Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way






























Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
ابوہریرہ رضی اللہ عنہا بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بتایا کہ یہودی و عیسائی اپنے سروں اور داڑھیوں کے بالوں پر خضاب نہیں لگاتے، بلکہ (ان میں نمودار ہونے والی ) سفیدی کو جوں کا توں چھوڑ دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ مسلمان ان کی مخالفت کرتے ہوئے داڑھی اور سر کو رنگیں اور خضاب لگائیں۔
نبی ﷺ کسی بھی شے سے بالکل بھی بد شگونی نہیں لیا کرتے تھے۔بدشگونی سے مراد ہر وہ شے ہے جو انسان کو کسی کام سے روک دے، جیساکہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے۔ اسلام نے آتے ہیں بدشگونی و بدفالی اور پانسے کے تیروں سے قسمت معلوم کرنے سے منع کردیا اور استخارہ کو اس کا بدل مشروع کیا۔
جو لوگ (جاندار چیزوں کی) تصویریں بناتے ہیں چاہے وہ تراش کر بنائی گئی ہوں یا نقوش کھینچ کر یا فوٹو گراف تصویر کے ذریعہ جیسے کسی آدمی یا کسی جانور کی تصویر، اور چاہے یہ تصویریں ایسی ہوں جن کی توہین ہو رہی ہو یا توہین نہ ہو رہی ہو، اُن کو ان کے اس عمل کی وجہ سے قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا کیوں کہ انھوں نے اللہ تعالی کی تخلیق کی نقالی کی کوشش کی۔ ان سے کہا جائے گا کہ: انہیں زندہ کرو۔ یعنی تم نے جسم بنایا ویسے ہی اب ان میں روح بھی پھونکو۔ "ما خَلَقْتُم": یعنی تم نے اللہ تعالی کی مخلوق کے مشابہہ جو یہ تصاویر بنائی ہیں۔ جب تم نے صورت کے لحاظ سے اللہ کی مخلوق کی مشابہت کی ہے تو اب ان میں روح بھی پھونکو۔ ایسا ان سے بطور استہزاء اور بطور ڈانٹ ڈپٹ اور توبیخ کہا جائے گا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ابن عباس - رضی اللہ عنہما - سے مروی حدیث میں ہے کہ: جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی اسے قیامت کے دن اس میں روح پھونکنے کو کہا جائے جسے وہ نہیں پھونک سکے گا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ: جس نے کوئی تصویر بنائی اسے ایسا کرنے پر اللہ عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں روح پھونک دے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: علماء کے بقول جاندار کی تصویر بنانا سختی کے ساتھ حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔کیوں کہ اس کے بارے میں احادیث میں مذکور یہ سخت وعید آئی ہے چاہے تصویر ایسی چیز میں بنی ہو جس کی توہین ہوتی ہو یا کوئی اور شے ہو۔ تصویر کا بنانا ہر حال میں حرام ہے کیوں کہ اس میں اللہ کی تخلیق کی مشابہت ہوتی ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتا یا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہيں ہوتے، جس میں کتا یا روح والی چیزوں کی تصویر ہو۔ کیوں کہ روح والی چیزوں کی تصویر بنانا ایک بہت بڑا گناہ، تخلیق کے عمل میں اللہ کی ہم سری کا دعوی اور شرک کا ایک وسیلہ ہے۔ بعض تصویریں تو ان چیزوں کی بھی ہوا کرتی ہيں، جن کو اللہ کو چھوڑ کر پوجا جاتا ہے۔ جس گھر میں کتا ہو، اس میں فرشتے داخل اس لیے نہیں ہوتے کہ کتا گندگی بہت زیادہ کھاتا ہے اور کچھ کتے شیطان بھی کہلاتے ہیں جب کہ فرشتے شیطان کی ضد ہیں۔ اور اس لئے بھى کہ کتے کے جسم سے بدبو آتی ہے اور فرشتوں کو بدبو سے نفرت ہے۔ ایک وجہ یہ بھى ہے کہ کتا پالنا منع ہے، اس لیے کتا پالنے والے کو سزا کے طور پر اس کے گھر میں، رحمت کے فرشتوں کے دخول، اس کے حق میں ان کے دعا کرنے اور مغفرت طلبی، اس پر اور اس کے گھر میں ان کی برکت کی دعا اور اسے شیطان کی ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھنے سے، محروم کر دیا جاتا ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں رہتے، جس کے ساتھ کتا ہو، یا گھنٹی ہو جسے جانوروں کے گلوں میں باندھا جاتا ہے اور جو ہلنے پر بجتی ہو۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم طواغی کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ طواغی طاغیۃ کی جمع ہے۔ مراد وہ بت ہیں، جن کی اللہ کے بجائے مشرکین پوجا کیا کرتے تھے۔ یہ بت دراصل ان کی سرکشی اور کفر کا سبب تھے۔ اسی طرح آپ آبا واجداد کی قسم کھانے سے منع فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ عرب کے لوگ اپنے آبا واجداد کی قسم ان پر فخر اور ان کی عزت کے طور پر کھایا کرتے تھے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے امانت کی قسم کھانے سے منع اور خبردار کیا اور بتایا کہ ایسا کرنے والا ہم میں سے نہيں ہے۔
نبی ﷺ اپنے بعض اصحاب کے ساتھ تشريف فرما تھے۔مجلس ميں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ اچانک رسول اللہ ﷺ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے اور دیر تک تشریف نہ لائے۔ صحابۂ کرام کو خوف لاحق ہوا کہ کہيں ان کی غیر موجودگی میں کسی نے آپ کو پکڑ نہ لیا ہو اور آپ کو تکليف پہونچی ہو۔کيونکہ آپ ﷺ منافقوں اور دوسرے اسلام کے دشمنوں کی آنکھوں ميں کھٹکتے تھے۔ اس لیے صحابہ کرام گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے، سب سے پہلے ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ کو گھبراہٹ ہوئی، (وہ رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلے) یہاں تک کہ بنو نجار کے باغ تک پہنچ گئے اور اس کا چکر لگانے لگے تاکہ کوئی دروازہ کھلا ہوا پاجائيں مگر انھیں نہیں ملا۔ ليکن انہوں نے پانی کے داخل ہونے کے لیے دیوار میں ايک چھوٹا سا راستہ کھلا ہوا پايا تو اپنے جسم کو سميٹ کر اندر داخل ہونے ميں کامياب ہو گئے۔ چنانچہ نبی ﷺ کو وہاں پر موجود پايا۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا”ابو ہريرہ؟“، انہوں نے عرض کيا جی ہاں، تو آپ ﷺ نے انھیں اپنی جوتياں ديں جو اس بات کی علامت اور نشانی کے طور پر تھی کہ ابو ہريرہ جو خبر دينے والے ہیں وہ اس ميں سچے ہیں، اور فرمایا ”میری یہ دونوں جوتیاں لےجاؤ اور اس باغ کے باہر جو بھی ملے، جو دل کے یقین کے ساتھ لا الٰہ الّا اللہ کی گواہی ديتا ہو تو اسے جنت کی بشارت دے دو۔‘‘ کيونکہ سچے دل سے اس کلمے کی گواہی دينے والا ضرور اللہ کے احکام کی بجا آوری کرے گا اور اللہ کی منع کردہ چيزوں سے بچے گا۔ اس لیے کہ اس کا معننی ہے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود برحق نہیں۔ جب اس عظيم الشان کلمے کا يہ معنیٰ ہے تو ہر صورت ميں وہ شخص اللہ عزوجل ہی کی عبادت کرے گا جس کا کوئی شريک وساجھی نہيں۔ ليکن وہ شخص جو صرف زبان سے اس کلمے کی ادائيگی کرتا ہے اور سچے دل سے اس پر يقين نہيں رکھتا، تو اسے اس سے کوئی فائدہ نہيں ملے گا۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے مسلمان محفوظ رہيں۔ نہ انھیں گالی دے، نہ ان پر لعنت کرے، نہ ان کی غیبت کرے اور نہ ان کو کسی اور طرح سے زبانی اذیت پہنچائے۔ اسی طرح اس کے ہاتھ سے بھی مسلمان محفوظ رہیں۔ نہ ان پر ظلم کرے، نہ ناحق ان کے مال پر قبضہ کرے اور نہ اس طرح کا کوئی دوسرا کام کرے۔ اصل مہاجر وہ ہے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چيزیں چھوڑ دے۔