





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”بہت سارے پراگندہ بال والے، لوگوں کے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ تعالی پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی قسم پوری فرما دے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔”رُبَّ أَشْعَثَ أغبرَ مَدْفُوعٍ بالأبوابِ لَو أَقسَمَ على الله لَأَبَرَّهُ“ یہاں ’أشعث‘ الشعث سے ماخوذ ہے، یہ بالوں کی ایک صفت ہے۔ ’’شعره أشعث‘‘ یعنی اس کے پاس بالوں میں لگانے کے لیے تیل موجود نہیں، اور نہ ہی کنگھی کرنے کے لیے کچھ ہے اور نہ ہی ان کے ظاہری مظہر کا خیال رکھا گیا ہے۔ أغبر یعنی غبار آلود رنگ والا، گُریدہ کپڑوں والا۔ اور یہ سب کچھ زیادہ فقر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ”مدفوع بالأبواب“ یعنی وہ شخص جس کا کوئی رتبہ اور مرتبہ نہیں ہے، جب لوگوں کے پاس آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ ملے، بلکہ دروازوں سے واپس کر دیے جائیں۔ اس لیے کہ لوگوں کے ہاں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے، تاہم رب العالمین کے ہاں ان کا مقام ومرتبہ ہوتا ہے، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ اسے پوری کر دیتا ہے۔ اگر وہ کہے کہ واللہ ایسا نہیں ہوگا تو نہیں ہوتا ہے، واللہ ایسا ہوگا تو ایسا ہی ہوتا ہے، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ کے ہاں اس کے شرف اور مرتبے کی وجہ سے اللہ اس کی اپنی قسمیں پوری کر دیتا ہے۔ ”لَو أَقسم على الله لَأَبَرَّهُ“ اللہ کے ہاں میزان تقویٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ﴾ ”اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وه ہے جو سب سے زیاده ڈرنے واﻻ ہے“، جو اللہ کے ہاں سب سے زیادہ متقی ہوگا وہ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ عزت والا ہوگا، اللہ اس کا معاملہ آسان فرمائے گا، دعا قبول کرے گا، تکلیفیں دور کرے گا اور اس کی قسم پوری کرے گا۔ وہ شخص اللہ پر جو قسم کھاتا ہے وہ کسی پر ظلم کرنے کی قسم نہیں ہوتی، نہ ہی اللہ کی ملکیت میں اللہ تعالیٰ پر جرأت کرنے پر مبنی قسم ہوتی ہے، بلکہ اللہ عزّ وجلّ پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی رضامندی کے کاموں یا اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے جائز کاموں میں قسم کھاتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر لڑنے والے دو اشخاص کی بلند آوازیں سنی جن میں سے ایک شخص دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ وہ یا تو اسے (قرض میں سے کچھ) معاف کردے یا اس کے ساتھ کچھ نرمی کرے۔ جب کہ دوسرا شخص کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاۓ اور فرمایا: کہاں ہے اس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرے گا؟ تو اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ اور (کہا کہ) اِس کے لیے وہی ہے جو یہ پسند کرے۔
متفق علیہحدیث کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دروازے پر لڑنے والے دو اشخاص کی آوازیں سنی جو کسی مالی تنازعے پر الجھ رہے تھے۔ ان کی آوازیں اتنی بلند ہوئیں کہ ان کی آوازیں نبی ﷺ کے کانوں میں پڑیں جب کہ آپ ﷺ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ نبی ﷺ ان کی آوازوں پر متوجہ ہوئے تو ان میں سے ایک شخص کو سنا کہ وہ دوسرے سے مطالبہ کر رہا تھا کہ وہ یا تو اسے (قرض میں سے کچھ) معاف کردے یا اس کے ساتھ کچھ نرمی کرے۔ یعنی وہ کچھ قرض کم کرنے اور اس پر آسانی کرنےکا مطالبہ کر رہا تھا، جب کہ دوسرا شخص کہہ رہا تھا کہ اللہ کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا۔ پس رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لاۓ اور فرمایا: ”کہاں ہےاس بات پر اللہ کی قسم کھانے والا کہ وہ بھلائی نہیں کرےگا؟“ یعنی كہاں ہے وہ جو اللہ کا قسم کھا رہا ہے کہ نیکی نہیں کروں گا؟ تو اس نے کہا: میں ہوں اے اللہ کے رسول۔ اور اِس کے لیے وہی ہے جو یہ پسند کرے۔ یعنی میں ہی ہوں جس نے اللہ کی قسم اٹھائی (لیکن اب میں) اپنے لڑنے والے کو قرض میں سے کچھ معاف کرنے یا اس میں نرمی کرنے میں سے کسی ایک چیز کا اختیار دیتا ہوں جو اسے پسند ہو۔ مسند احمد (24405) اور صحیح ابن حبان (5032) میں الفاظ کچھ یوں ہیں: ”اگر تم چاہو تو جتنی رقم کم ہے وہ معاف کردیتا ہوں یا اصل رقم میں سے کچھ کم کردیتا ہوں۔ تو اس نے جو رقم کم تھی وہ معاف کردی“۔ نبی ﷺ نے دو لڑنے والوں میں صلح کی سعی فرمائی، چاہے وہ (قرض کی کچھ رقم) معاف کردینے سے ہو یا (اس میں) نرمی کے ذریعے۔ اور ایک اور حدیث میں اسی طرح کا ایک اور قصہ بھی ہے جس کو امام بخاری (2424) اور امام مسلم (1558) نے بیان کیا ہے۔ کعب بن مالک سے روایت ہے کہ ان کا عبد اللہ بن أبي حدرد الأسلمي پر کچھ قرض تھا۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے قرض کا مطالبہ کیا جو بحث کی صورت اختیار کرگیا اور ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ نبی ﷺ ان دونوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اے کعب! اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا- گويا وہ کہہ رہے ہوں آدھا“۔ تو انہوں نے (قرض) کا آدھا حصہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ پس مسلمان کو چاہیے کہ نیکی کرنے پر حریص ہو اور ایک نیکی یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ما بین صلح کرا دی جاۓ۔ پس اگر دو لوگوں، گروہوں یا قبیلوں کے مابین لڑائی جھگڑا اور نفرت دیکھو تو ان کے درمیان صلح کی کوشش کرو تاکہ ہر اس چیز کا خاتمہ ہو سکے جو دوری اور بغض کا باعث ہے۔ اور اس کی جگہ بھائی چارے اور محبت کا راج ہو۔ بے شک اس میں بہت خیر اور خوب ثواب ہے۔ بلکہ یہ عمل دن کو روزہ، رات کو قیام اور صدقہ کرنے سے بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ و خیرات سے بھی افضل عمل نہ بتاؤں؟ (صحابہ نے عرض کیا) کیوں نہیں اے اللہ کے رسول (ضرور بتائیں)!، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آپس میں صلح کرانا“۔ (ابو داود: 4919، شیخ البانی نے صحیح ابو داود میں اس کو صحیح کہا ہے)
اسامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والے مساکین تھے اور مال وعظمت والوں کو روک دیا گیا البتہ دوزخ والوں کے لیے دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا اور میں جہنم کے دروازے پر کھڑا ہوا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں“۔
متفق علیہفقراء اور مساکین جنت میں مالداروں سے پہلے داخل ہوں گے کیونکہ وہ فقیر تھے اور ان کے پاس کوئی ایسا مال نہ تھا جس کا حساب ہونا ہو چنانچہ اللہ کی طرف سے بطور اعزاز اور دنیا کی جن نعمتوں اور زیب و زینت سے وہ محروم رہے اس کے بدلے میں (انہیں جنت میں پہلے داخل کردیا جائے گا)۔ ان کے مقابلے میں اصحاب مال وجاہ جنہیں دنیائے فانی سے حصہ ملا ہوگا انہیں میدان محشر میں روک لیا جائے گا اورکثرتِ مال، کشادگی جاہ، ان سے لذت اندوز ہونے اور ہوائے نفس اور اس کی شہوات کی پیروی کے سبب ان کا حساب لمبا ہوگا اور وہ سخت مشکل میں ہوں گے۔ دنیا میں جو شے حلال ہے اس کا حساب ہونا ہے اور جو شے حرام ہے اس پر عذاب ہونا ہے اور فقیر لوگ ان دونوں سے بری ہوتے ہیں۔ جہنم میں داخل ہونے والوں میں اکثریت عورتوں کی ہوگی کیونکہ یہ بہت زیادہ شکوے شکایت کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کے حسنِ سلوک کی ناشکری کرتی ہیں۔
ہم نبی ﷺ كے لیے آپ کے حصے كا دودھ اٹھاکر رکھ دیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ رات کو تشریف لاتے اور اس انداز میں سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے اور بیدار کو سنا دیتے۔ چنانچہ نبی ﷺ تشریف لائے اور اسی انداز میں سلام کیا جس طرح آپ کیا کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔مقداد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رضی اللہ عنہم جب بکری کا دودھ نکال کر اپنے حصے کا دودھ پی چکتے تو رسول اللہ ﷺ کا حصہ آپ کے لیے اٹھاکر رکھ دیتے یہاں تک کہ آپ ﷺ اسے پینے کے لئے تشریف لاتے۔ رسول اللہ ﷺ جب رات کو ان کے پاس آتے اور وہ سوئے ہوئے ہوتے تو آپ ﷺ ڈرمیانی آواز میں جو کم سے کم بلند اور اس سے کچھ زیادہ اونچی آواز میں ان کو سلام کرتے، اس طرح کہ سوئے ہوئے کو بیدار نہ کرتے، لیکن ساتھ ہی ان میں سے بیدار کو سنا دیتے تھے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے حضور بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں کما لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے ایک شخص نے پوچھا: آدمی ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ سو دفعہ سبحان اللہ کہے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں یا اس کے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنے صحابہ سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کی استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ ہر دن ایک ہزار نیکیاں حاصل کر لے؟۔ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے پوچھا کہ آدمی آسانی کے ساتھ ایک ہزار نیکیاں کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ایک سو دفعہ سبحان اللہ پڑھ لے، اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں؛ کیوںکہ ایک نیکی پر اس طرح کی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کے گناہوں میں سے ایک ہزار گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
عمرو بن عوف انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ جب ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین کا مال لے کر آئے تو انصار نے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی آمد کے متعلق سن لیا۔چنانچہ فجر کی نماز سب لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا چکے تو لوگ رسول الله ﷺ کے سامنے آئے ۔ رسول الله ﷺ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟ انصار صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا جی ہاں اللہ کے رسول، آپ ﷺ نے فرمایا ، تمہارے لیے خوشخبری ہے اور اس چیز کے لیے تم پرامید رہو۔ جس سے تمہیں خوشی ملنے والی ہے، لیکن اللہ کی قسم ! میں تمہارے بارے میں محتاجی اور فقر سے نہیں ڈرتا۔ مجھے اگر خوف ہے تو اس بات کا ہے کہ دنیا کے دروازے تم پر اس طرح کھول دیے جائیں گے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر کھول دیے گئے تھے ، پس تم بھی ان کی طرح ایک دوسرے سےمقابلہ بازی شروع کردو اور یہ مقابلہ بازی تمہیں بھی اسی طرح تباہ کر دے گی جیسا کہ پہلے لوگوں کو کیا تھا۔
متفق علیہرسول اللہﷺ نے ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بحرین جزیہ لینے کے لیے بھیجا۔ جب وہ واپس مدینہ پہنچے اور انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے۔جب آپ ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد رخ پھیرا تو سب آپ کے سامنے آگئے اس پر آپ ﷺ مسکرا دیے کیونکہ وہ مال کی جستجو میں آئے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: لگتا ہے کہ تم نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے واپس آ گئے ہیں ؟ وہ کہنے لگے کہ: جی ہاں، اللہ کے رسول! ہم نے یہ سنا تھا یعنی اپنا حصہ لینے کے لئے ہم آئے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اس شے کی بشارت دی جو انہیں خوش کرنے والی تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں یہ بتایا کہ آپ ﷺ کو ان کے بارے میں فقر کا اندیشہ نہیں ہے کیونکہ غریب شخص عام طور پر امیر شخص سے زیادہ حق کے قریب ہوتا ہے ۔ بلکہ اگر اندیشہ ہے تو اس بات کا کہ دنیا کے دروازے ان پر کھول دیے جائیں اور وہ اس کے حصول میں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی شروع کردیں ۔ اس وقت انسان کو جو کچھ مل رہا ہوگا اسے وہ کافی نہیں سمجھے گا بلکہ وہ زیادہ سے زیادہ کی حرص رکھےگا اور اسے کوئی فکر نہیں ہوگی کہ اسے مال کس طریقے سے مل رہا ہے اور نہ ہی وہ حلال و حرام کی پرواہ کرے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس طرح کی مقابلہ آرائی مذموم ہے جو دنیا کی رغبت دلائے اور آخرت سے بے گانہ کردے اور اس میں پڑنے والا شخص اسی طرح ہلاکت کا شکار ہوجائے جیسے اس سے پہلے لوگ ہوئے تھے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے اللہ حقیقی زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے“۔
متفق علیہسرور، اطمینان اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، جب کہ دنیا کتنی ہی عیش وعشرت والی زندگی کیوں نہ ہو آخرکار اس کا انجام فنا ہو جانا ہے۔
ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”لوگو آگاہ رہو! دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کےذکر اور اس سے متعلق چیزوں کے، نيز دينى علوم سے بہرہ ور اور اس کا علم حاصل کرنے والے کے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔دنیا اور اس میں موجود سامانِ آرائش و زیبائش اللہ کے ہاں ناپسندیدہ اور مذموم ہیں؛ کیونکہ یہ لوگوں کو ان کے مقصدِ تخلیق یعنی اللہ کی عبادت اور اس کی شریعت کے قيام سے بیگانہ کرديتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ كا ذكر اور اس سے تعلق ركهنے والى عبادتيں، اسى طرح علم دين كا سیکھنا اور اسے سکھانا ان چیزوں سے مستثنی ہیں جو اللہ کو ناپسند ہیں؛ کیونکہ تخلیق انسان سے یہی مقصود ہے۔
ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امیری سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی بلکہ حقیقی امیری تو دل کی امیری کا نام ہے“۔
متفق علیہنبی ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ امیری اصل میں کثرت مال کا نام نہیں ہے بلکہ حقیقی امیری تو دل کی امیری ہوتی ہے۔ جب بندہ اس مال پر اکتفاء اور قناعت کر لے جو اسے دیا گیا ہو اور اسی پر راضی ہوجائے اور مزید کی حرص اس میں نہ رہے اور نہ ہی وہ بہت زیادہ اس کی تلاش میں لگے تو وہ امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔