





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھوں تو میں اسے تلوار کو اس سے موڑے بغیر (دھار کو دوسری طرف کئے بغیر سیدھی تلوار) ماروں گا۔ رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا ” تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو ؟ اللہ کی قسم ! میں اس سے بھی زیادہ باغیرت ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیور ہے اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں نیز اللہ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے ہیں اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے“۔
متفق علیہسعد بن عُبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اگر میں کسی شخص کو اپنی عورت کے ساتھ دیکھ لوں تو میں تلوار کی سیدھی دھار کے ساتھ اس کی گردن اڑا دوں، یعنی اسے قتل کرنے میں توقّف نہ کروں۔ آپ ﷺ نے انہیں اس بات پر قائم رکھتے ہوئے فرمایا کہ میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیور ہے۔ غیرت، اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے اور اللہ کی غیرت مخلوق کی غیرت کی طرح نہیں، بلکہ اللہ کی عظمت کے مطابق ہے جیسے غصہ اور رضامندی اور دیگر اللہ کی خصوصیات جن میں لوگ اللہ کے ساتھ شریک نہیں۔ لغت میں شخص کا معنی خاص، بلند اور ظاہر ہونے کے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے ظاہر، عظمت والے اور بڑا ہے۔ اہل سنت و جماعت جو قرآن و سنت کو لازم پکڑتے ہیں ان کے اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لیے غیرت کا لفظ بولنا ممنوع نہیں۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ” اللہ نے غیرت کی وجہ سے ہی ان تمام فواحش کو، ان میں سے جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں سب کو حرام ٹھہرایا ہے“ یعنی یہ اللہ کی غیرت ہی کا اثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فُحش کاموں کے قریب جانے سے اپنے بندوں کو روک دیا ہے۔’فُحش‘ سے مُراد کام جن کی شناعت اور بُرا ہونا پاکیزہ لوگوں اور عقل سلیم والوں کے ہاں مسلم ہو جیسے زنا۔ ظاہر سے مُراد اعلانیہ کیے جانے والے تمام گناہ اور وہ گناہ ہیں جن میں اعضاء کا براہِ راست دخل ہوتا ہے اگرچہ وہ پوشیدہ ہی ہوں۔ اور باطن سے مُراد جو پوشیدہ ہوں اور دلوں میں ہوں۔ ”اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیور نہیں نیز اللہ سے زیادہ کسی شخص کو معذرت پسند نہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے ہیں“ یعنی اللہ نے پیغمبروں کو لوگوں کی طرف عذاب سے پہلے ڈرانے اور خوشخبری دینے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿رُّسُلاً مُّبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ لِئَلاَّ يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾ ”ہم نے انہیں رسول بنایا ہے، خوشخبریاں سنانے والے اور آگاه کرنے والے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت اور الزام رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ تعالیٰ پر ره نہ جائے“۔ ” اور اللہ سے زیادہ کسی کو تعریف پسند نہیں، اسی لیے اللہ نے جنت کا وعدہ کیا ہے“ یہ اللہ تعالیٰ کے کاملِ مطلق ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف سے اپنے فضل اور سخا کی ثنا و تعریف سے خوش ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ہر طرح کی نعمت دے کر سخاوت کا مظاہرہ کیا جس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے وہ خوش ہوتا ہے۔ لوگ جب بھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں تو وہ اس میں اللہ تعالیٰ کا حق ادا نہیں کر سکتے، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی تعریف خود بیان کی اور جنت کا وعدہ کیا تاکہ لوگ اللہ سے زیادہ مانگیں اور اس زیادہ سے زیادہ حمد و ثنا بیان کریں اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی کوشش کریں۔ اس لیے کہ جنت تمام انعامات کی انتہا ہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص یا کوئی چیز، ناگوار باتوں کو سن کر، اللہ سے زیادہ صبر کرنے والی نہیں ہے۔ لوگ اس کے لیے اولاد ٹھہراتے ہیں اور وہ انھیں تندرستی دیتا ہے، بلکہ انھیں روزی بھی دیتا ہے۔“
متفق علیہ”ليس أحدٌ، أو: ليس شيءٌ أصبرَ“ یعنی اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام الصبور ہے۔ اس کے معنی ہیں جو نافرمانوں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ یہ حلیم کے معنی کے قریب ہے۔ الحلیم کا نام سزا سے محفوظ رکھنے میں زیادہ بلیغ ہے۔ ”على أذى سمعه من الله“ لفظِ أذى لغت میں اس شر اور برائی کو کہتے ہیں جس کا معاملہ ہلکا اور جسکا اثر بہت کم ہو۔ در اصل اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا ہے کہ بندے اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے، چنانچہ فرمایا ہے: ﴿وَلاَ يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَن يَضُرُّواْ اللهَ شَيْئاً﴾ ”کفر میں آگے بڑھنے والے لوگ آپ کو غم ناک نہ کریں، یقین مانو کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے“۔ حدیثِ قدسی میں بھی آیا ہے: ”اے میرے بندو تم مجھے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے اور نہ ہی ہرگز مجھے نفع پہنچا سکتے ہو“۔ اس طرح یہ واضح ہو گیا کہ مخلوق اسے نقصان تو نہیں پہنچا سکتی؛ البتہ اذیّت دے سکتی ہے۔ ”إنَّهم لَيَدْعُون له ولدًا“ یعنی انسان اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی چیز کی نسبت کرکے، جس سے وہ بلند اور پاک ہے، اسے تکلیف دیتا ہے اور اس کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ جیسے اس کی طرف بیٹے، شریک اور عبادت میں ساجھی کی نسبت کرنا، جب کہ عبادت خالص اسی یکتا ذات کے لیے ہونی چاہیے۔ ”وإنَّه ليُعافِيهم ويرزُقُهم“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بُرائی کا مقابلے بھلائی عطا کرتا ہے۔ وہ عیب، گالی، ایسے دعووں، جن سے اللہ کی ذات بَری اور پاک ہے، اس کے رسولوں کی تکذیب اور اس کی نافرمانی کرکے اللہ کے ساتھ بُرا کرتے ہیں، لیکن پھر بھی اللہ انھیں صحت یابی، بیماریوں سے شفا، دن رات پیش آنے والی چیزوں سے حفاظت اور زمین و آسمانوں کو مسخر کرکے انہیں رزق عطا کرتا ہے۔ یہ حد درجے کا صبر، حلم اور احسان ہے۔ والله أعلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان صاف ہو؟‘‘ ہم نے کہا: نہیں۔آپ ﷺ نے فرمایاـ ’’اس دن تمہیں اپنے پروردگار کو دیکھنے میں اتنی ہی تکلیف ہوگی جتنی کہ ان دونوں (سورج اور چاند) کے دیکھنے میں ہوتی ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺنے فرمایا: ’’ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس چیز کی طرف چلی جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ اورجھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ ہو لیں گے۔ یہاں تک کہ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، خواہ نیک ہوں يا بد اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ پھر دوزخ سامنے لائی جائے گی وہ ایسی (چمکدار ہو گی )جیسے سراب ہوتا ہے۔ پھر یہودیوں سے کہا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے؟۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر (علیہ السلام) کی پوجا کرتے تھے جو اللہ کے بیٹے ہیں۔ انہیں جواب ملے گا: تم جھوٹے ہو۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو۔ (وہ اس چمکتی ریت کی مانند جہنم کی طرف اسے پانی جان کر چل پڑیں گے) اور جہنم کے اندر جا گریں گے۔ پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا: تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی اولاد، بتاؤ اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں پانی پلائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پی لو۔ چنانچہ یہ بھی جہنم میں جا گریں گے۔ یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے خواہ نیک ہوں یا بد۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم ان سے اس وقت جدا ہو گئے تھے جب کہ ہمیں ان کی زیادہ ضر ورت تھی۔ ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی۔ چنانچہ ہم تو بس اپنے رب کے منتظر ہیں (کیونکہ ہم اسی کی عبادت کرتے تھے)۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ پھر اللہ (جبار) ان کے سامنے اس صورت کی بجائے کسی دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور اللہ تعالی کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ انبیاء کے سوا اور کوئی بھی اللہ سے بات نہیں کرے گا۔ الله تعالی فرمائے گا: کیا تمہیں کسی ایسی نشانی کا علم ہے جس سے تم اپنے رب کو پہچان لو؟ وہ کہیں گے کہ ”ساق“ (پنڈلی)۔ اس پر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھول دے گا تو ہر مومن اس کے سامنے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کیا کرتے تھے۔ وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح (سخت) ہوکر رہ جائے گی۔ پھر پل صراط لایا جائے گا اور جہنم کی پشت پر لا کر رکھا جائے گا۔ ہم نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! پل کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک پھسلنے اور گرنے کی جگہ ہے، اس پر درانتیاں،آنکڑے اور چوڑے چوڑے کانٹے ہوں گے جن کے سر اس سعدان جھاڑی کے کانٹوں کی طرح خم دار ہوں گے جو نجد کے علاقے میں پائی جاتی ہے۔ مومن اس پر سے پلک جھپکنےمیں، بجلی کی سی تیزی سے، ہوا کی مانند اور تیز رفتار عمدہ گھوڑوں اور اونٹوں کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں سے بعض تو صحیح سلامت نجات پا جائیں گے، بعض زخمی تو ہوں گے لیکن بچ جائیں گے اور بعض اوندھے منہ جہنم میں جا گریں گے۔ یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا۔ تم لوگ آج کسی حق كے لیے جس طرح مجھ سے مطالبہ اور درخواست کرتے ہو اس دن اللہ سے مومنين اس سے بھی زیادہ شد ومد كے ساتھ مطالبہ اور درخواست کريں گے۔ جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات عطا فرما)۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو۔ اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض لوگ تو جہنم میں اپنے پاؤں اور آدھی پنڈلیوں تک غرق ہیں۔ جنہیں وہ پہچان لیں گے انہیں دوزخ سے نکال لیں گے۔ پھر واپس آئیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکال لیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ وہ جسے پہچان پائیں گے اسے نکال لائیں گے۔” ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو: ﴿إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا﴾ ”اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا، اگر نیکی ہے تو اسے بڑھا کر کئی گنا کر دیتا ہے“۔ اس کے بعد انبیاء، فرشتے اور مومنین شفاعت کریں گےاور اللہ تعالی کا ارشاد ہو گا کہ اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر کر لے کر ایسے لوگوں کو نکالے گا جو جھلس کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ انہیں جنت کے کناروں پر موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جسے آب حیات کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس کے کنارے اس طرح تر و تازہ ہو جائیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا کہ اس کے جس حصے پر دھوپ پڑتی رہتی ہے اس پر سبزا ابھرتا ہے اور جس حصے پر سایہ ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے۔ جب وہ نکلیں گے تو یوں لگیں گے جیسے موتی ہوں۔ ان کی گردنوں پر مہریں لگا دی جائیں گے (کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ ہیں)۔ پھر انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اہل جنت کہیں گے: یہ ”عتقاء الرحمن“ (اللہ کے آزاد کردہ لوگ) ہیں۔ انہوں نے نہ تو کوئی عمل کیا تھا اور نہ ہی کوئی نیکی آگے بھیجی تھی لیکن اللہ نے پھر بھی انہیں جنت میں داخل کر دیا۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ سب تمہارا ہے اور اتنا ہی اس کے ساتھ مزید بھی ہے۔
متفق علیہبعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ: “کیا ہم روز قیامت اللہ تعالی کو دیکھیں گے؟۔” آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ہاں۔ تم اپنے رب کو بالکل ایسے ہی دیکھو گے جیسے عین دوپہر کے وقت سورج کو اور چودھویں کی رات مکمل چاند کو بغیر کسی بھیڑ اور دھکم پیل کے دیکھ لیتے ہو۔ تشبیہ وضاحت اور اس میں کسی قسم کے شک، مشقت اوراختلاف نہ ہونے ميں ہے۔ یہ دیکھنے کی تشبیہ دیکھنے کے ساتھ ہے، دیکھی جانے والی شے کی تشبیہ دیکھی جانے والی شے کے ساتھ نھیں ہے۔ یہ رویت اس رویت کے علاوہ ہے جو اللہ کے اولیاء کو جنت میں بطور ثواب اور اعزاز کے عطا ہوگی۔ کیونکہ یہ رویت ان لوگوں کے درميان فرق کرنے کے لیے ہے جنہوں نے اللہ کی عبادت کی اور جنہوں نے اس کے علاوہ کی عبادت کی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک اعلان کرنے والا پکار کر کہے گا کہ جو اللہ کے سوا کسی اور شے کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے ہو لے۔ ایک صحیح روایت میں ہے کہ: خود اللہ تعالی ہی یہ ندا دے گا۔ چنانچہ جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے تھے انہیں اکٹھا کر کےجہنم میں پھینک دیا جائے گا اور صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے، چاہے وہ فرمانبردار ہوں یا نافرمان، اور یہود و نصاری میں سے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ البتہ ان میں سے زیادہ تر کو تو ان کے معبودوں کے ساتھ جہنم کے پاس لے جایا جائے گا۔ پھر اس جگہ جہنم کو لا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا اور وہ یوں لگے گی جیسے سراب ہوتا ہے۔ پھر یہودیوں کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے۔ ان کو جواب ملے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ عزیر علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں۔ اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی اولاد۔ پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ تم کیا چاہتے ہو؟وہ کہیں گے کہ ہم پینا چاہتے ہیں۔ ان کا سب سے پہلا مطالبہ پانی کا ہوگا۔ کیونکہ اس جگہ پے در پے آنی والی پریشانیوں اور کٹھن مراحل اور ہولناکیوں کی وجہ سے سخت پیاس لگے گی۔ جہنم ان کو ایسے دکھائی دے گی جیسے پانی ہو۔ ان سے کہا جائے گا: جو تمہیں دکھائی دے رہا ہے اور جسے تم پانی سمجھ رہے ہو اس کی طرف جاؤ اور پی لو۔ وہ وہاں جائیں گے تو جہنم کو پائیں گے جو اپنی حرارت کی شدت اور شعلہ زنی کی وجہ سے خود اپنے آپ ہی کو کھائے جا رہی ہو گی۔ پس وہ لوگ اس میں گر جائیں گے۔ ان کے بعد اسی طرح نصاری کو بھی کہا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب صرف اللہ کی عبادت کرنے والے مطیع اور گناہ گار باقی رہ جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم کو کس چيز نے اس جگہ روک رکھا ہے، جب کہ لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے: ہم نے دنیا میں اس وقت ان لوگوں سے کنارہ کشی کی جب کہ ہمیں ان کی بہت زیادہ ضرورت تھی۔ کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کی نافرمانی اور اس کے احکامات کی مخالفت کی۔ چنانچہ ہم نے اللہ کی خاطر ان سے نفرت كركے ان كی دشمنی مول لی اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کو مقدم رکھا (پھر آج بھلا ہم ان سے الگ کیوں نہ رہیں؟!)۔ اب ہم اپنے اس رب کے انتظار میں ہیں جس کی ہم دنیا میں عبادت کیا کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت کے بجائے کسی اور صورت میں آئے گا جس ميں انہوں نے پہلی بار اسے دیکھا تھا۔ اس میں اس بات کی صاف وضاحت ہے کہ اس دفعہ آنے سے پہلے ہی وہ اللہ کو ایسی صورت میں دیکھ چکے تھے جس میں انہوں نے اسے پہچان لیا تھا۔ صورت کی تاویل کرنا درست نہیں ہے۔ بلکہ بغیر کسی تکییف و تمثیل اور بنا کسی تحریف و تعطیل کے اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ جب اللہ تعالی ان کے پاس آئے گا تو کہے گا: میں تمہارا رب ہوں۔ وہ اس پر خوش اور مسرور ہوتے ہوئے کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے۔ اس وقت اللہ تعالی سے صرف انبیاء ہی کلام کر سکیں گے۔ اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: کیا تمہارے اور تمہارے رب کے مابین کوئی ایسی علامت ہے جس سے تم اسے پہچان سکو؟ وہ کہیں گے کہ یہ علامت پنڈلی ہے۔ اس پر اللہ تعالی اپنے پنڈلی کھول دے گا اور اس سے مومنين اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پہچان کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں گے۔ جب کہ منافقین جو لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کیا کرتے تھے، انہیں سجدہ کرنے سے روک دیا جائے گا اور ان کی پیٹھ کو ایک طشت بنادیا جائے گا، (جس کی وجہ سے) وہ نہ جھک سکیں گے اور نہ ہی سجدہ کر سکیں گے۔ کیونکہ دنیا میں وہ لوگ درحقیقت اللہ تعالی کے لیے سجدے نہیں کرتے تھے بلکہ محض اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے سجدے کیا کرتے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ "ساق" (پنڈلی) اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے۔ یہ حدیث اور اس طرح کی دیگر احادیث اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر ہیں کہ: ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلا يَسْتَطِيعُونَ﴾ ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کو کہا جائے گا تو وہ نہ کر سکیں گے“۔ اس مقام پر "ساق" کی تفسیر سختی اور پریشانی کے ساتھ کرنا مرجوح ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ حدیث کی بنا پر"ساق" کی صفت کو اللہ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔ صفت پر ہی آيت کی دلالت راجح اور صحيح ترین ہے،اوراسے بغیر تکییف و تمثیل اور بغير کسی تحریف و تعطیل کے ماننا ہے۔ پھر ان کو پل صراط پر لایا جائے گا جسے جہنم کے درمیان میں رکھ دیا جائے گا۔ اس پل پر پاؤں ٹھہر نہیں پائیں گے اور نہ جم سکیں گے۔ اس پر آنکڑے لگے ہوں گے یعنی خم دار اور تیز لوہے کے کانٹے تاکہ جنہیں اچک لینا ہو انہیں ان کے ذریعہ اچک لیا جاسکے۔ یہ خمیدہ کھونٹیوں سے ملتے جلتے ہوں گے۔ پل پر موٹے اور چوڑے چپٹے کانٹے بھی ہوں گے۔ لوگ اس پل پر سے اپنے ایمان اور اعمال کے لحاظ سے گزریں گے۔ جس کا ایمان کامل ہوگا اور عمل صالح خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو گا وہ جہنم کے اوپر سے پلک جھپکنے میں گزر جائے گا۔ جو اس سے کمتر ہوگا اس کا گزرنا اس کے ایمان اور عمل کے لحاظ سے ہوگا جیسا کہ اس کی تفصیل حدیث میں بیان کی گئی ہے اور ان کے گزرنے کی کیفیات کو بجلی اور ہوا وغیرہ کےساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ پل پر سے گزرنے والے چار قسم کے لوگ ہوں گے: اول: بغیر کسی تکلیف کے نجات پا جانے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے گزرنے کی رفتار ایک دوسرے سے مختلف ہو گی جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔ دوم: زخمی ہو کر نجات پانے والے۔ “الخدش” ہلکے زخم کو کہتے ہیں۔ یعنی جہنم کی تپش انہیں پہنچے گی یا پھر وہ پل پر نصب کھونٹیوں اور آنکڑوں کی زد میں آ جائیں گے۔ سوم: جہنم میں پٹخ دیے جانے والے جو زور سے اس میں جا گریں گے۔ چہارم: جو گھسٹ گھسٹ کر پل پر سے گزریں گے اور ان کے اعمال (اتنے کمزور ہوں گے کہ)ان کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ آج کسی حق کے لیے جس طرح مجھ سے مطالبہ اور درخواست کرتے ہو اس دن مومنین اللہ سے اس سے بھی زیادہ شد و مد کے ساتھ مطالبہ اور درخواست کریں گے۔” یہ اللہ کا خصوصی کرم اور رحمت ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو اجازت دے گا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کی بابت اللہ تعالیٰ سے فرمائش کریں اور انہیں معاف کرنے کی درخواست کریں، جنہیں ان کے ان جرائم کے سبب جہنم میں ڈال دیا گیا ہوگا جن کا ارتکاب وہ اپنے رب کی مخالفت میں کرتے رہے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو دوزخ کے عذاب اور پل صراط کی ہولناکی سے نجات پاگئے ہوں گے یہ بات ڈال دے گا کہ وہ ان کے حق میں اس سے درخواست کریں اور ان کے لیے شفاعت کریں۔ اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت کی بدولت انہیں اس کی اجازت دے گا۔ ’’اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے (نیک) اعمال کرتے تھے (ان کو بھی دوزخ سے نجات عطا فرما)۔” اس کا مفہوم مخالف یہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں نہیں پڑھتے اور ان کے ساتھ روزے نہیں رکھتے وہ ان کے حق میں شفاعت نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کے لیے اپنے رب کے حضور درخواست گزاریں گے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جن کے حق میں مومن لوگ اپنے رب سے درخواست کریں گے وہ بھی مومن اور موحد ہوں گے۔ کیونکہ ان کا کہنا ہے: “ہمارے بھائی بھی جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے۔” تاہم انہوں نے بعض گناہوں کا ارتکاب کیا جن کی وجہ سے وہ جہنم کے مستحق ٹھہرے۔ اس میں خوارج اور معتزلہ کے دو گمراہ گروہوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ جو جہنم میں چلا جائے گا وہ اس میں سے نہیں نکلے گا اور یہ کہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ضرور دوزخ میں جائے گا۔ اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جو شخص بھی تمہیں ایسا ملے جس کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان ہو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ اللہ تعالی ان کے چہروں کو آگ پر حرام کر دے گا تا کہ وہ ان کے چہروں کو نہ جلائے۔ چنانچہ وہ آئیں گے تو دیکھیں گے کہ ان میں سے بعض کے پاؤں تک اور بعض کی پنڈلیوں کے نصف تک آگ پہنچ رہی ہے۔ وہ ان میں سے جن کو پہچان پائیں گے انہیں نکال لیں گے۔ پھر جب واپس آئیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں تم نصف دینار کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچان سکيں گے انہیں نکال لیں گے۔ پھر جب لوٹ کر آئیں گے تو اللہ تعالی ان سے فرمائے گا: جاؤ اور جس کے دل میں تمہیں ذرہ برابر بھی ایمان ملے اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جسے وہ پہچان پائیں گے نکال لائیں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم میری بات کی تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھ لو: [إنَّ اللهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وإنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا]۔ (ترجمہ: اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہو تو اس کا ثواب کئی گناہ بڑھا کر دیتا ہے۔) ابو سعید رضی اللہ عنہ کا اس آیت کو استشہاد کے طور پر پیش کرنے کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ بندے کے پاس ذرہ برابر بھی اگر ایمان ہو تو اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر دیتا ہے اور اسے اس کی وجہ سے نجات دے دیتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس کے بعد انبیاء، فرشتے اور مومنین شفاعت کریں گے۔‘‘ اس میں اس بات کا صراحت کے ساتھ بیان ہے کہ یہ تینوں شفاعت کریں گے۔ تاہم یہ بات جان لینا ضروری ہے کہ کسی بھی سفارشی کی شفاعت اللہ کی اجازت کے بعد ہی ہوگی جیسا کہ پہلے گزر چکا کہ مومنین نے اس وقت اپنے رب سے درخواست کی اور اس سے سوال کیا، تب انہیں اس کی اجازت دی گئی۔ پھر اللہ نے ان کو اجازت دیتے ہوئے فرمایا: ’’جاؤ اور جوتمہیں ملے اسے نکال لاؤ۔الخ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر اللہ تعالی کا ارشاد ہو گا کہ اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو نکال کر باہر لے آئے گا جو جھلس کرکوئلہ ہو چکے ہوں گے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی شفاعت سے مراد اس کا ان عذاب میں مبتلا لوگوں پر رحم کرنا ہے۔ چنانچہ اللہ انہیں جہنم سے نکال لے گا۔ آپ ﷺ نےفرمایا: “اللہ ایک مٹھی بھرے گا۔” اس میں اللہ تعالی کے لیے صفتِ قبض (مٹھی بھرنا) کا بیان ہے۔ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی احادیث میں کتنے ہی ایسے نصوص ہیں جن سے ہاتھ اور مٹھی کا اثبات ہوتا ہے۔ لیکن تاویل و تحریف کرنے والے بدعقیدہ لوگ اسے قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے سے انکاری ہیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے کہ حق وہی تھا جو اللہ اور اس کے رسول نے فرمایا تھا اور وہی تھے جو راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ بہرحال اللہ تعالی جہنم میں سے ایک مٹھی بھرے گا اور ایسے لوگوں کو باہر نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔ آپ ﷺ نےفرمایا: ’’انہیں جنت کے کناروں پر موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جس کا نام آب حیات ہے۔ وہ اس کے کناروں پر اس طرح تر و تازہ ہو جائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے ارد گرد موجود ایک نہر میں ڈال دیا جائے گا جسے آب حیات کہا جاتا ہے۔ ایسا پانی جو اپنے اندر غوطہ لگانے والے کو جلا بخش دیتا ہے۔ اس نہر کے کناروں پر ان کا جل جانے والا گوشت، آنکھیں اور ہڈیاں دوبارہ سے نکل آئیں گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس طرح سیلاب کے پس ماندہ کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا کہ اس کے جس حصے پر دھوپ پڑتی رہتی ہے اس پر سبزا اگ آتا ہے اور جس حصے پر سایہ ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے۔” آپ ﷺ کا اس تشبیہ سے مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ ان کا گوشت بہت تیزی سے نکل آئے گا۔ کیونکہ جیسا کہ ذکر ہوا، سیلاب کے لائے ہوئے کوڑے کرکٹ پر روئیدگی بہت تیزی سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے جو حصہ سائے میں ہوتا ہے وہ روکھا رہ جاتا ہے اور جو دھوپ میں ہوتا ہے وہ سرسبز ہوتا ہے۔ ایسا ان کی پتیوں کے نازک ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقعتاً وہ بھی ایسے ہی نکلیں گے کہ جو لوگ جنت کی طرف ہوں گے وہ روکھے رہ جائیں گے اور جو جہنم کی طرف ہوں گے وہ سرسبز ہوں گے۔ بعض لوگوں سے یہ قول منقول ہے، تاہم ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں ان کو اس سبزے کے ساتھ تشبیہ اس کے تیزی سے نکلنے اور نزاکت میں دی گئی ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایسے نکلیں گے جیسے موتی ہوں۔‘‘ یعنی اپنی ظاہری جلد کی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے وہ موتیوں کی مانند نظر آئیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “پھر ان کی گردنوں پر مہریں لگا دی جائیں گی۔” ان مہروں پر لکھا ہوگا: ’’رحمن کی طرف سے جہنم سے آزاد کر دہ۔‘‘ جیسا کہ ایک اور روایت میں ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’پھر وہ جنت میں چلے جائیں گے۔ اہل جنت انہیں دیکھ کر کہیں گے: یہ رحمن کے آزاد کردہ لوگ ہیں۔انہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی بھلائی کو آگے بھیجا تھا لیکن پھر بھی اللہ نے ان کو جنت میں داخل کر دیا۔” یعنی دنیا میں انہوں نے کوئی نیک کام نہیں کیا لیکن جوہرِ ایمان ان کے پاس تھا جو کہ صرف اور صرف اللہ کے معبود برحق ہونے کی گواہی اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان سے کہا جائے گا: ’’تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ سب تمہارا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہے۔‘‘ یوں لگتا ہے کہ جیسے وہ جنت کے كچھ خالی مقامات پر آئیں گے اسی لیے ان سے ایسا کہا جائے گا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم برابر یہی کہتی رہے گی: کیا کچھ اور ہے؟ يہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، تو وہ کہہ اٹھے گی: بس بس، تیری عزت کی قسم!۔ اور جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے سے مل جائے گا“۔
متفق علیہاللہ تعالی اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ وہ جہنم سے پوچھے گا: کیا تو بھر گئی؟۔ یہ پوچھنا اس لیے ہوگا کیونکہ اللہ کا اس سے وعدہ ہے کہ وہ اسے جنات اور انسانوں سے بھر دے گا۔ چنانچہ اللہ تعالی جسے اس میں ڈالنا ہوگا اسے اس میں ڈالنے کا حکم دے گا اور وہ اس میں جھونک دیاجائے گا۔ جہنم کہے جا رہی ہو گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی کوئی ایسی شے باقی ہے جو تو مجھ میں اضافہ کرے؟ یہاں تک کہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا۔ اس پر وہ بول اٹھے گی: يہ مجھے کافی ہے۔ اور پھر سميٹ کر کے اس کے ايک حصے کو دوسرے حصے سے ملا ديا جائے گا۔ صفت قدم کی یہ تاویل کرنا جائز نہیں ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالی آگ میں ڈالے گا اور نہ ہی دیگر باطل تاویلات کا سہارا لیا جائے گا۔ بلکہ بغیر کسی تحریف و تعطیل اور بنا کسی تکییف و تمثیل کے اللہ کے لیے صفت قدم کا اثبات کرنا واجب ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! جنتی جواب دیں گے : ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا اب تم لوگ خوش ہو؟ وہ کہیں گے: بھلا ہم راضی کیوں نہ ہوں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی آدمی کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا۔ جنتی کہیں گے: اے رب! اس سے بہتر اور کیا چیز ہوگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں تمہارے اوپر اپنی رضا مندی کو نازل کروں گا، پھر اس کے بعد کبھی بھى تم پر ناراض نہیں ہوں گا"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اہل جنت جب جنت میں ہوں گے، تو اللہ ان سے کہے گا: اے اہل جنت! وہ جواب دیں گے: ہم حاضر ہیں اے ہمارے رب! تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھوں میں ہے۔ اللہ ان سے پوچھے گا : کیا اب تم خوش ہو؟ وہ جواب دیں گے: ہم بالکل خوش ہيں۔ بھلا ہم خوش کیوں نہ رہيں، جب کہ تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا ہے، جو تو نے اپنی کسی بھی مخلوق کو نہيں دیا ہے! یہ جواب سن کر اللہ سبحانہ کہے گا: کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز عطا نہ کروں؟ جنتی جواب دیں گے: اے میرے رب! اس سے بہتر چيز بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالی فرمائے گا: میں تمھیں اپنی دائمی رضامندی عطا کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں تم سے کبھی بھى ناراض نہيں ہوں گا۔
ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں تھے کہ آپ ﷺک ی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست (کا گوشت) اٹھا کر آپ کو پیش کیا گیا کیونکہ آپ ﷺکو مرغوب تھا، آپ ﷺنے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اس سے تناول کیا اور فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہموار چٹیل میدان میں جمع کرے گا۔ ایک دیکھنے والا ان سب کو دیکھے گا اور ایک پکارنے والا ان سب کو اپن آواز سنا سکے گا۔ سورج قریب ہو جائے گا اور لوگوں کو اس قدر غم اور کرب لاحق ہو گا جو ان کی طاقت سے زیادہ اور ناقابل برداشت ہو گا۔ لوگ ایک دوسرے کہیں گے: کیا دیکھتے نہیں تم کس حالت میں ہو؟ کیا دیکھتے نہیں تم پر کیسی مصیبت آپڑی ہے؟ کیا تم کوئی ایسا شخص تلاش نہیں کرتے جو اللہ کے ہاں تمہاری سفارش کردے؟، چنانچہ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے کہ اپنے باپ آدم کے پاس چلو تو وہ آدم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے :اے آدم (علیہ السلام)! آپ سب انسانوں کے باپ ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں۔ آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟ کیا آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے؟، آدم جواب دیں گے کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا اور یقیناً اس نے مجھے ایک خاص درخت ( کےقریب جانے) سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی تھی، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان بچانی ہے ۔تم کسی اور کے پاس جاؤ، نوح(علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ نوح (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے نوح(علیہ السلام)! آپ اہل زمین کی طرف بھیجے گئے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شکر گزار بندے کا نام دیا ہے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں؟ آپ دیکھتے نہیں ہم پر کیا مصیبت آن پڑی ہے؟ وہ انہیں جواب دیں گے کہ آج میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے کبھی آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میرے لیے ایک دعا (خاص کی گئی) تھی وہ میں نے اپنی قوم کےخلاف مانگ لی۔ (آج تو ) میری اپنی جان (پر بنی) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ۔ تم ابراہیم (علیہ السلام)کے پاس جاؤ۔ چنانچہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام)کے پاس حاضر ہوں گے اور عرض گزار ہوں گے کہ آپ اللہ کے نبی اور اہل زمین میں سے اس کے خلیل ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟ تو ابراہیم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے کہ میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنے غصے میں نہیں آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا، جب کہ میرے اپنے تین جھوٹ ہیں، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ کسی اور کے پاس جاؤ، موسیٰ (علیہ السلام)کے پاس جاؤ۔ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام)! آپ اللہ کےرسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پیغام اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے لوگوں پر فضیلت عطا کی، اللہ کے حضور ہمارے لیے سفارش کیجیے، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟۔ موسیٰ (علیہ السلام) ان سے کہیں گے کہ میرا رب آج اس قدر غصے میں ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اس قدر غصے میں آیا اور نہ اس کے بعد آئے گا۔ میں ایک جان کو قتل کر چکا ہوں جس کے قتل کا مجھے حکم نہ دیا گیا تھا۔ میری جان (کا کیا ہو گا) میری جان، (کا کیا ہو گا)، میری جان (کا کیا ہو گا) میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام)! آپ اللہ کا کلمہ ہیں جسے اس نے مریم (علیہا السلام) کی طرف اِلقا کیا اور اس کی روح ہیں، اس لیے آپ اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرمائیں، آپ ہماری حالت نہیں دیکھتے جس میں ہم ہیں ؟ تو عیسیٰ (علیہ السلام) انہیں جواب دیں گے کہ میرا رب اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں نہ وہ اس سے پہلے آیا اور نہ آئندہ کبھی آئے گا، وہ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے، (کہیں گے مجھے) اپنی جان کی فکر ہے، اپنی جان کی فکر ہے، اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ایسا کرو تم محمد (ﷺ) کے پاس جاؤ۔ لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے، ایک روایت میں ہے کہ وہ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد (ﷺ)! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں، اپنے رب کےحضور ہماری سفارش فرمائیں، آپ دیکھتے نہیں ہم کس حال میں ہیں؟، تو میں چل پڑوں گا اور عرش کے نیچے آؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدے میں گر جاؤں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی ایسی تعریفوں اور اپنی ایسی بہترین ثنا (کے دروازے) کھول دے گا اور انہیں میرے دل میں ڈالے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں کھولے گئے ہوں گے، پھر (اللہ ) فرمائےگا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیں، مانگیں، آپ کو ملے گا، سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول ہو گی۔ تو میں سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا ”اے میرے رب ! میری امت! میری امت! تو کہا جائے گا! اے محمد! آپ کی امت کے جن لوگوں کا حساب و کتاب نہیں ہونا ہے، انہیں جنت کے دروازے میں سے دائیں دروازے سے داخل کر دیں اور وہ جنت کے باقی دروازوں میں (بھی) لوگوں کے ساتھ شریک ہیں۔ پھر فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ)کی جان ہے! جنت کے دو کواڑوں کے درمیان اتنا (فاصلہ) ہے جتنا مکہ اور (شہر) ہجر یا مکہ اور بصری کے درمیان ہے۔
متفق علیہابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانے کی ایک دعوت میں تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں دست (کا گوشت) اٹھا کر پیش کیا گیا تو آپ نے اپنے دانتوں سے نوچ کر کھایا اور آپ کو بکری کی دست بڑی مرغوب تھی، کیونکہ بکری کے پورے جسم میں سے اس حصے کا گوشت بہترین اور نرم ہوتا اور زود ہضم اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ چونکہ نبی کریم ﷺ کو یہ بڑی مرغوب تھی اس لیے آپ ﷺ نے اپنے دندان مبارک سے ایک بار اسے تناول فرمایا اور پھر یہ طویل حدیث بیان فرمائی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت والے دن آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم ﷺ آدم کی اولاد کے سردار اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانوں میں سے سب سے اعلیٰ ہیں۔ پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو یہ کیسے ہو گا؟ تو صحابہ نے جواب دیا اے اللہ کے رسولﷺ! نہیں۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے تمام بنی آدم پر اپنا مرتبہ اور فضیلت کو بیان کیا۔ فرمایا کہ قیامت والے دن پہلے اور بعد والے تمام لوگوں کو ایک ہموار اور وسیع زمین میں اکٹھا کیا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ﴾ ”فرما دیجیے کہ پہلے اور آخری سارے لوگ ایک معین دن پر جمع کیے جائیں گے“۔ ایک ہی زمین پر سب کو جمع کیا جائے گا اور اس دن جو زمین پھیلائی جائے گی وہ ایسی نہیں ہو گی جیسی اب دیکھتے ہو۔ آج جب تم نظر دوڑاتے ہو تو جو سامنے ہوتا ہے صرف وہی نظر آتا ہے، جب کہ قیامت کے دن زمین بالکل سیدھی پھیلا دی جائے گی اور اس میں کسی قسم کے کوئی بھی پہاڑ، وادیاں، نہریں اور سمندر نہیں ہوں گے۔ اس میں موجود تمام داعی کی بات کو سنیں گے اور ان کی بینائی کی رسائی بھی ہو گی۔ یعنی جب کوئی انسان بات کرے گا تو ہر ایک سنے گا اور سارے اس کو دیکھیں گے کیونکہ کوئی بھی کسی سے چھپا نہیں ہو گا لیکن سارے کے سارے ایک چٹیل زمین پر ہوں گے۔ اس دن سورج مخلوق سے ایک میل کی مسافت پر ہو گا اور ایسے کرب وغم میں مبتلا ہوں گے کہ اس کو برداشت کرنے کی طاقت اور قوت نہیں ہوگی۔ زمین تنگ ہو جائے گی اور وہ خواہش کریں گے کہ کوئی ایک اللہ کے ہاں ان کی سفارش کرے جو ان کو جلد از جلد اس بڑے وقوف سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ ان کو الہام کریں گے کہ وہ ابو البشر آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کے فضائل بیان کریں گے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ ان سے کہیں گے کہ آپ ابو البشر ہیں اور قیامت تک جتنے بھی نر ومادہ انسان پیدا ہوئے وہ سارے کے سارے بنی آدم ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کے انکار پر فرمایا تھا ﴿مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾ ”کہ تجھے کس چیز نے اس کو سجدے سے منع کیا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا“۔ آپ کو ملائکہ سے سجدہ کرایا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا﴾ ”جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا“، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کے نام سکھائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾ ”آدم (علیہ السلام) کو تمام نام سکھائے“، اور آپ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کو پھونکا جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ﴾ ”جب میں نے اس کو مکمل کیا تو اس میں اپنی روح پھونکی تو سارے اس کے سامنے سجدے میں گر گئے“، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جن کو مخلوق جانتی ہے جب کہ خاص طور پر امت محمد (ﷺ) کو ایسے علوم سے اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے جو دیگر امتوں میں سے کسی کو نہیں نوازا۔ وہ معذرت کریں گے اور کہیں گے کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں آیا اور نہ اس کے بعد کبھی آئے گا پھر وہ اپنی خطا بتائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک خاص درخت سے کھانے سے روکا تھا لیکن انہوں نے کھا لیا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ”اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ دونوں ظالموں میں سے ہو جاؤ گے“، اس کی سزا یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی منشا کے مطابق ان کو جنت سے نکال کر زمین پر بھیج دیا۔ وہ اپنی نافرمانی بیان کریں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ یعنی آج تو اپنی جان بچانا ممکن ہو جائے اور اس کو تین مرتبہ تاکید اور تکرار کے ساتھ بیان کیا۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ ، ایسا کرو نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ نوح (علیہ السلام) دوسرے ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے تمام اہلِ زمین کو نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی وجہ سے غرق کر دیا تھا ﴿وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ﴾ ”ہاں وہ چند ایک جو ان پر ایمان لے آئے تھے“ ان کے علاوہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑا۔ لوگ کہیں گے نوح (علیہ السلام) کی طرف چلو ،تو وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے کیونکہ وہ بہت سختی اور تنگی کا شکار ہوں گے۔ وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ کریں گے، یہ کہ وہ اللہ کے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اہلِ زمین کی طرف رسالت دے کر مبعوث فرمایا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام شاکر بندہ رکھا۔ لیکن وہ بھی ویسے ہی کہیں گے جیسے آدم (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ میرا رب آج اتنے غصے میں ہے جتنے غصے میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی ہو گا پھر اس دعا کا تذکرہ کریں گے جو انہوں نے اپنی قوم کے خلاف کی تھی ﴿رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا﴾ ”اے رب کافروں کا کوئی بھی گھر روئے زمین پر نہ چھوڑنا“ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اس دعا کا ذکر کریں گے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے کی تھی ﴿وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ، قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾ ”نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا کہ میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے، یقیناً تیرا وعده بالکل سچا ہے اور تو تمام حاکموں سے بہتر حاکم ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے“۔ وہ اپنے گناہ کا تذکرہ کریں گے۔ در اصل کوئی سفارشی سفارش نہیں کرے گا مگر جب اس کے اور مشفوع کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو جو خوف پیدا کرتی ہو (تو سفارش کرسکتا) جب کہ معصیت بندے اور رب کے درمیان خوف اور شرمندگی پیدا کرتی ہے ۔وہ بھی اپنی نافرمانی کا تذکرہ کریں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ لوگوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا حوالہ دیا جائے گا تو لوگ ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اللہ کی زمین پر آپ خلیل اللہ ہیں، ان کی صفات بیان کریں گے اور خواہش کریں گے کہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں۔ تو وہ بھی معذرت کریں اور کہیں گے کہ ان کے تین جھوٹ ہیں اور کہیں گے (آج تو ) میری اپنی جان (پر بنی) ہے ،مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے، مجھے اپنی جان (کی فکر) ہے۔ وہ جھوٹ یہ تھے: اولاً: ﴿إِنِّي سَقِيمٌ﴾ ”میں بیمار ہوں“ حالاں کہ وہ بیمار نہیں تھے لیکن انہوں نے ایسا اپنی قوم کو چیلنج کے طور پر کہا کیونکہ وہ ستاروں کی عبادت کرتے تھے۔ ثانیاً: ان کا یہ کہنا: ﴿بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَـٰذَا﴾ ”ان میں سے جو بڑا ہے اس نے کیا ہے“ یعنی بڑے بت نے کیا ہے۔ حالانکہ وہ اس نے نہیں کیا تھا بلکہ وہ ابراہیم علیہ السلام کا فعل تھا جب کہ انہوں نے چیلنج کرنے کے انداز میں یہ کہا کیونکہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ثالثاً: ان کا کافر بادشاہ سے یہ کہنا کہ یہ میری بہن ہے، یعنی اپنی بیوی کو اس کے شر سے بچانے کے لیے کہا حالانکہ ایسا تھا نہیں۔ ظاہراً یہ جھوٹ ہیں لیکن حقیقت میں اور اس کی مناسب تاویل جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی کہ جھوٹ نہیں تھے لیکن مضبوط تقویٰ اور اللہ سے حیا کی وجہ سے اس کو عذر بنائیں گے اور کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان کی صفات بیان کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام کی ہے، آپ کو اہلِ زمین پر اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ منتخب فرمایا ہے ۔تو وہ بھی اپنی خطا کا تذکرہ کریں گے اور معذرت کریں گے کہ انہوں نے ایک شخص کو جان بوجھ کو قبل از اجازت ہی قتل کر دیا تھا جوکہ ایک قبطی تھا اور بنی اسرائیل میں سے کسی آدمی کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے اور قبطی فرعونیوں میں سے تھا ﴿فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ﴾ ”ان کے گروہ کے شخص نے اپنے دشمن کے خلاف موسیٰ علیہ السلام سے مدد طلب کی، انہوں نے مکاّ مارا تو وہ مر گیا“ بغیر حکم کے اس کو قتل کردیا۔ رسول اللہ ﷺ کا خیال ہے کہ یہ چیز ان کے اور مخلوق کی سفارش کے درمیان حائل ہو جائے گی کہ انہوں نے ایک جان کو بغیر حکم کے قتل کر دیا تھا اور وہ بھی کہیں گے (آج تو) میری اپنی جان پر بنی ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے اپنی جان کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، تم سب عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ۔ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تذکرہ کریں گے کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح کو پھونکا اور یہ کہ وہ اللہ کا کلمہ ہیں جن کو مریم (علیہا السلام) کی طرف اِلقا کیا اور اس کی روح ہیں، یہ کہ ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ وہ کوئی گناہ بیان نہیں کریں لیکن لوگوں کو محمدﷺ کا حوالہ دیں گے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا عظیم شرف ہے کہ چار انبیاء اپنے کاموں کو بیان کر کے معذرت کر لیں گے اور ایک کوئی عذر پیش نہیں کریں گے لیکن ان کا خیال ہے کہ محمدﷺ ان سے زیادہ مناسب ہیں۔ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں گے آپ ان کی بات مان لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے سجدہ کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثناء کے ان پر ایسے در وا کریں گے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے وہ دروازے کسی کے لیے نہیں کھولے ہوں گے۔ پھر آپ سے کہا جائے گا کہ سر اٹھائیے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کیجئے عطا کیا جائے،سفارش کیجئے سفارش قبول کی جائے گی۔رسول اللہﷺ سفارش کریں گے اور فرمائیں گے اے رب! میری امت، میری امت! اللہ تعالیٰ ان کی سفارش قبول فرمائے گا اور آپ سے کہے گا کہ اپنی امت کو جنت کے دائیں دروازے سے داخل کر لیں اور یہ دیگر لوگوں کے ساتھ باقی دروازوں میں بھی شریک ہوں گے۔ اس میں یہ واضح دلیل موجود ہے کہ نبی کریم ﷺ تمام رسولوں میں سے افضل ہیں اور رسول افضل الخلائق ہیں۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع الغرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشريف لائے اور بيٹھ گئے۔ ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے۔ آپ کے پاس ایک چھڑی تھی، آپ ﷺ نے سرجھکایا اور چھڑی سے زمین کو کریدنا شروع کردیا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ايک شخص کا جہنم اورجنت کا ٹھکانا لکھ دیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ! کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسا نہ کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمل کرو، اس لیے کہ ہر شخص کو اسی عمل کی توفیق ہوگی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے... (اس کے بعد مکمل حديث ذکر کی)۔
متفق علیہصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ايک صحابی کے جنازہ ميں اہل مدينہ کے قبرستان ميں تھے۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور صحابہ کے درميان بيٹھ گئے۔ آپ کے ہاتھ ميں ایک چھڑی تھی۔ آپ ﷺ نے کسی غمگين، فکرمند کی طرح اپنا سر مبارک جھکا لیا اور چھڑی سے زمین کو کریدنےلگے، پھر فرمايا: بلا شبہ اللہ نے لوگوں کی تقديريں اور جنت اور جہنم ميں ان کے ٹھکانے لکھ ديے ہيں۔ جب صحابہ نے نبی ﷺ سے يہ سنا تو عرض كيا کہ جب تقدير ميں يہ بات لکھ دی گئی ہے کہ بدبخت برا ہوگا اورنيک بخت اچھا ہوگا، نيز جو جنتی ہے جنت ميں جائے گا اور جہنمی جہنم ميں رہے گا، جب معاملہ ايسا ہےتو کيوں نہ ہم عمل کرنا چھوڑديں۔ اس ليے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہيں ہے، کیوں کہ ہر چيز لکھ دی گئی ہے اور مقدر کر دی گئی ہے۔ توآپ ﷺ نے انہيں جواب ديتے ہوئے ارشاد فرمايا: اعمال انجام ديتے رہو اور جو اللہ نے اچھا يا برا مقدر کرديا ہے اس پر اعتماد کرکے نہ بيٹھ جاؤ، بلکہ جس کا حکم ديا گيا ہے اس کے مطابق عمل کرو اور جس سے روکا گيا ہے اس سے بازرہو۔کیوں کہ جنت عمل ہی کے ذريعہ حاصل ہوگی اور جہنم ميں عمل ہی کے سبب جانا پڑےگا۔ چنانچہ صرف وہی شخص جہنم ميں جائے گا جو جہنميوں کا کام کرے گا اور صرف وہی شخص جنتی ہوگاجو جنتيوں والے اعمال انجام دے گا۔ ۔ہر شخصکو اس کی تقدير کے مطابق ہی اچھائی يا برائی کی توفيق ملتی ہے۔ پس جو نيک بختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ نيک بختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے اور جو بدبختوں ميں سے ہوتا ہے اس کے ليے اللہ بدبختوں کے اعمال آسان کر ديتا ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: "کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر فسق اور کفر کی تہمت نہ لگائے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ ہوا تو یہ تہمت اسی کی طرف لوٹ آئے گی"۔
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ کوئی کسی سے یہ کہے کہ تم فاسق ہو یا تم کافر ہو۔ کیوں کہ سامنے والا شخص اگر فاسق یا کافر نہ ہو، تو کہنے والا ہی اس صفت کا حق دار ہو جائے گا اور اس کی کہی ہوئی بات اسی کی جانب لوٹ جائے گی۔ البتہ اگر اس کی کہی ہوئی بات درست ہو تو کہنے والے کا کوئی نقصان نہيں ہوگا کیوں کہ اس کی کہی ہوئی بات سچی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔جو کسی کی بیوی کو اس کے شوہر کے برخلاف اکسائے، ایسا کرنے والا مرد ہو یا کہ عورت بایں طور کہ اس کے سامنے اس کے شوہر کی برائی اوراس کےغلط اخلاق کو کچھ اس انداز سے بیان کرے تاکہ وہ اس سے نفرت کرنے لگے اورسرکشی پر آمادہ ہو اور پھر طلاق یا خلع کے ذریعہ اس سے علٰیحدگی کا مطالبہ کرنے لگے، یا یہ کہ کسی غلام کو اس کے مالک کے برخلاف ورغلائے اور مختلف حربے اپنا کر مالک کے برخلاف سرکشی پر آمادہ کرے اورپھر اس کے ساتھ غیر اخلاقی برتاؤ کرے توایسا شخص ہمارے منہج اور راستے پر چلنے والا نہیں اوراس کا یہ عمل شیطانی عمل ہے۔