





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کے پاس سے گزرا تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا: اس کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ اس شخص نے جواب دیا: یہ (آدمی) معزز لوگوں میں سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ اس قابل ہے کہ اگر کہیں پيغامِ نكاح بھیجے تو اس کا نکاح کر دیا جائے اور اگر كسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول کی جائے۔ رسول اللہ ﷺ (یہ جواب سن کر) خاموش ہوگئے۔ پھر ایک اور آدمی (وہاں سے) گزرا تو آپ ﷺ نے پھر اسی شخص سے پوچھا: اس کے بارے تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول! یہ شخص غریب مسلمانوں میں سے ہے۔ یہ اس لائق ہے کہ اگر نکاح کا پیغام دے تو اس سے کوئی نکاح نہ کرے، اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے، اور اگر کوئی بات کہے تو اس کی بات سنی نہ جائے۔ رسول کریم ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا۔ ”یہ (فقیر) شخص اس (پہلے) شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔مفہوم حدیث: نبی ﷺ کے پاس سے دو آدمیوں کا گزر ہوا۔ ان میں سے ایک کا تعلق معزز لوگوں سے تھا جس کا ان میں اثرورسوخ تھا۔ یہ ایسا شخص تھا کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اس کا پیغام قبول کیا جاتا اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی جاتی۔ جب کہ دوسرا شخص اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کا تعلق کمزور مسلمانوں میں سے تھا جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اگر وہ کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اسے قبول نہ کیا جاتا، اگر کوئی سفارش کرتا تو اس کی سفارش قبول نہ کی جاتی اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی نہ جاتی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ (غریب) شخص اس (پہلے) شخص جیسے زمین بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“ یعنی یہ شخص اللہ کے نزدیک اس شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے جو اپنی قوم میں جاہ و منزلت رکھتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی عزت و جاہ، حسب و نسب، مال و دولت، شکل و صورت، لباس، سواری اور گھر بار کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ دل اور عمل کو دیکھتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مال و دولت کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ (صحیح مسلم) جب بندے اور اللہ کے مابین دل کی اصلاح ہوجاتی ہے، وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور وہ اللہ کا ذکر کرنے والا اور اس سے خوف کھانے والا ہو جاتا ہے، اور وہ اللہ عز وجل کو راضی کرنے والے اعمال کرتا ہے تو ایسا شخص ہی اللہ کے ہاں معزز اور صاحب منزلت ہے۔ اور یہی وہ شخص ہے جو اگر اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالی اس کی قسم کو پوری کردیتا ہے.
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ايسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی چيز کا سوال کيا گيا ہو اور آپ ﷺ نے (جواب ميں) ’’نہيں‘‘ فرمایا ہو۔ اور انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: رسول اللہ ﷺ سے اسلام لانے پر کسی چيز کا سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے وہ ضرور دی۔ (ایک دفعہ) آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا تو آپ ﷺ نے دو پہاڑوں کے درميان موجود ساری بکریاں اسے دے دیں۔ وہ واپس اپنی قوم کے پاس گيا اور کہا: اے میری قوم والو! اسلام قبول کرلو، کیوں کہ محمد (ﷺ) اس شخص کی طرح عطا کرتے ہیں جسے فقر کا انديشہ نہیں ہوتا۔ يقيناً ايک آدمی صرف دنیا حاصل کرنے کی غرض سے اسلام قبول کرتا، ليکن تھوڑا ہی عرصہ گزرتا کہ اسلام اسے دنیا اور اس میں موجود تمام چيزوں سے زیادہ محبوب ہو جاتا۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: ایسا کبھی نہ ہوا کہ نبی ﷺ سے کسی نے دنیوی امورمیں سے کچھ مانگا ہو اور آپ ﷺ نے “ نہيں” کہہ کر دینے سے انکار کر دیا ہو۔ بلکہ اگر وہ چيز آپ ﷺ کے پاس ہوتی تو آپ ﷺ اسے ضرور دے دیتے یا پھر اس مانگنے والے کو اللہ کے حکم ﴿وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ﴾ ”اور سوال کرنے والے کو نہ جھڑکيں۔) کی تعمیل میں کوئی اچھی بات کہہ دیتے“۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے الادب المفرد میں انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ بہت شفیق تھے۔ آپ ﷺ کے پاس جو بھی شخص (کوئی چيز مانگنے کے لئے) آتا تو آپ ﷺ اس سے دینے کا وعدہ کر لیتے اور اگر آپ ﷺ کے پاس وہ چيز ہوتی تو دے دیتے۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔ آپ ﷺ نے اپنی ازواج کے پاس (اس کا کھانا منگانے کے لئے) ایک آدمی کو بھیجا۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو اس کو اپنے ساتھ لے جائے؟ یا یہ فرمایا کہ: کون ہے جو اس کی مہمان نوازی کرے؟ (بخاری)۔ اسی طرح صحیح بخاری میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کے پاس ایک چادر لے کر آئی... اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ آپ کو پہنانے کے لیے اپنے ہاتھ سے بنا ہے۔ نبی ﷺ نے اسے لے لیا اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت بھی تھی۔ آپ ﷺ ہمارے پاس آئے تو وہ چادر آپ ﷺ کی تہ بند تھی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اسے مجھے پہنا دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ نبی ﷺ اس مجلس میں (کچھ دیر) تشریف فرما رہے۔ پھر واپس چلے گئے اور اس چادر کو لپيٹ کر آپ ﷺ نے اس آدمی کے پاس بھیج ديا۔ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اچھا نہیں کیا، تم نے یہ چادر آپ ﷺ سے مانگ لی حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ ﷺ کسی مانگنے والے کو منع نہیں کرتے ہيں۔ اس پر وہ آدمی کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں نے آپ ﷺ سے صرف اس لیے مانگا کہ ميری وفات کے دن يہ میرا کفن بن جائے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہی چادر اس کا کفن بنى۔ آپ ﷺ کا مانگنے والے کے ساتھ یہی رویہ ہوا کرتا تھا۔ اگر وہ چيز آپ ﷺ کے پاس ہوتی تھی تو آپ ﷺ اسے عنایت کردیتے تھے اگرچہ آپ ﷺ کو اس کی ضرورت ہی ہوتی۔ اور اگر وہ آپ ﷺ کے پاس نہیں ہوتی تو پھر آپ ﷺ مانگنے والے سے معذرت کر لیتے یا پھر کسی اور وقت کا اس سے وعدہ کر لیتے یا پھر اس کے لیے اپنے صحابہ سے سفارش کرديتے تھے۔ یہ آپ ﷺ کا جود و کرم اور حسن اخلاق تها۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مومن یہ جان لے کہ اللہ کے یہاں کس قدر عذاب ہے، تو کوئی اس کی جنت کی امید نہ رکھے اور اگر کافر یہ جان لے کہ اللہ کی رحمت کس قدر ہے، تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث امید و خوف کو جمع کیا گیا ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ ایک مؤمن اگر جان لے کہ اللہ نے کس قدر عذاب تیار کر رکھا ہے، چاہے دنیا میں ہو یا آخرت میں، اور چاہے کافروں کے لیے ہو یا نافرمانوں کے لیے، تو وہ خوف کا پیکر بن حاۓ گا، نیک کاموں میں سستی نہیں برتے گا، اور سہل پسندی کا شکار ہو کر حرام کاموں میں ملوث نہیں ہوگا۔ اگر اس کا علم عذاب تک محدود رہا اور اللہ کی رحمت سے واقف نہ ہو سکا، تو وہ صاحب ایمان ہونے کے باوجود مایوسی کا شکار ہو جاۓ گا۔ اس کے برعکس اگر کافر یہ جال لے کہ اللہ نے ایمان والوں کے لیے کس قدر ثواب اور نعمتیں تیار کر رکھی ہیں تو اللہ کی رحمت کی لالچ کرنے لگے، اور اگر مؤمن کا علم اس رحمت الہی پر محدود رہ جاۓ، تو وہ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو۔ لیکن ایک مؤمن کو چاہیے کہ امید اور خوف دونوں کو اپنے دل میں بساۓ رکھے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ، وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ﴾ ”میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بخشش کرنے والا اور رحمتوں والا ہوں، اور میرا عذاب بڑا درد ناک ہے“۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بازار سے گزرے اور آپ ﷺ کے دائیں بائیں جانب لوگ تھے۔ آپ ﷺ کا گزر بکری کے ایک مردہ بچے پر سے ہوا، جس کے کان چھوٹے تھے۔ آپ ﷺ اس کا کان پکڑ کر پوچھنے لگے: تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض میں خریدنا پسند کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم کسی بھی شے کے بدلے میں اسے خریدنا نہیں چاہتے اور ہم اس کا کریں گے بھی کیا؟۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا، تب بھی عیب دار تھا۔ یہ تو مردہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے، جتنا یہ تمھارے نزدیک حقیر ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔جابر رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ نبی ﷺ ایک دفعہ بازار میں ایک چھوٹے کانوں والے بکری کے بچے کے پاس سے گزرے۔ "الجدی" بکری کے چھوٹے بچے کو کہا جاتا ہے۔ یہ "أسك" تھا، یعنی اس کے کان کٹے ہوئے تھے۔ نبیﷺ نے اسے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اسے ایک درہم کے عوض میں لینا چاہتا ہے؟۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم کسی بھی شے کے عوض میں اسے نہیں لیں گے! آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا تم میں سے کوئی شخص چاہتا ہے کہ یہ اس کا ہو؟ انھوں نے جواب دیا: نہیں! اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک دنیا اس بکری کے بچےسے بھی زیادہ ہیچ ہے! نبی ﷺ چاہتے تھے کہ اپنے صحابہ اور اپنے بعد آنے والی اپنی امت کے لیے واضح کر دیں کہ اللہ کے نزدیک دنیا اس مردہ کٹے ہوئے کانوں والے بکری کے بچے سے بھی زیادہ ہیچ اور حقیر ہے، جس سے پاکیزہ نفوس کو گھن آتی ہے۔ یہ دنیا کا آخرت کے مقابلے میں حال ہے کہ یہ اللہ کے نزدیک کوئی وقعت نہیں رکھتی اور مچھر کے پر کے برابر بھی وزن نہیں رکھتی، جیسا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی اہمیت رکھتی ہوتی، تو وہ کافر کو ایک گھونٹ پانی تک نہ پلاتا“۔ (ترمذی) نبی ﷺ چاہتے تھے کہ اپنے صحابہ کو اور آپ ﷺ کے بعد آنے والی اپنی امت کو اس بات پر ابھاریں کہ وہ دنیا کو اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ اپنی منزل اور مقصد؛ کیوں کہ اس میں ان کی ہلاکت ہے۔
ابو یحی خریم ابن فاتک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا اس کے لئے سات سو گنا ثواب لکھا جائے گا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جس نے تھوڑا یا زیادہ جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا، چاہے وہ جہاد میں ہو یا کسی اور کار خیر اور نیکی کے کام میں، اسے اللہ تعالی روز قیامت اس کا اجر سات سو گناہ کر کے دیں گے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہي کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟“، ثوبان نے کہا کہ میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے نبی ﷺ کے لیے لوگوں سے ان کے اموال مانگنا اور اپنے معاملات کے نپٹانے میں ان سے مدد مانگنا چھوڑ دے خواہ یہ مانگنا تھوڑی چیز کا ہو یا زیادہ کا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے اسے جنت کی ضمانت دی ہے۔ اس لیے کہ مخلوق سے نہ مانگنے میں اللہ کی ذات پر توکل ہوگا اور یہ اللہ کی ذات پر اعتماد اور اللہ سے قوی امید وابستہ رکھنے کی علامت ہے۔ چنانچہ اس کا بدلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو آپ ﷺ سے سننے کے بعد نبی ﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ لوگوں سے کچھ بھی نہیں مانگیں گے، چنانچہ ابنِ ماجہ کی روایت میں ان کے بارے میں منقول ہے کہ یہ سوار ہوتے ان کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتے کہ مجھے میرا کوڑا دیدو، بلکہ خود اتر کر لے لیتے۔ یہ اس عہد کی پاسداری ہے جو انہوں نے آپ ﷺ سے کر کے اسے اپنے اوپر لازم کیا تھا۔
جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ کہے گا اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگایا جائے گا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہوئے ”سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ“ کہتا ہے اس کے لیے ہر دفعہ کہی گئی تسبیح کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک پودا لگا دیا جاتا ہے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے جبکہ ہم اپنی جھونپڑی کی مرمت کررہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: 'یہ کیا ہے؟' ہم نے کہا کہ یہ (گھر) کمزور ہو گیا تھا، ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں۔“
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ: پیغمبر ﷺ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرےجبکہ وہ اپنے گھر کا وہ حصہ ٹھیک کررہے تھے جو خراب ہوگیا تھا یا وہ اسے مضبوط کررہےتھے۔ ابو داؤد کی ایک روایت میں ”وأنا أطين حائطا لي“ کے الفاظ ہیں یعنی میں گھر کی ایک دیوار لیپ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں معاملہ اس سے بھی جلدی دیکھ رہا ہوں۔ یعنی تم اپنی موت کے آنے سےپہلے گھر کے گرنے کے خوف سے اس کے مرمت میں مصروف ہو۔لیکن موت اس سے بھی زیادہ قریب ہے، ہوسکتا ہے گھر کے گرنے سے پہلے ہی تمہاری موت آجائے۔ اس لئے تمہارا اپنے عمل کی اصلاح کرنا اپنے گھر کو درست کرنےسے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گھر کی تعمیر کا کام ضروری نہیں تھا، بلکہ وہ گھر کو اور مضبوط کرنے کی امید یا اس کی زینت کی خاطر تھا۔ اس لئے آپ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اُخروی امور میں مصروف ہونا ایسے کام میں مصروف ہونے سے بہتر ہے جو آخرت میں نفع بخش نہیں ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چھ صحابہ کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ ایسے میں ایک اعرابی آیا جس نے دو ہی لقموں میں سارا کھانا کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے بسم اللہ پڑھی ہوتی تو وہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ اپنے چھے صحابہ کرام کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے۔ اس دوران میں ایک دیہاتی آ کر ان کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس نے دو ہی لقموں میں کھانا ختم کر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ تمہارے لیے کافی ہو جاتا لیکن اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی اور باقی کھانا سارے کا سارا دو لقموں میں کھا گیا اور وہ اس کے لیے کافی نہ ہوا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان جب بسم اللہ نہیں پڑھتا تو اس کے کھانے سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔