





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ آپ نے فرمایا: "کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں؟" تین دفعہ آپ نے یہ سوال کیا۔ اس شخص نے جواب دیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: "یہ شہادت ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے"۔
رواه أبو يعلى والطبراني والضياء المقدسيایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے ہر طرح کے گناہ کر ڈالے ہيں۔ کوئی صغیرہ اور کبیرہ گناہ مجھ سے نہیں چھوٹا ہے۔ کیا میری مغفرت ہو سکے گی؟ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا: کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کے رسول ہیں؟ آپ نے تین دفعہ یہ سوال دہرایا۔ اس شخص نے جواب دیا: ہاں! میں یہ گواہی دیتا ہوں۔ تو اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادتین کی فضیلت بتلائی اور یہ بتایا کہ اس شہادت سے گناہ مٹ جاتے ہیں اور توبہ اپنے ماقبل کے تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ علما کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لیے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لیے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو (اس کے لیے) آگ ہے، آگ ہے"۔
رواه ابن ماجهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ اس بات سے منع کیا ہے کہ حصول علم کے پیچھے علما کے مقابلے میں فخر و مباہات کرنے اور یہ باور کرانے کا مقصد کارفرما ہو کہ میں بھی تمہاری طرح عالم ہوں، نادانوں اور کم عقلوں سے بحث و مباحثہ کرنے یا مجلسوں میں سرداری اور صدارت حاصل کرنے جیسے ارادے چھپے ہوئے ہوں۔ جس نے ایسا کیا وہ ریا ونمود اور حصول علم میں اخلاص کے فقدان کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہے۔
نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "اللہ نے (اسلام کی) مثال صراط مستقیم (سیدھی راہ) سے دی ہے، جس کے دونوں طرف دو دیواریں ہیں۔ ان دیواروں میں مختلف دروازے ہیں اور تمام دروازوں پر پردے لگے ہیں۔ صراط (راستے) کے آغاز میں ایک داعی ہے جو کہہ رہا ہے: اے لوگو! تم سب کے سب اس راستے پر چل پڑو اور دائیں بائیں نہ مڑو۔ جب کہ ایک داعی صراط (راستے کے) کے اوپر سے پکار رہا ہے اور جب کوئی ان دروازوں میں جھانکنا چاہتا ہے، تو وہ کہتا ہے: تیری بربادی ہو، اسے مت کھولو، اگر تم نے اسے کھول دیا، تو تم اس میں داخل ہوجاؤگے۔ صراط سے مراد اسلام ہے اور دو دیواروں سے مراد اللہ کی حدود واحکام ہیں اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں اور وہ داعی جو صراط (راستے کی ابتدا) میں پکار لگاتا ہے، وہ اللہ کی کتاب ہے اور صراط (راستے کے) اوپر سے پکارنے والا داعی اللہ کی جانب سے نصیحت وموعظت کرنے والا ہے، جو ہر مسلمان کے دل میں ودیعت ہے"۔
رواه الترمذي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے اسلام کی مثال ایک ایسے سیدھے راستے سے دی ہے، جس میں کوئی کجی نہ ہو۔ اس راستے کے دونوں کناروں پر دو دیواریں ہیں جو اسے دو طرف سے گھیری ہوئی ہیں۔ اس سے مراد اللہ کی حدود و احکام ہیں۔ ان دونوں دیواروں کے درمیان کچھ کھلے ہوئے دروازے یعنی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں۔ ان دروازوں پر پردے لگے ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے گزرنے والا دروازے کے اس پار رہنے والے کو دیکھ نہیں پاتا۔ راستے کے آغاز میں ایک داعی ہے، جو لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے اور انہیں کہہ رہا ہے کہ اس راستے پر چل پڑو اور دائیں بائیں نہ جھانکو۔ یہ داعی اللہ کی کتاب ہے۔ ایک دوسرا داعی بھی ہے، جو راستے کے اوپر سے پکارتا ہے۔ جب بھی گزرنے والا ان دروازوں پر لٹکے پردے کو تھوڑا بھى اٹھانا چاہتا ہے، تو یہ داعی اسے ڈانٹتا ہے اور کہتا ہے کہ تیری بربادی ہو، اسے مت کھولو! کیوں کہ اگر تم نے اسے کھول دیا تو تم اس میں داخل ہوجاؤگے اور اپنے آپ کو داخل ہونے سے نہیں روک سکوگے۔ یہ داعی اللہ تعالی کی جاننب وہ نصیحت کرنے والا ہے، جو ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ جب گھر جائے تو اسے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں ملیں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: اگر کوئی نماز میں تین آیتیں پڑھ لے، تو وہ اس کے لئے تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ نماز میں تین آیتیں تلاوت کرنے کا اجر و ثواب اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ انسان اپنے گھر میں تین بڑی بڑی موٹی تازی حاملہ اونٹنیاں پائے۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قرآن کو اونچی آواز سے پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی دکھا کر صدقہ کرے اور دھیمی آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے، جیسے کوئی مخفی طور پر صدقہ دے"۔
رواه أبو داود والترمذي والنسائياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ بلند آواز سے تلاوت کرنے والا علانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پست آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا مخفی طور پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں ایک ایسا شخص تھا کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی حدیث سنتا، تو اس سے اللہ مجھے جتنا فائدہ پہنچانا چاہتا، پہنچاتا۔ جب آپ کا کوئی صحابی مجھے کوئی حدیث سناتا، تو میں اسے قسم کھانے کو کہتا۔ جب وہ میرے کہنے پر قسم کھا لیتا، تو میں اس کی بات کی تصدیق کرتا۔ مجھے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے اور انھوں نے سچ کہا ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے ہوئے سنا ہے : "کوئی بھی بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر طہارت حاصل کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے، پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت کر دیتا ہے"۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں) (سورہ آل عمران : 135)
رواه أبو داود والترمذي والنسائي في الكبرى وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی بندہ کوئی گناہ کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر کھڑے ہوکر اپنے اس گناہ سے توبہ کرنے کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھتا ہے اور پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ اس کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آیت کریمہ پڑھی : {والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله فاستغفروا لذنوبهم ومن يغفر الذنوب إلا الله ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون} (اور جب کبھی وہ کوئی بڑا گناہ کر جائیں یا اپنے اوپر ظلم کر بیٹھیں، تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پھر اللہ سے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کون ہے، جو گناہوں کی مغفرت فرمائے؟ اور اپنے کیے پر جان بوجھ کر اڑے نہیں رہتے۔) (سورہ آل عمران : 135)
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا اور عرض کیا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو جہاد میں اجر اور شہرت کی طلب میں شریک ہوتا ہو؟ اسے کیا ملے گا؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا : "اسے کچھ نہيں ملے گا۔" اس نے اپنا سوال تین بار دوہرایا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار یہی کہا کہ "اسے کچھ نہيں ملے گا۔" پھر فرمایا : "بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے حصول میں کیا جائے۔"
رواه النسائيایک آدمی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس آدمی کا حکم پوچھنے آیا، جو جہاد میں اللہ سے اجر و ثواب اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے شریک ہوتا ہو۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ ایسے شخص کو اجر و ثواب ملے گا یا نہیں؟ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے جواب یہ دیا کہ اسے کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا۔ کیوں کہ اس نے اپنی نیت میں غیراللہ کو شریک کر لیا۔ اس شخص نے اپنا یہ سوال اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے تین بار رکھا اور آپ نے ہر بار یہی جواب دیا کہ اسے کوئی اجر و ثواب نہيں ملے گا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کے یہاں کسی عمل کے قبول ہونے کا ایک قاعدہ بیان فرما دیا۔ قاعدہ یہ ہے کہ اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے، جسے پورے طور پر اللہ کے لیے اور اس کی خوش نودی کے حصول کی خاطر کیا جائے اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اسے کوئی سروکار نہ ہو۔“
اسے ترمذی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔اللہ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ ایک مسلمان کے اسلام کی ایک اہم ترین خوبی اور اس کے کامل مومن ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ ایسی باتوں اور کاموں سے دور رہے جو اس سے سروکار نہ رکھتے ہوں، اس کی مطلب کے نہ ہوں اور اس کے لیے سودمند نہ ہوں۔ یا پھر ایسے دینی و دنیوی امور سے دور رہے، جو اس سے سروکار نہ رکھتے ہوں۔ کیوں کہ بنا سروکار کی چیزوں میں مشغولیت سروکار کی چیزوں سے دور کر سکتی ہے یا ایسی چیزوں کی جانب لے جا سکتی ہے، جن سے بچنا ضروری ہے۔ ویسے بھی قیامت کے دن انسان سے خود اس کے اعمال کے بارے میں ہی پوچھا جائے گا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے : "مومن طعنہ مارنے والا، لعنت کرنے والا، بےحیا اور فحش گو نہیں ہوتا ہے۔"
رواه الترمذياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ ایک کامل ایمان والے مومن کو زیب نہيں دیتا کہ کسی کے نسب پر زبان درازی کرے، بہت زیادہ گالی گلوج اور لعن طعن کرے اور حیا و شرم سے عاری ہوکر قول وفعل کے ذریعہ فحش وقبیح صفت سے متصف ہو۔