





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی ﷺ کے ساتھ کھانا کھاتے تھے تو ہم اپنے ہاتھوں کو (کھانے میں) اس وقت تک نہیں ڈالتے تھے جب تک کہ رسول اللہ ﷺ شروع نہ کردیتے اور اپنا ہاتھ مبارک نہ ڈال دیتے۔ ایک مرتبہ ہم آپ ﷺ سے ساتھ کھانا کھانے میں موجود تھے کہ اچانک ایک لڑکی آئی گویا کہ اسے کوئی ہانک رہا ہے وہ اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا پھر ایک دیہاتی آدمی دوڑتا ہوا آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس دیہاتی کا بھی ہاتھ پکڑ لیا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شیطان اپنے لیے ایسے کھانے کو حلال کرلیتا ہے کہ جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے چنانچہ شیطان اس لڑکی کو لایا تاکہ وہ اپنے لیے کھانا حلال کرے تو میں نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا پھر وہ شیطان اس دیہاتی آدمی کو لایا تاکہ وہ اس کے ذریعہ اپنا کھانا حلال کرلے تو میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! شیطان کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور کھانا کھایا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب ہم لوگ آپ ﷺ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوتے، تو آپ ﷺ کے کھانا شروع کرنے اور ہاتھ آگے بڑھانے سے پہلے ہم کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے تھے، یہ آپ ﷺ کے احترام کی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ کے ہاتھ بڑھانے سے پہلے وہ ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے۔ ایک دن اللہ کے رسول ﷺ کے پاس کھانا آیا، صحابہ رضی اللہ عنہم نے ابھی شروع نہیں کیا تھا یا ان کے سامنے پیش کیا گیا، تو ایک بچی اس طرح آئی جیسے اسے دوڑایا جا رہا ہو، وہ بغیر بسم اللہ کے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنے لگی، آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک بدّو آیا جیسے اسے بھی دوڑایا جارہا ہو، اس نے اپنا ہاتھ کھانے کی طرف بڑھایا تو آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ بھی روک لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بدّو اور بچی کو شیطان لے کر آیا تھا یعنی اس نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تھا اور آنے پر ابھارا، تاکہ ان دونوں کے بغیر بسم اللہ کے کھانا شروع کرنے کی وجہ سے وہ اسے اپنے لیے حلال کر لے۔ یہ دونوں اپنی جہالت کی وجہ سے معذور تھے، یہ لڑکی اپنی کم سنی اور یہ ایک بدّو ہونے کی وجہ سے، لیکن شیطان انھیں ہانک کر اس لیے لے آیا کہ جب یہ دونوں بغیر باسم اللہ پڑھے کھانے لگ جائیں تو وہ بھی کھانے میں شریک ہو جائے گا۔ پھر نبی ﷺ نے قسم کھا کر کہا کہ شیطان کا ہاتھ ان دونوں کے ہاتھ کے ساتھ نبی ﷺ کے ہاتھ میں میں موجود تھا۔
ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس خصلتیں جن میں سب سے اعلیٰ و ارفع دودھ دینے والی بکری کا ہد یہ کرنا ہے ــــــــــــ ایسی ہیں کہ جو شخص ان میں سے کسی ایک خصلت پر بھی عمل پیرا ہوگا ثواب کی نیت سے اور اللہ کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے امت کو نیکی پر ابھارا ہے اور اس کا عدد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ چالیس خصلتیں ہیں تاہم ان کی نوعیتوں کو مبہم رکھا ہے سوائے ایک خصلت کے جو ان میں سب سے بلند تر ہے وہ یہ ہےکہ کسی انسان کے پاس (دودھ دینے والی) بکری ہو اور وہ اسے فقیر کو ہدیہ کر دے تاکہ وہ اس کے دودھ سے فائدہ حاصل کرے۔ جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو مالک کو واپس کر دے۔اس سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ اس طرح بہت سارے آسان اعمال ہیں کہ جس میں لوگ خیر کے معاملے میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کریں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب زمانہ (قیامت کے) قریب ہو جائے گا تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا۔ اور مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے“۔ ایک اور روایت میں ہے: ”'تم میں خواب کے اعتبار سے زیادہ سچا وہ ہے جو تم میں بات میں سب سے زیادہ سچا ہے“۔
متفق علیہحدیث کا مفہوم: آخری زمانے میں مومن کے خواب سچے ہوا کریں گے۔ بعض اوقات تو وہ کسی واقع شدہ چیز کے بارے میں،اور کبھی تو کسی آئندہ واقع ہونے والی چیز کے بارے میں خبر ہوتے ہیں، جو عین خواب کے مطابق واقع ہوتی ہے۔ اس قسم کے خواب اپنے مدلول کے سچ ثابت ہونے کے اعتبار سے نبوت کی وحی کی مانند ہیں۔ مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ یعنی خواب نبوت کے علم کے اجزاء میں سے ہے بایں طور کہ اس میں غیب کی خبر ہوتی ہے۔ نبوت تو باقی نہیں رہی لیکن اس کا علم باقی ہے۔ چھیالیس کے عدد کو بطور خاص اس لئے ذکر کیا کیونکہ نبی ﷺ کی مدت عمر زیادہ تر صحیح روایات کے مطابق تریسٹھ سال کی تھی، جس میں نبوت کی مدت تیئیس سال تھی; کیونکہ آپ ﷺ کو اس وقت مبعوث کیا گیا جب آپ پورے چالیس سال کے ہو چکے تھے۔ آپ ﷺ بعثت سے قبل چھ ماہ تک سچے خواب دیکھتے رہے جو صبح کو ایسے حقیقت بنتے جیسے صبح کا تڑکا واضح ہوتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے حالت بیداری میں فرشتے کو دیکھا۔ اگر حالت خواب میں آنے والی وحی کی مدت جو کہ چھے ماہ ہے اور آپ ﷺ کی نبوت کی مدت جو کہ تیئیس سال ہے، کی باہمی نسبت کو دیکھا جائے تو چھہ مہینہ تیئیس حصوں کا نصف حصہ بنتا ہے، اور وہی چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ بنتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں خواب کے اعتبار سے سب سے سچا وہ ہے جس کی بات سب سے زیادہ سچی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جب بندہ اپنی بات میں سچا اور اللہ کے قریب ہوتا ہے تو غالب طور پر اس کا خواب سچ کے قریب تر ہوتا ہے۔ اسی لیے بخاری شریف کی ایک حدیث میں یہ قید لگائی گئی ہے کہ ”نیک شخص کا سچا خواب ...“ البتہ جو شخص بات میں سچا نہیں ہوتا اور وہ ظاہری و باطنی برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو عام طور پر اس کا خواب اس کے ساتھ شیطان کے کھلواڑ کے قبیل سے ہوتا ہے۔ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے خواب سچے ہوں تو وہ سچ بولے، حلال کھائے، احکامات وممنوعات کا خیال کرے اور مکمل طہارت کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر سوئے اور اللہ تعالی کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ نیند اس پر غالب آ جائے، تو ایسے شخص کے خواب جھوٹے نہیں ہوں گے“۔
ابو سعيد خدري رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو سارے اعضاء زبان کے سامنے عاجزی کے ساتھ التجا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر۔ ہم تجھ سے متعلق ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: جسم کے تمام اعضاء زبان کے سامنے اظہار عجزو انکساری کرتے ہیں اور وہ اس کے تابع ہیں ۔ اسی لیے بندہ جب صبح کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ”ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرو ہم تجھ سے متعلق ہیں“۔ انسان کے اعضاء میں سے سب سے خطرناک زبان ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہے تو اس کے تمام اعضاء ٹھیک رہتے ہیں اور اس کے باقی تمام اعمال درست ہو جاتے ہیں اور اگر اس میں کچھ کجی آجائے تو تمام اعضاء میں کجی آ جاتی ہے اور انسان کے بقیہ اعمال بھی فاسد ہوجاتے ہیں۔انس - رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے کا ایمان اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کا دل ٹھیک نہ ہوجائے اور اس کا دل اس وقت ٹھیک نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان ٹھیک نہ ہو جائے“۔ اس موضوع پر بہت سی ایسی احادیث ہیں جو زبان کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں بایں طور کہ زبان یا تو اس شخص کے لیے باعثِ سعادت ہوتی ہے اور یا پھر اس کے لیے باعثِ مصیبت ہوتی ہے۔ اگر وہ اسے اللہ کی اطاعت میں لگا دے تو وہ اس کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت بن جاتی ہے اور اگر اسے ایسے کام میں لگا دے جس میں اللہ کی رضا نہ ہو تو وہ دنیا و آخرت میں اس کے لیے باعثِ حسرت بن جائے گی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ تعالی نے مومن کے لیے روز قیامت جو دائمی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں ان کی وجہ سے وہ دنیا میں قیدی ہے اور کافر کی جنت اس کی دنیا ہے کیونکہ روز قیامت اس کے لیے اللہ نے کبھی نہ ٹلنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
عمران بن حُصين رضی الله عنهما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ”السلام علیکم“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا دس (نیکیاں)، دوسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ” کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا بیس، پھر تیسرا آیا اور اس نے ”السلام علیکم وحمۃ اللہ وبرکاتہ“ کہا، نبی ﷺ نے اس کا بھی جواب دیا اور جب وہ بیٹھ گیا تو فرمایا تیس۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا ، اس نے کہا ’’السلام عليكم ‘‘ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا پھر وہ بیٹھ گیا تو نبی ﷺ نے خبر دیا کہ اس کے لیے دس نیکیاں لکھی گئی ہیں، جو شخص اس جملے کو کہے گا اس کے لیے یہ اجر ہے، اگر اللہ تعالی چاہے تو اسے اپنی طرف سے مزید دے سکتا ہے، پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا ’’السلام عليكم ورحمة الله‘‘ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا نبی ﷺ نے فرمایا اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئی ہیں، کیونکہ اس نے پہلے شخص کے مقابلے ’’ورحمة الله‘‘ کا اضافہ کیا، پھر تیسرا آدمی آیا اس نے کہا ’’السلام عليكم ورحمة الله وبركاته‘‘ آپ نے اس کا جواب دیا وہ بیٹھ گیا نبی ﷺ نے فرمایا اس کے لیے تیس نیکیاں لکھی گئی ہیں ، یہی سلام کے صیغوں کا آخری حصہ ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی بات زبان سے نکالتا ہے، اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اس کی وجہ سے اللہ اس کے کئی درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی والی بات کرتا ہے جس کی طرف اس کا دھیان بھی نہیں، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں جا گرتا ہے“۔ اور ابو عبد الرحمن بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی بات کرتا ہے، اس کو گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گی، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی رضامندی لکھ دیتا ہے اور آدمی (بعض دفعہ)اللہ کی ناراضی کا ایسا کلمہ بولتا ہے، اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ کہاں تک پہنچے گا اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے اپنی ملاقات کے دن تک اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔آدمی اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور خوشنودی والا کلمہ بو لتا ہےجیسے کہ پند و نصائح اورتعلیم، اور اسے گمان بھی نہیں ہو تا کہ یہ کلمہ اللہ کی رضامندی حاصل کرنے میں کہاں تک پہنچ جائے گا، پس اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سےاس شخص کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا کلمہ بولتا ہے جس سے اللہ ناراض ہوتا ہےجیسے غیبت چغلی، بہتان وغیرہ، پس اللہ تعالیٰ اس کلمے کی وجہ سےاس کو قیامت کے دن جہنم میں گرا دےگا۔
ابو امامہ رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:”لوگوں میں سے اللہ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے، جو ان میں سے سلام کرنے میں پہل کرتا ہے“۔ ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ ﷺ سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! جب دو افراد آپس میں ملتے ہیں، تو کون سلام میں پہل کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو دونوں میں اللہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔لوگوں میں سب سے بہتر اور اللہ کے اطاعت شعار وہ بندے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے سلام میں پہل کرتے ہیں۔ کیوںکہ یہ لوگ اللہ کی اطاعت اور محبت کی طرف لپکنے والے ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایسے لوگ سب سے زیادہ اللہ تعالی کی قربت اور اطاعت کے حامل ہوتے ہیں۔
جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جو کسی مسلمان کو میسر آجائے اور وہ اس میں دنیا اور آخرت کے معاملے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے اس سےضرور نوازتا ہے، اور یہ گھڑی ہر رات ہوتی ہے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ہر رات میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ جو اگر کسی بندۂ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں حرام کے ماسوا کوئی دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرمائے گا۔ اور یہ رات کا آخری تہائی حصہ ہے، جیساکہ دوسرے صحیح نصوص میں وارد ہوا ہے۔