





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب مسلمان کا سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کے مقامات (سرسبز جگہوں) کی طرف چلا جائے گا تاکہ اپنے دین کو فتنوں سے محفوظ رکھ سکے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں فتنوں کے دور میں عزلت نشینی کی فضیلت کا بیان ہے ماسوا اس کے کہ اس بندے میں فتنے کو دور کرنے کی طاقت ہو۔اس صورت میں اس پر واجب ہے کہ وہ فتنے کو ختم کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا کرنا اس پر یا تو فرض عین ہو گا یا پھرحالات و امکانات کے لحاظ سے فرض کفایہ ہوگا۔ تاہم فتنے کے علاوہ دیگر دنوں کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ ان میں انسان کے لیے عزلت نشینی اور لوگوں سے گھل مل کر رہنے میں سی کون سی صورت افضل ہے؟ زیادہ پسندیدہ قول یہی ہے کہ انسان لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہے اگر اسے غالب گمان ہو کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہیں ہو گا۔ "يفر بدينه من الفتن" یعنی اس اندیشے کے تحت بھاگ جائے گا کہ کہیں دین کے معاملے میں وہ فتنوں کا شکار نہ ہو جائے۔ اسی وجہ سے انسان کو حکم دیا گیا ہے کہ جن علاقوں میں شرک عام ہو وہ وہاں سے ہجرت کر کے ان علاقوں میں آ جائے جہاں اسلام کا غلبہ ہو اور اسی طرح جن علاقوں میں فسق و فجور کا دور دورہ ہو انہیں چھوڑ کر ان علاقوں میں آ جائے جہاں (اسلام پر) استقامت کا غلبہ ہو۔ لوگوں اور وقت کے تغیر کے ساتھ ایسے ہی کرنا چاہیے۔
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندہ جب کسی شے پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے۔ آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف اترتی ہے اور اس کے دروازے بھی اس کے لیے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کسی طرف اسے راہ نہ ملے تو پھر اس کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر کی گئی ہو، اگر وہ اس لعنت کا سزاوار ہو تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے ہی کی طرف لوٹ آتی ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔بندہ جب اپنی زبان کے ذریعے لعنت کرتا ہے تو اس کی یہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے لیکن آسمان کے دروازے اس پر بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ زمین کی طرف لوٹتی ہے لیکن زمین کے دروازے بھی اس پر بند کر دیے جاتے ہیں اور یہ اس میں داخل نہیں ہو پاتی۔ پھر یہ دائیں بائیں جاتی ہے اور اگر کوئی راستہ اور ٹھکانہ نہ ملے تو اس شے کی طرف لوٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہو۔اگر یہ شے لعنت کی مستحق ہو تو یہ اس پر پڑ جاتی ہے ورنہ لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے اور اس پر واقع ہو جاتی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اوراللہ کی یاد کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں۔ پھر جب وہ ایسے لوگوں کو پا لیتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دیتے ہیں کہ آؤ ہمارا مطلب حاصل ہوگیا۔ پھر وہ نچلے آسمان تک اپنے پروں سے انہیں گھیر لیتے ہیں۔ (پھر ختم پر اپنے رب کی طرف چلے جاتے ہیں ) پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہے.حالاں کہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے کہ میرے بندے کیا کہتے تھے؟وہ جواب دیتے ہیں کہ: وہ تیری تسبیح پڑھتے تھے، تیری کبریائی بیان کرتے تھے، تیری حمد کرتے تھے اور تیری بڑائی بیان کر رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے ؟ کہا :کہ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ! انھوں نے تجھے نہیں دیکھا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، پھر ان کا اس وقت کیا حال ہوتا اگر وہ مجھے دیکھ لیتے؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر وہ تیرا دیدارکرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی اورزیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح اور زیادہ کرتے۔ پھراللہ تعالیٰ دریافت کرتاہے، پھر وہ مجھ سے کیا مانگتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں کہ وہ جنت مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے؟کہا ،فرشتے جواب دیتے ہیں کہ واللہ ! انھوں نے تیری جنت کو نہیں دیکھا۔ اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے ان کا اس وقت کیا عالَمْ ہوتا اگر انھوں نے جنت کو دیکھا ہوتا؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے جنت کو دیکھا ہوتا تو وہ اس سے اور بھی زیادہ حریص اور اس کے خواہشمند ہوتے، سب سے بڑھ کر اس کے طلب گار ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں، دوزخ سے۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کیا انھوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟ وہ جواب دیتے ہیں نہیں، واللہ ، انھوں نے جہنم کو دیکھا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، پھر اگر انھوں نے اسے دیکھا ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے اسے دیکھا ہوتا تو اس سے بچنے میں وہ سب سے آگے ہوتے اور سب سے زیادہ اس سے خوف کھاتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کی مغفرت کردی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ: اس پر ان میں سے ایک فرشتے نے کہا کہ: ان میں فلاں بھی تھا جو ان ذاکرین میں سے نہیں تھا، بلکہ وہ کسی ضرورت سے آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے کہ: یہ ( ذاکرین ) وہ لوگ ہیں جن کی مجلس میں بیٹھنے والا بھی نامراد نہیں رہتا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ آپ نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو (اللہ کی زمین میں) چکر لگاتے رہتے ہیں، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں (اللہ کا) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور نچلے آسمان کے درمیان (کی وسعت) کو بھر دیتے ہیں۔ جب (مجلس میں شریک ہونے والے) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ (فرشتے) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں، راوی نے کہا: تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے. حالاں کہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے. تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم زمین میں (رہنے والے) تیرے بندوں کی طرف سے (ہو کر) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے، تیری بڑائی بیان کر رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھ ہی سے مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انھوں نے کہا:وہ تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے۔ فرمایا: کیا انھوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: پروردگار! نہیں، فرمایا: اگر انھوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا؟ وہ کہتے ہیں: اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے، فرمایا: وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انھوں نے کہا: تیری آگ (جہنم) سے، اے رب! فرمایا: کیا انھوں نے میری آگ (جہنم) دیکھی ہے؟ انھوں نے کہا: اے رب! نہیں ، فرمایا: اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو (ان کا کیا حال ہوتا!) وہ کہتے ہیں: وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے، تو وہ فرماتا ہے: میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انھوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انھوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی۔ (رسول اللہ ﷺ نے) فرمایا: وہ (فرشتے) کہتے ہیں: پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا، سخت گناہ گار بندہ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ فرمایا: تو اللہ ارشاد فرماتا ہے:’’میں نے اس کو بھی بخش دیا۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا‘‘۔
متفق علیہیہ حدیث مجالسِ ذکر کی تعظیم کے مظاہر میں سے ایک مظہر بیان کر رہی ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو راستوں میں پھرتے رہتے ہیں اور اللہ کا ذکر اذکار کرنے والوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا ایک خاص گروہ مقرر کیا ہے جو زمین میں حفاظت کے لیے مامور نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے راستوں اور مساجد کے اردگرد چکر لگاتے ہیں۔ان چکروں کے ساتھ وہ ذکر کی مجالس تلاش کرتے، اس میں حاضر ہوتے اور اہل مجلس کے ذکر کو سنتے ہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ : یہ غالب حد تک تسبیح وغیرہ کی مجالس کے ساتھ خاص ہے۔ ”پس جب وہ ایسے لوگوں کو پالیتے ہیں جو اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں“ اور مسلم کی روایت میں ہے: ”جب وہ کسی ایسی مجلس کو پا تے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہو رہا ہوتا ہے تو ایک دوسرے کو آواز لگاتے ہیں“یعنی ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، کہ اپنی طلب کی طرف آؤ اور ایک روایت میں ہے ”اپنی تلاش کی طرف“ یعنی ذکر کی جس مجلس کو تلاش کر رہے ہو اس کی طرف آؤ۔ اس مجلس میں بیٹھے لوگوں کی طرف پہنچو تاکہ ان کی زیارت کرسکو اور ان کے ذکر کو سُنْ سکو۔ جب وہ فرشتے ذکر کی مجلسوں میں ہوتے ہیں تو ان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا ”فَيَحُفُّونَهُمْ“ یعنی وہ اپنے پروں سے ان کو گھیر لیتے ہیں، جس طرح کنگن کلائی کو گھیر لیتا ہے۔ ”انھیں اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں“ یعنی مجلس کے ارد گرد اپنے پروں سے گھومتے ہیں۔آسمان تک یعنی ایسا کرتے ہوئے وہ آسمان تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اللہ رب العزت اور فرشتوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: پھر ان کا رب ان سے پوچھتا ہےحالاں کہ وہ اپنے بندوں کے متعلق خوب جانتا ہے، یعنی وہ ان کے حالات سے بخوبی واقف ہے، ایسا وہ صرف ملاء اعلیٰ میں ان کی بلندیٔ شان کے بیان اور فرشتوں کے سامنے فخرکرتے ہوئے کہتا ہے: میرے بندے کیا کہتے تھے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں وہ تیری تسبیح ،تکبیر، حمد اور بزرگی بیان کرتے ہیں، یعنی فرشتے کہتے ہیں کہ یہ ذکر کرنے والے سبحان الله والحمد لله، ولا إله إلاّ الله، والله أكبر (اللہ پاک ہے،تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی اور حقیقی معبود نہیں ہے اور اللہ بہت بڑا ہے) کہتے ہیں۔ ’تمجید‘ سے مراد ان کا یہ قول ہے ’’لا إله إلاّ الله‘‘ (اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں) کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید الوہیت کے ساتھ اس کی تعظیم بیان کی جار ہی ہے۔ اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے: کیا انھوں نے مجھے دیکھا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ واللہ! انھوں نے آپ کو نہیں دیکھا۔تو اللہ فرماتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہوگا؟، فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ تیرا دیدار کرلیتے تو تیری عبادت اور بھی بہت زیادہ کرتے، تیری بڑائی اورزیادہ بیان کرتے، تیری تسبیح اور زیادہ کرتے، اس لیے معرفت کے مطابق عبادت و ریاضت میں زیادتی و اضافہ ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتاہے : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ یعنی مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ فرشتے جواب دیتے ہیں : تجھ سے تیری جنت مانگ رہے تھے، یعنی جنت کی خواہش کے ساتھ تیرا ذکر اور تیری عبادت کرتے ہیں۔ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ اگر انھوں نے تیری جنت کو دیکھا ہوتا تو اس کے اور بھی زیادہ خواہش مند ہوتے، یعنی اس کے لیے اور زیادہ کوشش کرتے کیوں کہ شنیدہ کے بود مانند دیدہ (خبر آنکھوں دیکھی بات کی طرح نہیں ہوتی)؟!۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ وہ کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ یعنی کس چیز سے وہ ڈرتے تھے اور اپنے رب سے اس سے بچائے رکھنے کا سوال کرتے تھے؟ تو فرشتے جواب دیتے ہیں: آگ سے، یعنی وہ جہنم سے ڈرتے ہوئے اپنے رب کا ذکر اور اس کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس سے بچائے رکھنے کا سوال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: اگر وہ اس کو دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو ؟، فرشتے جواب دیتے ہیں: اگر وہ اس کو دیکھ لیں تو اس سے اور زیادہ دور بھاگیں، یعنی وہ نیک اعمال کو اختیار کرنے کی اور زیادہ کوشش کریں جوکہ جہنم سے بچاؤ کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بخش دیا ہے، یعنی میں نے ان کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا۔ ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کہتا ہے: فلاں شخص ان میں سے نہیں تھا وہ کسی کام سے آیا تھا، یعنی ان ذکر کرنے والوں کے ساتھ ایک شخص ایسا بھی تھا جو ان میں سے نہیں تھا بلکہ وہ اپنے کسی کام سے آیا تھا اور جس سے کام تھا وہ اس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، کیا اسے بھی بخش دیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی بدبخت اور محروم نہیں رہ سکتا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی فرماتا ہے: جب میرا بندہ کسی برائی کے ارتکاب کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔ اگر وہ اسے کر لے تو اسے ایک ہی برائی لکھو اور اگر وہ اسے میری وجہ سے چھوڑ دے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اور اگر وہ کوئی نیکی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اسے اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو۔ اگر وہ اسے کر لے تو پھر اسے اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دو“۔
متفق علیہاللہ تعالی کا یہ ارشاد ان فرشتوں سے ہے جو انسان کے اعمال کو محفوظ کرنے اور ان کے لکھنے پر متعین ہیں۔ اس میں انسان پر اللہ کے فضل اور اللہ کی طرف سے اس سے درگزر کرنے کی دلیل ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان: ”جب میرا بندہ کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔“ عمل سے کبھی دل اور اعضاء کاعمل مراد ہوتا ہے اور یہی معنی راجح ہے۔ کیونکہ ا س بات کی دلیل موجود ہے کہ دل کے عمل پر مواخذہ ہو گا اور اس پر انسان کو جزا ملے گی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾ ”جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا اراده کرے ہم اسے درد ناک عذاب چکھائیں گے“۔ اور صحیح حدیث میں آیا ہے: ”جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ (لڑنے کے لئے) ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنم میں ہیں“۔ لوگوں نے یہ دریافت کیا کہ يہ تو قاتل ہے، ليكن مقتول کا کیا قصور ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔“ ان نصوص کے ذریعہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم کی تخصیص کرنا درست ہے: ”جب وہ کسی برائی کا ارادہ کرے تو اسے اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس کا ارتکاب نہ کر لے۔“ یہ تخصیص برائی کے بارے میں اللہ کے اس قول کے مخالف نہیں کہ ”اسے اس کے کھاتے میں نہ لکھو۔“ کیونکہ دل کا پکا اور مصمم ارادہ کر لینا ایک عمل ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: ”اگر وہ اسے کر لے تو اسے اسی کے مثل لکھو“۔ یعنی ایک برائی (لکھو)۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿مَن جَاء بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاء بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ﴾ ”جو شخص نیک کام کرے گا اس کو اس کے دس گنا ملیں گے اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا“۔ اور فرمایا: ﴿مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلا يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾ ”جس نے گناه کیا ہے اسے تو برابر برابر کا بدلہ ديا جائے گا اور جس نے نیکی کی ہے خواه وه مرد ہو یا عورت اور وه ایمان والا ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بےشمار روزی پائیں گے“۔ الله تعالی کا قول: ”اگر وہ میرے لیے اس برائی کو چھوڑ دے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو“۔ اس کے چھوڑنے کو اللہ کی خاطر چھوڑنے سے مشروط کیا گیا ہے، یعنی اگر وہ اللہ کے خوف سے اور اس سے حیا کی وجہ سے چھوڑ دے۔ تاہم اگر وہ اس سے عاجز آنے کی وجہ سے چھوڑ ے یا پھر مخلوق کے خوف کے وجہ سے یا کسی اور عارض کی وجہ سے ترک کرے تو اس صورت میں اس کے لیے نیکی نہیں لکھی جاتی بلکہ بسا اوقات برائی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالی کا یہ قول: اور اگر وہ کسی نیکی کا اراده کرے لیکن اسے کر نہ سکے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو اگر وہ اسے کر لے تو پھر اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دو۔ یہ اللہ کی کریم ذات کا اپنے بندوں پر فضل ہے جو بہت زیادہ احسان کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اور تمام احسانات اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اس سے بڑی کرم نوازی اور کیا ہو سکتی ہے کہ نیکی کے ارادے کو پوری نیکی لکھ دیا جائے اور نیکی کرنے کو دس سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھا جائے۔ اس حدیث میں نبی کريم ﷺ نے اس بات کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمايا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میرا بندہ ارادہ کرے۔ آپ ﷺ نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ اللہ کا فرمان ہے۔ اللہ کا یہ قول اس کی شریعت ہی کا حصہ ہے جس میں اس کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے وعدہ اور ان پر اس كے فضل و کرم کا بیان ہے۔ اور یہ قرآن کے علاوہ ہے اور یہ مخلوق نھیں ہے۔ پس اللہ تعالی کا قول اس کی مخلوق کے علاوہ ہے۔ (یعنی اللہ کا کلام مخلوق نہیں ہے)
ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : "ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا : تم سدا صحت مند رہوگے، کبھی بیمار نہيں ہوگے۔ تم سدا زندہ رہوگے، کبھی نہيں مروگے۔ تم سدا جوان رہوگے، کبھی بوڑھے نہيں ہوگے۔ تم سدا ناز و نعمت میں رہوگے، کبھی پریشان نہيں ہوگے۔" اسی کا ذکر اللہ تعالی کے اس فرمان میں ہے : "انھیں پکار کر کہا جائے گا : یہی وہ جنت ہے، جس کے وارث تم ان اعمال کی وجہ سے بنائے گئے ہو، جو تم کیا کرتے تھے۔" [سورہ اعراف : 43]
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اہل جنت جب جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے، تو ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا: یہاں تمھارے لیے اس بات کا انتظام ہے کہ تم سدا صحت مند رہو گے اور کوئی چھوٹی سے چھوٹی بیماری بھی تمھارے پاس نہ آئے گی۔ تم سدا زندہ رہوگے اور تم کو کبھی موت نہیں آئے گی۔ نیند بھی نہیں، جو موت کی چھوٹی شکل ہے۔ تم ہمیشہ جوان ہی رہوگے اور بڑھاپا تمھارے قریب سے بھی نہ گزرے گا۔ یہاں تم ہر طرح کی نعمتوں میں رہوگے۔ نہ غم ہوگا، نہ فکر ہوگی۔ اسی کا ذکر اللہ عز و جل کے اس فرمان میں ہے : {ونُودُوا أنْ تلكم الجنة أورثتموها بما كنتم تعملون} [الأعراف: 43]. "یعنی انھیں پکار کر کہا جائے گا : یہی وہ جنت ہے، جس کے وارث تم ان اعمال کی وجہ سے بنائے گئے ہو، جو تم کیا کرتے تھے"۔
صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : "جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، تو ( اس وقت) اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا : تمہیں کوئی چیز چاہیے، جو تمہیں مزید عطا کروں؟ وہ جواب دیں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کیے؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا۔ لہذا انہیں کوئی چیز ایسی عطا نہیں ہو گی، جو انہیں اپنے رب عز و جل کے دیدار سے زیادہ محبوب ہو۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جب اہل جنت جنت میں داخل ہو جائيں گے، تو اللہ تبارک و تعالی ان سے کہے گا : کیا تم چاہتے کہ تم کو کچھ اور نعمتیں دی جائیں؟ جواب میں سارے جنتی کہیں گے : کیا تونے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دیے؟ کیا تونے ہمیں جنت میں داخل نہیں کر دیا اور جہنم سے نجات نہیں دے دی؟ اہل جنت کا جواب سننے کے بعد اللہ حجاب ہٹا دے گا اور اسے اٹھا لے گا۔ یہاں یہ ذہن نشیں رہے کہ اللہ کا حجاب نور ہے۔ چنانچہ ان کو اب تک جتنی بھی چیزیں ملی ہوں گی، ان میں اپنے رب عز و جل کے دیدار سے زیادہ محبوب چيز کچھ نہ ہوگی۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتی اپنے اوپر کے بالاخانے والے لوگوں کو اس طرح دیکھیں گے، جس طرح تم لوگ اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو جو آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں ہوتا ہے اورایسا اہل جنت کے مابین پائے جانے والے فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو انبیا علیہم السلام کے مکان ہوں گے، جن تک ان کے علاوہ کوئی اور نہیں جا سکتا۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ قسم ہے اس ذات کی، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان بالا خانوں تک وہ لوگ بھی پہنچیں گے، جو اللہ پر ایمان لائے اور رسولوں کی تصدیق کی۔
متفق علیہجنتی اپنے مراتب کے لحاظ سےمختلف درجات میں ہوں گے۔ یہاں تک کہ بلند درجات والے نچلے درجات والوں کو ایسے دکھائی دیں گے، جیسے تارے دکھائی دیتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک کمان کے برابر جگہ، دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے، جن پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں جنت میں مومن کو حاصل ہونے والے عظیم اجر وثواب اور دنیا کی بے وقعتی کو اس اعتبار سے بیان کیا گیا ہے کہ جنت کی یہ معمولی مقدار یعنی ایک کمان کے برابر معمولی جگہ، دنیا میں پائی جانے والی تمام نعمتوں سے بہتر ہے؛ کیوں کہ جنت کی ان نعمتوں میں ہر قسم کی نفاست و پاکیزگی ہے۔ اس میں ہمیشگی اور بقا و پائیداری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اہل جنت میں شامل فرمادے۔
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے درپے ہوگے تو تم انہیں بگاڑ کر رکھ دو گے یا انہیں بگاڑنے کے کگار پر ہوگے۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اگر تم مسلمانوں کے پوشیدہ امور کی ٹوہ میں لگو گے یعنی ازراہ تجسس ان کے حالات جاننے کی کوشش کرو گے، ان کی اُن برائیوں اور عیوب کے درپے ہوگے جنہیں وہ چھپاتے ہیں اور انہیں افشاء کر دو گے تو اس طرح کر کے تم ان کی رسوائی کا سبب بنو گے اور ان کا پردہ چاک کر کے رکھ دو گے جس سے ان کی حیاء میں کمی واقع ہو گی اور یوں وہ اس طرح کے گناہوں میں اور بھی زیادہ جری ہوجائیں گے اور ان کا کھلم کھلا ارتکاب کریں گے حالانکہ اس سے پہلے وہ چھپ کر یہ گناہ کیا کرتے تھے جن کا صرف اللہ تعالی کو علم ہوتا تھا۔