





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جب کوئی آدمی سفر کا ارادہ کرتا تو ابن عمر رضی الله عنہما اس سے کہتے، مجھ سے قریب ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ایسے رخصت کروں جس طرح نبی ﷺ ہمیں رخصت کرتے تھے چنانچہ وہ کہتے تھے: «أَسْتَوْدِعُ الله دِينَكَ، وَأَمَانَتَكَ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ» یعنی ”میں تیرا دین، تیری امانت اور تیری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔ عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی لشکر کو رخصت فرماتے تو کہتے «أَسْتَودِعُ الله دِينَكُم، وَأَمَانَتَكُم، وخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُم» یعنی ”میں تمہارے دین، تمہاری امانت، اور تمہاری زندگی کے آخری اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آدمی سے کہتے تھے جو سفر کرنا چاہتا، مجھ سے قریب ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ایسے رخصت کروں جس طرح نبی ﷺ ہمیں رخصت کیا کرتے تھے۔ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف سے بیان ہے جس سے معلوم ہوتا ہےکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس قدر نبی مکرم ﷺ کی سنت کے اپنانے کا اہتمام فرماتے تھے۔ اور ان کا کہنا (إذا ودع رجلا) جب کسی آدمی کو رخصت کیا کرتے تھے یعنی مسافر کو۔ (أخذ بيده فلا يدعها) اس کے ہاتھ کو پکڑے رہتے اور نہیں چھوڑتے تھے، جیسا کہ بعض روایات میں مذکور ہے یعنی نبی مکرم ﷺ انتہا درجے کی تواضع اور شفقت و محبت کا اظہار فرماتے ہوئے اس شخص کے ہاتھ کو پکڑے رہتے اور نہیں چھوڑتے تھے ، اور اُسے رخصت کرتے ہوئے کہتے’’أستودِعُ اللهَ دينكَ“یعنی میں اللہ سے تمہارے دین کی حفاظت طلب کرتا ہوں۔ ”وأمانتک‘‘یعنی تمہاری امانت کی حفاظت، یہ ہر اس چیز کو شامل ہے جس کی حفاظت انسان سے مطلوب ہوتی ہے خواہ وہ لوگوں کے حقوق ہوں یا اللہ کے مکلف کردہ حقوق۔ چونکہ آدمی جب سفر میں ہوتا ہے تو لوگوں کے ساتھ ضروری لین دین اور لوگوں کے ساتھ معاملات میں مشغول ہوتا ہے جس کی بناء پر اس کے لیے امانت داری کی ذمہ داری کا خیال کرنے کے ساتھ ساتھ خیانت سے بچنے کے لیے دعا فرمائی ہے، پھر جب وہ اپنے گھر لوٹے گا تو وہ ان تمام نتائج وعواقب سے محفوظ ہو گا جو اسے دین اور دنیا کے اعتبار سے ناپسند ہوتے۔ یہی نبی مکرم ﷺ کا طریقہ تھا کہ جب آپ کسی جماعت کو جنگ کے لیے رخصت فرماتے تھے تو اس جامع دعا کے ذریعہ رخصت کرتے تھے تاکہ وہ بھلائی اور کامیابی سے ہمکنار ہوسکیں اور دشمنوں پر غالب رہیں اور میدان جنگ میں بھی اللہ کے فرائض کی حفاظت کریں۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا۔(اس کا کیا ہو گا؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے“۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ: یا رسول اللہ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے عمل نہیں کر پاتا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔
اس حدیث کی دونوں روایات متفق علیہ ہیں۔انسان آخرت میں انہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن سے وہ دنیا میں محبت کرتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں انبیاء ورسل اور نیک لوگوں سے بہت زیادہ محبت رکھنے اور حسب مراتب ان کی اتباع کرنے کی ترغیب ہے اور ان کے مخالفین سے محبت کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔ اس لیے کہ محبت اس بات کی دلیل ہوتی ہے کہ محبت کرنے والا اپنے محبوب سے کس قدر تعلق رکھتا ہے، کس قدر اس کے اخلاق محبوب کے اخلاق سے مناسبت رکھتے ہیں اور کس حد تک وہ اس کی اقتدا کرتا ہے؟ چنانچہ محبت ان سب باتوں کے وجود کی دلیل ہے اوران پر آمادہ بھی کرتی ہے۔ جو شخص اللہ سے محبت کرتا ہے، اس کی یہ محبت ہی وہ سب سے بڑی چیز ہے، جو اسے اللہ تعالی سے قریب کرتی ہے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان ہے۔ وہ نیکی کرنے والے کو اس کی کاوش سے کہیں بڑھ کر بدلہ دیتاہے۔ واضح رہے کہ محبت کرنے والے کا اس شخص کے ساتھ ہونا، جس سے وہ محبت کرتا ہے، اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ دونوں مقام ومرتبہ میں بھی برابر ہوں۔ کیوںکہ مراتب تو نیک اعمال اور نفع بخش تجارتوں کے تفاوت کے لحاظ سے مختلف ہوں گے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ معیت تو کسی بھی چیز پر مجتمع ہونے کی وجہ سے حاصل ہو جاتی ہے، ضروری نہیں کہ اجتماع تمام چیزوں میں ہو۔ چنانچہ جب سب جنت میں چلے جائیں گے، تو اس سے معیت ثابت ہو جائے گی؛ اگرچہ درجات مختلف ہوں گے۔ جس نے رسول اللہ ﷺ سے یا پھر مومنین میں سے کسی سے محبت کی، وہ جنت میں اس کے ساتھ ہو گا؛ بشرطے کہ نیت اچھی رہی ہو؛ کیوں کہ نیت ہی اصل ہے اور عمل اس کے تابع ہے۔ البتہ اس کا ان کے ساتھ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا مقام ومرتبہ بھی وہی ہو، جو ان کا ہے اور نہ ہی یہ لازم آتا ہے کہ اسے ہر اعتبار سے وہی انعامات ملے، جو ان کو ملے ہیں۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر شفقت نہیں کرتا اور ہمارے بڑے کے شرف وفضل کو نہیں پہچانتا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔وہ شخص پابندِ سنت مسلمانوں میں سے نہیں جو مسلمانوں میں سے چھوٹے پر رحم اور شفقت نہیں کرتا اور اس کے ساتھ اچھا سلوک اور کھیل کود نہیں کرتا، اور جو یہ نہیں جانتا کہ بڑا شخص کس تعظیم اور عزت کا مستحق ہے۔ ”ہم میں سے نہیں ہے“' کا لفظ وعید اور تنبیہ کے باب سے ہے۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایسا شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور دوسرا کوئی کام کرتا تھا۔ کام کرنے والے نے اپنے بھائی کی نبی ﷺ کے حضور شکایت کی۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ اسی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے۔ ان میں سے ایک تو آپ ﷺ کی مجلس میں آیا کرتا اور علم کے حصول اور آپ ﷺ کے اقوال و افعال سیکھنے کے لیے ہمہ وقت آپ ﷺ کے ساتھ رہتا، جب کہ دوسرا کوئی کام کاج کرتا اور روزی کماتا تھا۔ اس کام کاج کرنے والے نے نبی ﷺ کے حضور اپنے بھائی کی شکایت کی کہ وہ کام نہیں کرتا۔ اس پر آپ ﷺ نےا سے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی دیکھ بھال اور کفالت کرنا تمھارے لیے تمھارے رزق کے حصول میں آسانی کا باعث ہو۔ کیوں کہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، تب تک اللہ بھی اس کی مدد میں رہتا ہے۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک نو عمر لڑکا تھا اور میں آپ ﷺ سے (احادیث سن کر) یاد کر .لیا کرتا تھا۔ (ان احادیث کو) بیان کرنے میں میرے لیے سوائے اس کے کوئی شے مانع نہیں ہوتی تھی کہ یہاں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں، جو عمر میں مجھ سے بڑے ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں وہ کم سن تھے اور وہ آپ ﷺ کے بعض فرمودات کو ذہن نشین کر لیا کرتے تھے، جنھیں بیان کرنے سے انھیں بس یہ بات روکتی تھی کہ یہاں ان سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں۔
عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بچیاں اٹھا رکھی تھیں۔ میں نے اسے تین کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اس عورت نے ان میں سے ہر ایک کو ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی۔ اسی اثناء میں اس کی دونوں بیٹیوں نے اس سے کھانے کے لیے مانگا۔ وہ کھجور جسے وہ کھانا چاہ رہی تھی اس نے اس کے دو حصے کر کے دونوں کے مابین اسے تقسیم کردیا۔ مجھے اس کے اس عمل نے بہت متاثر کیا۔ میں نے اس کے اس فعل کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کردی یا اسے جہنم سے آزاد کردیا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث بڑوں کی چھوٹوں پر شفقت کی ایک نشانِ راہ پیش کرتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ: میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بچیوں کو اٹھا رکھا تھا۔ انہوں نے اس عورت کو تین کھجوریں کھانے کے لیے دیں۔ اس مسکین عورت نے ایک بیٹی کو ایک کھجور دے دی اور دوسری کو دوسری۔ پھر تیسری کو اٹھا کر وہ کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی کہ اسی دوران ان دونوں نے اسے کھانے کے لیے مانگ لیا۔ یعنی یہ دونوں بچیاں اس کھجور کو دیکھ رہی تھیں جسے ان کی ماں نے اٹھایا تھا۔ چنانچہ ماں نے اسے خود نہ کھایا بلکہ اس کے دو حصے کر کے ان دونوں کے مابین تقسیم کر دیا۔ یوں ہر بچی نے ڈیڑھ کھجور کھا لی اور ماں نے کچھ بھی نہ کھایا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس واقعہ کو آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا اور عورت نے جو کچھ کیا تھا اسے آپ ﷺ کو بتایا۔ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ: "اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کے لیے جنت واجب کر دی اور اسے دوزخ سے نجات دے دی۔" یعنی چونکہ اس نے اس بہت بڑی رحمدلی کا مظاہرہ کیا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت واجب کر دی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے بھائی کی زیارت کے لیے دوسری بستی گیا، تو اللہ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو بیٹھا دیا، جب وہ شخص اس جگہ پہنچا، تو فرشتے نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس بستی میں میرا ایک بھائی رہتا ہے، اُسی سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا کہ کیا تمھارے اوپر اُس کا کوئی احسان ہے، جسے تم چکا نا چاہتے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں، میں محض اللہ کے لیے اس سے محبت رکھتا ہوں۔ فرشتے نے کہا کہ میں تمھارے پاس اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ بھی تم سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے تم اللہ کی خاطر اس سے محبت کرتے ہو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ سابقہ امتوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ وہ ایک دوسری بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے گیا۔ اللہ تعالی نے اس کے راستے میں اس کی حفاظت اور نگرانی کے لیے ایک فرشتہ متعین کر دیا۔ اس فرشتے نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہا ہے؟ اس نے اسے بتایاکہ وہ اللہ کی خاطر اس بستی میں رہنے والے اپنے ایک بھائی سےملنے جا رہا ہے۔فرشتے نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ تمھارا غلام ہے یا بیٹا ہے یا تمھارا کوئی اور تعلّق دار ہے، جس کا نفقہ اور جس کے ساتھ شفقت بھرا سلوک کرنا تم پر واجب ہو یا پھر تمھیں اس سے کوئی کام ہے؟ اس شخص نے فرشتے کو بتایا کہ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے؛ بلکہ میں تو محض اللہ کے لیے اس سے محبت کرتا ہوں اور اس زیارت سے میرا مقصود صرف اور صرف اللہ کی خوش نودی ہے۔ اس پر فرشتے نے اسے بتایا کہ اسے اللہ کی طرف سے اس کے پاس بھیجا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ اللہ بھی اس سے ویسے ہی محبت کرتا ہے، جیسے وہ اپنے بھائی سے اللہ کی خاطر محبت کرتاہے۔
اُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ تمام ازواجِ مطہرات نبی کریم ﷺ کے پاس تھیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال سے بہت زیادہ مشابہ تھی۔ جب نبی کریم ﷺ نے انھیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انھیں بٹھا لیا۔ اس کے بعد چپکے سے ان کے کان میں کچھ کہا تو فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا بات ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں! جب نبی کریم ﷺ اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟، انھوں نے کہا کہ :میں نبی کریم ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرسکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ: میرا جو حق آپ پر ہے، اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں جو رسول اللہ ﷺ نے آپ سے فرمائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں،اب بتا سکتی ہوں، جب نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال میرے ساتھ سال میں ایک یا دو مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال میرے ساتھ انھوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب آچکا ہے، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہنا اور صبر کا دامن تھامے رہنا کیوں کہ میں تمہارے لیے ایک اچھا سَلَفْ (آگے جانے والا) ہوں“۔ اس وقت میرے رونے کی وجہ یہی تھی جسے کہ آپ نے دیکھا تھا۔ جب نبی کریم ﷺ نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا: ”فاطمہ! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا (فرمایا کہ)اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی تو میں ہنس پڑی جسے آپ نے دیکھا“۔
متفق علیہاُمُّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا ذکر فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات، آپ ﷺ کے پاس موجود تھیں دریں اثنا فاطمہ رضی اللہ عنھا، آپ ﷺ کے مرض الموت کے موقع پر آپ ﷺ کی عیادت کے لیے تشریف لائیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا ذکر کرتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا چلتی ہوئی آئیں تو ایسے معلوم ہوتا تھا کہ ان کی چال، نبی ﷺ کی چال ہے اور آپ ﷺ کی عادت تھی کہ جب کبھی آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنھا تشریف لاتیں تو آگے بڑھ کر ان کا بوسہ لیتے اور اپنی بیٹھک میں انہیں بھی بٹھالیتے، چنانچہ آپ نے ان کا پُرتپاک خیر مقدم کیا اور اپنے بازو میں بٹھالیا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنھا اس بات کی خبر دیتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کے کان میں کوئی راز کی بات کہی تو وہ شدت کے ساتھ رو پڑیں اور جب آپ نے ان کے شدید غم کو دیکھا تو دوسری مرتبہ کوئی اور راز کی بات ان کے کان میں کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا نے ان سے اس خاص بات کے بارے میں دریافت کیا جو آپ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو چھوڑ کر خاص فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمائی تھی اور جس کی وجہ سے وہ روپڑی تھیں، تو فاطمہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو عام نہیں کرسکتی۔جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگیے تو عائشہ رضی اللہ عنھا نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو قسم دے کر کہا کہ وہ انھیں وہ بات بتائیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمائی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ نے مجھ سے پوچھا ہے تو میں ضرور بتاؤں گی، میرے پہلے رونے کی وجہ یہ تھی کہ جب آپ ﷺ نے مجھ سے پہلی مرتبہ راز کی بات کہی تو آپ نے مجھے یہ بتایا کہ جبریل علیہ السلام ہر سال آپ کے ساتھ ایک یا دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے اور اس مرتبہ انھوں نے دو مرتبہ دور کرایا اور آپ ﷺ کا خیال تھا کہ یہ آپ کی مدت حیات کے ختم ہونے کا انتباہ ہے اور آپ نے مجھے تقوی اور صبر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، تقوی اور صبر کے ساتھ مجھے پہنچنے والا سلف کا شرف، پیدا ہونے والی جدائی کے غم کا متبادل ہوجائے گا، اسی وجہ سے میں روپڑی جس وقت آپ نے مجھے روتے دیکھا اور جب آپ ﷺ نے میرے شدید غم کو دیکھا تو مجھے اس بات کی بشارت سنائی کہ میں جنت میں ایمان والی عورتوں کی سردار ہو ں گی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنس پڑی جو آپ نے دیکھی۔ اس حدیث میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا، جنتی خواتین کی سردار ہوں گی، اس کے باوجود روایات کے اختلاف سے اس مسئلہ میں کچھ اور اقوال پائے جاتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ ان سے کیا راز کی بات فرمائی اور جس کی بناء پر وہ ہنس پڑیں، ان میں سے چند اقوال حسبِ ذیل ہیں: 1- آپ ﷺ نے انھیں اس بات کی خبر دی کہ وہ آپ کے گھر والوں میں آپ سے سب سے پہلے ملیں گیں۔ 2- آپ ﷺ نے انھیں یہ خبر دی کہ وہ جنتی عورتوں کی سردار ہوں گی اور آپ کے اہل میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے ملنے کی بات کو پہلی (رازدارانہ) بات کے ساتھ جوڑ دیا اور یہی راجح قول ہے۔ 3- آپ ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ مسلمانوں کی عورتوں میں کوئی ایسی نہیں جو ذریت و نسل کے اعتبار سے تم سے زیادہ عظمت کی حامل ہو، اس لیے تمہیں ان میں سے کسی عام عورت کی طرح معمولی درجہ کا صبر رکھنے والی خاتون نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ان معانی میں یہ معنی بھی اہمیت کا حامل ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے علمی اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے انتہائی سبقت کے ساتھ نبی ﷺ اور ان کے درمیان ہوئی راز کی باتوں کے بارے میں دریافت کیا اور نبی ﷺ کی اس عظیم دختر کے جواب کو بھی ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ " میں نبی کریم ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرسکتی"، اور یہی امر اس حدیث کا شاہد ہے اور جب نبی ﷺ کی موت سے افشائے راز کا ڈر و خوف ختم ہوگیا تو انھوں نے اس پردۂ راز کو اٹھادیا۔ اس حدیث میں آپ ﷺ نے عنقریب وقوع پذیر ہونے والے امر کی خبر دی اور وہ آپ کے فرمان کے مطابق واقع ہوئی، کیوں کہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا ہی وہ پہلی فرد رہیں جو نبی ﷺ کے گھرانے میں آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن سے بھی پہلے وفات پائیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں، جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے ہی واپس لوٹا دیتے ہیں، بلکہ مسکین تو وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا“۔
متفق علیہیہ حدیث مسکین کی حقیقت واضح کر رہی ہے کہ مساکین میں سے قابل تعریف، صدقے کا حق دار اور اس کا ضرورت مند وہ ہے، جو سوال نہیں کرتا۔ گھوم پھر کر مانگنے والے شخص سے آپ ﷺ نے مسکینیت کی نفی کی؛ کیوں کہ اس تک بقدر کفایت سامان وغیرہ پہنچتا رہتا ہے۔ بعض اوقات اسے زکوٰۃ مل جاتی ہے، جس سے اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ ضرورت تو اس شخص کی باقی رہتی ہے، جو مانگتا نہیں ہے اور بطور شفقت اسے کوئی کچھ دیتا بھی نہیں ہے۔