





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ستر اصحاب صفہ کو دیکھا جن میں سے کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی، یا تو لنگی (تہہ بند) تھی، یا ایک ایسا کپڑا، جس کو گلے میں انہوں نے باندھ رکھا تھا۔ ان میں سے (لنگی، تہہ بند) کسی کے آدھی پنڈلی تک تھی، کسی کے ٹخنوں تک۔ اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتے تھے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اہلِ صفہ نبی ﷺ کے وہ صحابہ ہیں جو غریب مہاجرین میں سے ہیں جنہوں نے اپنا گھر بار مکہ میں چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی باوجود اس کے کہ یہ ان کا محبوب ترین شہر تھا۔ اصحاب صفہ کی تعداد ستر افراد سے زیادہ تھی ۔ صفہ ایک سایہ دار چبوترا تھا جو مسجد نبوی کے آخر میں بنا ہوا تھا جس کے نیچے فقیر مہاجرین سویا کرتے تھے۔ گرمیوں یا سردیوں میں جو ان کا لباس ہوتا تھا اس کے بارے میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ جو خود بھی اصحابِ صفہ میں سے تھے ہمیں بتا رہے ہیں کہ ”کسی ایک کے بدن پر بھی چادر نہ تھی، یا تو لنگی (تہہ بند) تھی، یا ایک کپڑا“۔ کیونکہ اگر کوئی چاد باندھتا تو اس کے نیچے سے لنگی پہننی پڑتی۔ چادر سے مراد وہی ہے جسے آج کل جوڑا کہا جاتاہے ۔ ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی پورا جوڑا نہیں تھا بلکہ ایک ہی کپڑا ہوتا جس سے وہ اپنے آپ کو اوپر سے لے کر نیچے تک چھپایا کرتے تھے۔ یہ کپڑا ایک چھوٹی سی لنگی کے مانند ہوتاہے۔ ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ ”جس کو گلے میں انہوں نے باندھ رکھا تھا“۔ یعنی وہ اس کپڑے کو اس طرح سے اپنے گلے میں باندھے رکھتے جیسے کوئی بچہ اپنے گلے میں اپنا کپڑا باندھ لیتاہے۔ ایسا وہ اس لیے کرتا کیونکہ وہ کپڑا اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ اسے الگ الگ کرکے پہن سکتا۔ چنانچہ اس کا ایک کنارہ اس کی گردن میں ہوتا۔اللہ تعالی ان سے راضی ہو۔ پھر ابو ہریرۃ نے فرمایا: ”وہ چادر کسی کے آدھی پنڈلی تک رہتی“ یعنی اس کپڑے کی لمبائی صرف اتنی ہوتی کہ وہ نصف پنڈلی تک آتا تھا اور ٹخنوں تک نہیں پہنچتا تھا۔ پھر فرمایا کسی کے ٹخنوں تک اور اپنے ہاتھ سے وہ اس کو سمیٹے رہتے تاکہ ستر نہ کھل جائے۔ یعنی دورانِ نماز وہ اسے اپنے آپ پر اکٹھا کرتے رہتے کہ مبادا حالت رکوع و سجدہ میں ان کی شرم گاہ نہ کھل جائے۔ رضی اللہ تبارک و تعالی عنہم اجمعین۔ اکثر صحابہ کی یہی حالت تھی۔ انہوں نے فقر اور ضرورت مندی میں اپنی زندگی گزار دی۔ دنیا اور اس کی زینت کی طرف ذرا بھی مائل نہ ہوئے ۔ اور جب دنیا ان پر کھلی (یعنی کشادگی آئی) تو تب بھی اس میں مصروف نہیں ہوئے بلکہ اپنی قناعت اور زہد پر قائم رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت کو بوسہ لے لیا۔ (احساس ندامت سے مغلوب ہو کر) وہ آپﷺ کے پاس آیا اور آپﷺ کواس کے بارے میں بتایا ۔ اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ (هود: 114)۔ ”دن کے دونوں سِروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کئی گھڑیوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں“۔ اس شخص نے پوچھاکہ کیا یہ صرف میرے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میری ساری کی ساری امت کے لیے ہے“۔
متفق علیہعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص جس کا نام ابویسر تھا ایک اجنبی عورت کا بوسہ لے بیٹھا اور پھر اپنی اس غلطی پر پشیمان ہوکر نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور جو کچھ ہوا تھا وہ سب آپﷺ کو بتا دیا۔ اس پر اللہ تعالی نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ﴿وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ﴾ یعنی حکم دیا کہ دن کے دونوں اطراف میں جو نمازیں ہیں یعنی صبح ، ظہر اور عصر انہیں ادا کرو اور ﴿وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ﴾ یعنی وہ دو نمازیں بھی پڑھو جو رات کے ابتدائی حصے میں آتی ہیں یعنی مغرب وعشاء۔ اور فرمایا ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ یعنی یہ پانچ نمازیں صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور تو نے جو گناہ کیا ہے وہ انہی میں سے ہے ۔ اس پر اس شخص نے سوال کیا کہ کیا یہ نمازیں صرف میرے لیے کفارہ ہیں یا سب لوگوں کے لیے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ میری پوری امت کے لیے ہے، یعنی میری امت میں سے جو بھی اس طرح کا کوئی کام کر بیٹھے گا اس کے لیے یہ پانچ نمازیں کفارہ بن جائیں گی۔ ایک دوسری روایت میں ہے: کوئی بھی مسلمان اگر کوئی گناہ کر بیٹھے، پھر وضو کرکے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ تعالی اس کے گناہ کو بخش دیتا ہے۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے قرآنِ پاک کی دو آیتیں تلاوت کیں۔ ﴿وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّـهَ يَجِدِ اللَّـهَ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ ”جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ﻇلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وه اللہ کو بخشنے واﻻ، مہربانی کرنے واﻻ پائے گا“۔ ﴿وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ...﴾ ” جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں...“۔ (مسند احمد: 47) یہ بندوں کے ساتھ اللہ تعالی کی رحمت کی کشادگی کی دلیل ہے کہ اُس نے پانچ فرض نمازوں اور نفلی نمازوں کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ہلاک ہوجاتے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! مجھ پر حد واجب ہو گئی ہے لہذا مجھ پر حد جاری کردیں۔ پھر نمازکا وقت ہونے پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں شامل ہوا۔ نماز ختم کرنے کے بعد اس نے پھر کہا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھ پر حد واجب ہوگئی ہے آپ کتاب اللہ کے حکم کے مطابق مجھ پر حد جاری کردیں۔آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم ہمارے ساتھ نماز میں حاضرتھے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمھیں معاف کر دیا گیا ہے“۔
متفق علیہایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھ سے ایسا گناہ سرزد ہوا ہے جس پر حد جاری ہوتی ہے۔ پس آپ مجھ پر حد نافذ کردیں۔ حد سے مراد اللہ کا حکم ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے اس سے کچھ نہ پوچھا یعنی آپ ﷺ نے اس شخص سے حد کے واجب کرنے کی وجہ دریافت نہیں فرمائی۔ کہا گیا کہ آپ ﷺ وحی کے ذریعے اس کے گناہ اور مغفرت کے سبب کو جان چکے تھے۔ ”اور پھر نمازکا وقت ہونے پر اُس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی“ یعنی: کوئی نماز یا عصر کی نماز اور جب وہ نماز کا ادا کرچکا اور اس سے واپس ہوئے تو وہ پھر کھڑا ہوا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھ پر حد واجب ہوگئی پس آپ مجھ پر حد نافذ کردیں۔ اللہ کی کتاب کے حکم کے مطابق، یعنی اللہ تعالی کا حکم جو قرآن اور سنت میں ہے۔معنی یہ ہے کہ آپ میرے حق میں اس پرعمل کیجیے جس پر یہ دلالت کرے چاہے حد ہو یا اس کي علاوہ کوئی دوسری شے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ تو اس نے کہا: جی ہاں پڑھی ہے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے تمہارے گناہ یا حد کو معاف کردیا ہے۔ یہاں راوی کو شک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری حد کے موجب کو معاف کردیا ہے۔ یہاں حد سے مراد وہ سزا ہے جو تعزیر کو شامل ہے یا یہ کہ اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے، البتہ یہاں حقیقی واصطلاحی حد مراد نہیں ہے جیسے زنا اور شراب کی حد ہے جو کہ ایک واجب اور مقررہ سزا ہے۔ نبی ﷺ کا اس کے گناہ کے متعلق سوال نہ کرنے میں یہ حکمت ہو گی کہ آپ ﷺ اس کے عذرکی نوعیت جان چکے تھے تو آپ نے اس نہ پوچھا تاکہ حد نہ لگائیں۔ جب کہ اگر آپ ﷺ جانتے ہوتے تو اس پر حد لازم تھی چاہے وہ توبہ ہی کیوں نہ کرلیتا کیونکہ توبہ حد کو ساقط نہیں کرسکتی سواۓ اس ڈاکہ زنی کی حد کے کہ قرآن مجید کی آیت اس سلسلہ میں وارد ہے اور اسی طرح ذمی کے زنا کی حد جب وہ اسلام قبول کرلے ساقط ہوجاتی ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے آنے کی اجازت دے دو۔ یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے۔“
متفق علیہایک آدمی نے نبی ﷺ سے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے دو، یہ اپنے قبیلے کا بہت ہی برا شخص ہے، یا آپ ﷺ نے ”أخو العشيرة“ کی بجائے ”ابْن العشيرة“ فرمایا۔ جب وہ آ بیٹھا تو آپ ﷺ اس کے ساتھ بہت خندہ روئی اور خوش مزاجی سے پیش آئے۔ اس آدمی کے چلے جانے کے بعد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ نے اس آدمی کو دیکھا تھا تو آپ نے ایسے کہا تھا جب کہ بعد ازاں آپ اس سے بہت خندہ روئی اور خوش مزاجی سے پیش آئے ہیں، (اس کی کیا وجہ ہے؟)۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ! تم نے مجھے بد گو کب پایا ہے؟ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برا شخص وہ ہو گا جس سے لوگ اس کے شر سے بچنے کے لئے کنارہ کشی کرلیں۔ یہ شخص فسادی اور فتنہ انگیز لوگوں میں سے تھا اس لئے آپ ﷺ نے اس کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر اس انداز میں کیا جس کا وہ حق دار تھا اور فرمایا کہ وہ اپنے قبیلہ کا بدترین شخص ہے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس کی فتنہ انگیزی پر متنبہ کرنے کے لئے یہ فرمایا تا کہ وہ اس سے دھوکہ نہ کھا بیٹھیں۔ چنانچہ جب آپ بھی کسی ایسے شخص کو دیکھیں جو برا اور گمراہ ہو لیکن اس نے اپنی فصاحت کی بدولت لوگوں کو مسحور کر رکھا ہو تواس صورت میں آپ کے لئے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ شخص برا ہے تاکہ لوگ اس سے دھوکہ نہ کھا لیں۔ کتنے ہی ایسے چرب زبان اور فصیح الکلام لوگ ہوتے ہیں جن کا ڈیل ڈول آپ کو بہت بھاتا ہے اور جب وہ کوئی بات کرتے ہیں تو اسے آپ بغور سنتے ہیں لیکن ان میں خیر نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ایسے شخص کی حقیقتِ حال کو بیان کرنا واجب ہے۔ باقی رہا آپ ﷺ کا اس شخص کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آنا تو یہ مدارات (دل رکھنے) کے قبیل سے تھا۔ اہل علم کےنزدیک دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں مدارات ضروری ہے بخلاف مداہنت کے۔ اس سے مراد وہ مداہنت ہے جس کی وجہ سے کسی واجب سے دستبردار ہونا پڑے یا پھر کسی ممنوعہ کام سے چشم پوشی ہو یا کسی حرام کا ارتکاب ہو۔ ایسا کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ﴾ [سورة القلم: 9] ”وہ تو چاہتے ہیں کہ کہیں آپ نرمی کریں تو وہ بھی نرمی کریں“۔ جب کہ مدارات اور لوگوں کے ساتھ اس انداز میں برتاؤ کرنا جس سے مصلحت کا حصول ہو اور اس سے کوئی برائی بھی مرتب نہ ہوتی ہو تو یہ ایک مشروع عمل ہے۔
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف رحمہ اللہ سے روايت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا جب کہ آپ روزے سے تھے۔ آپ نے فرمایا: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور وه مجھ سے بہتر تھے۔ ان کے کفن کے لیے صرف ايک چادر ميسر آئی، جس سے اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا توان کے پير کھل جاتے اور اگر پير ڈھانپے جاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ پھر ہمارے لیے دنیا فراخ کردی گئی جو تم ديکھ رہے ہو، یا یہ فرمایا: ہمیں دنیا اتنی عطا کردی گئی ہے جو ظاہر ہے۔ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا؟ پھر رونے لگے يہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ ديا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ایک دن روزے سے تھے۔ جب افطار کا وقت آیا تو ان کے لئے کھانا لایا گیا۔ روزہ دار کو عام طور پر کھانے کی چاہت ہوتی ہے۔ لیکن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اولين صحابۂ کرام کے احوال کو یاد کیا۔ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ خود بھی اولين اور مہاجرين صحابہ میں سے تھے، لیکن انہوں نے اپنے آپ کو کم تر سمجھتے ہوئے فرمایا کہ: مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تواضع اور انکسارِ نفس میں مجھ سے بہتر تھے، یا وہ فقر اور صبر کو اختیار کرنے کے اعتبار سے مجھ سے بہتر تھے۔ ورنہ علماء نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ عشرۂ مبشرہ (انہيں ميں سے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہيں) باقی صحابہ سے افضل ہیں۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے قبل اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں رہتے تھے اور ان کے والدین بہت مالدار تھے۔ ان کے ماں باپ انہيں نو جوان لڑکوں کے بہترین لباس پہناتے تھے۔ انہوں نے بہت لاڈ پیار سے انہں پالا تھا، لیکن جب وہ اسلام لائے تو والدین نے انہیں چھوڑ دیا اور اپنے سے دور کردیا۔ یہ مہاجرین میں سے تھے، ان کے بدن پر پیوند لگے کپڑے رہتے تھے، جب کہ پہلے یہ اپنے والدین کے ساتھ مکہ میں بہترین کپڑے پہنا کرتے تھے، لیکن انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرکے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں۔ اُحد کے دن نبی ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا اور وه اس میں شہید ہوگئے۔ ان کے پاس ایک چادر تھی، اس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو کپڑا چھوٹا ہونے کی وجہ سے ان کے پیر نظر آتے، اور اگر ان کے پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا۔ تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے ان کا سر ڈھانپ دیا جائے اوران کے پیر اذخر گھاس سے ڈھانپ دیے جائیں۔ اذخر ایک معروف گھاس ہے۔ حدیث مذکور میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کا حال یاد فرما رہے ہیں۔ پھر فرماتے ہيں کہ وہ لوگ چلے گئے اور ان کے بعد کے لوگوں پر اللہ نے جو دنيا کے مال و غنيمت کی فراخی کردی ہے اس سے وہ لوگ محفوظ ہوگئے ۔ جيسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا﴾ ”اور بہت سی غنیمتیں جنہیں وہ حاصل کريں گے“۔ پھر عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ کہیں دنيا ہی ميں ہماری نيکيوں کا جلدی بدلہ تو نہيں دے ديا گيا؟“ یعنی ہمیں خوف ہے کہ کہيں ہم ان لوگوں کے زمرے میں تو نہيں داخل ہوگئے جن کے بارے میں کہا گیا ہے: ﴿مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَّدْحُورًا﴾ ”جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیں، بالآخر اس کے لیے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا“۔ یا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُم بِهَا﴾ ”تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کر دیں اور ان سے فائدے اٹھا چکے“۔ جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ ان سب کی وجہ سے جب ان پر خوف غالب رہتا تھا تو آپ رضی اللہ عنہ کو ڈر لاحق ہوا کہ کہیں ان کی نیکیوں کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں جلدی نہ دے دیا گیا ہو۔ اسی لیے وہ اس خوف اور خدشے سے رونے لگے کہ کہيں ایسا نہ ہو کہ وہ پہلے نیک لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہوسکيں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کھانا چھوڑ دیا۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مال مانگا، تو آپ ﷺ نے مجھے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے پھر دیا، پھر فرمایا: اے حکیم !یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے۔ پس جس نے اسے دلی سخاوت کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جس نے اسے دل کے لالچ کے ساتھ لیا، اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا۔ اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس پر میں نے کہا کہ یارسول اللہ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کربھیجا ہے! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا کو چھوڑ جاؤں ۔ چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حکیم رضی اللہ عنہ کو کوئی شے دینے کے لیے بلاتے، تو وہ لینے سے انکار کردیتے تھے ۔ بعد ازاں عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو دینے کے لیے بلایا، لیکن انھوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے مسلمانو ! میں حکیم کے معاملے میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ اس مال فے میں اللہ کی طرف سے ان کا جو مقررہ حق ہے، میں نے اسے ان کے سامنے پیش کیا، لیکن انھوں نے اسے لینے سے انکار کردیا ۔ تاوقت وفات حکیم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے بعد لوگوں میں سے کسی سے کچھ نہ مانگا۔
متفق علیہمفہوم حدیث: حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور کچھ مال مانگا۔ آپ ﷺ نےا نھیں مال دے دیا۔ انھوں نے پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے پھر دے دیا۔ پھر مانگا، تو آپ ﷺ نے انھیں پھر دے دیا اور اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے فرمایاکہ اے حکیم: "یہ مال بہت سرسبز اور میٹھا ہے" ۔ یعنی یہ بہت محبوب و مرغوب ہے ۔ دل اسے پسند کرتے ہیں اور طبعی طور پر اس کی طمع رکھتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی، جیسے دل کو تروتازہ پھل، خوش نما منظر اور خوش ذائقہ مٹھائی پسند ہوتی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسے سخاوت دل کے ساتھ لیا“ یعنی جس نے مال اس طرح حاصل کیا کہ دل صاف ہو، اصرار، لالچ اور شدیدخواہش کی آمیزشنہ ہو۔ ”اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے“ یعنی اللہ تعالی اس میں برکت ڈال دیتے ہیں اوریوں وہ بڑھتا اور زیادہ ہوتا چلا جاتا ہے، اگرچہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، اورایسے شخص کو قناعت دے دی جاتی ہے۔ وہ دل کا تونگر ہو جاتا ہے۔ اس کا دل پر سکون رہتا ہے اور وہ اس مال کے ساتھ سعادت مندانہ زندگی گزارتا ہے۔ ”جو شخص دل کے لالچ کے ساتھ اسے لیتا ہے“ یعنی اس کے دل میں مال کی شدید خواہش بسی ہوتی ہے، وہ اسے حاصل کرنے کے درپے رہتا ہے اوراس کے اندر لالچ کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ ”تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی“۔ یعنی اللہ تعالی اس مال سے برکت نکال لیتےہیں اورایسے شخص کو قناعت سے محروم کردیتے ہیں اور یوں وہ ہمیشہ دل کا فقیر ہی رہتا ہے، چاہے اسے پوری دنیا کے خزانے ہی کیوں نہ دے دیے جائیں ۔ مسلم شریف میں اسی معنی کی ایک اور حدیث بھی ہے، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو فقط خازن ہوں۔ جسے میں خوش دلی سے دیتا ہوں، اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی جاتی ہے اور جو شخص اسے مانگ کر اور لالچ کے ساتھ مجھ سے لیتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“۔ ”وہ اس شخص کی مانند ہوتا ہے، جو کھاتا تو ہے، لیکن سیر نہیں ہوتا“ یعنی اس حریص شخص کی مانند ہوتا ہے، جو جتنا بھی کھائے اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ جب میلان نفس کے ساتھ لینے کا یہ حال ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہوگا، جو مانگ مانگ کر لیتا ہے۔ اس کا حال تو اس سے بہت ہی گیا گزرا ہوگا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا:”اس مال میں سے اگر کچھ تمھارے پاس بغیر کسی نفسی میلان اور بن مانگے آجائے، تو اسے لے لو اور جو نہ آئے، اس کے پیچھے اپنے دل کو نہ لگاؤ“ یعنی جس ملنے والے مال میں تمھارے نفس کا میلان ہو اور اس میں رغبت و اشتیاق ہو، اسے مت لو اور اسی طرح جو مانگنے پر آئے، اسے بھی مت لو۔ ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ اسے بہتر ہے“ یعنی نہ مانگنے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہترہے ۔ کیوںکہ اس نے اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچا لیا، اس ہاتھ کے برعکس جس نے اپنے آپ کو ذلت میں ڈال کر اپنی قدروعزت میں خود ہی کمی کی۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اس ذات کی قسم اٹھائی، جس نے نبی ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس بات پر کہ وہ آپ ﷺ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگیں گے ۔انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! جس ذات نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کی قسم! میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ دنیا چھوڑ جاؤں۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی، تو وہ انھیں کچھ دینا چاہتے، لیکن وہ اسے قبول نہیں کرتے تھے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو انھوں نے آپ کو بلوایا، تاکہ انھیں کچھ دے سکیں، لیکن انھوں نے لینے سے انکار کردیا ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے کہا: گواہ رہو کہ میں انھیں مسلمانوں کے بیت المال سے دینا چاہتا ہوں، لیکن وہ قبول نہیں کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کہا کہ روزقیامت اللہ کے سامنے ان کی عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی حجت باقی نہ رہے اور وہ لوگوں کے سامنے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوجائیں۔ تاہم پھر بھی حکیم رضی اللہ عنہ ان سے کچھ نہ لینے پر مصررہے، یہاں تک کہ وفات پاگئے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ: میں نے نبی ﷺ سے عرض کیا: آپ کے لئے صفیہ کا ایسا ایسا ہونا ہی کافی ہے۔ بعض راویوں نے کہا کہ: ان کی مراد یہ تھی کہ وہ پستہ قد ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس کا ذائقہ بدل ڈالے“۔ وہ کہتی ہیں: میں نے ایک شخص کی نقل اتاری تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل اتاروں چاہے اس کے بدلے مجھے اتنا اتنا مال ملے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نےصفیہ رضی اللہ عنہا کی غیر موجودگی میں ان کے تعلق سے کچھ ایسی بات کہی جو انہیں عیب دار اور برا بنا دے، اور وہ یہ ہےکہ وہ پستہ قد ہیں، رضی اللہ عنہا۔ ایسا انہوں نے ان کو نبی ﷺ کے سامنے نیچا اور کمتر دکھانے کے لئے کیا، ان کی نسوانی غیرت نے انھیں اس بات کے کہنے پر اکسایاتھا، تو نبی ﷺ نےفرمایا: تیری کہی ہوئی بات کو اگر سمندر کے پانی میں ملا دیا جایے تو وہ اس کا رنگ مزہ اور بو بدل ڈالے، اس کی خطرناکی اور بڑے نقصان کی وجہ سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے سامنے ایک آدمی کی نقل اتاری یعنی اس کو نیچا دکھانے کے لئے میں نے بھی ہو بہو ویسا ہی کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے کسی کے عیب کو بیان کرنے سے خوشی نہیں ملتی، یا مجھے اس سے خوشی نھیں ملتی کہ کسی کو نیچا اور کمتر دکھانے کے لیے، ہو بہو اسی جیسا کروں یا ہو بہو اسی جیسا کروں، چاہے اس کے بدلے مجھے دنیا کا اتنا اور اتنا (مال) دے دیا جائے۔
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے ہاں (قدر و منزلت کے اعتبار سے) سب سے بہترین دوست وہ ہے جو اپنے دوست کے لیے اچھا ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اللہ کے ہاں دوستوں میں سے سب سے زیادہ قدر و منزلت اور مستحق ثواب وہ ہے جو ان میں سے اپنے ساتھی کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو اور اسی طرح پڑوسیوں میں سے سب سے بہتر اللہ کے ہاں وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے نفع بخش ہو۔
عبداللہ بن بسر اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے اچھا وہ شخص ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل بھی اچھا ہو“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی انسان کی عمر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں لمبی ہوتی ہے (گزرتی جاتی ہے) تو وہ اللہ تعالی سے زیادہ قریب ہوتا جاتا ہے کیونکہ اس کو کوئی بھی عمل کرنے کا موقع ملنے میں اس کی عمر بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ عمل اسے اپنے اللہ سے اور زیادہ قریب کر دیتا ہے ، پس لوگوں میں سے بہترین ہے وہ شخص جسے یہ دونوں چیزیں عطا کی گئی ہوں یعنی لمبی عمر اور اچھا عمل۔ بہر حال لمبی عمر کسی انسان کے لیے خیر کی ضامن نہیں ہے الاّ یہ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عمل دونوں میں اچھا ہو؛ کیونکہ بعض اوقات لمبی عمر انسان کے لیے فتنے اور نقصان کا باعِث ہوتی ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ اچھا کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ”جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو“ پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ بد تر شخص کون ہے؟ تو فرمایا ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو“۔(ابو داود، ترمذی) اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: ﴿وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِّأَنفُسِهِمْ ۚ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ ”کافر لوگ ہماری دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں، یہ مہلت تو اس لیے ہے کہ وہ گناہوں میں اور بڑھ جائیں ان ہی کے لیے ذلیل کرنے والے عذاب ہے“۔ ان کافروں کو اللہ تعالیٰ نے ڈھیل دی ہوئی ہے کہ انھیں رزقِ وافر ، عافیت ، درازیٔ عمر اور بیوی بچے عطا کر رکھے ہیں، اس میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لیے باعثِ فتنہ ہے۔ اللہ کی پناہ! کہ اس فراوانی سے وہ مزید گناہوں میں گِھر جائیں گے۔ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اوقات اور گھڑیاں تاجر کے بنیادی سرمائے (پونجی) کی طرح ہیں پس چاہیے کہ تجارت اس طرح کی جائے کہ حصولِ نفع کے باعث ہو، سرمایہ جتنا بڑھتا جائے گا نفع بھی زیادہ ہوتا جائے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی بسر کرے وہ کامیاب ہو گا اور فلاح پائے گا اور جس نے اپنا سرمایا (پونجی) ضائع کیا وہ نفع نہیں پائے گا اور سخت گھاٹے میں رہے گا“۔