





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی طرف سے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر ہے، جو کہتا ہے کہ اے رب! یہ نطفہ ہے۔ اے رب! اب یہ علقہ (جما ہوا خون) بن گیا ہے۔ اے رب! اب مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری كر دے تو وہ پوچھتا ہے: اے رب! یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی؟ بدبخت ہو گا یا نیک بخت؟ اس کا رزق کتنا ہے؟ اس کی عمر کتنی ہو گی؟ اس طرح یہ سب باتیں اس کی ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں“۔
متفق علیہنبی ﷺ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ کی طرف سے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ رحم مادر کے امور کو سنبھالتا ہے۔ رحم سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں ماں کے پیٹ میں بچہ پرورش پاتا ہے۔ وہ فرشتہ کہتا ہے: ”أي ربّ نطفة“ یعنی یہ نطفہ ہے۔ نطفہ سے مراد مرد کا مادہ منویہ ہے۔ یہی مفہوم اس کے بعد والے جملے کا بھی ہے کہ: ”أي ربّ علقة“ یعنی اے رب! یہ علقہ بن چکا ہے۔ علقہ سے مراد گاڑھا خون ہے۔ پھر وہ کہتا ہے: ”أي ربّ مضغة“ یعنی اے رب یہ مضغہ بن چکا ہے۔ مضغہ گوشت کے ٹکڑے کو کہا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ان ادوار میں سے ہر ایک کی مدت چالیس دن ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اس کی پیدائش کو مکمل کرنا چاہتا ہے“ یعنی اس مضغہ کی پیدائش کو، کیوںکہ ان ادوار میں سے آخری دور یہی ہوتا ہے۔ 'القضاء' سے مراد ہے اس کی پیدائش کو پورا کرنا، بایں طور کہ اس میں روح پھونک دی جائے۔ جیسا کہ اس کی وضاحت ایک اور روایت سے ہوتی ہے۔ ایسا ایک سو بیس دن کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ پھر فرشتہ پوچھتا ہے: ”أي رب أذكر أم أنثى“ یعنی اے رب! میں اسے مرد لکھوں یا عورت؟ ”أشقي أم سعيد“ یعنی آیا میں اسے اہل دوزخ میں سے ایک بدبخت لکھوں یا پھر جنتیوں میں سے ایک خوش بخت؟ ”فما الرزق“ یعنی اس کا رزق کم ہے یا زیادہ اور کتنا ہے؟ ”فما الأجل“ یعنی اس کی عمر کتنی ہے، لمبی ہے یا مختصر؟ ”فيكتب كذلك في بطن أمه“ یعنی بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے کہ یہ سب ذکر کی گئی اشیا اللہ تعالی کے حکم کے مطابق لکھ دی جاتی ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفا روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: کرسی (اللہ کے دونوں) قدم رکھنے کی جگہ ہے اور عرش کی وسعت کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔
اسے ابنِ خزیمہ نے اپنی کتاب ”التوحید“ میں روایت کیا ہے۔ - اسے عبد الله بن احمد نے اپنی کتاب ”السنة“ میں روایت کیا ہے۔”الكُرسِيُّ مَوْضِع القَدَمَين“ یعنی وہ کرسی جسے اللہ تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے، وہ اللہ تعالی کے دونوں قدم رکھنے کا مقام ہے۔ کرسی کے بارے یہ معنی جسےابن عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر کیا ہے، یہی اہل سنت کے مابین معروف ہے اور یہی معنی ان سے محفوظ طریقے سے مروی ہے۔ باقی رہا ان سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد علم ہے تو وہ غیر محفوظ ہے۔ اسی طرح حسن رضی اللہ عنہ سے مروی یہ معنی کہ کرسی سے مراد عرش ہے، ضعیف ہے اور صحیح سلسلۂ سند سے ان سے مروی نہیں ہے۔ اس حدیث میں اللہ سبحانہ وتعالی کے لیے دو قدموں کی صفت کا اثبات ہے، یہ صفت اللہ تعالی کے لیے بغیر کیفیت، تمثیل، تاویل اور تعطیل کے ویسے ہی ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالی کی عظمت وکبریائی کے شایان شان ہے۔ ”والعَرْش لا يَقْدِرُ أحدٌ قَدْرَه“ یعنی عرش جس پر اللہ تعالی مستوی ہیں وہ ایک عظیم مخلوق ہے۔ اس کے حجم اور وسعت کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے محمد! اللہ تمام آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام زمینوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، تمام پہاڑوں کو ایک انگلی پرروک لے گا، تمام درختوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر کہے گا: میں بادشاہ ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ﴾ ”انہوں نے اللہ کی ویسے قدر نہ کی جیسے قدر کرنے کا حق تھا“۔
متفق علیہیہ حدیث اللہ تعالی کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالی تمام آسمانوں کو اپنے بزرگی والے عظیم ہاتھ کی انگلیوں میں سے ایک انگلی پر رکھ لیں گے۔ یہودی نے ان مخلوقات کا ذکر کیا جو بڑے حجم اور عظمت کے لحاظ سے معروف ہیں اور بیان کیا کہ ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالی ایک انگلی پر رکھ لیں گے۔ اگر اللہ تعالی چاہیں تو تمام آسمانوں اور زمینوں کو اور ان میں موجود جو مخلوقات ہیں، انہیں اپنے ہاتھ کی صرف ایک ہی انگلی پر رکھ لیں۔ یہ بطریق وحی انبیا علیہم السلام سے ملنے والے علم میں سے ہے۔ اسی وجہ سے نبی ﷺ نے یہودی کے کلام کی تصدیق کی، بلکہ آپ ﷺ کو اس کی بات پسند آئی اور آپ ﷺ اس سے خوش ہوئے۔ یہی وجہ ہے ک آپ ﷺ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ یہ ایک طرح سے آپ ﷺ کی طرف سے اس کی بات کی تصدیق تھی، جیسا کہ ایک اور روایت میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالی کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی:﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾ ”اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالیٰ کی کرنی چاہیے تھی، نہیں کی، ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے، وه پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے، جسے لوگ اس کا شریک بنائیں“۔ اس آیت میں اللہ تعالی کے لیے دو ہاتھوں کا اثبات ہے۔ آپ ﷺ نے اسے یہودی نے جو بات کہی تھی، اس کی تاکید اور اثبات کے لیے تلاوت کیا۔ اس لیے اس سلسلے میں ان لوگوں کے قول کی طرف چنداں توجہ نہیں کی جائے گی جو مذہب تعطیل کے قائل ہیں اور اللہ تعالی کے لیے انگلیوں کی صفت کی نفی کرتے ہیں، اس گمان میں کہ اللہ کے لیے انگلیوں کے اثبات کی وجہ سے اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہہ لازم آتی ہے۔ حالاںکہ یہ تعطیل کرنے والا شخص یہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی کے لیے اس صفت کے اثبات سے تشبیہہ لازم نہیں آتی۔ بالکل ایسے ہی، جیسے ہم اللہ تعالی کے لیے حیات، قدرت، قوت، سماعت اور بصارت جیسی صفات کا اثبات کرتے ہیں اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے مخلوق سے مشابہہ ہے۔ کیوںکہ اللہ سبحانہ تعالی تو. ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ ہے یعنی ”اس جیسی کوئی چیز نہیں، وه سننے اور دیکھنے واﻻ ہے“۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا : ’’اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میرا اس کے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ میرا بندہ جن چیزوں سے مجھ سے قریب ہوتا ہے، ان میں سب سے محبوب وہ چیزیں ہیں، جو میں نے اس پر فرض قراردی ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، تو پھر (اس کے نتیجے میں) مَیں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پیر بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اگر وہ کسی چیز سے میری پناہ چاہتا ہے تو میں اسے پناہ ضرور دیتا ہوں اور کسی چیز کے کرنے میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا تردد مومن کی روح قبض کرنے پر ہوتا ہے، جو موت کو ناپسند کرتا ہے اور مجھے اسے کسى ناگوار خاطر چیز میں ڈالنا ناپسند ہوتا ہے‘‘۔
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس حدیث قدسی میں بتایا کہ اللہ عز و جل نے فرمایا : جس نے میرے اولیا میں سے کسی ولی کو اذیت دی، ناراض کیا اور بغض رکھا، اس کے ساتھ میری جانب سے اعلان عداوت ہے۔ ولی سے مراد تقوی شعار مومن ہے۔ جس کے دامن میں ایمان اور تقوی کا جس قدر حصہ ہوگا، اسے اللہ کی ولایت کا اتنا حصہ نصیب ہوگا۔ مسلمان اللہ کا تقرب جن چيزوں سے حاصل کرتا ہے، اللہ کے نزدیک ان میں سے سب سے محبوب چیزیں وہ ہیں، جو اللہ نے اس پر فرض کی ہیں۔ اس میں اطاعتوں پر عمل آوری اور محرمات سے اجتناب دونوں داخل ہيں۔ مسلمان فرائض کے ساتھ نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرتا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے جب اسے اللہ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب اللہ اس سے محبت کرتا ہے تو اس کے درج ذیل چار اعضا کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے : اس کے کان کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ لہذا وہ وہی سنتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کی نگاہ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ وہی دیکھتا ہے، جسے دیکھنا اللہ کو پسند ہو۔ اس کے ہاتھ کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اپنے ہاتھ سے وہی کام کرتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو۔ اس کے پیر کے عمل کا صحیح رخ متعین کر دیتا ہے۔ وہ اسی سمت میں چلتا ہے، جو اللہ کو پسند ہو اور وہی کام کرتا ہے، جس میں خیر ہو۔ ساتھ ہی اگر اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے، تو اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر اللہ کی پناہ طلب کرتا ہے، تو اللہ اسے خوف سے نجات عطا کرتا ہے۔ اخیر میں اللہ تعالی نے فرمایا : مجھے کوئی کام کرتے ہوئے اتنا تردد نہيں ہوتا، جتنا تردد مومن کی جان قبض کرتے ہوئے اس کے اوپر رحم آنے کى وجہ سے۔ کیوں کہ موت کی الم ناکیوں کے پیش نظر اسے موت ناپسند ہوتی ہے اور اللہ ایسی چیزوں کو ناپسند کرتا ہے، جو مومن کے لیے باعث تکلیف ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتیں کفر کی باتیں ہیں : حسب و نسب پر طعنہ کسنا اور میت پر نوحہ کرنا۔"
رواه مسلماللہ کے رسول صلی اللہ علیہ لوگوں کے اندر پائی جانے والی دو باتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ دراصل کفر کے اعمال اور جاہلیت کے اخلاق ہیں۔ یہ دونوں اعمال ہیں : 1- لوگوں کے نسب پر طعنہ کسنا، کمیاں نکالنا اور ان پر اپنا بڑکپن دکھانا۔ 2- مصیبت کے وقت تقدیر سے بیزار ہوکر اونچی آواز سے رونا یا جزع فزع کرتے ہوئے کپڑے پھاڑنا۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے ہاتھ میں پیتل کا ایک چھلہ پہن رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس نے اسے مرض کی وجہ سے پہن رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے اتار دو، کیوں کہ یہ تمہاری کمزوری میں اضافہ ہی کرے گا۔ اگر اسے پہنے ہوئے تم مر گئے تو کبھی فلاح یاب نہیں ہوگے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے شرک کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو اس سے نجات دلانے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے ایک طرز عمل کو بیان کر رہے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس نے پیتل کا ایک کڑا پہن رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ اسے کس بات نے اس کے پہننے پر آمادہ کیا؟ اس آدمی نے جواب دیا کہ اس نے اسے اس لئے پہن رکھا ہے تا کہ وہ اسے درد سے محفوظ رکھے۔ آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ فوراسے اتار پھینکے اور اسے بتایا کہ یہ اس کے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ نقصان دہ ہے اور یہ اس بیماری کو اور زیادہ بڑھائے گا جس کے لیے اسے پہنا گیا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اگر مرنے کے وقت تک اس نے اسے پہنے رکھا تو وہ آخرت کی فلاح سے بھی محروم ہو جائے گا۔
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟" صحابہ نے جواب دیا: ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے، جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوۃ جیسے اعمال لے کر آئے گا۔ تاہم اس نے کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت دھری ہو گی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں اور اس پر واجب الاداء حقوق ابھی باقی رہے، تو ان لوگوں کے گناہ لے کر اس کے اوپر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ صحابہ نے جواب دیا: ہمارے درمیان مفلس وہ ہے، جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو۔ جواب سن کر آپ نے کہا: قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ ہوگا، جو اچھے اعمال جیسے نماز، روزہ اور زکوۃ وغیرہ کے ساتھ آئے، لیکن دنیا میں کسی کو گالی دے رکھی ہو، کسی کی عزت و آبرو پر تہمت لگا کر آیا ہو، کسی کا مال کھاکر انکار کر دیا ہو، کسی کو مارا اور ذلیل کیا ہو۔ لہذا اس کی نیکیاں لے کر مظلوموں کے درمیان بانٹنا شروع کر دیا جائے گا۔ اگر اس کی ستم رسانیوں کا حق ادا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئيں، تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس کے صحیفوں میں درج کر دیا جائے گا اور چوں کہ اس کے پاس نیکیاں باقی نہیں رہ جائيں گی، اس لیے اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرتا ہو اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ يہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو اس پر ان میں سے پہلے اونٹ کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔" عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔ ایک بھی گائے یا بکری کم نہیں دکھے گی۔ کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری روند کر چلی جائے گی، تو پہلی کو دوبار لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ايسے دن ميں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا،) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک تو وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا باعث) ہوتے ہیں، دوسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے ثواب کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ جو گھوڑے انسان کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام کے خلاف مقابلے کے ليے رکھتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں انسان اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھتا ہے اور ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو نہیں بھولتا۔ ایسے گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے مقصد سے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ کر رکھے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مختلف طرح کے اموال اور ان کی زکاۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن ملنے والی جزا کا ذکر کیا ہے۔ مثلا : 1- سونا، چاندی اور ان کا حکم رکھنے والے دیگر اموال اور تجارتی سامان۔ ان پر اگر زکاۃ واجب ہو جائے اور زکاۃ ادا نہ کی جائے، تو قیامت کے دن ان کو پگھلاکر پہلے تختیوں کی شکل میں ڈھالا جائے گا اور اس کے بعد ان تختیوں کو جہنم کی آگ میں تپاکر ان کے مالک کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغا جائے گا۔ جب جب ان کی گرمی ماند پڑ جائے گی، ان کو دوبارہ تپایا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔ 2- اونٹ کا جو مالک فرض زکاۃ اور اس کا حق ادا نہ کرتا ہو اور اس کا ایک حق یہ ہے کہ اس کا دودھ مسکینوں کو بھی پینے کے لیے دیا جائے، تو قیامت کے دن اس کے اونٹوں کو پہلے سے کہیں زیادہ فربہ حالت اور زیادہ تعداد میں لایا جائے گا، پھر اس کے مالک کو ان کے سامنے ایک ہموار اور وسیع و عریض زمین میں لٹا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ اونٹ اسے اپنے پیروں سے روندیں گے اور اپنے دانتوں سے کاٹیں گے۔ جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو پہلے اونٹ سے پھر یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔ 3- گائے اور بکری کا جو مالک ان کی فرض زکاۃ نہ دیتا ہو، قیامت کے دن اس کی گايوں اور بکریوں کو ان کی پوری تعداد میں اس طرح سامنے لایا جائے گا کہ ایک گائے یا بکری بی ادھر ادھر نہیں ہوگی۔ سب جانور بالکل صحیح و سالم ہوں گے۔ نہ کسی کا سینگ مڑا ہوا ہوگا، نہ کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا ہوگا اور نہ کوئی جانور بلا سینگ کا ہوگا۔ پھر ان کے مالک کو ایک وسیع و عریض اور ہم وار میدان میں ان کے سامنے لٹا دیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ گائيں اور بکریاں اسے اپنے سینگوں اسے ماریں گی اور اپنے پیروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری گزر جائے گی، تو پہلی گائے یا بکری سے پھر سے یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت مبں جانا ہے یا جہنم میں۔ 4- گھوڑا پالنے والا۔ دراصل گھوڑے تین طرح کے ہوا کرتے ہیں : 1- ایسا گھوڑا جو مالک کے لیے گناہ کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے نام و نمود، فخر اور اہل اسلام سے جنگ کے لیے پالا جائے۔ 2- ایسا گھوڑا جو انسان کے لیے پردے کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے اور پھر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہوئے اسے کھلانے پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا بہتر انتظام کیا جائے۔ 3- ایسا گھوڑا جو اجر و ثواب کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے مسلمانوں کی خاطر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے۔ یہ جب کسی چراگاہ یا باغ میں ہوتے ہيں، تو وہ اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا گدھے بھی گھوڑوں کے حکم میں ہيں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی مخصوص حکم نازل نہیں ہوا ہے، تاہم یہ منفرد اور جامع آیت موجود ہے، جس کے دائرے میں ہر طرح کی نیکیاں اور گناہ آ جاتے ہیں : [فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ] (الزلزلہ:7-8) (ترجمہ: پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا۔) یعنی جس نے اچھے ارادے سے گدھا پالا ہوگا، وہ اس کا ثواب سامنے دیکھے گا اور جو برے ارادے سے پالا ہوگا، اس کی سزا بھی سامنے دیکھے گا۔ اس آیت کی وسعتوں میں تمام اعمال داخل ہیں۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’عنقریب تم میں سے ہر شخص سے اس کا رب اس حال میں کلام فرمائے گا کہ آدمی اور اس کے رب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے، اپنی بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو سامنے اسے جہنم کی آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ چنانچہ تم آگ سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا (صدقے کرنے) کے ذریعے ہی سے ہو۔‘‘
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ قیامت کے دن ہر مومن اللہ تعالی کے سامنے اکیلا کھڑا ہوگا اور اللہ اس سے بلاواسطہ بات کرے گا۔ دونوں کے درمیان بات کا ترجمہ کرنے کے لیے کوئی ترجمان نہيں ہوگا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں دائيں بائيں دیکھے گا کہ شاید جہنم سے، جو اس کے سامنے موجود ہے، بھاگنے کا کوئی راستہ مل جائے۔ لیکن دائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اچھے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ بائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کے سوا کچھ نظر نہيں آئے گا۔ جب کہ آگے دیکھے گا، تو جہنم نظر آئے گی، جس سے وہ بچ کر نکل نہيں سکے گا، کیوں کہ اسے صراط سے گزرنا ہی پڑے گا۔ بعد ازاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اپنے اور جہنم کے بیچ صدقہ اور نیکی کے کام کو آڑ بنا لو۔ یہ چاہے کسی معمولی چيز، جیسے آدھی کھجور کا صدقہ کرکے ہی کیوں نہ ہو۔