





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا: سنو میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو وہ باتیں سکھا دوں کہ جن باتوں سے تم لا علم ہو، میرے رب نے آج کے دن مجھے وہ باتیں سکھا دیں ہیں، (اللہ تعالی نے فرمایا) میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا ہے وہ ان کے لیے حرام قرار دیے ہیں اور وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل میں نے نازل نہیں کی اور بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے (کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور (مجھ سے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور تمہارے ذریعہ ان کو بھی آزماؤں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو (مٹا) سکے گا اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں تو میں نے عرض کیا: اے پروردگار! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کردیں گے۔ تو اللہ نے فرمایا: آپ انہیں باہر نکالیں جس طرح انہوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں: ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ اور (دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور (تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاکدامن پاکیزہ اخلاق والا ہو اور عیال دار بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو۔ نیز آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں: وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔ (دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔ (تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔ اور آپ ﷺ نے (چوتھا) بخیل یا جھوٹے اور (پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ کے درمیان خطبہ دیا اور انہیں بتلایا کہ اللہ تعالی نے انہیں اس بات کاحکم دیا ہے کہ آپ ﷺ انہیں وہ چیز سکھلائیں جو ان کو معلوم نہیں ہیں جسے انہیں رب نے اس دن سکھلائے ہیں۔ چنانچہ ان باتوں میں سے جو اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو سکھلائی ہیں۔ اللہ تعالی کا یہ قول کہ ”میں نے اپنے بندے کو جو مال دے دیا ہے وہ اس کے لیے حلال ہے“ يعنی اللہ تعالی نے فرمایا: میں جو بھی مال اپنے بندوں میں سے کسی کو دوں تو وہ اس کے لیے حلال ہے اور جنہوں نے کچھ جانوروں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اس سے اسی کا انکار مراد ہے اور یہ کہ اُن کے (ان جانوروں کو) حرام کر لینے سے وہ حرام نہیں ہوجاتے۔ جس مال کا بھی بندہ مالک ہے وہ اس کے لیے حلال ہے مگر یہ کہ اس سے کوئی حق متعلق ہو جائے یا کوئی خاص دلیل وارد ہو جو اس کو اس عموم سے خارج کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا: ”اور میں نے اپنے سب بندوں کو (حق کے لیے) یکسو پیدا کیا ہے“ یعنی میں نے سب بندوں کو مسلمان بنایا اور بقول بعض: گناہوں سے پاک صاف بنایا اور بقول دیگر صراط مستقیم پر گامزن اور قبول ہدایت کی طرف متوجہ ہونے والا بنایا۔جب کہ بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد وہ عہد وپیمان ہے جو ابتدائے آفرینش کے وقت بنی نوعِ آدم سے لیا گیا تھا اور اللہ تعالی نے پوچھا تھا:کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا تھا کیوں نہیں! (یعنی بالکل)۔ اللہ تعالی کا قول: ”لیکن شیاطین میرے ان بندوں کے پاس آکر انہیں ان کے دین سے بہکانے لگے اور میں نے اپنے بندوں کے لیے جن چیزوں کو حلال کیا تھا وہ انہیں اُن کے لیے حرام قرار دینے لگے نیز وہ ان کو ایسی چیزوں کو میرے ساتھ شریک کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ جس کی کوئی دلیل میں نے نازل نہیں کی“۔ یعنی ان کے پاس شیاطین آئے اور انہیں بہلایا پھسلایا اور جس دین پر یہ تھے اس سے ہٹا کر انہیں باطل کی طرف مائل کر دیا، اور ان پر ان چیزوں کو حرام کر دیا جسے اللہ تعالی نے ان کے لیے حلال کیا تھا اور انہیں اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا حکم دیا ان چیزوں کی عبادت کر کے جن کی عبادت کرنے کا نہ تو اللہ نے حکم دیا اور نہ ہی ان کی عبادت کے استحقاق کی کوئی دلیل قائم کی۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہلِ کتاب کے (کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا“ یعنی اللہ تعالی نے رسول ﷺ کی بعثت سے قبل زمین والوں کی طرف دیکھا تو انہیں شرک اور گمراہی پر متفق پایا۔ چنانچہ اللہ نے ان سے سخت نفرت کی سوائے ان چند لوگوں کے جو اہلِ کتاب میں سے باقی تھے اور یہ وہ لوگ تھے جو بنا رد وبدل کیے اپنے سچے دین پر باقی تھے، جب کہ اہلِ کتاب کی اکثریت تحریف اور رد وبدل کا شکار ہو گئے تھے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ فرمان کہ: "میں نے تمہیں اس لیے بھیجا ہے تاکہ میں تم کو آزماؤں اور تمہارے ذریعہ ان کو بھی آزماؤں“ یعنی میں نے تجھ کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا تاکہ تمہیں آزماؤں کہ تبلیغِ رسالت، اللہ کے راستے میں کما حقہ جہاد کرنا اور اللہ کے راستے میں صبر اور اس کے علاوہ جس ذمہ داری کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے اس کی ادایئگی کا ظہور آپ سے بخوبی ہوا ہے اور آپ کے ذریعہ ان لوگوں کو آزماؤں جن کے پاس تجھ کو بھیجا، تو ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنے ایمان کو ظاہر کرتے ہیں اور اپنی فرماں برداری میں مخلص ہوتے ہیں اور کچھ پیچھے رہ جانے والے اور کفر و دشمنی کا اظہار کرنے والے ہیں اور ان میں سے بعض منافق ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی اسے آزمائے تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے کیونکہ اللہ تعالی بندوں کو ان سے واقع ہونے والی چیزوں کی بنیاد پر سزا دے گا نہ کہ اس گناہ کے واقع ہونے سے پہلے صرف اللہ تعالی کے علم رکھنے کی بنیاد پر ورنہ تو اللہ تعالی تمام چیزوں کے متعلق ان کے واقع ہونے سے قبل علم رکھتا ہے۔ ”اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے کہ جسے پانی نہیں دھو (مٹا) سکے گا“ اس کا معنی یہ ہے کہ میں نے تم پر قرآن مجید نازل کیا اور وہ سینوں میں محفوظ ہے، وہ ختم نہیں ہوگا، بلکہ یہ سدا باقی رہے گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ”اور تم اس کتاب کو سونے اور بیداری کی حالت میں بھی پڑھو گے“ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ نیند اور بیداری دونوں حالت میں آپ کے لیے محفوظ ہوگا اور بعض لوگوں نے کہا کہ تم اسے آسانی اور سہولت کے ساتھ پڑھتے رہوگے۔ اور نبی ﷺ کا فرمان: ”اور بلاشبہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا ڈالوں“ یعنی اللہ تعالی نے مجھے اس بات کاحکم دیا ہے کہ میں کفار قریش کو ہلاک اور انہیں قتل کروں۔ ”تو میں نے عرض کیا: اے پروردگار! وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کردیں گے“ یعنی وہ میرا سر توڑ ڈالیں گے اور اسے زخمی کر دیں گے جیسے روٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جا تا ہے۔ ”آپ انھیں باہر نکال دیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا“ یعنی اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ سے کہا، کفار قریش کو اسی طرح نکال دو جس طرح انہوں نے تمہیں نکالا تھا تاکہ (ان کے اعمال کا) بدلہ پورا ہوجائے، اگرچہ دونوں نکالنے میں واضح فرق ہے، کیونکہ ان کا نبی ﷺ کو نکالنا ناحق تھا جب کہ نبی ﷺ کا انہیں نکالنا حق تھا۔ ”اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گے“ یعنی: ان سے جہاد کریں ہم آپ کی نصرت وحمایت کریں گے۔ ”اور خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا“ یعنی اپنی استطاعت کے بقدر اللہ کے راستے میں خرچ کریں ہم دنیا و آخرت میں آپ کو اس کا بدلہ دیں گے۔ ”اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے“ یعنی جب آپ کفار سے قتال کرنے کے لیے لشکر بھیجیں گے تو ہم ویسے فرشتوں کی پانچ فوج بھیجیں گے جو مسلمانوں کی مدد کرے گی جیسا کہ غزوہ بدر میں کیا۔ ”اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں“ یعنی مسلمانوں میں سے جو لوگ آپ کی اطاعت کریں ان کو لے کر ان سے لڑیں جو کافروں میں سے آپ کی نافرمانی کریں۔ ”آپ ﷺ نے فرمایا جنتی لوگ تین قسم کے ہیں: (ایک) ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے۔ (دوسرا) ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے۔ (تیسرا) وہ آدمی کہ جو پاک دامن، پاکیزہ اخلاق والا ہو اور بال بچوں والا بھی ہو لیکن کسی کے سامنے اپنا ہاتھ نہ پھیلاتا ہو“۔ یعنی جنتیوں کی تین قسمیں ہیں: ایک وہ شخص جو حکم، غلبہ اور برتری والا ہے، اس کے باوجود وہ لوگوں کے درمیان انصاف کرتا ہے، ان پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ان پر احسان کرتا ہے، اس کے لیے خیر کے اسباب مہیا کر دیے گئے اور نیکی کے دروازے کھول دیے گئے۔ اور ایک وہ آدمی جو ہر چھوٹے بڑے پر مہربان ہے اور ہر اس شخص کے لیے اس کا دل نرم ہے جس سے اس کا خصوصی رشتہ ہے اور ہر مسلمان کے لیے عمومی طور پر۔ اور وہ شخص جو بال بچوں والا پاک دامن، حرام چیزوں اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچنے والا ہے وہ اپنے اور بال بچوں کے امور میں اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے والا ہے، پس اہل وعیال کی محبت اور ان کی روزی روٹی کا ڈر اسے اللہ پر بھروسہ چھوڑ کر مخلوق کے سامنے دامن پسارنے، حرام مال کے حصول اور اس میں مشغول ہوکر واجبی علم وعمل سے غافل ہونے پر نہیں ابھارتا۔ ”آپ ﷺ نے فرمایا دوزخی پانچ طرح کے ہیں: (ایک) وہ کمزور آدمی کہ جس کے پاس عقل نہ ہو اور دوسروں کا تابع (غلام) ہو اہل و مال کا طلبگار نہ ہو۔ (دوسرا) خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے۔ (تیسرا) وہ آدمی جو صبح شام تم کو تمہارے گھر اور مال کے بارے میں دھوکہ دیتا ہو۔ آپ ﷺ نے (چوتھا)بخیل یا جھوٹے اور(پانچواں) بدخو اور بیہودہ گالیاں بکنے والے آدمی کا بھی ذکر فرمایا“۔ یعنی جہنمیوں کی پانچ قسمیں ہیں ان کا پہلا ”وہ شخص جو ایسا کمزور شخص ہے جس کے پاس عقل نہ ہو“ یعنی وہ کمزور جس کے پاس ایسی عقل نہیں ہے جو اسے غیر مناسب کام کرنے سے روکے، جو تم میں سے ماتحت (غلام) ہیں نہ وہ گھر چاہتے ہیں اور نہ مال“ یعنی وہ نوکر چاکر جنہیں بیوی کی طلب نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ حلال سے منہ موڑ کر حرام کے مرتکب ہو جائیں اور نہ ہی وہ جدوجہد اور پاکیزہ کمائی کے ذریعہ حلال مال کے طلب گار ہوتے ہیں۔ دوسرا: ”وہ خیانت کرنے والا آدمی کہ جس کی حرص چھپی نہیں رہ سکتی اگرچہ اسے تھوڑی سی چیز ملے اور وہ اس میں بھی خیانت کرے“ یعنی اس پر کوئی ایسی چیز پوشیدہ نہیں رہتی ہے جسے حاصل نہ کیا جاسکتا ہو بایں طور کہ اس کا حصول ممکن نہ ہو مگر وہ اسے ڈھونڈنے لگتا ہے تاکہ اس چیز کے حاصل ہو جانے پر اس میں خیانت کرے یعنی یہ خیانت کے عیب سے متصف ہونے میں مبالغہ ہے۔ اور تیسرا دھوکے باز شخص اور چوتھا جھوٹا یا بخیل آدمی اور پانچواں گالیاں بکنے والا یعنی: بدزبان اور بد خلق شخص ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا لَكَ، ذَاكِرًا لَكَ، رَاهِبًا لَكَ، مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي“ اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر ۔ میری رہنمائی فرما اور ہدایت کو میرے لیے آسان فرما دے۔ اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما۔اے اللہ ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا ذکرکرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گِڑگڑانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ دعا فرماتے ہوئے کہتے : ”اے میرے رب! میری مدد فرما“ یعنی مجھے اپنا ذکر وشکر اور اچھی طرح اپنی عبادت کی توفیق عطا فرما، ”اور میرے خلاف کسی کی مدد نہ فرما“ یعنی میرے اوپر اس کو غالب نہ کر جو مجھے تیری بندگی سے روک دے خواہ وہ انسانی شیطانوں میں سے ہوں یا جنی شیطانوں میں سے، ”میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر“ یعنی کافروں کے خلاف میری مدد فرما اور انہیں میرے اوپر غلبہ نصیب نہ فرما، یا میرے نفس کے خلاف میری مدد فرما کیونکہ یہ سب سے بڑا دشمن ہے اور میرے خلاف برائی کا حکم دینے والے نفس کی مددنہ کرنا کہ میں ہدایت چھوڑ کر خواہشات نفس کی پیروی کروں۔ ”میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر“ یعنی میرے مکر کرنے والے دشمنوں کے خلاف مکر کر اور ان کے خلاف ایسا مکر کر کہ انہیں اس کا احساس تک نہ ہو، اور میرے ساتھ ایسا نہ کرنا، ’’مکر ‘‘ اللہ تعالی کی صفات فعلیہ ہے، لیکن مطلق طور پر اس صفت سے اللہ تعالی کو متصف نہیں کیا جائے گا بلکہ اس صفت سے اس وقت متصف کیا جاتا ہے جب یہ مدح کے طور پر ہو، مثلا اللہ تعالی کافروں کے خلاف مکر کرتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف مکر کرتا ہے جو مسلمانوں اور ان جیسے لوگوں سے مکر کرتے ہیں نیز اللہ تعالی سے صفتِ مکر کی نفی جائز نہیں ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے اسے اپنے لیے ثابت کیا ہے، چنانچہ ہم اسے اس کے لیے اسی طرح ثابت کریں گے، جیسا کہ اس کی شان کے مطابق ہے۔ ”میرے حق میں تدبیر فرما، میرے خلاف تدبیر نہ کر“ یعنی: نیکیوں کی طرف میری رہنمائی فرما اور میرے لیے ہدایت کی اتباع ، یا اس کی طرف رہنمائی کرنے والے راستوں کو آسان بنادے تاکہ اطاعت کو میں بوجھ نہ سمجھوں اور نہ عبادت سے اعراض کروں، ”اور جو میرے خلاف بغاوت کرے اس کے مقابلے میں میری مدد فرما“ یعنی اس کے خلاف میری مدد فرما جو مجھ پر ظلم وزیادتی کرے۔ ”اے اللہ! مجھے اپنا شکر گزار بنا“ یعنی نعمتوں پر، ”اپنا ذکر کرنے والا“ یعنی تمام اوقات میں ذکر کرنے والا بنا، ”ڈرنے والا بنا“ یعنی: خوشحالی اور تنگی میں ڈرنے والا بنا ، ”اپنا اطاعت گزار“ یعنی بہت زیادہ اطاعت گزار اور فرمانبردار بنا۔ ”اپنی طرف عاجزی کرنے والا“ یعنی خشوع خضوع کرنے والا بنا، ”اپنی طرف رجوع کرنے والا بنا“ یعنی: اپنی طرف توبہ کے ذریعہ رجوع کرنے والا بنا، معصیت سے رجوع کر کے اطاعت کی طرف لوٹنے کا نام توبہ ہے۔”اے میرے رب! میری توبہ قبول کر“ یعنی جملہ آداب وشرائط کے ساتھ اس توبہ کو صحیح بنادے، کہ وہ قبول ہونے سے نہ رہ جائے۔ ”میرا گناہ دھو دے“ یعنی: میرے گناہوں کو مٹا دے، ”اور میری دعا قبول فرما“ یعنی :میری فریاد سُن لے۔ ”اور میری دلیل کو مضبوط کر دے“ یعنی دنیا میں اپنے دشمنوں پر، یا میرے قول اور میری تصدیق کو دنیا میں، نیز منکر نکیر دو فرشتوں کو جواب دیتے وقت مضبوط بنا۔ ”میرے دل کو سیدھی راہ دکھا اور میری زبان کو درست کر دے“ یعنی:میری زبان کوٹھیک اور درست کردے تاکہ یہ سچ اور حق کے سوا کچھ نہ بولے۔ ”اور میرے دل سے میل کچیل نکال دے“ یعنی میرے دل سے کینہ،کپٹ، حقد وحسد وغیرہ کو نکال دے جو برے اخلاق میں سے ہیں اور سینے سے پیدا ہوکر دل میں بسیرا کر لیتے ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پرتو) تو جس پر یہ نور پڑ گیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کرگیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر(تقدیر کا) قلم خشک ہو چکا ہے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پید ا کیا، پھر ان پر اپنے نور میں سےکچھ ڈالا۔ جس کو یہ نور مل گیا اسے جنت کی راہ مل گئی اور جس سے وہ نور چوک گیا اور تجاوز کر گیا اور اُس تک نور نہیں پہنچ سکا تو وہ گمراہ ہو گیا اور حق کے راستے سے بھٹک گیا۔ کیوں کہ ہدایت و گمراہی ہر دو کی توفیق اللہ کے علم میں ہے۔ اس نے روز اول سے جو فیصلے کر دیے ہیں ان میں کوئی تغیر و تبدل نہیں آسکتا۔ اور قلم کا خشک ہو جانا اسی سے عبارت ہے۔
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے“۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عاصم سے پروں کے متعلق سوال کیا؟ تو انھوں نے مجھے بتانے سے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں: لیکن مجھے آپ کےکسی صحابی نے بتایا :”بے شک ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان (واقع فضا کو گھیرے ہوئے) ہے“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے جبریل کو جنت کے بالائی حصے میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ راوی نے عاصم بن ابی بہدلہ سے ان پروں کی ہیئت کے بارے میں سوال کیا؟ تو انھیں اس کے متعلق بتایا نہیں گیا۔ البتہ کسی صحابی نے انھیں بتایا کہ ہر پر اس قدر عظیم اور بڑا ہے کہ مشرق و مغرب کو گھیرے ہوئے ہے۔ دوسری صحیح احادیث میں بھی آیا ہے: ان کی بناوٹ کی بڑائی یعنی بھاری بھرکم جسامت نے آسمان و زمین کی درمیانی جگہ کو گھیر رکھا تھا۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں کہا: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ (سورہ نجم:۱۳) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پر سے مختلف رنگ کے یاقوت اور موتی گر رہے تھے۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فرمان: ”اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا“ کی تفسیر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ نبی ﷺ نے بتایا کہ آپ نے جبریل علیہ السلام کو جنت کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، ان کی اس ہیئت و خلقت میں دیکھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق فرمائی ہے۔ ان کے چھ سو پر تھے۔ ان کے پروں سے مختلف رنگ کے موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات جب میرا گزر ملأ اعلی میں جبرائیل کے پاس سے ہوا تو اللہ عز و جل کے خوف سے ان کی کیفیت ایسی تھی جیسے بوسیدہ ٹاٹ ہوتا ہے“۔
اسے ابنِ ابی عاصم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اسراء اور معراج کی شب جب انہیں اوپر لے جایا گیا تو ان کا گزر جبرائیل علیہ السلام کے پاس سے ہوا جو مقرب فرشتوں کے ہمراہ موجود تھے۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اللہ عز و جل کے خوف کی شدت کی وجہ سے پرانے اور رقیق کپڑے کی مانند ہوئے پڑے ہیں۔ یہ بات جبرائیل علیہ السلام کے علم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ جو شخص اللہ تعالی کا جتنا زیادہ علم رکھتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اس سے ڈرتا ہے۔
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے جب کہ لوگ رسول اللہ کو چھوڑ کر پسپا ہو چکے تھے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی طرف واقع ایک پہاڑ پر موجود بستیوں تک جا پہنچے تھے۔ بعدازاں وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ حنظلہ بن ابو عامر رضی اللہ عنہ اور ابو سفیان بن حرب کا آمنا سامنا ہوا۔ جب ابو سفیان پر حنظلہ رضی اللہ عنہ غالب آگئے تو شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور اپنی تلوار کے ساتھ ان پر حملہ آور ہو کر انہیں قتل کر دیا حالانکہ وہ ابو سفیان کو مار دینے کے بالکل قریب تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھی حنظلہ کو فرشتے غسل دے رہے ہیں، ان کی بیوی سے (اس کا سبب) پوچھو۔ (جب ان کی بیوی سے پوچھا گیا تو) اس نے جواب دیا کہ جب انہوں نے پکار سنی تھی تو وہ حالت جنابت میں ہی نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ا س پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے انہیں غسل دیا ہے۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔جنگ اُحد کے دن مسلمانوں کا پلڑا بھاری تھا لیکن بعد ازاں تیر اندازوں نے رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی کی تو شکست ہو گئی اور بعض لوگ رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو مدینے کی جانب موجود ایک پہاڑ کی بلندی پر واقع بستیوں تک جا پہنچے تاہم وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کی طرف پلٹ آئے۔ دورانِ معرکہ حنظلہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی مشرکین کے سرغنہ ابو سفیان بن حرب سے مڈبھیڑ ہو ئی۔ جب حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان پر قابو پا لیا اور وہ انہیں قتل کرنے ہی والے تھے تو مشرکین میں سے ایک شخص شداد بن اسود نے انہیں دیکھا اور حنظلہ رضی اللہ پر تلوار کا وار کر کے انہیں قتل کر دیا۔ جب معرکہ ختم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا کہ فرشتے حنظلہ رضی اللہ کو غسل دے رہے ہیں اور صحابہ کو حکم دیا کہ وہ ان کی بیوی سے ان کے بارے میں دریافت کریں۔ جب صحابہ کرام نے ان کی بیوی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جب جہاد کی پکار سنی تو وہ حالتِ جنابت میں تھے اور اسی حالت میں وہ نکل کھڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو بتایا کہ حالتِ جنابت میں شہید ہوجانے کی وجہ سے فرشتوں نے انہیں غسل دیا۔
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا اور ان کے لیے قبر تیار کی اور کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔
اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔جب آدم علیہ السلام وفات پا گئے تو فرشتوں نے انہیں پانی سے طاق مرتبہ غسل دیا، ایک مرتبہ، یا تین مرتبہ ،یا پانچ مرتبہ۔ ان کے لیے قبر کھودی گئی اور اس میں ہی ایک جانب شگاف کر کے اسی میں انہیں دفن کر دیا اور فرشتوں نے کہا کہ یہی سنت ان کی اولاد میں باقی رہے گی“۔ یعنی غسل اور مذکورہ کیفیت پر تدفین ان کی اولاد کے ساتھ بھی کی جائے گی جیسا کہ ان کے باپ کے ساتھ کیا گیا ہے اور یہی طریقہ ان کے ہدایت یافتہ اولاد اختیار کریں گے ۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھجوروں کے کھلیان میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ ان کا گھوڑا بدکنے لگا، آپ رضی اللہ عنہ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، آپ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے، میں اس کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح کوئی چیز میرے سر پر ہے، وہ چراغوں سے روشن ہے اور وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا- صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کےرسول! میں رات کے وقت اپنے کھلیان میں قرآن پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بِدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ انھوں نےعرض کیا: میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بِدکنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ انھوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ ابن حضیر کہتے ہیں کہ میں پڑھ کر فارغ ہوا تو یحییٰ اس کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے اور میں نے ایک سائبان کی طرح دیکھا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور وہ اوپر کی طرف چڑھا یہاں تک کہ اسے میں نہ دیکھ سکا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔
متفق علیہاُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے اس مکان میں قرآن پڑھ رہے تھے جہاں کھجوروں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، ان کا گھوڑا ایک کنارے بندھا ہوا تھا، ان کا بیٹا یحیٰ اسی کے قریب سویا ہوا تھا، جب انہوں نے تلاوت کی تو ان کا گھوڑا کود پھاند مچانے لگا، پھر جب وہ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ساکت ہو گیا، دوبارہ انہوں نے پڑھنا شروع کیا پھر وہ کود پھاند مچانے لگا، اس طرح تین بار ہوا تو اسیدرضی اللہ عنہ ڈرے کہ کہیں ان کا بیٹا یحیٰ گھوڑے کے پاؤں سے روندا نہ جائے، انہوں نے تلاوت ترک کردی اور گھوڑے کے پاس جا کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کہ وہ کیوں اچھل کود مچا رہا ہے، انہوں نے اس کے اوپر ایک بدلی کی طرح دیکھا جس میں چراغ کے مشابہ کچھ چیزیں تھیں، وہ بدلی آسمان کی طرف چڑھنے لگی یہاں تک کہ وہ اسے دیکھنے پر قادر نہ رہے، صبح اسید رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اوپر بیتا حادثہ کہہ سنایا تو نبی ﷺ نے ان کا خوف دور کرنے، ان کے اس بلند مرتبہ سے آگاہ کرنے اور ان کی طمانیت و سکون کو مزید مؤکد کرنے کے لیے ان سے فرمایا: ”ابن حضیر پڑھتے رہو“ تاکید کے لیے آپ ﷺ نے یہ تین مرتبہ فرمایا، یعنی اسی طرح تلاوت کرتے رہو، اس پر مداومت برتو جس کے سبب یہ عجیب وغریب واقعہ پیش آیا (در اصل آپ ﷺ نے) انہیں اس بات کا درس دیتے ہوئے یہ کہا کہ اس طرح کی کوئی چیز مستقبل میں اگر نمودار ہوتو اپنی تلاوت کو ترک مت کرنا بلکہ اس عظیم فضیلت کی خاطر مسلسل تلاوت کرتے رہنا، پھر آپ ﷺ نے بتایا کہ یہ فرشتے تھے جو تلاوتِ قرآن کو سن رہے تھے اور اگر وہ صبح تک پڑھتے رہتے تو فرشتے صبح تک سنتے رہتے، لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔