





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے، تو اپنے ہاتھ کو نہ پونچھے، یہاں تک کہ اس کو خود چاٹ لے یا اسے کسی اور کو چٹا دے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص کھانا کھا چکے، وہ اپنے ہاتھ کو اس وقت تک نہ تو پونچھے اور نہ ہی دھوئے، جب تک اسے چاٹ نہ لے یا اسے چٹا نہ دے۔ بعض روایات میں اس حکم کی علت یہ آئی ہے کہ اس شخص کو نہیں معلوم کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہے۔ اس وجہ سے نبی ﷺ نے انگلیوں کے چاٹنے کا حکم دیا کہ ہو سکتا ہے کہ برکت اس کھانے میں ہو، جو ان کے ساتھ لگا ہوا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، آپ ﷺ اسے پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کرلیا کرتے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوالیں، پھر (ایک دن) آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ نے اسے پھینک دیا، اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: آپ ﷺ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے حکم دیا کہ آپ کے لئے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی جائے۔ آپ ﷺ انگوٹھی کو پہنتے وقت اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف کر لیتے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں ویسا ہی کیا جیسا آپ ﷺ نے کیا۔ پھر ایک عرصہ کے بعد نبی ﷺ منبر پر بیٹھے تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی کے اندرونی طرف رکھتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اتار پھینکا اور فرمایا: اللہ کی قسم! میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا، اور یہ اس کی حرمت نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے، چنانچہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی میں اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جسے ایک زخم لاحق تھا۔ وہ اسے برداشت نہ کر سکا چنانچہ اس نے ایک چھری لی اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ خون نہ رکنے کی وجہ سے وہ مر گیا۔اللہ عز و جل نے فرمایا: میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے پاس لانے میں جلدی کی چنانچہ میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔
متفق علیہنبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو ہم سے پہلے گزر جانے والی قوموں میں سے ایک آدمی کے بارے میں بتایا جو ایک بہت ہی المناک قسم کے زخم میں مبتلا تھا جسے وہ برداشت نہ کر سکا۔ اپنے ایمان اور یقینِ قلب کی کمزوری کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمت اور اس کی شفا سے مایوس ہو گیا اور یہ نہ کر سکا کہ اللہ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس زخم کی تکلیف پر صبر کرتا۔ چنانچہ اس نے ایک چھری لے کر اس سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔ جس کی وجہ سے اس کا خون بہنا شروع ہو گیا جو رکا ہی نہیں یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہو گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس بندے نے میری رحمت اور شفا کو بعید جانا اور میری طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر و استقلال کا مظاہرہ نہ کیا اور اس فعلِ حرام کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنی روح کو میری طرف بھیجنے میں جلدی کی اور یہ گمان کیا کہ خود کو مار کر کے اس نے اپنے مدتِ عمر کو کم کر دیا ہے چنانچہ میں نے (اس جرم کی پاداش میں) اس کے لیے جنت حرام کر دی۔ اس لیے دوزخ اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کی پیشگی علم اور اس کی مشیئت و قضا میں اس قاتل کا یہ فعل پہلے سے موجود تھا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا سوائے اتنی مقدار کے۔ (یہ فرما کر) رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے اپنی دو انگلیوں یعنی انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کو اوپر اٹھایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا سوائے اتنی مقدار کے جو دو یا تین یا چار انگشت کے برابر ہو۔
متفق علیہرسول اللہ ﷺ نے مردوں کو ریشم پہننے سے منع فرمایا ماسوا اس مقدار کے جسے اس ممانعت سے مستثنیٰ کیا گیا ۔ متفق علیہ (صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی) حدیث میں جس مقدار کو مستثنیٰ کیا گیا ہے وہ دو انگشت کے برابر ہے، جب کہ صحیح مسلم کی روایت میں (دو) یا تین یا چار انگشت کا استثناء ہے۔ جو مقدار زیادہ ہے اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ چنانچہ لباس میں چار انگشت کے برابر ریشم کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیں جنھیں میں صبح شام پڑھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوں کہا کرو: ((اللهم فاطِرَ السماوات والأرض عالمَ الغيبِ والشهادة؛ ربَّ كُلِّ شَيءٍ ومَلِيكَه، أَشْهدُ أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من شرِّ نفسي وشرِّ الشيطان وشِرْكِهِ)) ترجمہ: ”اے اللہ،اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے غیب و حاضر کو جاننے والے،اے وہ ذات جو ہر شے کی رب اور مالک ہے! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ میں اپنے نفس کے شر نیز شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب صبح کرو تب یہ (دعا) پڑھو، جب شام کرو تب بھی پڑھو اور جب اپنے بستر پر جاؤ اس وقت بھی پڑھو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔یہ ذکر ان اذکار میں سے ہے جنہیں صبح و شام کیا جاتا ہے اور جس کی تعلیم نبی ﷺ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دی جب انھوں نے عرض کیا کہ: "مجھے سکھائیں"۔ چنانچہ نبی ﷺ نے انھیں صبح و شام کیا جانے والا ذکر اور دعا سکھائی اور ان سے کہا کہ وہ یوں کہا کریں: " اللهم فاطرَ السماواتِ والأرضِ"۔ یعنی اے اللہ، اے آسمانوں اور زمین دونوں کے پیدا کرنے والے!۔ "فاطر" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انھیں بغیر کسی سابقہ نمونے کے پیدا کیا اور بنا کسی پیشگی مثال کے انھیں عدم سے وجود بخشا۔ "عالم الغيب و الشهادة"۔ یعنی ان اشیاء کو بھی جانتا ہے جو مخلوق کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور ان کو بھی جانتا ہے جنھیں وہ دیکھتے ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ حال، مستقبل اور ماضی سب سے واقف ہے۔ "رب كل شئ و مليكه"۔ یعنی اے ہر چیز کے رب اور ہر چیز کے مالک!۔ اللہ تعالی ہر چیز کے رب اور مالک ہیں۔ "أشهد أن لا إله إلا أنت"۔ میں اپنی زبان اور دل سے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اللہ کے علاوہ جس کی بھی پوجا کی جاتی ہے وہ باطل ہے اور عبودیت میں اس کا کوئی حق نہیں۔ عبودیت کے حق دار صرف اور صرف اللہ عز و جل ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "أعوذ بك من شر نفسي"۔ کیوں کہ نفس کی شر انگیزیاں ہوتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ’’وما أبرئ نفسي إن النفس لأمارة بالسوء إلا ما رحم ربي‘‘ (یوسف: 53)۔ ترجمہ: "اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی سکھاتا ہے اِلاّ یہ کہ جس پر میرا رب مہربانی کرے"۔ جب اللہ آپ کو آپ کے نفس کی شر انگیزیوں سے نہ بچائے تو وہ آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور برائی پر اکساتا ہے۔ لیکن اگر اللہ آپ کو اس کے شر سے محفوظ کر دے تو آپ کو ہر نیکی کی توفیق دیتا ہے۔ نبی ﷺ نے اپنی دعا کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ فرمایا: " ومن شر الشيطان وشِرْكه"۔ ایک اور روایت میں " و شَرَكه" کے الفاظ ہیں۔ یعنی آپ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ وہ آپ کو شیطان کے شر اور اس شرک سے پناہ دے جس پر وہ اکساتا ہے یا اس کے جال سے بچائے۔ "الشَرَک" اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے مچھلیاں اور پرندے وغیرہ شکار کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ شہوات و شبہات وغیرہ شیطان کے جال ہیں جن سے وہ انسانوں کا شکار کرتا ہے۔ " وأن اَقترفُ على نفسي سوءا"۔ یعنی خود اپنے آپ کے ساتھ کچھ برا کروں یا پھر کسی مسلمان کو برائی پہنچاؤں۔ نبی ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اس ذکر کو صبح و شام اور اس وقت کیا کریں جب اپنے بستر پر لیٹ جائیں۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شام ہوتی، تو نبی ﷺ یہ دعائیہ کلمات کہتے: "أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ" ترجمہ: ہم نے شام کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام حاصل رہا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ ﷺ ان کے ساتھ یہ کلمات بھی کہتے: "لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ربِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ "۔ ترجمہ: بادشاہی اسی کی ہے اور ہر قسم کی حمد بھی اُسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے میرے رب! میں تجھ سے اِس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اور اُس کی بھی جو اس کے بعد ہے۔ اور اس رات کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اُس سے بھی جو اس کے بعد ہے۔ اے رب! میں سستی سے اور بڑھاپے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے رب ! میں جہنم اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب صبح کرتے، تو بھی یہی دعا پڑھتے، لیکن "أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ" فرماتے۔ترجمہ: ہم نے صبح کی اور اللہ کی بادشاہت کو دوام رہا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔صبح وشام کے اوقات میں نبی ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ﷺ یہ مبارک دعائیں پڑھا کرتے تھے۔ آپ ﷺ فرماتے: (أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ): یعنی ہم شام کے وقت میں داخل ہوئے اور اللہ کی بادشاہت کو دوام رہا اور وہ اسی کے لیے خاص ہے۔ (وَالْحَمْدُ لِلَّهِ) یعنی ہم شام میں داخل ہوئے اور تعریف سب کی سب اللہ ہی کے لیے ہے، یعنی شام کے آنے پر ہم نے جان لیا کہ بادشاہت صرف اور صرف اللہ کی ہے اور حمد کا سزاوار بھی صرف وہی ہے۔ (وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) یعنی الوہیت میں وہ یکتا ہے۔ (رب إني أسألك من خير هذه الليلة) یعنی میں تجھ سے اس رات کی ذات کی بھلائی طلب کرتا ہوں۔ (وخير ما فيها) یعنی ہر اس شے کی بھلائی مانگتا ہوں، جو اس میں وجود میں آتی اور وقوع پذیر ہوتی ہے اور اس میں ٹھہرتی ہے۔ (وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها) یعنی راتوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور ان میں دین و دنیا کو لاحق ہونے والے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (اللهم إني أعوذ بك من الكَسَل) یعنی استطاعت کے ہوتے ہوئے بھی نیکیوں میں سستی سے پناہ چاہتا ہوں۔ ایسا تب ہوتا ہے، جب استطاعت کے با وجود نفس نیکی پر آمادہ نہ ہو۔ (وسوء الكِبَر) یعنی بڑھاپے اور سٹھیا جانے سے پناہ مانگتا ہوں۔ یعنی کبر سنی سے جس کی وجہ سے بعض قوائے جسمانی کام چھوڑ دیتے ہیں اور کمزور پڑ جاتے ہیں اور اس سے انسان عمر کے گھٹیا ترین دور میں پہنچ جاتا ہے: کیوںکہ اس عمر میں مقصد حیات یعنی علم وعمل دونوں چھوٹ جاتے ہیں۔ بڑھاپے کی برائی سے مراد وہ اشیا ہیں جو کبر سنی سے پیدا ہوتی ہیں، جیسے عقل و دماغ کا خراب ہوجانا اور خبط میں مبتلا ہونا، نیک اعمال نہ کر سکنا اور اس طرح کی کسی اور ابتر حالت کا شکار ہونا۔ ایک روایت میں ”الکبر“ باء پر سکون کے ساتھ یہ لفظ آیا ہے۔ اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے: نعمت کے حصول پر سرکش ہو جانا اور لوگوں پر بڑائی جتانا۔ (وعذاب القبر) یعنی خود قبر کے عذاب سے یا پھر جن باتوں کی وجہ سے یہ ہوتا ہے، ان سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (وإذا أصبح) یعنی آپ ﷺ جب صبح کرتے، تو اسی طرح کہتے یعنی وہی کچھ کہتے، جو شام کو کہتے تھے، لیکن ”أمسينا و أمسى الملك لله“ کی بجائے ”أصبحنا و أصبح الملك لله“ کہتے اور ”الليلة“ کو ”اليوم“ سے بدل دیتے اور فرماتے: اللهم إني أسالك من خير هذا اليوم۔ اور اس کے بعد دن کے ضمائر کو ذکر کرتے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بوڑھے مسلمان کی توقیر کرنا، حامل قرآن کا احترام کرنا جب کہ وہ قرآن میں غلو کرنے والا اور اس سے رو گردانی کرنے والا نہ ہو اور عادل بادشاہ کی عزت کرنا منجملہ طور پر اللہ کی تعظیم کرنا ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ چند امور ایسے ہیں جن سے اللہ کی تعظیم و توقیر ہوتی ہے۔ ان امور کا ذکر اس حدیث میں ہے جو یہ ہیں: ”إكرام ذي الشيبة المسلم“: یعنی بڑی عمر کے مسلمان بزرگ کی تعظیم بایں طور کہ مجالس میں اس کی توقیر کرنا، اس سے نرمی اور شفقت بھرا معاملہ کرنا وغیرہ۔ یہ سب اللہ کی کامل طور پر تعظیم کرنے میں آتا ہے کیونکہ بوڑھے شخص کا اللہ کے نزدیک بہت احترام ہے۔ ”وحامل القرآن“: یعنی قرآن کے حافظ کا اکرام کرنا۔ اسے حامل قرآن کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ قرآن اس کے سینے میں ہوتا ہے اور اس لیے بھی کہ اس نے بہت مشقتیں برداشت کی ہوتی ہیں جو بڑے بڑے بوجھ سے بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ اس تعظیم کے دائرے میں وہ شخص بھی آتا ہے جو قرآن پڑھنے اور اس کی تفسیر میں مشغول رہتا ہے۔ وہ حامل قرآن جس کا اس حدیث میں ذکر آیا ہے اس کی دو امتیازی صفات بیان ہوئی ہیں: ”غير الغالي“: غلو کا معنی ہے سختی برتنا اور حد سے تجاوز کرنا۔ یعنی وہ حامل قرآن جو قرآن پر عمل کرنے میں اور اس کےمعانی میں سے جو اس پر مخفی اورمشتبہ ہوں ان کی ٹوہ میں لگنے میں اور اس کی قرأت کی حدود اور حروف کے مخارج میں حد سے تجاوز نہ کرنے والا ہو۔ ایک قول کی رو سےغلو کا معنیٰ تجوید میں اور جلدی پڑھنے میں مبالغہ کرنا ہے بایں طور کہ یہ بات اس کے معانی پر غور وتدبر میں آڑے آ جائے۔ ”والجافي عنه“: یعنی اس سے دور نہ ہٹنے والا اور اس کی تلاوت اور اچھے انداز میں اسے پڑھنے، اس کے معانی میں مہارت حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے سے رو گردانی نہ کرنے والا۔ایک اور قول کی رو سے جفاء کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اس کا علم حاصل کرنے کے بعد اسے چھوڑ دے خاص طور پر جب کہ وہ سستی اور اعراض کرنے کی وجہ سے اسے بھول جائے۔ آخری شے جس کے اکرام کرنے کا حدیث نبوی ﷺ میں ذکر آیا وہ عادل حکمران ہے۔ یعنی وہ صاحب اقتدار اور صاحب منصب جو عدل سے متصف ہو۔ اس کی عزت اس لیے ہے کیونکہ وہ سب کے لیے نفع بخش ہے اور اپنی رعایا کی بہتری کے لیے کام کرتا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر پر تھا۔ وہ میری خدمت کرتےتھے۔ میں نے کہا کہ ایسا نہ کرو، تو انھوں نے کہا: میں نے انصار کو دیکھا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ ایسا کرتے تھے کہ میں نے قسم کھا لی کہ جب مجھے ان میں سے کسی کی صحبت نصیب ہوگی، میں اس کی خدمت کروں گا۔
متفق علیہجریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں ہے کہ وہ ایک سفر میں تھے۔ دوران سفر وہ اپنے ساتھ موجود انصار کی خدمت کرنے لگے۔ ان میں انس رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو عمر میں ان سے چھوٹے تھے۔ چنانچہ ان سے کہا گیا کہ آپ صحابئ رسول ہونے کے باوجود ان کی خدمت کیوں کرتے ہیں؟ تو انھوں نے کہا: میں نے انصار کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسا (عقیدت مندانہ) برتاؤ کرتے ہوئے دیکھا تھا کہ دل میں قسم اٹھالی تھی کہ مجھے ان میں سے جو بھی ملے گا، میں اس کی خدمت اسی طرح کروں گا۔ یہ اس کا اکرام ہے، جو رسول اللہﷺ کا اکرام کرتا تھا۔ کسی کے دوستوں کا اکرام در حقیقت اسی کا اکرام اور ان کا احترام اصل میں اسی کا احترام ہوتا ہے۔ اسی لیے جریر رضی اللہ عنہ نے انصار کے اکرام کو نبی کریم ﷺ کا اکرام سمجھا۔
عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے:«اللَّهُم لَكَ أسْلَمْتُ وبِكَ آمنْتُ، وعليكَ توَكَّلْتُ، وإلَيكَ أنَبْتُ، وبِكَ خاصَمْتُ. اللَّهمَّ أعُوذُ بِعِزَّتِكَ، لا إلَه إلاَّ أنْتَ أنْ تُضِلَّنِي أنْت الْحيُّ الَّذي لاَ يَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يمُوتُونَ»۔ ترجمہ: اے اللہ ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکایا، تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا ۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا۔ میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیسرے سوا کوئی دوسرا معبودِ برحق نہیں، یہ کہ تو مجھے گمراہ ہونے کے لیے چھوڑ دے، تو زندہ ہے، تجھے موت نہیں آئے گی جب کہ تمام جن و انس مر جائیں گے۔
متفق علیہنبی ﷺ دعا میں اپنے رب کی پناہ اور اس کے قرب میں آ رہے ہیں۔ آپ ﷺ بیان فرما رہے ہیں کہ وہ اپنے رب کے مطیع وفرماں بردار ہیں اور آپ نے اپنے سارے امور اللہ کو سونپ دیے ہیں اور اس کے علاوہ آپ کو کسی پر بھروسہ نہیں ہے اور یہ کہ آپ ﷺ اپنے دل و جان کے ساتھ اس کی طرف لوٹ آئے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں اور اللہ ہی کی دی گئی قوت، اس کی مدد و نصرت اور آپ ﷺ کو جو دلائل اور حجتیں دی گئی تھیں ان سے آپ ﷺ نے اس کے دشمنوں کا مقابلہ کیا۔پھر نبی ﷺ اللہ کی غالبیت اور قوت کی پناہ لیتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ یہ نہ ہو کہ وہ ہدایت و راستگی کی توفیق نہ دے کر آپ ﷺ کو ہلاک کردے۔ ’’لا إله إلا أنت‘‘ کہہ کر آپ ﷺ اس کی مزید تاکید فرما رہے ہیں کہ پناہ صرف اللہ ہی سے طلب کی جاتی ہے۔ پھر نبی ﷺ بیان کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ کے رب کی زندگی حقیقی زندگی ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی جب کہ انسان اور جنات مر جاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے بطور خاص انہیں ذکر کیا کیونکہ وہی مکلف ہیں اور احکامِ دین کی تبلیغ بھی انہیں کو مقصود ہے۔ گویا کہ وہ اصل ہوئے۔