





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو خراش حدرد ابن ابی حدرد اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے بھائی کو ایک سال تک چھوڑے رکھا تو اس کا ایسا کرنا اس کو قتل کرنے کے مترادف ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جس نے اپنے کسی بھائی سے کسی شرعی غرض کے علاوہ کسی اور وجہ سے قطع تعلقی کر لی اور یہ قطع تعلقی ایک سال تک چلتی رہی تو اس کے لیے سزا واجب ہو گئی جیسے اس کے خون بہانے سے سزا واجب ہو جاتی ہے یعنی تعزیزی سزا جو قاضی کی صواب دید پر ہو گی۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ وہ اس سے باز آ جائے اور دوسروں کو اس سے تنبیہ ہو۔ تاہم اگر یہ قطع تعلقی کسی شرعی غرض سے ہو جیسے اہلِ بدعت اور فاسق لوگوں سے قطعِ تعلقی تو اس صورت میں مناسب یہ ہے کہ ہمیشہ جاری رہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں اور حق کی طرف نہ لوٹ آئیں۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: "بے شک شیطان مایوس ہو چکا ہے اس بات سے کہ نمازى لوگ جزیرۃ العرب میں اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے مابین (عداوت ودشمنی، فتنوں اور اختلافات کو) بھڑکانے کے بارے میں پُر امید ہے"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز کی پابندی کرنے والے مسلمان جزیزۂ عرب میں اس کی عبادت اور بتوں کے سامنے سجدہ کریں گے۔ لیکن آج بھی اس کی خواہش کم نہيں ہوئی ہے۔ آج بھی اس بات کے لیے اس کی کوشش جاری ہے کہ ان کو اکسا کر ان کے درمیان لڑائی، جھگڑا اور فتنہ وفساد برپا کر دیا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے، وہ لا محالہ اسے ملے گا؛ پس آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا گفتگو کرنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے، دل خواہش اور تمنا کرنا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب“۔
متفق علیہحدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان بہر صورت زنا کرتا ہے، سوائے اس کے جسے اللہ بچائے، پھر اللہ کے نبی ﷺ نے اس کی کئی مثالیں ذکر کیں: ”فالعين زناها النظر“ یعنی جب کوئی مرد کسی عورت کو دیکھے، اگرچہ بغیر شہوت کے ہو اور وہ عورت اس کی محرمات میں سے نہ ہو، تو یہ بھی زنا کی ایک قسم ہے۔ یہ آنکھوں کا زنا ہے۔ ”والأُذنان زِناهما الاستماع“ یعنی انسان کا کسی اجنبی عورت کی گفتگو سن کر اس کی آواز سے لطف اندوز ہونا۔ یہ کانوں کا زنا ہے۔ ”اليد زناها البَطْش“ ہاتھ سے چھونا وغیرہ۔ یہ ہاتھ کا زنا ہے۔ ”والرِجل زناها الخُطا“ یعنی انسان کا فُحش کاموں والی جگہ کی طرف جانا یا عورت کی آواز سننے جانا یا کسی عورت کو دیکھ کر اس کا پیچھا کرنا، یہ سب زنا کی قسمیں ہیں۔ ”والقلب يَهْوَى ويتمنى“ یعنی دل کا عورتوں کی طرف میلان۔ یہ بھی دل کا زنا ہے۔ ”والفرج يصدِّق ذلك أو يُكذِّبه“ یعنی جب انسان شرم گاہ کے ذریعے زنا کرتا ہے-اللہ کی پناہ- تو یہ ان اعضا کے زنا کی تصدیق ہے۔ اگر وہ شرم گاہ کے ذریعے زنا نہ کرے، بلکہ محفوظ رہے، تو یہ ان اعضا کی تکذیب ہے۔ یہ حدیث عورتوں سے بچے رہنے پر دلالت کرتی ہے کہ نہ ان کی آواز سنی جائے، نہ ان کی طرف دیکھا جائے، نہ چُھوا جائے، نہ ان کی طرف جانے کی کوشش کی جائے اور نہ ان کی طرف قلبی میلان کیا جائے۔ یہ سب زنا کی قسمیں ہیں -اللہ کی پناہ- اس لیے عقل مند اور پاک دامن انسان کو ان اعضا سے متعلق ایسی تمام چیزوں سے بچنا چاہیے، جو کسی بھی طرح عورتوں سے تعلق کا سبب بنتی ہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’اہلِ جہنم کی دو قسمیں ایسی ہیں جو میں نے نہیں دیکھیں: ایک وہ قوم جن کے پاس کوڑے ہوں گے، جو گائے کی دموں جیسے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کو ماریں گے اور دوسری قسم بظاہر کپڑوں میں ملبوس مگر حقیقتاً ننگی عورتوں کی ہے، جو سیدھی راہ سے بہکنے والی اور دوسروں کو بہکانے والی ہوں گی، جن کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کے طرح ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پائیں گی، حالاں کہ اس کی خوشبو تو اتنے اور اتنے دور سے پائی جاتی ہے‘‘۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم دو قسم کے جہنمی لوگوں سے خبردار کر رہے ہيں، جن کو آپ نے دیکھا نہيں ہے اور جو آپ کے زمانے میں موجود نہيں تھے۔ اس طرح کے لوگ آپ کے بعد ظاہر ہوں گے: پہلی قسم: ایسے لوگ جن کے پاس گائے کی دموں کی طرح لمبے لمبے کوڑے ہوں گے، جن سے وہ لوگوں کی پٹائی کریں گے۔ دراصل ان سے مراد ایسے پولس والے اور ظالموں کے پیروکار ہیں، جو ناحق لوگوں کی پٹائی کریں گے۔ دوسری قسم : ایسی عورتیں، جو عفت و حیا کا لباس اتار پھینکیں گی، جو ایک عورت کا فطری زیور ہے۔ آپ نے بتایا کہ وہ عورتیں حقیقت میں کپڑے پہنی ہوئی ہوں گی، لیکن معنوی طور پر ننگی ہوں گی کہ ایسے باریک کپڑے پہنی ہوں گی، جن سے جسم جھلک رہا ہوگا۔ وہ بدن کے کچھ حصے کو ڈھانپیں گی اور حسن و جمال کے اظہار کے لیے کچھ حصے کو کھلا چھوڑ دیں گی۔ وہ اپنے پہناوے اور چال ڈھال سے مردوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کریں گی، گردن اور کندھے مٹکا مٹکا کر چلیں گی اور دوسروں کو اسی انحراف اور گمراہی کى طرف مائل کرنا چاہیں گی، جس میں وہ خود پڑی ہوئی ہيں۔ ان کی ایک صفت یہ ہے کہ ان کے سر اونٹ کے جھکے ہوئے کوہان کی طرح ہوں گے۔ وہ سر پر کوئی پگڑی وغیرہ باندھ کر اس کے حجم کو بڑا کر لیں گی۔ یہاں بختی اونٹوں کے کوہانوں سے تشبیہ اس بنا پر دی گئی ہے کہ مذکورہ عورتوں کے سر پر بال اور چوٹیاں اوپر کی جانب اٹھی ہوئی ہوں گی اور اونٹ کے کوہانوں کی طرح ایک جانب جھکی ہوئی ہوں گی۔ جو عورتیں ان اوصاف کی حامل ہوں گی، ان کے بارے میں وعید یہ ہے کہ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی، ان کی خوش بو تک نہیں پا سکیں گی اور اس کے قریب نہیں جا سکیں گی۔ جب کہ جنت کی خوش بو دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ایک مرد دوسرے مرد کی شرمگاہ کو نہ دیکھے اور ایک عورت دوسری عورت کی شرمگاہ کو نہ دیکھے. ایک مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے اور ایک عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ لیٹے۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی مرد کسی مرد کی شرمگاہ کو دیکھے یا کوئی عورت کسی عورت کی شرمگاہ کو دیکھے۔ حدیث میں وارد عربی لفظ "عورت" سے مراد جسم کا وہ حصہ ہے، جس کے ظاہر ہونے پر حیا محسوس ہو۔ مرد کے جسم کا چھپانے لائق حصہ ناف اور گھٹنوں کے بیچ کا حصہ ہے۔ جب کہ عورت کا پورا جسم اجنبی مردوں کے حق میں شرمگاہ ہے۔ البتہ عورتوں اور محرموں کے سامنے وہ جسم کے ان حصوں کو ظاہر کر سکتی ہے، جو گھر میں کام کرتے وقت عام طور پر ظاہر ہو جایا کرتے ہیں۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ برہنہ ہو کر ایک کپڑے میں یا ایک چادر کے نیچے رہے یا پھر کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں یا ایک چادر کے نیچے برہنہ ہو کر رہے۔ کیوں کہ یہ ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چھونے کا سبب بن سکتا ہے اور چھونا بھی دیکھنے کی طرح ممنوع ہے۔ بلکہ اس کی ممانعت کہيں زیادہ سخت ہے، کیوں کہ اس سے کہیں زیادہ بڑے مفاسد سامنے آ سکتے ہیں۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو، تو اپنے گھروں میں آگ کو جلتا ہوا نہ چھوڑو“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: نبی ﷺ اپنی امت کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ اپنی جلائی ہوئی آگ کو بجھانے سے پہلے نہ سوئیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری (باجا) ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی کریم ﷺ فرما رہے ہیں کہ گھنٹیاں جو چوپایوں پر (ان کے گلوں وغیرہ میں) لٹکائی جاتی ہیں وہ شیطان کے آلات میں سے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے اولیاء کو مشغول رکھتا ہے اور انہیں ان کے مقصد حیات سے پھیر دیتا ہے۔ رہی وہ گھنٹیاں جو گھروں اور مدرسوں میں استعمال کی جاتی ہیں تو ان کے متعلق سعودی عرب کی مستقل فتوی کمیٹی نے فتوی دیا کہ وہ جائز ہیں جبکہ اس میں کوئی حرام کردہ چیز نہ ہو جیسے اس گھنٹی کا عیسائیوں کی گھنٹیوں سے مشابہ ہونا یا پھر اس گھنٹی میں موسیقی کا پایا جانا تب تو وہ گھنٹی حرام ہوگی۔
اُمُّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب آندھی چلتی تو نبی ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: ”اللَّهُمَّ إِني أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا، وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وخَيْر ما أُرسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بك مِنْ شَرِّهِا، وَشَرِّ ما فِيها، وَشَرِّ ما أُرسِلَت بِهِ“ اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں اور جو خیر اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے اسے چاہتا ہوں، اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا اس سے تیری پناہ کا خواستگار ہوں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اُم المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کر رہی ہیں کہ نبی ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی چلا کرتی تو آپ ﷺ یہ دعا کرتے: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں۔ اللہ تعالی نے جس ہوا کو پیدا کیا اور جسے چلایا اس کی دو اقسام ہیں: اول: عام ہوا جو خوف کا سبب نہیں ہوتی۔ اس کے بارے میں کوئی معین طور پر مسنون ذکر نہیں ہے۔ دوم: تیزی سے چلنے والی ہوا۔ ایسی ہوا خوف کا باعث ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالی نے قومِ عاد کو سخت آندھی ہی کے ذریعے مبتلائے عذاب کیا تھا۔ العیاذ باللہ۔ لہذا جب آندھی چلے تو ویسے ہی کہیں جیسے آپ ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ: اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی خیر مانگتا ہوں اور جو کچھ اس میں ہے اس کی خیر کا طالب ہوں، یعنی اللہ تعالی سے اس ہوا اور اس میں موجود منافع کی خیر طلب کریں۔ کیونکہ کبھی تو ہوا خیر کے ساتھ بھیجی جاتی ہے اور کبھی اسے شر دے کر بھیجا جاتا ہے چنانچہ ہر وہ خیر طلب کریں جس کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہو اور جو اس سے نکلے۔ میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جو شر اس کے ساتھ بھیجا گیا، یعنی اس کے شر اور اس میں موجود اشیاء کے شر اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہوں اس سے پناہ طلب کریں۔ کیونکہ بسا اوقات آندھی کسی قوم کے لیے عذاب ہوا کرتی ہے چنانچہ آپ کو اس کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ جب انسان اس کے شر سے اور اس میں موجود اشیاء کے شر سے اور جس شر کے ساتھ یہ بھیجی گئی ہو اس سے پناہ مانگتا ہے تو اللہ تعالی اس سے اس کے شر کو روک دیتا ہے اور وہ اس کی خیر سے نفع اٹھاتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہوا اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت لے کر آتی ہے اور (بسا اوقات) عذاب لاتی ہے۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ہوا اللہ کی رحمت ہے یعنی ہوا اللہ کی اپنے بندوں کے ساتھ رحمت ہے۔ یہ رحمت اور عذاب لیکر آتی ہے یعنی اللہ تعالی ہواؤں کو اپنے بندوں کے لیے از راہِ رحمت بھیجتا ہے، چنانچہ اس کے سبب لوگوں کو خیر وبرکت حاصل ہوتی ہے جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ﴾ ”اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں“۔ اسی طرح اللہ کا یہ فرمان: ﴿اللَّـهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ﴾ ”اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وه ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں کہ اس کےاندر سے قطرے نکلتے ہیں“۔ نیز اللہ کا یہ فرمان: ﴿وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ...﴾ ”اور وه ایسا ہے کہ اپنی باران رحمت سے پہلے ہواؤں کو بھیجتا ہے کہ وه خوش کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ جب وه ہوائیں بھاری بادلوں کو اٹھا لیتی ہیں، تو ہم اس بادل کو کسی خشک سرزمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس بادل سے پانی برساتے ہیں“۔ اور کبھی یہ ہوائیں عذاب لے کر آتی ہیں جیساکہ اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے: ﴿فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِيقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ ”بالآخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں“۔ اور فرمایا: ﴿إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ، تَنزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنقَعِرٍ﴾ ”ہم نے ان پر تیز وتند مسلسل چلنے والی ہوا، ایک پیہم منحوس دن میں بھیج دی، جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر دے پٹختی تھی، گویا کہ وه جڑ سے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں“۔ اور فرمایا: ﴿قَالُوا هَـٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَا ۚ بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُم بِهِ ۖ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ”کہنے لگے یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہےجس کی تم جلدی کر رہے تھے“۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے دیکھو تو اسے برا بھلا مت کہو“ یعنی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ ہوا کو برا بھلا کہے کیونکہ یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق اور اس کے حکم کی پابند ہے اور کسی شے میں بذات خود اس کی کوئی تاثیر نہیں۔ اللہ عز وجل کے حکم کے بغیر یہ نہ کوئی نفع دیتی ہے اور نہ کوئی نقصان۔ چنانچہ اسے برا بھلا کہنا اس کے خالق و مدبر کو برا بھلا کہنے کے مترادف ہوگا جو کہ اللہ سبحانہ و تعالی ہے۔ ”اور اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کی برائی سے پناہ مانگو“ ہوا کو برا بھلا کہنے سے منع کرنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کی رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ہوا چلے تو اس وقت وہ اللہ تعالی سے اس کے خیر کو طلب کریں اور اس کے شر سے اس کی پناہ مانگیں۔ مراد یہ کہ اللہ سے دعا کریں کہ وہ انہیں اس خیر سے نوازے جو اس میں پنہاں ہے اور اس شر کو ان سے دور کردے جو اس میں مضمر ہے۔