





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
اسید بن حضیر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص کی طرح مجھے بھی آپ عامل بنادیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس لیے صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آ ملو“۔
متفق علیہایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ ﷺ اسے بھی کسی حکومتی منصب پر فائز کر دیں، جس طرح آپ ﷺ نے دیگر لوگوں کو حکومتی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ آپ ﷺ نے انھیں بتایا کہ وہ شخص اور آپ ﷺ کے صحابہ مستقبل میں حکام کی طرف سے پیش آنے والے ظلم و جور پر صبر کا مظاہرہ کریں، جو اپنی رعیت کو محروم رکھتے ہوئے تن تنہا مال و دولت پر قابض ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ آپ ﷺ نے انھیں صبر سے کام لینے کی تلقین کی، یہاں تک کہ وہ حوض پر آپ ﷺ سے آ ملیں۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے اس کے گناہ کی سزاد دینے سے رُکا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ اللہ کا اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ وہ اسے اس کے گناہوں پر دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے یہاں تک کہ وہ دنیا میں سے اس حال میں جاتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ ایسا نہیں ہوتا جس کا حساب روزِ قیامت چکایا جانا ہو کیونکہ جس شخص کا فوری حساب کر لیا جاتا ہے اس کا آخرت میں حساب ہلکا ہو جاتا ہے۔ اور بندے کے ساتھ شر کا معاملہ کرنے کی علامت یہ ہے کہ اللہ اسے دنیا میں اس کے گناہوں کا بدلہ نہیں دیتا یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ گناہوں سے لدا پھندا آئے گا اور اس سے پورا پورا حساب لیا جائے اور جس بدلے کا وہ مستحق ہو گا وہ اسے ملے گا۔
سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کو خیال گزرا کہ انھیں ان لوگوں پر فضیلت حاصل ہے، جو مالی لحاظ سے ان سے کم تر ہیں۔ اس پر نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ تم میں سے کمزور لوگ ہی تو ہیں، جن کی وجہ سے تمھاری مدد کی جاتی ہے اور تمھا رزق دیا جاتا ہے“۔ ابو الدرداء رضي الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”(مالی و جسمانی طور پر) کمزور لوگوں کی تلاش میں میری مدد کرو۔ تم میں سے کمزور لوگوں ہی کی وجہ سے تمھاری مدد کی جاتی ہے اور ان ہی کی وجہ سے تمھیں رزق دیا جاتا ہے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ کمزور لوگ امت کی نصرت اور رزق کا سبب ہیں۔ جب انسان ان پر رحم اور شفقت کرتا ہے اور جو کچھ اللہ عز و جل نے اسے دیا ہے، اس میں سے انھیں بھی دیتا ہے، تو اس کی وجہ سے اسے دشمنوں پر مدد ملتی ہے اور یہ بات رزق ملنے کا سبب ہوتی ہے؛ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب انسان اپنے رب کی رضا کے لیے کچھ خرچ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا بدل دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ [سوره سبأ: 39] ترجمہ:”تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے“۔ یعنی وہ اس کا عوض اور بدل دیتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مریض کی عیادت کی یا اپنے کسی دینی بھائی سے ملاقات کی، اس کو ایک پکارنے والا پکار کر کہتا ہے: ”تو خوش رہے، تیرا چلنا مبارک ہو اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جو شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے یا پھر اللہ کی خاطر اپنے کسی بھائی سے ملاقات کے لیےجاتا ہے، اللہ کے ہاں سے ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے کہ تو گناہوں سے پاک ہو، اللہ کے ہاں تیرے لیے جو بے پناہ اجر ہے اس سے تو خوش ہو اور جنت کا محل تیرا مسکن بنے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی بات کہتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سمجھ لیا جائے اور جب کچھ لوگوں کے پاس آ کر سلام کرتے تو انہیں تین بار سلام کرتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ جب کوئی بات کرتے، تو اسے تین دفعہ دوہراتے، تاکہ آپ ﷺ کی بات کو پوری طرح سے سمجھ لیا جائے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تاکہ آپ ﷺ کی بات پوری طرح سمجھ لی جائے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر بغیر دہرائے بات سمجھ میں آ جائے، تو پھر بات کرنے والا اپنی بات کو نہ دہرائے۔ تاہم اگر انسان کو بات سمجھ میں نہ آئے، بایں طور کہ وہ اس کا معنی اچھی طرح سے نہ جانتا ہو اور اسے سمجھانے کے لیے وہ بات کو دوہرائے یا اس کی قوت سماعت کمزور ہو اور اس وجہ سے وہ سن نہ پائے یا پھر شور شرابہ ہو، تو ان صورتوں میں مستحب ہے کہ آپ اپنی بات کو دوہرائیں، تا کہ وہ سمجھ میں آ جائے۔ نبی ﷺ جب کچھ لوگوں کو سلام کرتے، تو تین دفعہ سلام کرتے۔ یعنی آپ ﷺ تین سے زیادہ دفعہ سلام نہیں کرتے تھے۔ آپ ﷺ ایک دفعہ سلام کرتے، اگر وہ شخص سلام کا جواب نہ دیتا، تو دوسری دفعہ سلام کرتے۔ وہ اگر جواب نہ دیتا، تو پھر تیسری دفعہ سلام کرتے اور پھر بھی اگر وہ جواب نہ دیتا، تو اسے چھوڑ دیتے۔ اجازت مانگنے کے بارے میں بھی آپ ﷺ کا یہی معمول تھا کہ آپ ﷺ تین دفعہ اجازت مانگا کرتے تھے۔ یعنی آپ ﷺ جب کسی کے پاس آتے، تو اس کے گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت چاہتے اور تین دفعہ دروازہ کھٹکھٹاتے۔ اگر وہ جواب نہ دیتا تو واپس لوٹ جاتے۔ یہ آپ ﷺ کی سنت تھی کہ آپ ﷺ امور کو تین دفعہ دوہراتے اور پھر چھوڑ دیتے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمی آپ ﷺ کے پاس سے ایک تاریک رات میں نکلے اور ان کے آگے دو چراغوں کی مانند کچھ تھا۔ جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ایک چراغ رہ گیا، جو (اس کے ساتھ رہا، یہاں تک کہ وہ) اپنے گھر والوں تک پہنچ گیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں نبی ﷺ کے صحابہ میں سے دو آدمیوں کی ایک واضح کرامت کا بیان ہے۔ حدیث کے بعض طرق میں آیا ہے کہ یہ دونوں عباد بن بشر اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما تھے۔ ہوا یوں کہ یہ دونوں جلیل القدر صحابی ایک ایسی سخت تاریک رات میں نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں تھے، جس میں عموما انسان آسانی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ چنانچہ اللہ تعالی نے انھیں ایک عجیب کرامت سے نوازا؛ ان کے سامنے ایک ایسی روشنی پیدا فرمادی، جو بجلی کے لیمپ کی مانند تھی اور وہ ان کے لیے اس راستے کو روشن کر رہی تھی، جس پر وہ چل رہے تھے۔ جب یہ دونوں جلیل القدر صحابی جدا ہوئے، تو ہر ایک کے لیے ایک مستقل روشنی پیدا ہوگئی؛ تاکہ ان میں سے ہر ایک آسانی اور اطمئنان کے ساتھ اپنے گھر تک پہنچ سکے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث سے مستفاد ہے کہ مسلمان پر واجب ہے کہ تمام حالات میں نیکوکاروں کو لازم پکڑے، اس حدیث میں اہلِ ایمان کی صحبت اختیار کرنے پر ابھارا گیا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ کفار اور منافقین سے دوری اختیار کی جائے، اس لیے کہ ان کی صحبت دین کے لیے نقصان دہ ہے۔ مومن سے مُراد اہلِ ایمان ہیں۔ ”وَلا يَأْكُلْ طعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ“ کے جملے سے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی تاکید فرمائی یعنی متقی آدمی جو کھانے کو اللہ کی عبادت میں صرف کرے۔ مطلب یہ ہوا کہ اپنا کھانا صرف متقی شخص کو ہی کِھلاؤ، اس میں دعوتِ ولیمہ وغیرہ بھی شامل ہے۔ مناسب یہی ہے کہ دعوت میں مدعو مومن اور نیکوکار لوگ ہوں۔
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! میں سفر پر جانےکا ارادہ رکھتا ہوں۔ مجھے کچھ زادِ راہ عنایت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تجھے تقویٰ کا زادِ راہ دے۔ اس شخص نے عرض کیا: کچھ مزید اضافہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اور وہ تیرے گناہ معاف کرے۔ وہ کہنے لگا: کچھ مزید اضافہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو جہاں بھی ہو اللہ تیرے لیے خیر کو آسان کر دے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔انس ابن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ وہ آپ ﷺ سے سفر پر جانے کی اجازت لینے اور زادہِ راہ مانگنے آیا۔ آپ ﷺ نے اس کے حق میں ایسی دعا فرمائی جو اپنے نفع کے اعتبار سے زاد راہ کی طرح تھی اور وہ یہ کہ احکام کی انجام دہی اور ممنوعات سے پرہیز اس کا زادِ راہ ہو۔ دعا کی خیر و برکت کی چاہت میں اس نے اضافہ کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے اس کے اضافے کی درخواست کے جواب میں اس کی طیبِ خاطر کے لیے فرمایا: اور وہ تمہارے گناہ معاف کرے۔ دعا کی خیر و برکت کی چاہت میں اس نے دوبارہ اضافہ کے درخواست کی تو نبی ﷺ نے ایسے خوبصورت انداز میں دعا کا اختتام فرمایا جو تمام قسم کی نیکیوں اور کامیابیوں کو جامع ہے۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے دعا فرمائی کہ ہر جگہ اور ہر وقت اللہ اس کے لیے دونوں جہانوں کی خیر کو آسان کر دے۔
ثابت رحمہ اللہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بیان کیا: میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے ہمیں سلام کیا اور مجھے ایک ضروری کام سے بھیجا۔ مجھے اپنی والدہ کے پاس آنے میں دیر ہو گئی۔ جب میں آیا تو میری والدہ نے پوچھا: کس وجہ سے تم نے آنے میں دیر کردی؟ میں نے جواب دیا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے کسی ضروری کام سے بھیجا تھا۔ انھوں نے دریافت کیا کہ آپ ﷺ کا ضروری کام کیا تھا؟ میں نے کہا: یہ ایک راز ہے۔ اس پر انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کا راز ہر گز کسی کو نہ بتانا۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم اے ثابت! اگر میں یہ راز کسی کو بتانے والا ہوتا تو تمھیں ضرور بتادیتا۔
متفق علیہثابت رحمہ اللہ، خادمِ رسول انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا جب کہ وہ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ چھوٹے بچے تھے۔ آپ ﷺ نے کھیلنے والے ان بچوں کو سلام کیا اور پھر انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کو بلا کر انھیں کسی ضروری کام کےلیے بھیج دیا۔ انھیں اپنی والدہ کے پاس آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ جب وہ اپنی والدہ کے پاس آئے تو انھوں نے پوچھا: تمہیں کس وجہ سے دیر ہو گئی؟ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے نبی ﷺ نے کسی ضروری کام پر بھیج دیا تھا۔ وہ پوچھنے لگیں کہ آپ ﷺ کا وہ ضروری کام کیا تھا ؟ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز کسی کو نہیں بتا سکتا۔یعنی میں کسی کو بھی اس راز کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ اس پر ان کی والدہ نے ان کی تایید، انھیں ان کی بات پر ثابت قدم رہنے اور ان کے عذر کو قبول کرتے ہوئےکہا کہ: رسول اللہ ﷺکا راز ہرگز بھی کسی کو نہ بتانا۔ کیوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کو رسول اللہ ﷺ کا راز بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد ثابت البنانی رحمہ اللہ سے فرمایا جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے کہ نبی ﷺ نے مجھے جس ضروری کام سے بھیجا تھا اس کے بارے میں اگر میں کسی کو بتاتا تو وہ تم ہوتے۔