





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔ قرآن کے آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی جو اپنے پڑھنے والے کی طرف سے حجت قائم کر رہی ہوں گی“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن قرآن اور اس کے پڑھنے والوں کو لایا جائے گا جو اس پر دنیا میں عمل کرتے تھے۔ قرآن کے آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی جو اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑ رہی ہوں گی۔" تاہم رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں قرآن پڑھنے کو اس پر عمل کرنے کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں ان کی دو اقسام ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہے جو اس پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی اس میں دی گئی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ اس کے احکام کو بجا لاتے ہیں۔ قرآن ان کے خلاف حجت ہو گا۔ اور دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اس میں دی گئی خبروں پر ایمان رکھتے ہیں، ان کی تصدیق کرتے ہیں، اس کے احکام پرعمل کرتے ہیں۔ ان کے لیے قرآن پاک حجت ہو گا اور روزِ قیامت ان کی طرف سے جھگڑے گا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔اس کی تائید اللہ تعالی کے اس قول سے ہوتی ہے: ﴿كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ (سورۂ ص: 29) ”یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر اس لیے نازل فرمائی ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور وفکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں“۔ ”لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ“ یعنی وہ اس کے معانی کو سمجھیں۔ ”وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ“ یعنی اس پر عمل کریں۔ اللہ تعالی نے عمل کو تدبرکے بعد ذکر کیا کیونکہ غور و فکر کے بغیر عمل کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ غور و فکر سے علم حاصل ہوتا ہے اور عمل، علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ بہرحال اہم بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے پڑھا جائے، اس پر عمل کیا جائے، اس کی خبروں پر ایمان رکھا جائے اور اس کے احکام کو بجا لایا جائے بایں طور کہ اللہ کے حکم کی پیروی کی جائے اور اس کی منع کردہ شے سے اجتناب کیا جائے۔ جب قیامت کا دن ہو گا تو اس دن قرآن اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کرے گا۔
عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا اس میں تھا کہ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“۔
اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے جو مکتوب تحریر مایا تھا“ یعنی عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ جب نجران کے قاضی تھے تو آپ ﷺ نے انہیں ایک تفصیلی مکتوب لکھ کر دیا تھا جس میں بہت سے احکامِ شریعت جیسے فرائض و صدقات اور دیات وغیرہ کا بیان تھا۔ یہ ایک مشہور مکتوب ہے جسے امت نے قبول کیا ہے۔ ”قرآن کو صرف طاہر ہی چھوئے“ یہاں چھونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص قرآن پاک کو بغیر کسی آڑ کے براہ راست ہاتھ لگائے۔ اس بنیاد پر اگر آدمی کسی ایسی آڑ کے پیچھے سے اسے اٹھائے جو اس سے الگ ہو مثلاً وہ اسے کسی تھیلی یا بیگ میں اٹھائے، یا لکڑی وغیرہ سے اس کے اوراق پلٹے تو یہ اس ممانعت کے دائرے میں نہیں آئے گا کیونکہ اس صورت میں چھونے کا عمل نہیں ہوا ہے۔ یہاں قرآن سے مراد وہ تختیاں، اوراق اور چمڑے وغیرہ ہیں جن پر قرآن لکھا گیا ہے، یہاں قرآن سے مراد کلام نہیں ہے کیونکہ کلام کو چھوا نہیں بلکہ سنا جاتا ہے۔ ’’سوائے طاہر کے‘‘ طاہر کا لفظ چار معانی میں مشترک ہے: اول: طاہر سے مراد مسلمان ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ﴾ ”مشرک تو ہیں ہی ناپاک“۔ دوم: اس سے مراد وہ شخص ہو جو نجاست سے پاک ہو، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ نجس نہیں ہے“۔ سوم: اس سے مراد وہ شخص ہے جو جنابت سے پاک ہو۔ چہارم: طاہر سے مراد باوضو شخص ہے۔ اس حدیث میں شریعت کی رو سے طہارت کے ان سبھی معانی کے مراد ہونےکا احتمال ہے اور ہمارے پاس کوئی ایسی دليل يا قرينہ نہیں ہے جس کی بنا پر ہم ان میں سے کسی ایک کو دیگر معانی پر ترجیح دے سکيں۔ چنانچہ اولیٰ یہی ہے کہ اس لفظ کو اس معنی پر محمول کیا جائے جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھا ہے اور وہ حدثِ اصغر سے طاہر شخص ہے۔ کیوں کہ یہ معنی یقینی ہے اور جمہورِ علماء بشمول ائمۂ اربعہ اور ان کے متبعین کے مسلک کے بھی موافق ہے۔ نیز اسی میں احتیاط ہے اور یہی اولی ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعے بہت سے لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے"۔ یعنی جو لوگ اس قرآن کو سیکھتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے اور پڑھتے ہیں، ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں بلندیاں عطا فرماتا ہے اور بعض کو دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے۔ جو قرآنی کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کرکے اس کی احکامات پر عمل کرتا ہے اور نواہی سے بچتا ہے، اس سے راہ نمائی حاصل کرتا ہے، اس کے بیان کردہ اخلاق فاضلہ کے مطابق خود کو ڈھالتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بلندیاں عطا کرتا ہے؛ کیوںکہ یہی قرآن اصل علم، علم کا سرچشمہ اور پورا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿یرفَعِ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ ”اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے، جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیے گئے ہیں، درجے بلند کر دے گا اور آخرت میں اس کے ذریعے بہت ساری قوموں کو نعمتوں والی جنت میں بلندیاں عطا کریں گے۔ جہاں تک ان لوگوں کی بات ہے، جنھیں اللہ قرآن کے ذریعے ذلیل کرتا ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں، جو اس کی تلاوت بہتر انداز میں کرتے ہیں؛ لیکن اس سے تکبر کرتے ہیں، اس کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق نہیں کرتے، اس کے احکامات پر عمل نہیں کرتے، اس کی خبروں کو جان بوجھ کر جھٹلاتے ہیں، جیسے گزشتہ انبیا کے واقعات یا آخرت کے بارے میں قرآن کی خبریں وغیرہ۔ ان تمام امور میں شک و شبہ کی روش اپناتے ہیں-والعیاذ باللہ- اور دل سے یقین نہیں کرتے۔ بسا اوقات ان کا یہ جان بوجھ کر انکار کا رویہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بھی اس کا انکار کرتے ہیں، اس کے احکامات سے روگردانی کرتے ہیں، اوامر پر عمل نہیں کرتے اور نہ ہی ممنوعات سے بچتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا۔ والعیاذ باللہ!
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، میں نے کان لگا کر سنا کہ وہ ایسی قراءتوں کو پڑھ رہے ہیں جو نبی ﷺ نے مجھے نہیں پڑھائی تھیں، قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھوں مگر میں ٹھہرا رہا جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی چادر یا اپنی چادر ان کے گلے میں ڈال دی، میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے، میں نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے، پھر میں ان کو گھسیٹے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لایا، میں نے کہا یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا : عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام سے فرمایا پڑھو :انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ عمر تم پڑھو: چنانچہ میں نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں اسی طرح اتری ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نےفرمایا کہ دیکھو یہ قرآن سات حروف(زبانوں) پر اترا ہے، جس طرح تمہیں آسان معلوم ہو پڑھو۔
متفق علیہعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ انہوں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا، وہ ایسی قرأتوں کو پڑھ رہے تھے جو عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت سے بہت سارے الفاظ میں مختلف تھیں جب کہ عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے اس سورہ کو پڑهی تھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ ہشام رضی اللہ عنہ غلط پڑھ رہے ہیں قریب تھا کہ وہ نماز میں ہی ان پر حملہ کر بیٹھتے مگر وہ ٹھہرےرہے اور صبر کیا یہاں تک کہ انہوں نے سلام پھیرا، پھر انہوں نے اپنی چادر سے ان کے گلے کو پکڑ لیا، اور ان سے کہا کہ تمہیں یہ سورت کس نے سکھائی؟ ،ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی ﷺ نے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ﷺ نے یہی سورت جو تم نے پڑھی ہے مجھے خود سکھائی ہے مگر اس قرأت کے علاوہ جس کو تم پڑھ رہے ہو۔ پھرعمر رضی اللہ عنہ ان کو گھسیٹتے ہوئے نبی ﷺ کے پاس لائے، چونکہ عمر رضی اللہ عنہ اللہ کے معاملے میں بڑےسخت تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا :یا رسول اللہ! میں نے انہیں سورۂ فرقان کو دوسرے طریقے سے پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ آپ نے مجھے جس طرح سے وہ پڑھتے ہیں اس کے خلاف پڑھایا ہے، اور آپ سے بھی اس طرح پڑھتے ہوئے میں نے نہیں سنا، چنانچہ نبی ﷺ نے فرمایا :عمر !تم اسے چھوڑ دو، پھر آپ ﷺ نے ہشام رضی اللہ عنہ سے فرمایا ’’پڑھو ‘‘! انہوں نے اسی طرح پڑھا جس طرح عمر نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے اور وہ غلطی پر نہیں تھے جیسا کہ عمر نے گمان کیا تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ پڑھیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا ”ہاں اسی طرح اتاری گئی ہے‘‘ یعنی یہ سورت ایسے ہی اتاری گئی ہے جس طرح سے عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھی ہے اور جس طرح سے ہشام نے پڑھی ہے، پھر آپ ﷺ نےفرمایا ”بے شک یہ قرآن سات حروف (لہجات) پر اتارا گیا ہے، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھو،، لہذاعمر اور ہشام دونوں ہی اپنی قرأت میں صحیح ہیں،کیونکہ قرآن ایک حرف (لہجے) سے زیادہ پر اتارا گیا ہے، بلکہ سات حروف (لہجوں) پر اتارا گیا ہے، ہشام رضی اللہ عنہ کی قرأت میں عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں آیتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں تھا، ہاں اختلاف صرف حروف میں تھا، اسی وجہ سے نبی ﷺنے ہر ایک سےان کی تلاوت سننے کے بعد فرمایا تھا، ہاں قرآن ایسے ہی نازل کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ” بے شک یہ قرآن سات حروف پر اتارا گیا ہے ، جس طرح آسان معلوم ہو پڑھیں‘‘۔ یعنی اپنے آپ کو ایک ہی حرف (لہجے) میں پڑھنے کا پابند نہ بناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نےتمہارےاوپر کشادگی کی ہےاور تمہارے لیے آسانی پیدا کیا ہے کہ قرآن کو سات حروف پر پڑھنے کے لیے کہا۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی رحمت ہے، لہذا اللہ ہی کے لیے ہر قسم کی حمد وثنا ہے۔ علماء نے سات حروف کی تعیین میں بہت اختلاف کیا ہے، اور یہاں اس سے مقصود جو ظاہر ہے حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہ عربی زبان کے کئی وجوہ (لہجے) مراد ہیں، چنانچہ قرآن شروع زمانہ اسلام میں آسانی کے لیے انہیں طریقوں پر اترا ہے، اس لیے کہ عرب بٹے ہوئے اور مختلف تھے ان سب کی الگ الگ لغت تھی، جو ایک قبیلے کی ہوتی وہ دوسرے قبیلے کے پاس مِنْ وعَنْ نہ ہوتی تھی، لیکن ان سب کے درمیان مذہب اسلام نے اتحاد پیدا کر دیا، وہ ایک دوسرے سے مل کر رہنے لگے، اسلام کی وجہ سے کینہ وعداوت ختم ہو گئی اور سب نے دوسرے کی زبان کو بھی جان لیا، چنانچہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس مہم کے لیے تیار ہوئے اور سات حروف کے بجائے سب کو ایک ہی حرف (لہجۂ قریش) پر جمع کردیا اور اس کے علاوہ جتنے نسخے تھے سبھی کو خاکستر کردیا،تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔
عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو شداد بن معقل نے ان سے پوچھا: کیا نبی ﷺ کچھ چھوڑ کر گئے؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔ عبد العزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ ہم محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا کہ آپ ﷺ نے صرف وہی کچھ چھوڑا ہے جو مصحف کے دو دفتیوں کے مابین ہے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔دو جلیل القدر تابعی یعنی عبد العزیز بن رفیع رحمہ اللہ اور شداد بن معقل رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے سوال کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنے وفات کے بعد کوئی شے چھوڑ کر گئے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات کے بعد صرف اور صرف قرآن ہی کو چھوڑا ہے جو مصحف کے دونوں دفتیوں کے مابین ہے۔ پھر وہ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ کے پاس آئے اور ان سے بھی یہی سوال کیا ۔ اس حدیث سے روافض کے مذہب کا ابطال ہوتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ قرآن میں علی رضی اللہ عنہ کی امامت کی نص موجود تھی لیکن صحابہ نے اسے چھپا لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں اور محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ علی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ لوگوں میں سے یہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہے۔ اگر واقعی کوئی ایسے بات ہوتی جس کا روافض دعوی کرتے ہیں تو اس سے آگاہ ہونے کا سب سے زیادہ حق انہی کا تھا اور ان سے بہرحال یہ چھپی نہ رہ سکتی۔ بلکہ خود علی رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح کی بات مروی ہے۔
اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹے کی آواز ہو، اور یہ وحی مجھ پر بہت سخت گزرتی ہے، چنانچہ جب فرشتے کی ساری باتیں مجھے یاد ہو جاتی ہیں تو یہ موقوف ہو جاتی ہے، اور کبھی فرشتہ انسان کی شکل میں میرے پاس آتا ہے، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتا ہے تو میں وہ جو کچھ کہتا ہے اُسے یاد کر لیتا ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر تی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ سخت جاڑے کے دن آپ پر وحی اترتی پھر ختم ہو جاتی اور آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا۔
متفق علیہحارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سےپوچھا اور کہا یا رسول اللہﷺ! آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ کبھی تو فرشتے (اور وہ جبریل علیہ السلام ہیں جو) وحی لے کر آتے ہیں چنانچہ اس وحی لانے والے فرشتے کی آواز قوت میں گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور یہ وحی نبی ﷺ پر بہت سخت اور تکلیف دہ ہوتی تھی جس کی وجہ سے نبی ﷺ بہت سخت مصیبت اور پریشانی میں پڑ جاتے، چنانچہ جب فرشتے کی بتائی ساری باتیں نبیﷺ کو یاد ہو جاتیں اور انہیں سمجھ لیتے تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔ اس قدر تیز آواز میں وحی آنے کا مقصد یہ ہوتا کہ آپ ﷺ دنیا سے ایک دم غافل ہو جائیں اور ان کا ذہن خالی ہو جائے جس کی بنا پر نبیﷺ اسے سمجھ لیتے کیونکہ اب انہیں اس وحی کے علاوہ ان کے کان اور دل کو کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی۔ نیز آپ ﷺ نے حارث بن ہشام کو مزید بتایا کہ کبھی تو جبریل علیہ السلام انسان کی شکل میں مثلاً دِحیہ کلبی صحابی کی شکل میں، یا ان کے علاوہ کسی دوسرے کی شکل میں میرے پاس آتے ہیں، چنانچہ وہ مجھ سے بات کرتے ہیں تو میں ان کا کہا یاد کر لیتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت جاڑے کے دن میں آپ پر وحی اترتے ہوئے دیکھا ، پھر جب وحی ختم ہو جاتی تو وحی کی شدت سے آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ نکلتا، ایسا اس لیے ہوتا کہ وحی کی وجہ سے نبی ﷺ کو بہت سخت مصیبت اور پریشانی ہوتی تھی۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”جب اللہ کے نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتی، تو اس کی وجہ سے آپ کو تکلیف پہنچتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی ،تو نزول وحی کے بوجھ اور اس کے حصول کی پریشانی کی وجہ سے آپ کو بے چینی و تکلیف لاحق ہوتی اور آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔ آپ ﷺ وحی کا بشدت اہتمام کرتے، حقوقِ بندگی اور شکرِ الٰہی کی بجا آوری کے متعلق مطالبۂ وحی سے ڈرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم و خبر کی تعظیم کرتے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روايت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَكَ﴾ (القیامۃ: 16) کی تفسیر میں فرمایا کہ نبی ﷺ نزولِ قرآن کے وقت بہت سختی محسوس فرمایا کرتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو ہلاتے تھے۔ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ویسے ہی اپنے ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں جس طرح آپ ﷺ ہلاتے تھے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بھی اپنے ہونٹ ویسے ہی ہلاتا ہوں جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہلائے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ ”اے محمد! قرآن کو جلد جلد یاد کرنے کے لیے اپنی زبان نہ ہلاؤ، اس کا جمع کر دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہے“۔ (القیامۃ: 17) ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے ”قرآن آپ ﷺ کے دل میں جمع دینا اور پڑھا دینا ہمارے ذمہ ہےں، ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ ”پھر جب ہم پڑھ چکیں تو اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو“ (القیامۃ: 18) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (اس کا مطلب یہ ہے) کہ آپ اس کو خاموشی کے ساتھ سنتے رہیں۔ پھر یقیناً یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ اس کو پڑھیں (یعنی اس کو محفوظ کر سکیں)۔ چنانچہ اس کے بعد جب رسول الله ﷺ کے پاس جبرائیل علیہ السلام آتے تو آپ ﷺ اسے (توجہ سے) سنتے۔ جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس (وحی) کو اسی طرح پڑھتے جس طرح جبرائیل علیہ السلام نے اسے پڑھایا ہوتا تھا۔
متفق علیہابن عباس رضی اللہ عنہما بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ نزولِ وحی کے وقت بہت زیادہ سختی اور بے چینی محسوس کرتے تھے۔ جبرائیل علیہ السلام کے وحی مکمل کرنے سے پہلے ہی آپ ﷺ جو کچھ ان سے سنتے اسے اپنے ہونٹوں کو ہلا کر پڑھنا شروع کر دیتے اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں یہ نہ ہو کر آپ ﷺ کے یاد کر لینے سے پہلے ہی جبرائیل علیہ السلام چلے جائیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے سامنے بیان کیا کہ نبی ﷺ کیسے اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس حالت میں دیکھا تھا اور اس کو سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی اپنے شاگردوں کے سامنے بیان کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿لا تُحَرِّكْ به لسانَك لِتَعْجَلَ به إنَّ علينا جَمْعَه وقُرآنَه﴾ یعنی قرآن کو جلدی جلدی لینے کی غرض سے اپنی زبان کو نہ ہلاؤ۔ اسے جمع کرنا اور تمہارے سینے میں بٹھا دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ یعنی جب جبرائیل پڑھ کر فارغ ہو جائیں تو (اس کے پیچھے پیچھے پڑھو) اور خاموشی کے ساتھ سنو۔ پھر تمہارا بعینہ اسی طرح پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس جب بھی جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے تو آپ ﷺ خاموشی سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو نبی ﷺ اس وحی کو ویسے ہی پڑھتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو پڑھایا ہوتا۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک آدمی کے لیے یہ بری بات ہے کہ وہ کہے کہ میں اتنی اور اتنی آیتیں بھول چکا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ اسے بھلا دیا گیا ہے۔ تم پابندی کے ساتھ قرآن کى تلاوت اور اس کا پیہم مذاکرہ کیا کرو, کیوں کہ وہ لوگوں کے دلوں سے اتر جانے کے معاملے میں اونٹوں کی رفتار سے بھی کہیں تیز ہے"۔
متفق علیہاس حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس آدمی کی مذمت کی ہے، جو کہے کہ میں یہ اور وہ آیتیں بھول چکا ہوں، کیوں کہ یہ قرآن کو یاد رکھنے کے معاملے میں سستی روا رکھنے اور غفلت سے کام لینے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن کی دیکھ بھال اور اسے یاد رکھنے کے معاملے میں سستی کی وجہ سے اسے قرآن کو بھولنے کی سزا دی گئي ہے۔ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تلاوت قرآن کی پابندی، اسے یاد رکھنے اور اس کا دور کرتے رہنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ وہ سینوں سے نکل بھاگنے کے معاملے میں اونٹ سے بھی کہیں آگے ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بطور خاص اونٹ کا ذکر اس لیے کیا، کیوں کہ وہ پالتو جانوروں کے ما بین بدکنے میں سب سے آگے ہے اور بدک جائے تو اسے پکڑنا بڑا دشوار ہوتا ہے۔