





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”منافق کو سید (یعنی آقا) نہ کہو کیوں کہ اگر وہ (حقیقت میں) سید ہے بھی تو (تب بھی ایسا کہہ کر) تم اپنے رب کو ناراض کرو گے“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: منافق اگر کسی اعتبار سے اپنی قوم کا سردار اور سرکردہ شخص ہو اور آپ اسے سید یعنی آقا کہہ کر پکاریں تو ایسا کرنے سے آپ اللہ تعالی کی ناراضگی مول لیں گے کیوں کہ ایسا کہنے میں اس کی تعظیم ہوتی ہے حالاں کہ وہ ان افراد میں سے ہے جو تعظیم کے مستحق نہیں ہوتے۔ اور اگر وہ اپنی قوم کا سردار یا سرکردہ شخص نہ ہوا تو ایسا کہنا جھوٹ اور منافقت کے زمرے میں آئے گا۔ چنانچہ دونوں ہی صورتوں میں منافق کے لیے سید یعنی آقا کا لفظ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے اور یہی حال کافر، فاسق اور بدعتی شخص کا ہے۔ ایسا شخص بالکل بھی اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کے لیے سید (سردار) کا لفظ بولا جائے۔ یہ ممانعت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد آنے والے تمام لوگوں کے لیے عام ہے، عہد صحابہ میں منافقوں کی دو قسمیں تھی: ایک وہ منافق جنہیں صرف اللہ کے رسول ﷺ اور آپ کے رازدان حذیفہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے، دوسری قسم ان منافقوں کی تھی کہ جن کے نفاق کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جانتے تھے جیسے عبد اللہ بن اُبی۔ اسی دوسری قسم پر یہ حدیث منطبق ہوتی ہے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کی یہ جگہیں جن اور شیطان کے موجود رہنے کی جگہیں ہیں، جب تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء میں جائے تو یہ دعا پڑھے: ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ یعنی میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنّ مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔بلاشبہ قضائے حاجت کے مقامات، جنات اور شیاطین کے بسیرے ہوتے ہیں جہاں وہ بنی آدم کو تکلیف پہنچانے اور انہیں خرابی و خلل میں مبتلا کرنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں کیونکہ یہ ایسی جگہیں ہیں جہاں شرمگاہیں کھولی جاتی ہیں اور یہاں اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا جاسکتا، لہذا جب مسلمان قضائے حاجت کے مقام پر آئے تو یہ دعا پڑھے ”أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الـخُبْثِ والـخَبَائِثِ“ ( میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جن مردوں اور ناپاک جن عورتوں سے) یعنی میں شیاطین مرد اور عورت کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتا ہوں اور اسی کی حمایت و حفاظت میں آتا ہوں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: "صحابہ کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ پیارا نہیں تھا۔ اس کے باوجود جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آپ اس چیز کو ناپسند کرتے ہیں"۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں انس رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک کوئی بھی آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ لیکن اس بے پناہ محبت کے باوجود جب وہ آپ کو آتے ہوئے دیکھتے، تو آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی آپ کے لیے کھڑا ہو۔
ابوجُحَیْفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ "میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابو جحیفہ وھب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ، اس حدیث میں یہ خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ کا یہ طریقہ نہیں تھا کہ آپ ٹیک لگا کر اس طرح کھائیں کہ کسی تکیہ یا تکیہ لگانے کی کوئی اور چیز کا سہارا لیے اپنے ایک پہلو پر ٹیک لگائیں یا اس طرح کہ اپنا ایک ہاتھ زمین پر رکھیں اور اسی پر ٹیک لگائیں بلکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام اس طرح کی بیٹھک سے بچا کرتے تھے کیونکہ یہ حالت و کیفیت، بسیارخوری وخوب کھانے کی موجب بنتی ہے اور زیادہ کھانا، سستی وبوجھل پن اور چستی کا خاتمہ کرنے والی چیز ہے، نیز بسیار خوری کے جسمانی صحت پر مضر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہ ٹیک لگا کر کھائے گا تو کھانے کی گزرگاہ، سیدھی رہنے کے بجائے ایک جانب ہوجائے گی اور وہ اپنی فطری حالت میں نہ رہے گی بلکہ بسااوقات اس کی وجہ سے بھاری نقصان کا سامنا ہوتا نیز یہ کہ کھانے کے دوران ٹیک لگانا، ان حالتوں میں سے ہے جو تکبر پر دلالت کرتی ہیں اور تواضع و انکساری کے منافی ہوتی ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں کھانے اور پینے کے آداب میں سے ایک ادب کی وضاحت کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس برتن میں سانس لینا اور پھونک مارنا منع ہے جس میں سے کھایا یا پیا جاتا ہے۔ برتن میں سانس لینے سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کئی نقصانات پائے جاتے ہیں جیسے سانس چھوڑ کر پینے والے کے بعد (دوسرے) پینے والے کے لیے وہ برتن اور اس کا مشروب مکدر ہو جاتا ہے جیسے کوئی شخص بیک وقت سانس لیتا ہے اور پیتا بھی ہے تو اکثر اوقات اس کی وجہ سے دم گھٹنے کی شکایت ہوتی ہے، لہذا سنت سے ثابت ہے کہ برتن کے باہر تین سانس لیتے ہوئے پانی پینے میں، بہت زیادہ حفاظت، بہت خوشگواری اور بہت زیادہ لطف اندوزی کا باعث ہوتا ہے۔ نیز کھانےاور پینے میں پائی جانے والی گرمی کے سبب یا اس میں پائی جانے والی کسی چیز کو دور کرنے کے لئے پھونک مارنے کی ممانعت بھی اس حدیث میں موجود ہے۔ یہ اس لیے کہ کھانے اور پینے کی اشیاء کا تحفظ کیا جائےتاکہ تھوک یا پانی سے متعلق کسی بدبو کے اثر سے وہ مکدر نہ ہونے پائے۔
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیری ماں، پھر تیرا باپ، پھر درجہ بہ درجہ جو تمہارے قریبی لوگ ہیں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے ساتھ احسان کرنے پر ابھارا گیا ہے، اور ان سب میں سب سے زیادہ حق دار ماں کو بتایا گیا ہے پھر اس کے بعد اس کا باپ ہے پھر اس کےبعد جو زیادہ قریبی ہو پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی ہو، لیکن سب سے زیادہ حق دار ماں ہے اس کی وجہ اس کی اپنی اولاد کی تئیں کثرت سے پریشانی اور تکلیف اٹھانا نیز خدمت وشفقت ہے، اور اس لیے بھی کہ حمل ور ضاعت اور تربیت کی فضیلت بھی اسی کے ساتھ خاص ہے اور حمل میں تھکاوٹ ہے پھر اس کے بعد وضع حمل کی مشقت ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا﴾ ”اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور برداشت کر کے اسے جنا“۔ (سورہ احقاف: 15) اور جب ماں کا درجہ باپ سے مقدم ہے تو اس کے علاوہ دوسرے لوگوں پر بدرجہ اولی مقدم ہو گا، اور ماں باپ کے ساتھ حُسنِ سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ ان پر خرچ کیا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو مارے، تو چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو تادیب وتعزیر کے لیے، اللہ تعالیٰ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ میں یا لڑائی وغیرہ میں کوئی کسی شخص کو مارے، تو وہ اس کے چہرے پر ہر حال میں دور رہے۔ چاہے اللہ کے حدود میں سے کسی حد کی تنفیذ کا معاملہ ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ بنو آدم کا چہرہ کرامت و بزرگی والا اور سب سے اچھا عضو ہے۔ چہرہ وہ جگہ ہے، جس کے ذریعے کسی سے سامنا ہوتا ہے اور اس پر مارنے سےیا تو اس کا کوئی حصہ تلف ہوگا یا اس کے کسی حصے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔ اس لیے اس سے بچنا واجب اور چہرے پر مارنا حرام ہے؛ خواہ حق کے طور پر ہو یا ظلم کے طور پر ہو۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے ہجرت کرکے آیا، تو آپ نے پوچھا: "کیا یمن میں تمھارا کوئی ہے؟" اس نے جواب دیا: میرے والدین ہیں۔ پوچھا: "دونوں نے تمھیں اجازت دی ہے؟" جواب دیا: نہیں۔ فرمایا: "واپس جاکر دونوں سے اجازت مانگو۔ اگر دونوں اجازت دے دیں، تو جہاد میں شریک ہو سکتے ہو، ورنہ ان کی بات مانو اور ان کى خدمت میں لگے رہو"۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ایک آدمی یمن سے آیا اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے اس کے والدین کے بارے میں پوچھا اور معلوم کیا کہ آیا اس نے ان سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت لی ہے یا نہیں، تو پتہ چلا کہ اس نے ان سے اجازت نہیں لی ہے۔ لہذا، آپ نے اسے حکم دیا کہ واپس جاکر ان کے ساتھ حسن سلوک کرے, ان کى فرمانبرداری کرے اور ان کی خدمت میں لگا رہے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد میں والدین کی اجازت کا اعتبار ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "بلاشبہ تم لوگ امارت کی چاہت رکھوگے، لیکن وہی امارت قیامت کے دن تمھارے لیے ندامت کا سبب بنے گی, یپس کیا ہی اچھی ہوتی ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہوتی ہے دودھ چھڑانے والی"۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔یہ حدیث امارت اور اس کے حکم میں داخل دیگر عہدوں جیسے منصب قضا وغیرہ کی اہمیت اور آخرت میں درپیش ہونے والے اس کے بے شمار لوازمات اور ذمے داریوں سے آگاہ کرتی ہے۔ اسی طرح اسے طلب کرنے اور اس کی چاہت رکھنے سے بھی گریزاں رہنے کی تاکید کرتی ہے۔ لیکن یہ ممانعت اس کے لیے ہے، جو اہلیت نہ رکھنے کے باوجود تگ و دو کرکے منصب حاصل کرے اور اس کی حرص رکھے۔ اس کے برخلاف، اگر کسی کے اندر اہلیت ہو اور اس کی جانب سے کسی تگ و دو کے بنا ہی اسے ذمے داری دی جائے اور وہ عدل ونصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس ذمے داری کو نبھائے، تو اسے اللہ کی مدد حاصل ہوگی، جیسا کہ اس کا ذکر دیگر حدیثوں میں آیا ہے۔ اس حدیث میں امارت کی تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ایک بہترین دودھ پلانے والی ہے، کیونکہ وہ مال و دولت، جاہ و منصب اور حکم نافذ کرنے کی طاقت جیسے منافع دیتی ہے اور قیامت کے دن اپنے لوازمات اور حسرت سامانیوں کی وجہ سے بری دودھ چھڑانے والی ہے۔