





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عرب کے کسی قبیلہ کی ایک کالی لونڈی تھی۔ انھوں نے اسے آزاد کر دیا تھا اور انہی کے ساتھ رہتی تھی۔ اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ان کی ایک لڑکی ( جو دلہن تھی) نہانے کو نکلی، اس کا کمر بند سرخ تسموں کا تھا اس نے وہ کمر بند اتار کر رکھ دیا یا اس کے بدن سے گر گیا۔ پھر اس طرف سے ایک چیل گزری جہاں کمر بند پڑا تھا۔ چیل اسے ( سرخ رنگ کی وجہ سے ) گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔ بعد میں قبیلہ والوں نے اسے بہت تلاش کیا، لیکن کہیں نہ ملا۔ ان لوگوں نے اس کی تہمت مجھ پر لگا دی اور میری تلاشی لینی شروع کر دی، یہاں تک کہ انھوں نے اس کی شرمگاہ تک کی تلاشی لی۔ اس نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ اسی حالت میں کھڑی تھی کہ وہی چیل آئی اور اس نے ان کا وہ کمر بند گرا دیا۔ وہ ان کے سامنے ہی گرا۔ میں نے (اسے دیکھ کر ) کہا یہی تو تھا جس کی تم مجھ پر تہمت لگاتے تھے۔ تم لوگوں نے مجھ پر اس کا الزام لگایا تھا حالاں کہ میں اس سے پاک تھی۔ یہی تو ہے وہ کمر بند! اس ( لونڈی ) نے کہا کہ اس کے بعد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام لے آئی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے لیے مسجد نبوی میں ایک خباء (بڑا خیمہ) لگا دیا گیا۔ ( یا یہ کہا کہ ) حِفْش (چھوٹا سا خیمہ) لگا دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي کہ کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے کہا، آخر بات کیا ہے؟ جب بھی تم میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ شعر ضرور کہتی ہو۔ آپ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر اس نے مجھے یہ قصہ سنایا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ایک لڑکی کے قبول اسلام کی وجہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کے قبیلے کی طرف سے اس پر ایک چھوٹے سے ہار کی چوری کی تہمت لگائی گئی جس کو ایک چیل سرخ رنگ کی وجہ سے لے اڑی تھی۔ قبیلےوالے اس کے کپڑے اتار کر اس کی تلاشی لی۔اللہ کی قدرت کہ عین تلاشی کے وقت اس چیل نے وہ ہار ان کے درمیان پھینک دیا تو وہ اس کی بے گناہی کو جان گیے۔ وہ لڑکی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اُس نے اسلام قبول کر لیا اور گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے مسجد میں رہائش دے دی گئی۔ وہ اس حادثہ کو ہمیشہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی اور اس حادثہ کی مناسبت سے یہ شعر پڑھا کرتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي۔(کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی) یعنی کمر بند ملنے والا دن اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرتوں میں سے ہے کہ اس نے مجھے اس واقعہ کے بعد کفر کے ملک سے بچالیا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شام کی دو نمازوں میں سے ایک نماز (محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی) دو رکعت پڑھی، پھر سلام پھیرديا، پھر آپ ﷺ مسجد کے اگلے حصے میں نصب شدہ لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اپنا ہاتھ اس پر رکھ لیا۔ لوگوں میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ ﷺ سے بات کرنے سے ڈرے، اور جلدباز لوگ (مسجد سے) باہر نکلے اور کہنے لگے: کیا نماز کم کردی گئی ھے؟ ان ميں ایک شخص جسے نبی ﷺ ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: (اے اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم) کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی ھے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز ميں کمى كى گئی ہے۔ ذوالیدین نے کہا: كيوں نہیں، يقيناً آپ بھول گئے ہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر سلام پھیرا، پھر تکبیر کہہ كر اپنے معمول کے سجدوں کی طرح یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر كہی، پھر اپنا سر زمين پر ركها اور تکبیر كہی اور اپنے معمول کے سجدوں کی طرح یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر كہی۔'
متفق علیہاس حديث میں يہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر نمازی بھول کر اپنی نماز ميں کوئی کمی کر دے تو وہ کيا کرے؛ اسے چاہيے کہ وہ اپنی بقیہ نماز پوری کرے، پھر سلام پھیر دے، اس کے بعد سہو کے دو سجدے کرے، جو نماز ميں واقع ہونے والی کمی کو پورا کر دیں گے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے ساتھيوں کو ظہر يا عصر کي نماز پڑهائی۔ جب آپ ﷺ نے پہلی دو رکعتیں پڑھ لیں تو سلام پھیر دیا۔ لیکن چونکہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم انسان کامل تھے، آپ کے دل کو صرف مکمل عمل ہی سے اطمئنان حاصل ہوتا تھا، آپ کو نماز ميں کچھ کمی وخلل کا احساس ہوا، ليکن آپ کو اس کا سبب معلوم نہ تھا۔ چنانچہ آپ بے قرار دل کے ساتھ مسجد میں نصب ایک لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اس سے ٹيک لگا لیا، اور اپنے ایک ہاتھ کی انگليوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں ميں داخل کیا۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم کو ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی چيز رہ گئی ہے جس کو آپ نے مکمل نہيں کيا ہے۔ جلدباز نمازی مسجد کے دروازوں سے نکل گئے اور وہ آپس ميں سرگوشی کر رہے تھے کہ کوئی معاملہ پیش آیا ہے اور وہ یہ کہ نماز کم کردی گئی ہے، گويا کہ وہ يہ سمجھ رہے تھے کہ نبی ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ عليہ وسلم پر نسیان نہيں طاری ہو سکتی۔ اور ان کے دلوں میں آپ صلی اللہ عليہ وسم کی ہیبت کیوجہ سے کسی کی ہمت نہيں ہوئی کہ اس معاملہ میں آپ سے زبان کھولے، حالانکہ ان میں ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھيوں ميں ایک شخص، جسے لوگ ذوالیدین کہتے تھے، اس چپی کو توڑتے ہوئے عرض کيا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کردی گئی؟ تو آپ ﷺ نے - اپنے گمان کے مطابق - فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ اس وقت جب ذواليدين کو معلوم ہوگیا کہ نماز کم نہيں کی گئی ہے اور ان کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے صرف دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں، تو وہ سمجھ گئے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں، لہٰذا انہوں نے کہا :بلکہ آپ بھول گئے ہيں۔ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ذو الیدین کی خبر کی صحت کی تاکید کے لیے اپنے ارد گرد موجود صحابہ سے پوچھا: کيا ذو اليدين جو کہہ رہے ہيں وہ سچ ہے کہ ميں نے صرف دو ہی رکعت نماز پڑھی ہے؟ صحابہ کرام نے جواب ديا: ہاں۔ اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم آگے بڑھے اور جو نماز چھوٹ گئی تھی اسے پڑھی، اور تشہد کے بعد سلام پھیرا، پھر بيٹھے ہوئے تکبیر کہی اور اصل نماز کے سجدے کے مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر تکبیر کہی اور دوسرے سجدے کے مثل یا اس سے بھی لمبا سجدہ کیا پھر اپنا سر اٹھایا اور تکبیر کہی، پھر سلام پھیرا اور تشہد ميں نہيں بيٹھے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ:نبی ﷺ نے نماز پڑھائی، -ابراہیم نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ نماز میں زیادتی ہوئی یا کمی- پھر جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا کہ اے اللہ رسول! کیا نماز میں کوئی نیا حکم آیا ہے؟ آپ ﷺ نے کہا:آخر کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں پھیرے اور قبلہ کی طرف منہ کر لیا اور ( سہو کے ) دو سجدے کیے اور سلام پھیرا۔ پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں پہلے ہی بتا چکا ہوتا لیکن میں تو تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں۔اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دِلا دیا کرو اور اگر کسی کو نماز میں شک ہو جائےتو سوچ کر درست کیا ہے، اسے معلوم کرے اور اسی کے مطابق نماز پوری کرے پھر سلام پھیر کر (سہو کے) دو سجدے کر لے۔
متفق علیہاس حدیث میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی اس میں کمی بیشی ہو گئی۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا نماز میں کسی تبدیلی کا حکم آ گیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی نیا حکم آیا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا پھر انھیں بتایا کہ وہ بھی ان جیسے انسان ہیں اور نماز میں کمی بیشی کے اعتبار سے بھول سکتے ہیں۔ پھر یہ حکم بیان کیا کہ جو شخص بھول کر نماز میں کمی بیشی کر بیٹھے تو پھر ادا شدہ عدد رکعات کو یقینی کر لے اور اگر اس میں نقص آ گیا ہے تو اس کے مطابق نماز پوری کرے اور سہو کے دو سجدے کرکے سلام پھیر دے۔
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”(نماز میں) ہر سہو (بھول چوک) پر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی بھی سہو نماز میں ہو جائے زیادتی، کمی یا شک کی صورت میں تو اس پر سجدۂ سہو کرنا واجب ہے، یہ حدیث ان لوگوں کے دلائل میں سے ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سجدہ سہو سلام پھیرنے کے بعد ہے۔ اس مسئلہ میں تمام دلیلوں کے درمیان جمع کی صورت یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو دو صورتوں میں ہے: پہلی صورت جب اس نے سلام پھیرا دیا جب کہ اس نماز میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ دوسری صورت جب اسے شک ہوا اور غالب گمان کا خیال کرتے ہوئے مکمل کیا ان دو صورتوں کے علاوہ سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے ہو گا۔
ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں: سورۃ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے حالانکہ میں نے یہاں نبی ﷺ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔”سورہ ص کا سجدہ کچھ تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے“ کا مطلب یہ ہے کہ سورہ ص میں جو سجدۂ تلاوت ہے وہ واجب نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کے کرنے پر کوئی تاکیدی حکم وارد نہیں ہوا، بلکہ خبر دینے کے الفاظ میں اس کا کرنا وارد ہوا ہے کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے یہ سجدہ فرمایا تھا، جب اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کی توبہ قبول کرکے ان کی مغفرت کے ذریعے ان پر انعام فرمایا تو آپ ﷺ نے شکریہ کے طور پر یہ سجدہ ادا فرمایا۔ سنن نسائی کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”سَجَدَهَا دَاوُدُ تَوْبَةً وَنَسْجُدُهَا شُكْرًا“ یعنی ”داود علیہ السلام نے یہ سجدہ توبہ کے لیے کیا تھا اور ہم یہ سجدہ (توبہ کی قبولیت پر) شکر ادا کرنے کے لیے کر رہے ہیں“۔
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی، جب سجدہ کی آیت آئی تو منبر پر سے اترے اور سجدہ کیا تو لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ دوسرے جمعہ کو پھر یہی سورت پڑھی جب سجدہ کی آیت آئى تو کہنے لگے: ”اے لوگو ! یقیناً ہم آیاتِ سجود سے گزرتے ہیں تو جس نے سجدہٌ تلاوت کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں“، عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا۔ اورایک روایت میں ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے سجدۂ تلاوت فرض نہیں کیا، البتہ اگر قاری چاہے (تو کر لے)۔“
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی۔ جب سجدہ کی اس آیت: ﴿وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلَائِكَةُ وَهُمْ لَايَسْتَكْبِرُونَ، يَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾} ”یقینا آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اللہ تعالی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے اور اپنے رب سے جو ان کے اوپر ہے کپکپاتے رہتے ہیں اور جو حکم مل جائے اس کی تعمیل کرتے ہیں“۔ (سورہ نحل: 49-50) پر پہنچے تو اترے اور سجدہ کیا، اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا، یعنی منبر پر سے اترے اورزمین پر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ زمین پرسجدہ کیا۔ پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو اس کی تلاوت کی، یعنی سورۃ النحل کی تلاوت کی اور جب سجدہ پر پہنچے، یعنی جب سجدہ کی آیت پڑھی اور لوگ سجدے کے لئے تیار ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا اور انہیں سجدہ کرنے سے روک دیا جیسا کہ مؤطا کی روایت میں ہے کہ: لوگ سجدے کے لئے تیار ہو گئے عمر رضی اللہ عنہ نےکہا تم اپنی اپنی حالت پر برقرار رہو، اللہ تعالیٰ نے اسے ہم پر فرض نہیں کیا ہے مگر یہ کہ ہم (از خود سجدہ کرنا) چاہیں اور انہوں نے سجدہ نہیں کیا اور لوگوں کو بھی سجدہ کرنے سے روک دیا پھر عمر رضی اللہ عنہ نےکہا: اے لوگو ! جب ہمارا گزر سجدہ کی آیت پر سے ہو تو پھر جس نے سجدہ کیا اس نے اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ یعنی ہم سجدہ کی آیات کو پڑھتے ہیں تو جو کوئی سجدہ کرے اس نے سنت کو پا لیا اور جو سجدہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے سجدہ نہیں کیا، اس چیز کو بیان کرنے کے لئے کہ سجدہ تلاوت واجب نہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے سجدہ فرض نہیں کیا مگر جب ہم چاہیں، یعنی اس کو ہمارےاوپر واجب نہیں کیا مگر یہ کہ ہم سجدہ کرنا چاہیں تو کریں اور اگر ہم نہ کرنا چاہیں تو سجدہ نہ کریں۔ اورایک روایت میں ہے: اے لوگو! ہمیں سجدہ کا حکم نہیں دیا گیا ہے تو خلاصہ یہ ہے کہ یہ اثر امیرالمؤمنین سے منقول ہے جسے انہوں نے دورانِ خطبہ تمام صحابہ کی موجودگی میں کہا تھا اور ان میں سے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔ چناں چہ یہ عدم مخالفت پر دلالت کرتا ہے اور ایسی صورت میں صحابی کا قول حجت ہوگا، بالخصوص جب وہ صحابی خلیفہ راشد ہوں جو کہ سنت کی اتباع کے سب سے زیادہ حق دار ہیں، اور چوں کہ یہ صحابہ کی موجودگی میں ہوا اس لیے یہ اجماع قرار پائے گا۔
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ گھر سے نکلے،اور صدقہ کے لیے متوجہ ہوئے،پھر (مسجد میں) داخل ہوئے، اور قبلہ رو ہو ئے اور سجدہ میں چلے گئے۔ آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے گمان ہوا کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح ہی قبض نہ کر لی ہو۔ میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا تو آپ نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا عبدالرحمٰن! آپ نے پوچھا کہ تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) آپ نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے ڈر پیدا ہو گیا کہ کہیں اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی کہ: اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ جو بھی آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو تجھ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی بھیجوں گا۔ تو میں نے اللہ کے لیے شکرانے کا سجدہ کیا۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث شریف میں نعمت کے حصول پر یا کوئی خوش کن یا اچھی خبر ملنے پر سجدۂ شکر کی مشروعیت کو بیان کیا جا رہا ہے جیسا کہ رسو ل اللہﷺ نماز میں تھے اور جبریل علیہ السلام ان کے پاس تشریف لائے اور یہ خوشخبری دی کہ آپ کی امت میں سے جو بھی آپ پر درود پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت بھیجے گا اور یہی حال اس شخص کے لیے ہے جو آپ پر سلام بھیجے گا۔ اور یہ بھی سنت ہے کہ سجدۂ شکر لمبا کیا جائے جیسا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے کیا تھا کہ صحابہ کو یہ شک پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں آپ فوت ہی نہ ہو گیے ہوں۔
براء رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خالد بن ولید رضی الله عنہ کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا، مگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا، پھر نبی ﷺ نے علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کو وہاں بھیجا، اور اس بات كا حکم دیا کہ خالد بن ولید رضی الله عنہ اور ان کے ساتھی واپس لوٹ آئیں الا یہ کہ کوئی ان میں سے علی رضی الله عنہ کے ساتھ وہاں رکنا چاہے تو وہ رک سکتا ہے۔چناں چہ براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ ٹھہر گئے. جب ہم اہل یمن کے بالکل نزدیک پہنچے تو وہ بھی نکل کر ہمارے سامنے آگئے، علی رضی الله عنہ نے آگے بڑھ کر ہمیں نماز پڑھائی پھر انہوں نے ہماری ایک صف بنائی اور ہم سے آگے کھڑے ہوکر ان کو نبی ﷺ کا خط پڑھ کر سنایا، چناں چہ قبیلہ ھمدان کےسارے ہی لوگ مسلمان ہوگیے، علی رضی الله عنہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے (کی خوش خبری) کا خط بھیجا۔ جب نبی ﷺ نے وہ خط پڑھا تو (اللہ تعالی کا شکر بجا لاتے ہوئے) فوراً سجدہ میں گر گئے. پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھا کر قبیلہ ھمدان کو دعا دی کہ ھمدان پر سلامتی ہو، ھمدان پر سلامتی ہو۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔حدیث مذکور میں اس بات کا بیان ہےکہ نبی ﷺ کو جب کبھی کوئی خوشی حاصل ہوتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے فوراً سجدہ ریز ہو جاتے، اسی سلسلے کا ایک واقعہ وہ بھی ہے جو علی رضی الله عنہ کے ساتھ پیش آیا، جب اہل یمن نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام لانے سے انکار کردیا تو نبی ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے یمن بھیجا اور علی رضی الله عنہ نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو قبیلہ ھمدان کے سارے ہی لوگ مسلمان ہو گیے، پھر انہوں نے نبی صلی الله علیہ والہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ ھمدان کے مسلمان ہونے کی خوش خبری کا خط بھیجا تو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے فورا ًسجدہ میں گر گئے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ جب مؤذن فجر کی پہلی اذان دے کر چپ ہوجاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فجر کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت فجر) ہلکی پھلکی ادا کرتے صبح صادق روشن ہو جانے کے بعد، پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے۔ یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کہنے کی اطلاع دینے کے لیے آپﷺ کے پاس آتا۔
متفق علیہاس حدیث میں بیان ہوا کہ جب مؤذن فجر کی اذان دیتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں( سنت فجر ) ادا کرتے پھر داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے ۔ یہاں تک کہ مؤذن اقامت کی اطلاع دینے کے لیے آپ کے پاس آتا۔