





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
مغيره بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے پوچھا کہ سب سے کم درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ شخص ہے جو سب جنتیوں کے جنت میں جانے کے بعد آئے گا اور اس سے کہا جائے گا جنت میں چلا جا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! کیسے جاؤں ؟ وہاں تو سب لوگو ں نے اپنے اپنے ٹھکانے بنالیے ہیں اور اپنی اپنی چیزیں لے لی ہیں۔ اس سے کہا جائے گا کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے اتنا ملے جتنا دنیا کے بادشاہوں میں سے کسی بادشاہ کے پاس ہوتا ہے؟۔ وہ کہے گا میں راضی ہوں اے میرے رب!۔ اللہ تعالی فرمائیں گے: جا اتنا ہم نے تجھے دیا ہے اور اتنا ہی اور ، اور اتناہی اور ، اور اتنا ہی اور ، او ر اتنا ہی اور۔ پانچویں بار میں وہ کہے گا: میں راضی ہوں اے میرے رب! ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ بھی تیرے لیے اوراس کا دس گنا اور بھی تیرا ہے۔ اور جو تیرا جی چاہے اور جو تجھے اچھا نظر آئے وہ بھی تیرا ہے۔ وہ کہے گا اے میرے رب! میں راضی ہوگیا ۔ پھر حضرت موسی علیہ السلام نے پوچھا کہ: سب سے بڑے درجے والا جنتی کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وہ تو وہ لوگ ہیں جن کو میں نے خود چنا اور ان کی بزرگی اور عزت کو میں نے اپنے ہاتھ سے جمایا اور اس پر مہر کردی۔ نہ تو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی خیال بن کر گزرا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں خوب جانتا ہوں کہ اہلِ جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہلِ جنت میں کون سب سے آخر میں داخل ہو گا۔ ایک شخص جہنم سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا لگے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ: اے رب! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔ تمہیں دنیا اور اس کے ساتھ اس کا دس گنا دیا جاتا ہے یا (اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے؟۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گیے اور آپ ﷺ کا کہنا تھا کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہاس حدیث میں اللہ تعالی کے کرم اور اس کی رحمت کی کشادگی کا بیان ہے اور جنتی لوگوں کے مقام کی وضاحت ہے بایں طور کہ ان کا سب سے کم تر درجے والا بھی ان نعمتوں سے کئی گنا زیادہ کے ساتھ لطف اندوز ہوگا جو دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس ہوتی ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا دوپہر کے وقت تمہیں سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ یہ بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا: کیا چودہویں کی رات میں تمہیں چاند کو دیکھنے میں کچھ مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ وہ کسی بدلی میں بھی نہ ہو؟۔ صحابہ کرام نے جواب دیا: نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنےرب کو دیکھنے میں بھی کسی دشواری کا سامنا نہیں ہو گا، جس طرح کہ تمہیں سورج و چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بندے سے ملاقات کے وقت اللہ تعالی فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت و سیادت سے نہیں نوازا تھا، کیا میں نے تیری شادی نہیں کی تھی اور تیرے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کر دیا تھا، کیا میں نے تجھے یہ موقع نصیب نہیں کیا تھا کہ تو سردار بنے اور مال غنیمت کا چوتھائی حصہ حاصل کرے؟ وہ شخص جواب دے گا: اے میرے رب ! کیوں نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تیری مجھ سے ملاقات ہو گی؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالی فرمائےگا: جس طرح تو نے مجھے فراموش کیے رکھا اسی طرح میں بھی تمہیں فراموش کرتا ہوں۔ پھر الله تعالی دوسرے شخص سے ملےگا اور فرمائے گا: اے فلاں! کیا میں نے تمہیں عزت و سیادت سے نہیں نوازا تھا، کیا میں نے تیری شادی نہیں کی تھی اور تیرے لیے گھوڑوں اور اونٹوں کو مسخر نہیں کر دیا تھا ، کیا میں نے تجھے یہ موقع نصیب نہیں کیا تھا کہ تو سردار ہو اور مال غنیمت کا چوتھائی حصہ حاصل کرے؟ وہ شخص جواب دے گا: اے میرے رب ! کیوں نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تمہیں یہ گمان تھا کہ تیری مجھ سے ملاقات ہو گی؟ وہ جوب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالی فرمائے گا: جس طرح تو نے مجھے فراموش کیے رکھا اسی طرح میں بھی تمہیں فراموش کرتا ہوں۔ پھر تیسرے شخص سے ملاقات کرے گا اور اس سے بھی یہی کچھ فرمائے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتاب پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی، روزے رکھےا ور صدقہ دیتا رہا۔ وہ جس قدر بھی ہو سکے گا اپنے اچھائی کو بیان کرے گا۔ اس پر اللہ تعالی فرمائے گا: یہ بات ہے تو ذرا یہیں ٹھہرنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اس شخص سے کہا جائے گا: اب ہم تمہارے خلاف اپنا گواہ لاتے ہیں۔ وہ دل میں سوچے گا کہ کون ہے جو اس کے خلاف گواہی دے گا؟ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور پھر اس کی ران، اس کے گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ بولو۔ اس پر اس کی ران، اس کا گوشت اور ہڈیاں بول کر اس کے اعمال کی خبر دیں گی۔ ایسا اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس کا کوئی عذر باقی نہ رہے ۔ یہ شخص منافق ہو گا جس سے اللہ تعالی ناراض ہو گا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔کچھ صحابہ نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم روز قیامت اپنے رب کو دیکھ سکیں گے؟۔ آپ ﷺ نے انہیں جواب دیا: کیا تمہیں دوپہرکے وقت سورج کو دیکھنے میں کچھ دشواری ہوتی ہے جب کہ وہ کسی بادل کی اوٹ میں بھی نہ ہو۔ یعنی کیا جب سورج پوری طرح چڑھا ہوا اور صاف ظاہر ہوتا ہے اور اس کی روشنی پورے جہان میں پھیلی ہوتی ہے اور کوئی ایسا بادل بھی نہیں ہوتا جس نے اسے چھپا رکھا ہو تو کیا اسے دیکھنے کے لیے تمہارے درمیان کوئی ایسی دھکم پیل ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے کو ضرر پہنچتا ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا چودہویں کی رات چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری پیش آتی ہے جو کسی بدلی کی اوٹ میں بھی نہ ہو۔ یعنی جس رات چاند مکمل ہو کر آسمان پر پوری طرح عیاں ہوتا ہے اور کوئی ایسا بادل بھی نہیں ہوتا جو اسے تم سے اوجھل کر دے تو کیا اسے دیکھنے میں تمہارے مابین کوئی ایسی دھکم پیل ہوتی ہے جس سے ایک دوسرے کو ضرر پہنچتا ہو؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہیں اپنے رب کو دیکھنے میں بالکل ویسے ہی دشواری نہیں ہو گی جیسا کہ سورج و چاند میں سے کسی کو دیکھنے میں تمہیں دشواری نہیں ہوتی۔ یعنی اللہ کی رؤیت بالکل واضح اور صاف ہو گی اور اس میں کوئی شک شبہ نہیں ہو گا کہ اس بارے میں تمہارا باہم اختلاف ہو یا پھر تم ایک دوسرے کی بات کو جھٹلاو۔ جیسا کہ سورج اور چاند کے دیکھنے میں کوئی شک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی جھگڑا ہوتا ہے۔ یہ تشبیہ رؤیت میں ہے جو اس کے بالکل واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے ہے بایں طور کہ اس میں کوئی شک نہیں ہو گا یعنی نہ تو اس کی کیفیات میں کوئی شک ہو گا اور نہ ہی دیکھی گئی ذات میں۔ اللہ سبحانہ و تعالی مخلوقات کی مشابہت سے پاک ہے۔ پھر نبی ﷺ نے قیامت کے دن کے مناظر میں سے ایک منظر کے بارے میں بتایا اور وہ یہ کہ رب تعالی سبحانہ اپنے بندوں میں سے ایک بندے سے ملے گا اور اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا: اے فلاں شخص! کیا میں نے تمہیں تمہاری قوم میں سرکردہ شخص نہیں بنایا تھا، کیا میں نے تمہاری جنس سے تمہیں بیوی نہیں دی تھی اور تجھے اس پر قدرت نہیں بخشی تھی اور تمہارے اور اس کے درمیان محبت و رحمت اور انسیت و الفت نہیں رکھ دی تھی؟، کیا میں نے گھوڑوں اور اونٹوں کو تمہارا تابع فرمان نہیں کر دیا تھا؟، کیا میں نے تمہیں تمہاری قوم پر سرداری نہیں دی تھی جس کی بنا پر تم غنیمت کو چوتھائی حصہ وصول کرتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بادشاہ اپنے لیے مالِ غنیمت کا چوتھائی حصہ مختص کر لیتے تھے۔ بندہ ان تمام نعمتوں کا اقرار کرے گا ۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: کیا تجھے یہ یقین تھا کہ عنقریب تمہاری مجھ سے ملاقات ہونے والی ہے؟۔ وہ شخص کہے گا: نہیں۔ اس پر اللہ تعالی فرمائےگا: آج میں بھی تمہیں ویسے ہی بھلاتا ہوں جیسے تم نے مجھے بھلائے رکھا۔ یعنی آج میں تمہیں اپنی رحمت سے ویسے ہی دور کرتا ہوں جیسے دنیا میں تم میری اطاعت سے دور رہے۔ یہاں نسیان سے مراد علم ہونے کے باوجود چھوڑ دینا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّا نَسِينَاكُمْ ۖ وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ﴾ ”ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا چنانچہ چکھو ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب“۔ پھر رب تعالی شانہ ایک دوسرے بندے سے ملے گا۔ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں اسی طرح کے سوال و جواب کا ذکر فرمایا جیسے پہلے شخص کے بارے میں فرمایا تھا۔ پھر اللہ تعالی تیسرے بندے سے ملےگا اور اسے بھی ایسے ہی کہے گا وہ شخص کہے گا: اے میرے رب! میں تجھ پر، تیری کتابوں اور رسولوں پر ایمان لایا، میں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور صدقہ دیا۔ وہ حد ِاستطاعت ہر ممکن طریقے سے اپنی تعریف کرے گا ۔ اس پر رب تعالی شانہ فرمائے گا: پھر ذرا یہیں رکنا۔ یعنی اگر تم اپنی اتنی ہی تعریفیں کر رہے ہو تو پھر ذرا یہاں رکو تاکہ ہم تمہارے خلاف گواہ پیش کر کے تمہیں تمہارے اعمال دکھا دیں۔ پھر اس سے کہا جائے گا: اب ہم تمہارے خلاف گواہ لاتے ہیں۔ اس پر وہ بندہ اپنے دل ہی دل میں سوچے گا کہ یہاں کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے گا؟۔ اللہ تعالی اس کے منہ پر مہر لگا دے گا اور اس کی ران، گوشت اور ہڈیوں سے کہا جائے گا کہ تم بولو۔ اس پر اس کی ران، گوشت اور ہڈیاں اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گی۔ ایسا اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔ یعنی اس کے اعضاء کو قوت گویائی اس لیے دی جائے گی تا کہ اللہ تعالی اس کے گناہوں کی کثرت اور اس کے اعضاء کی اس کے خلاف گواہی کی بدولت خود اس کی طرف سے عذر ختم کر دے بایں طور کے اس کے پاس کوئی عذر باقی ہی نہ رہے ۔ یہ تیسرا شخص منافق ہو گا جس پر اللہ تعالی غضبناک ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ننانوے، ایک کم سو نام ہیں، جس نے ان کی حفاظت کی (یعنی انہیں یاد کیا) وہ جنت میں داخل ہو گا، اور اللہ وتر (طاق) ہے، وتر کو پسند کرتا ہے“۔
متفق علیہاللہ تعالی کے ننانوے نام ہیں جو کوئی شخص ان کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور حفاظت سے مراد زبانی پڑھنا ہے اور کہا گیا ہے کہ: اس کا مفہوم ان پر ایمان لانا، ان پر عمل کرنا، ان تمام اسماء حسنیٰ کے معانی کے مطابق فرمانبرداری کرنا ہے اور ان کے ذریعہ اللہ تعالی سے دعا کرنا۔ اس حدیث میں ان ناموں کا اثبات ہے، ان ننانوے ناموں کے علاوہ جو زائد نام ہیں ان کا انکار نہیں۔ ان ناموں کا ذکر یہاں پر بطور خصوص ان کی شہرت اور معانی کے اعتبار سے واضح ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ کہیں کہ زید کے پاس سو درہم ہیں جسے اس نے صدقہ کے لئے جمع کر رکھا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے پاس اس سے زائد دراہم نہیں ہیں، یہ جملہ صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے جو صدقہ کے لئے تیار کر رکھا ہے وہ یہ ہیں۔ اس تفسیر کی تائید ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہوتی ہے (جس میں ہے کہ) میں تیرے ہر اس نام کے واسطے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھلا دیا یا اسے اپنے خزانۂ غیب میں مخفی رکھا ہے۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے اور بھی نام ہیں جن کو اپنی کتاب میں نازل نہیں فرمایا، اس کو اپنی مخلوق سے پوشیدہ رکھا۔ اور اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے یعنی اللہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور وہ وتر کو پسند کرتا ہے یعنی طاق کو بہت سارے اعمال وعبادات میں فضیلت دیتا ہے اور اسی ناطے اللہ نے نمازوں کی تعداد پانچ مقرر کی ہے اور طواف سات اور (اسی طرح) تین کو اکثر اعمال میں مستحب قرار دیا گیا ہے۔ آسمان سات پیدا کئے اور زمین بھی سات وغیرہ۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”مدینہ کے راستوں پر نگراں فرشتے (مقرر) ہیں نہ اس میں طاعون آ سکتا ہے اور نہ ہی دجال“۔
متفق علیہنبی کریمﷺ نے اس حدیث میں مدینہ کے فضائل میں سے یہ بیان کیا ہے کہ اس کے داخلہ کے دروازوں اور راستوں پر فرشتے بطورِ محافظ موجود ہیں۔ اس میں طاعون جو کہ تیز، بکثر پھیلنے والی وبا ہے جس سے کثیر تعداد میں اموات واقع ہوتی ہیں اور دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جس نے اذان سنتے وقت یہ دعا پڑھی: "اللَّهُم ربِّ هذه الدَّعْوَة التَّامة، والصَّلاة القَائمة، آتِ محمدا الوَسِيلَة والفَضِيلة، وابْعَثْه مَقَامًا محمودًا الَّذي وعَدْتَه" (اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمدﷺ کو قرب اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر کھڑا کر جس کا تو نے وعدہ کیا ہے)۔ اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔"
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بیان فرما رہےہیں کہ جس نے مؤذن کی اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھی: (اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ) یعنی اذان کے یہ کامل الفاظ، جن کے ذریعے اللہ کی عبادت اور نماز کی جانب بلایا جاتا ہے اور کھڑی ہونے والی نماز، جو ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی، کے رب! "آتِ مُحَمَّدًا الوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ" محمدﷺ کو جنت کا وہ اونچا مقام عطا فرما، جو آپ کے علاوہ اور کسی کو زیب نہیں دیتا اور ديگر مخلوقات کے مراتب سے اعلى مرتبہ عطا فرما۔ "وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ" اور انہیں مقام محمود عطا کر، جس کا تو نے ان سے یہ فرما کر وعدہ کیا ہے: "عسى أن يبعثك ربك مقامًا محمودًا" (عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا)۔ جس نے یہ دعا پڑھی، وہ قیامت کے دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت کا حق دار ہو گا اور اس کے لیے آپ کی شفاعت واجب ہو جائے گی۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زمین ساری کی ساری سجدہ گاہ ہے، سوائے قبرستان اور غسل خانے کے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔ساری زمیں جائے نماز ہے، سواۓ اس جگہ کے جہاں مردوں کو دفنایا جاتا ہے۔ اس میں وہ تمام جگہ شامل ہے، جسے قبرستان کی دیوار نے گھیر رکھا ہو۔ اس جگہ بھی نماز پڑھنا ممنوع ہے، جہاں بغرض علاج گرم پانی سے غسل کیا جاتا ہو۔ علامہ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شیطان کی آماج گاہ میں نماز پڑھنا بالاتفاق مکروہ ہے، مثلا شراب گاہوں، شرابہ خانوں، ٹیکس وصول کرنے کی جگہوں اور اس طرح کے دیگر گناہوں کے اڈوں پر اور گرجا گھروں، نصاری کی عبادت گاہوں اورقضائے حاجت کے مقامت وغیرہ میں۔
انس بن مالک روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم کو لگے دیکھا جو آپ کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ کے چہرۂ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ ﷺ اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا: یا اس طرح کر لیا کرے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے مسجد کی قبلہ کی طرف والی دیوار میں بلغم لگا دیکھا تو آپ ﷺ کو یہ بہت ناگوار گزرا یہاں تک کہ ناگواری کے اثرات آپ ﷺ کے چہرے پر بھی دکھائی دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے خود کھڑے ہو کر اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے، اپنے رب کے سامنے اظہار تواضع کے لئے اور اس کے گھر کی محبت کے اظہار کی غرض سے اپنے ہاتھ مبارک سے اس بلغم کو دور کر دیا۔ پھر آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: بندہ جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کا ذکر کر رہا ہوتا ہے اور اس سے دعا میں مشغول ہوتا ہے اور اس کی آیات کی تلاوت کررہا ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقام کے لائق یہ ہے کہ وہ اپنی نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرے، اس ذات کی عظمت کو یاد رکھے جس سے وہ ہم کلام ہے اور دل کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہو اور اللہ تعالی کے سامنے کسی بھی طرح کی بے ادبی کرنے سے باز رہے۔چنانچہ اسے چاہیے کہ وہ قبلہ کی سمت میں نہ تھوکے۔ پھر آپ ﷺ نے اس عمل کی طرف رہنمائی فرمائی جس کا نمازی کے لیے اس طرح کی صورت میں کرنا مناسب ہے۔ یعنی وہ اپنے بائیں جانب تھوکے یا پھر اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے یا پھر اپنے کپڑے وغیرہ میں تھوکے اور پھر اسے دور کرنے کے لئے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دے۔ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ یہ اس بات كا احساس ركھے کہ وہ اللہ تعالی کے سامنے ہے اوریہ کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہے اگرچہ وہ آسمان پر اپنے عرش پر ہے، پھر بھی وہ نمازی کے سامنے ہوتا ہے کیوں کہ وہ ہر شے کو محیط ہے۔ ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ”اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“ (سورہ شوری: 11)۔ اس کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل گیا ہے یا پھر وہ اس جگہ پر ہوتا ہے جہاں نمازی نماز ادا کرتا ہے۔ اللہ تعالی ان باتوں سے بالا تر ہے۔ اللہ تعالی نمازی اور دعا کرنے والے کے اس طور پر قریب ہوتا ہے جو اس کی عظمت کے شایان شان ہے۔ اللہ کا قرب ایسا نہیں ہوتا جیسا مخلوق کا مخلوق سے قرب ہوتا ہے۔ بلکہ یہ تو خالق بزرگ و برتر کا مخلوق کے ساتھ قرب ہے۔ مخلوقات میں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سورج ہوتا ہے۔ سورج گو آپ کے اوپر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ طلوع و غروب ہونے کی حالت میں آپ کے سامنے بھی ہوتا ہے۔ وللہ المثل الأعلى.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے مسجدوں کو بلند بنانے کا حکم نہیں دیا گیا“، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہود ونصاری نے آراستہ کیا ہے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔یہاں مساجد کو آراستہ کرنے سے مراد انہیں بلند اور بڑا بنانا ہے جیسا کہ امام بغوی رحمہ اللہ نے کہا ہے اور مساجد کو آراستہ وپیراستہ کرنے میں مبالغہ سے کام لینا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یہود ونصاری کا شیوہ رہا ہے۔ رہا مسجد کو بلند بنانا اور اس کی عمارت کو مستحکم ومضبوط کرنا بغیر زیب و زینت اور سجاوٹ کے جس سے اس کی بناوٹ مضبوط رہے تو یہ مکروہ نہیں ہے، جب تک کہ اس میں شیخی، ریاکاری اور شہرت نہ ہو، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ”جس کسی نے اللہ کے لیے کوئی مسجد تعمیر کی، تو اللہ تعالی اس کے لیے جنت میں اسی کے مثل ایک گھر بنائے گا“۔ نبی ﷺ کی مسجد کچی اینٹ اور اس کی چھت کھجور کی شاخ اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس کی لکڑی اورکھجور کی شاخ بوسیدہ ہو گئی تو اسے پہلے کی طرح تعمیر کرادی اور اس میں تھوڑا اضافہ کردیا، اور جب عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو اس میں بہت زیادہ اضافہ کردیا گیا، انہوں نے اس کی دیواروں کو پتھروں اور چونا سے پلاستر کرا دیا، اس کے ستون پتھروں سے اور چھت ساگوان کی لکڑی سے بنوا دی، اور اس میں فائدہ مند چیزیں مضبوطی کے لیے ڈال دیں جس کا مقصد سجاوٹ نہیں، بلکہ مضبوطی کے لیے ایسا کیا تھا،اور چونے کا پلستر بغیر زیب وزینت کے تھا۔ اور رہا نقش ونگار والے پتھروں کا معاملہ تو اسے ان کے حکم سے نقش نہیں کیا گیا تھا بلکہ نقش و نگار والا پتھر ہی انہیں ملا تھا، اور جن صحابہ نے ان پر نکیر کی تھی ان کے پاس منع کرنے کی کوئی دلیل نہیں تھی اِلاّ یہ کہ وہ انہیں نبی ﷺ اور عمر رضی اللہ عنہ کی طرح مسجد کی تعمیر بغیر سجاوٹ کے کرنے پر ابھارا تھا اور یہ مساجد کی مستحکم تعمیر کرنے کے سلسلہ میں ممانعت وکراہت کی متقاضی نہیں ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔ اگر تم میں سے کوئی احد کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو بھی ان کے ایک مد یا آدھا مد کو نہیں پہنچے گا۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو گالی دینے سے منع فرمایا ہے۔ خاص طور سے اسلام کے ہراول دستہ کی حیثیت رکھنے والے مہاجر وانصار صحابہ کو۔ آپ نے آگے بتایا کہ اگر بعد کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر دے، تو اتنا ثواب حاصل نہيں کر سکے گا، جتنا کسی صحابی کو ایک مد یا آدھا مد خرچ کرنے پر ثواب مل جایا کرتا تھا۔ مد متوسط جسامت والے انسان کےایک لپ بھر کو کہتے ہیں۔ صحابہ کو اتنا بڑا ثواب ان کے اخلاص، سچی نیت اور فتح مکہ سے پہلے ایسے وقت میں خرچ کرنے اور جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے ملا، جب اس کی اشد ضرورت تھی۔