میں جانتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہیں معلوم ہے تو یہ بتاؤ کہ ان کی موت کب واقع ہوئی تھی؟۔ اس نے جواب دیا کہ یہ سب زمانہ جاہلیت میں مرے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس امت کی ان کی قبروں میں آزمائش ہوتی ہے اور پھر یا تو ان پر نعمتوں کا نزول ہوتا ہے یا عذاب کا۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالی سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں بھی قبر کا عذاب سنائے جو میں سنتا ہوں۔ اگر تم یہ سن لو تو تم اس خوف کی وجہ سے کہ مردوں کی چیخ و پکار تمہارے دل پھاڑ دے گی یا پھر قریبی رشتہ داروں میں فضیحت کے خوف سے کہ وہ میتوں کے احوال پر مطلع نہ ہوجائیں، تم ایک دوسرے کو دفنانا ہی چھوڑ دو۔ پھر آپ ﷺ اپنے صحابہ کر طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ جہنم کے عذاب کو تم سے دور رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم جہنم کے عذاب سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم سے عذاب قبر کو دور رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور اس کی حفاظت کے طلب گار ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا؛ اللہ تعالی سے دعا کرو کہ وہ ظاہر و مخفی فتنوں سے تمہیں محفوظ رکھے۔ انہوں نے کہا: ہم ظاہر و مخفی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم سے مسیح دجال کے فتنے کو دور رکھے۔ یہ سب سے بڑا فتنہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب تک پہنچا دینے والے کفر کا سبب ہو گا۔ انہوں ںے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
جب انسان مر جاتا ہے تو روزانہ صبح و شام اس کو جنت یا جہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اگر مرنے والا اہل جنت میں سے ہے تو اس کو جنت میں جو اس کا ٹھکانہ ہے وہ دکھایا جاتا ہے اور اگر وہ جہنمی ہے تو اس کو جہنم میں اس کا ٹھکانہ دکھایا جاتا ہے۔ اور یہ ٹھکانہ دکھانا دراصل مومن کے لیے خوش خبری اور کافر کے لیے خوف بن جاتا ہے اور اسے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانہ ہے اور جب تک اللہ دوبارہ اٹھا نہیں لیتا تم اُس تک نہیں پہنچ سکتے۔