





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی، جن میں نو لوگوں سے آپ نے بیعت لی اور ایک شخص سے بیعت نہیں لی۔ لہذا انھوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ماجرا ہے کہ آپ نے نو لوگوں سے بیعت لی اور اسے چھوڑ دیا؟ آپ نے جواب دیا : "اس نے تعویذ باندھ رکھا ہے۔" چنانچہ اس نے اپنا ہاتھ اندر ڈالا اور اسے کاٹ دیا۔ تب جاکر آپ نے اس سے بیعت لی اور فرمایا : "جس نے تعویڈ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"
رواه أحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس ایک جماعت آئی۔ کل دس لوگ تھے۔ نو لوگوں سے آپ نے اسلام اور تابع داری کی بیعت لی اور دسویں کو چھوڑ دیا۔ جب اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : اس کے جسم پر تعویذ بندھا ہوا ہے۔ تعویذ موتی وغیرہ کو کہتے ہیں، جن کو نظر بد یا نقصان سے بچنے کے لیے باندھا یا لٹکایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے تعویذ کی جگہ پر ہاتھ ڈالا اور اسے کاٹ کر پھینک دیا۔ چنانچہ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے بیعت لی اور تعویذ وغیرہ سے خبردار کرتے ہوئے اور اس کا حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا: "جس نے تعویذ لٹکایا، تو بلا شبہ اس نے شرک کیا۔"
اے رویفع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے رویفع! شاید تمھاری زندگی دراز ہو، لہٰذا تم لوگوں کو بتا دینا کہ جس آدمی نے اپنی ڈاڑھی میں گرہ لگائی یا تانت کا ہار پہنا اور ڈالا یا جانور کی نجاست یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد ( ﷺ) اس سے بری ہیں“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اس صحابی کی عمر لمبی ہو گی، یہاں تک کہ وہ ایسے لوگوں کو پائیں گے، جو داڑھیوں کے معاملے میں آپ ﷺ کے طرز عمل، یعنی انھیں بڑھانے اور ان کے احترام کی بجائے وہ عجمی و عیش پروردہ اور احمق لوگوں کی طرح ان کے ساتھ مذاق شروع کر دیں گے۔ یا پھر شرکیہ ذرائع کے استعمال کی وجہ وہ عقیدۂ توحید میں خلل انداز ہوں گے، بایں طور کہ کسی آفت کے دفعیہ کے لیے خود تانت کے ہار پہنیں گے یا پھر اپنے چوپایوں کو یہ پہنائیں گے۔ یا پھر ایسے امور کا ارتکاب کریں گے، جن سے نبی ﷺ نے منع فرمایا۔ مثلا چوپایوں کے گوبر اور ہڈیوں سے استنجا کرنا۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابی کو وصیت فرمائی کہ وہ امت تک یہ بات پہنچا دیں کہ ان کے نبی ﷺ اس شخص سے بری ہیں، جو یہ کام کرتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا، جنات کو آگ کے دہکتے شعلے سے پیدا کیا گیا اور آدم کو اس شے سے پیدا کیا گیا ہے، جس کی صفت (اللہ تعالیٰ نے) تمھیں بیان فرمائی ہے (یعنی خاک سے)“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے ابتدائے آفرینش کے بارے بتاتے ہوئے فرمایا کہ فرشتے نور سے پیدا کیے گئے؛ اسی لیے ان میں سے کوئی بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرتا اور نہ اس کی عبادت سے روگردانی کرتا ہے۔ جب کہ جنات کے بارے آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں؛ اسی وجہ سے اکثر جنات میں اوچھا پن، لغویات میں دل چسپی اور سرکشی پائی جاتی ہے۔ آدم علیہ السلام کو اس شے سے پیدا کیا، جس کے بارے میں اللہ نے تمھیں بتایا ہے، یعنی گوندھی ہوئی ٹھیکری کی مانند کھنکھناتی ہوئی مٹی سے؛ کیوںکہ مٹی پہلے گارا تھی، پھر ٹھیکری بنی اور پھر اس سے آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا گیا۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور (ان ستر ہزار میں سے) ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے اور میرے رب کے لپوں میں سے تین لپ بھر کر لوگ جنت میں جائیں گے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل کرے گا اور ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار دیگر لوگوں کو بھی جنت میں داخل کر دے گا اور اللہ اپنے بزرگی والے ہاتھ سے مزید تین لپ بھر کر لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا۔
ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”رحم ایک شاخ ہے، جس نے حجزۃ الرحمن (حجزۃ: یہ مخلوق کے ازار باندھنے کی جگہ ہے، رہا اس کا معنی اللہ تعالی کے حق میں، تو وہ اس کی عظمت وجلالت کے شایان شان ہے) تھامے رکھا ہے، جو اسے جوڑے گا، اللہ اسے جوڑے گا اور جو اسے توڑے گا، اللہ اسے توڑے دے گا“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔”رحم“ یعنی صلہ رحمی کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ یہ نام لفظِ رحمٰن سے لیا گیا ہے۔ یہ حدیث ان احادیثِ صفات میں سے ہے، جن کے بارے میں ائمہ نے یہ واضح کیا ہےکہ یہ جیسے وارد ہوئی ہیں، ویسے ہی نقل کی جائیں اور ان کے مفہوم کی نفی نہ کی جاۓ۔ الحُجزة یہ ان صفات میں سے ہے، جن پر بغیر تحریف، تعطیل اور بغیر کیفیت اور تمثیل کے ایمان لانا ضروری ہے۔ ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ رحم وہ رشتے داری ہے، جس کی حفاظت کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ صلہ رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرتا ہے اور قطع رحمی کرنے والے اور ناطہ توڑنے والے کے ساتھ قطع رحمی کرتا ہے۔ اور جس سے اللہ قطع رحمی کرے، وہ کٹا ہوا ہے، اللہ کے دشمن شیطان مردود کے ساتھ ۔ہے، اگر تمام مخلوق اس کے ساتھ صلہ رحمی کرنا اور فائدہ پہنچانا چاہیں، تو بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی، جب وہ اس کی پیدائش سے فارغ ہوا تو رحم نے کھڑے ہو کر رحمٰن کے دامن میں پناہ لے لی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا کیا تجھے یہ پسند نہیں کہ جو تجھ کو جوڑے میں بھی اسے جوڑوں اور جو تجھے توڑے میں بھی اسے توڑ دوں۔ رحم نے عرض کیا، ہاں اے میرے رب! اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پھر ایسا ہی ہو گا۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو: ”فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ“ اور تم سے یہ بھی بعید نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم زمین میں فساد برپا کر دو اور رشتے ناتے توڑ ڈالو‘‘۔ (سورہ محمد:22)۔اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ) میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے؟۔
متفق علیہ«خَلَقَ اللهُ الخلقَ، فلمَّا فرغَ منه» یعنی اللہ تعالی مخلوقات کو پیدا کرکے فارغ ہوا، یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ متعین وقت میں ہوا۔ اگرچہ اللہ کی قدرت کے سامنے کوئی حدبندی نہیں اور نہ ہی اس کو ایک حالت دوسری حالت سے غافل کرسکتی ہے۔ تاہم اس کی حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ کسی کام کے لیے وقت متعین کرے۔یہ ان دلائل میں سے ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے افعال اس کی مشیّت کے ساتھ معلق ہیں۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیز کرتا ہے۔ «لما فرغ» کا مطلب یہ نہیں کہ تمام چیزوں کی تخلیق مکمل ہوچکی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات وقتاً فوقتاً پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا علم ان کے بارے میں پہلے سے ہے اور اس کی تقدیر پہلے سے لکھی جاچکی ہے۔ بعد میں ہر چیز اس کی مشیّت سے ہوتی ہے اور ہوتا وہی ہے جو پہلے اس کے علم میں تھا، اس کی تقدیر میں لکھا گیا تھا، صرف اسی کی چاہت سے وہ چیز ہو جاتی ہے۔ «قامت الرَّحِمُ فأخذت بحَقْو الرَّحمن، فقال له: مَه» رحم کی طرف منسوب افعال جیسے کھڑا ہونا اور بات کرنا۔ ظاہری حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ اسے حقیقت پر محمول کیا جائے، گر چہ رحمت ایک معنوی چیز ہے جو لوگوں کے ساتھ قائم رہتی ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی قدرت کو انسانی عقل کے ترازو میں تولا نہیں جا سکتا۔ یہ حدیث فی الجملہ ان احادیثِ صفات میں سے ہے جن کے بارے میں علماء نے صراحت کی ہے کہ یہ جیسے وارد ہوئی ویسے ہی چلی آ رہی ہے اور اس کے موجب (لازمہ) کے خلاف جو چیز ہوتی ہے اس کی علماء نفی کرتے ہیں۔ ظاہری حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی چمڑے، کاٹن اور روئی کا بنا ہوا کوئی ازار اور چادر ہوتی ہے جیسے لوگ پہنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ۔ (ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے)۔ «قالت: هذا مقامُ العائذِ بك من القَطِيعة» یہ بہت عظیم جگہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ سب سے بڑی پناہ ہے۔ یہ صلہ رحمی کی عظمت اور قطعی رحمی کے بڑے گناہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ القطيعة: صلہ رحمی نہ کرنے کو کہتے ہیں۔ صلہ رحمی: رشتہ داروں کے ساتھ احسان، محبت، ان سے قریب ہونے، ان کی مدد کرنے، ان سے تکلیف دور کرنے اور ان کو دنیا و آخرت کے فائدے پہنچانے کو کہتے ہیں۔ «قال: ألَا تَرْضَيْنَ أنْ أصِلَ مَن وصلكِ، وأقطعَ مَن قطعكِ، قالت: بلى يا ربِّ، قال: فذاك» جس نے صلہ رحمی کی اللہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرے گا اور جس سے اللہ صلہ رحمی کرے، وہ دنیا و آخرت کی سعادت اور بھلائی کو پہنچ چکا۔ یقیناً اس کا اختتام جنت الفردوس میں اپنے رب کے جوار میں جگہ ملنا ہے۔ اس لیے کہ (جنت میں) پہنچنے کا آخری مرحلہ اپنے رب کے چہرے کی طرف دیکھنا ہے۔ اور جو شخص قطع تعلقی کرتا ہے اللہ اس سے قطع تعلقی کرے گا، اور جس سے اللہ تعالیٰ قطع تعلقی کرے وہ اللہ کے دشمن شیطان مردود کے ساتھ راندۂ درگاہ ہوگا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائےگا۔ جس پر سعدان کے خاردار پودے کی طرح کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس کے اوپر سے گزارا جائے گا تو کچھ لوگ صحیح سلامت گزر جائیں گے، کچھ زخمی ہو کر بچ نکلیں گے، کچھ ان سے الجھ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔ جب اللہ تعالی اپنے بندوں کے مابین فیصلے سے فارغ ہو جائے گا تو مسلمانوں کو بہت سے ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ ہوتے تھے اور وہ انہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے۔ تو وہ کہيں گے: اے ہمارے رب! تیرے کچھ بندے جو دنیا میں ہمارے ساتھ ہوتے تھے اور جو ہماری طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتےاور جہاد کرتے تھے، وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم کی طرف جاؤ اور ان میں سے جتنے لوگ جہنم میں ملیں، انہیں اس میں سے نکال لو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ انہیں اس حالت ميں پائيں گے کہ جہنم کی آگ نے انہيں ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، کسی کو قدموں تک، کسی کو نصف پنڈلی تک، کسی کو گھٹنوں تک، کسی کو چھاتیوں تک، کسی کو تہبند تک اور کسی کو گردنوں تک، لیکن چہروں پر اس کی لپٹ نہیں پہنچی ہوگی۔ وہ انہیں دوزخ میں سے نکال لیں گے اور پھر انہیں آب حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! آب حیات کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جنتیوں کا غسل ہے۔ پھر وہ ایسے نکلیں گے جیسے کھیتی نکلتی ہے۔ ایک جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے ساتھ آئے کوڑے پر خود رو گھاس اگ آتی ہے۔ پھر انبیاء کرام ہر اس شخص کی شفاعت کریں گے جو اخلاص کے ساتھ یہ گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ انہيں جہنم سے نکلوا لیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت فرمائے گا اور اس ميں کوئی ايک بندہ بھی ایسا نہيں چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا مگر اسے اس سے باہر نکال لے گا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔قیامت کےدن اللہ عزوجل پل صراط کو جہنم کے وسطی حصہ پر رکھ دے گا۔ پل پر سخت کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگوں کو اس پر سے گزرنے کا حکم دیا جائے گا۔ ان میں سے کچھ تو نجات پا جائیں گے اور صحیح سلامت گزر جائیں گے، آگ ان کو نہیں چھوئے گی۔ ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جو زخمی تو ہوں گے تاہم بحفاظت چھٹکارا پا جائیں گے۔ اور بعض جہنم کے اندر جا گریں گے۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا اور جنتیوں کو جنت اور دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا تو جنتی مومنوں کو کچھ ایسے لوگ نہیں ملیں گے جو دنیا میں ان کے ساتھ تھے اور انہی کی طرح نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور ان کے ساتھ جہاد کرتے تھے۔ تووہ لوگ اللہ عزوجل سے کہیں گے: ہمیں یہ لوگ اپنے ساتھ جنت میں دکھائی نہیں دے رہےحالانکہ وہ دنیا میں ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، زکوۃ دیتے ، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: جہنم کی طرف جاؤ اور اگر ان میں سے کوئی تمھیںجہنم میں ملے، تو اسے اس میں سے نکال لو۔ چنانچہ (جب وہ وہاں جائیں گے تو) انہیں اس حال میں پائیں گے کہ انہیں جہنم کی آگ نے ان کے اعمال کے بقدر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کچھ کے قدموں تک آگ آ رہی ہو گی، کچھ کی پنڈلیوں کے نصف تک، کچھ کے گھٹنوں تک، کچھ کے درمیان تک، کچھ کے پستانوں تک اور کچھ کی گردن تک آگ پہنچی ہو گی۔ تاہم آگ ان کے چہروں تک نہ آئی ہو گی۔ وہ ان کے بارے میں شفاعت کریں گے تو ان کو جہنم سے نکال کر آب حیات میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ ایسا پانی ہے جو اپنے اندر غوطہ لگانے والے کو زندہ کردیتا ہے۔ چنانچہ وہ اس سے ایسے نکلیں گے جیسے سیلاب کے بہاو کی جگہ پر بیج اگ آتا ہے ہے۔ پھر انبیاء کرام ہر اس شخص کے بارے میں شفاعت کر یں گے جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور وہ انہیں جہنم سے نکلوا لیں گے۔ پھر اللہ جہنم والوں پر رحمت وشفقت کرے گا اور اس میں سے کسی بھی ایسے شخص کو نکالے بغیر نہیں چھوڑے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدے کے لیے نہ مڑ سکے گی“۔
متفق علیہاللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی مبارک کھولے گا، تو ہر مومن مرد و عورت سجدے میں گر جائیں گے۔ تاہم منافقین جو دنیا میں ریاکاری کے لیے سجدہ کرتے تھے، سجدہ کرنے سے روک دیے جائیں گے اور ان کی کمریں ایک تختے کی طرح ہو جائیں گی اور وہ جھک نہ سکیں گے اور نہ سجدہ کر سکیں گے۔ اس لیے کہ وہ دنیا میں حقیقتاً اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے تھے بلکہ وہ اپنی دنیوی مقاصد کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ حدیث میں وارد پنڈلی (ساق) کی تاویل سختی، کرب وغیرہ سے کرنا جائز نہیں بلکہ اس کو بغیر تکییف و تمثیل اور بغیر تحریف و تعطیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب مسجد میں تشریف لے جاتے، تو فرماتے : ”أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ“۔ (میں اللہ عظیم کی، جود وسخا والے اس کے چہرے کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ چاہتا ہوں، مردود شیطان سے)۔ (عقبہ نے) کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے (حدیث مکمل کرتے ہوئے) کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے کہ اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ ہو گیا۔
رواه أبو داوداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب مسجد میں داخل ہوتے، تو کہتے: "میں پناہ لیتا ہوں عظیم اللہ کی۔" یعنی میں اللہ اور اس کی صفات کی پناہ لیتا ہوں۔ جود وعطا سے متصف اس کے چہرے کی" "اس کے غلبے کی" یعنی جس مخلوق پر چاہے اس پر اس کے غلبہ، قدرت اور قہر کی۔ "جو قدیم ہے"۔ یعنی ازلی و ابدی ہے۔ "دھتکارے ہوئے شیطان سے۔" یعنی جسے اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ہے۔ یعنی اے اللہ! مجھے اس کے وسوسے، برانگیختہ کرنے، سازشوں، نقصانات ، فریب کاریوں اور گمراہیوں سے محفوظ رکھ۔ کیوں کہ انسان کے گمراہ ہونے اور بھٹکنے وجہالت کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہوا کرتا ہے۔ اس کے بعد عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بس اتنا ہی کہا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ ہاں مگر اس حدیث کى تکمیل یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے والا شخص یہ دعا پڑھ لیتا ہے، تو شیطان کہتا ہے: اس داخل ہونے والے شخص نے مجھ سے اپنی ذات کو دن بھر اور رات بھر کے لیے محفوظ کر لیا۔