





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فجر کی دو سنتیں پڑھے تو اسے چاہیے کہ اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جائے۔ مروان بن حکم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ کیا مسجد تک چلنا کافی نہیں ہے جب تک کہ داہنی کروٹ پر نہ لیٹے؟ عبید اللہ کی روایت میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمايا:نہیں۔ راوی کہتے ہيں کہ جب اس بات کا علم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ہوا تو فرمايا: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کثرت سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گيا: کیا آپ ان کے کسی قول کی تردید کرتے ہیں؟ فرمایا: نہیں (بات یہ ہے کہ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جرأت کی اور ہم نے خوف کیا۔ جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمايا: ”اس میں میرا کیا قصور ہے کہ میں نے یاد رکھا اور وہ بھول گئے“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حديث ميں اس بات کا بيان ہے کہ فجر کی دو سنتيں پڑھنے کے بعد فرض نماز کی اقامت تک دائيں کروٹ پر ليٹنا مسنون ہے۔ دائيں جانب کی تخصيص ميں حکمت يہ ہے کہ انسان گہری نيند نہ سوجائے، کيونکہ دل انسان کے بائيں طرف ہوتا ہے لہذا اس حالت ميں انسان کا دل لٹکا ہوا رہتا ہے اور قرار وسکون نہيں حاصل ہوتا ہے ، اور جب بائيں کروٹ پر ليٹتا ہے تو وہ مکمل راحت اور سکون ميں ہوتا ہے اسی لئے گہری نيند سوجاتا ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ وتر فرض نمازوں کی طرح واجب نہیں ہے؛ بلکہ یہ تو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: پنجگانہ نماز کی طرح نماز وتر واجب نہیں ہے، یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، یعنی نبیﷺ نے وتر کی نماز کو ہمارے لیے مسنون کیا ہے ہم پر واجب نہیں کیا۔ یہ جملہ در اصل ”ليسَ بِحَتْمٍ“ کی تاکید ہے۔ پس وتر کی نماز مستحب اور مسنون ہے۔
ابو تمیم جیشانی فرماتے ہیں کہ:میں نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے اصحاب رسول میں سے کسی نے یہ بتایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز عطا کی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے، خبردار! (جنھوں نے خبر دی) وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابوبصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جو کہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا۔ ابو ذر نے کہا اے ابوبصرہ! کیا تو نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا؟بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں مزید ایک نماز دی ہے اس کو نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین ادا کرو اور وہ وتر ہے وتر ہے۔ فرمایا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم: ”بے شک اللہ عزوجل نےتمہارے لیے ایک نماز زیادہ کی ہے“ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید ایک ایسی نماز دی تھی جس کو وہ پہلے اس کیفیت اور انداز سے نہیں پڑھتے تھے اور وہ وتر ہے۔ اور یہ بطور احسان وارد ہوئی ہے جیسا کہ فرمانِ رسول ہے: ”اللہ تعالیٰ نے تم پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں تاکہ تمہیں اجر و ثواب سے نوازے لیکن اسی پر اکتفا نہیں بلکہ تمہارے لیے تہجد اور وتر کو بھی مشروع کیا ہے تاکہ تم پر مزید احسان پر احسان کرے“، لہذا، اس کو پڑھو یہ حکم ہے اور قاعدہ یہی ہے کہ حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس حدیث اور دیگر اس جیسی احادیث کے ظاہر سے اس نماز کا وجوب ثابت ہوتا ہے لیکن بہت سارے صحیح اور صریح دلائل نے اس کو وجوب سے پھیر دیا ہے یعنی وتر کی نماز فرض نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد نماز وتر کی ادائیگی کے لیے وقتِ زمانی کا تعین کیا جوکہ نماز عشاء اور نماز فجر کے مابین، یعنی نماز وتر کا وقت نماز عشاء سے فارغ ہوتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ جب نماز عشاء پڑھ لی تو نمازِ وتر کا وقت شروع ہو جاتا چا ہے جمع تقدیم کرتے ہوئے عشاء کو مغرب کے ساتھ جمع کر لیا گیا ہو۔ اور اس کا آخری وقت طلوعِ فجر ہے۔ جب فجر طلوع ہو گئی نماز وتر کا وقت ختم ہو گیا،اوراگر وقت ہے تو اسے پورا کرے۔ پھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خبردار! وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ ہیں“ یعنی جس نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو خبر دی تھی وہ ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور ابو ذر دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ابو ذر نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم ابو بصرہ کی طرف چل نکلے ۔ہم ان کے گھر کے دروازے پر آئے جوکہ عمرو بن عاص کے گھر کے ساتھ ہی تھا، یعنی جب ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ کےحوالے سے یہ خبر ملی تو اس کی صحت کی تاکید کے لیے دونوں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف چل نکلے۔جب ان کی ملاقات ابو بصرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ان سے نبی کریمﷺ سے نقل کی جانے والی بات کی صحت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا :ہاں۔ کہا کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا :ہاں۔ پھر کہا کہ کیا تو نے خود سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ انھوں نے نبی کریمﷺ سے نقل کرنے والی بات ”إن الله زادكم صلاة“ کے بارے میں تاکید کے ساتھ بتایا کہ یہ صحیح ہے۔
ابو سعيد خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمايا: ”جس نے صبح (صادق) سے پہلے وتر نہيں پڑھی تو اس کی وتر نہيں ہے“۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے ابنِ خزیمہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ وتر کی نماز کا وقت صبح ہونے یعنی طلوعِ فجر ثانی سے ختم ہوجاتا ہے، اوریہ وتر كا اختیاری وقت ہے، اوروترکی نماز کا اضطراری وقت جیسے دیر سے بیدار ہونے والے شخص کے لیے تو یہ فجر کی نماز تک رہتا ہے، جیسا کہ یہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے ثابت ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلاۃ الضحیٰ (نمازِ چاشت) چار رکعت پڑھتے تھے اور جتنا اللہ چاہتا زیادہ کرتے تھے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز چار رکعت پڑھتے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیر دیتے تھے۔ پھر انھوں نے ذکر کیا ہے کہ نبی ﷺ اپنی قدرت و چستی کے بقدر چار رکعت سے زیادہ بھی پڑھتے تھے۔
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نےعائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے چاشت کی نماز سے متعلق سوال کیا گیا کہ آیا آپ ﷺ نے اسے پڑھا ہے یا نہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے چاشت کی نماز نہیں پڑھی ہے، سوائے اس کے کہ آپ سفر سے واپس آتے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی ﷺ چاشت کی نماز مداومت سے نہیں پڑھتے تھے؛ بلکہ کبھی پڑھتے تھے اور کبھی نہیں پڑھتے تھے۔ ہمیشہ نہ پڑھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو خوف تھا کہ کہیں یہ آپ کی امت پر فرض نہ کردی جائے۔ جیسا کہ اس بات پر دیگراحادیث دلالت کرتی ہیں۔ البتہ دوسری احادیث کی بنیاد پر ایک مسلمان کے لیے اسے ہمیشہ پڑھنا بھی جائز ہے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے، وہ زانی ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہے، بلکہ اس کا عقد فاسد اور اس کا حکم زانی کا حکم ہے۔ اسی وجہ سے اس کا نکاح فسخ کر دینا اور جس سے عقد ہوا ہے، اس کے اور غلام دونوں کے درمیان تفریق کر دینا واجب ہے؛ کیوں کہ غلام کے لیے خود سے شادی کرنا ممکن نہیں ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ نے اُمّ المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ محرم (حالتِ احرام میں) تھے اور جب ان سے خلوت کی تو آپ احرام کھول چکے تھے اور ان کا انتقال بھی مقام سرف میں ہوا۔
متفق علیہعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی اس حدیث سے یہ فوائد مستفاد ہوتے ہیں کہ جس وقت نبی ﷺ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے نکاح فرمایا تو آپ احرام کا لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور ان سے خلوت فرمائی تو احرام کھول کر حلال ہوچکے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع 'سرف' نامی مقام پر اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنھا کی وفات ہوئی اور یہی وہ مقام ہے جہاں آپ ﷺ نے ان سے خلوت فرمائی۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما کی ذکر کردہ اس حدیث کے تئیں کہ نبی ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنھا سے حالتِ احرام میں نکاح کیا، علماء نے یہ وضاحت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو وہم ہوگیا؛ کیوں کہ اس روایت کے وہی منفرد راوی ہیں اور جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے ان کی مخالفت ثابت ہے اور اس قصہ کا سب سے زیادہ علم رکھنے والی شخصیات میمونہ رضی اللہ عنھا اور ابورافع رضی اللہ عنہ سےان کی مخالفت مروی ہے، کیوں کہ ان دونوں سے اس قصہ کا براہ راست تعلق رہا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نبی ﷺ اور میمونہ رضی اللہ عنھا کے مابین سفیر کی حیثیت سے تھا اور آپ ﷺ نے ان سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا اور حالت حلال ہی میں خلوت فرمائی۔ خود ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنھا فرمایا کرتی تھیں آپ ﷺ نے مجھ سے حالت حلال ہی میں نکاح فرمایا۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما کو نبی ﷺ کے میمونہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کا علم، آپ ﷺ کے حالتِ احرام میں آنے کے بعد ہوا ہو اور انھیں یہ گمان ہوگیا کہ آپ ﷺ نے حالت احرام میں ان سے نکاح فرمایا۔ بعض اہلِ علم نے ابن عباس رضی اللہ عنھما کی حدیث کو اس بات پر محمول کیا کہ آپ ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنھا سے حدود حرم میں نکاح فرمایا اور آپ اس وقت حلال تھے۔
ایاس بن سلمہ اپنے والد سلمہ سے روایت کرتے ہیں، انھوں نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے (غزوۂ) اوطاس کے سال تین (دن) کے لیے متعہ کی رخصت دی اور پھر اس سے منع فرما دیا۔“
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔شارع نے اجتماع و ہمیشگی، الفت و محبت اور خاندان بنانے کی غرض سے نکاح کو مسنون قرار دیا ہے۔ اس لیے ہر وہ غرض و شرط جو نکاح کی اس حکمت کے خلاف ہو، باطل ہے؛ یہی وجہ ہے کہ نکاحِ متعہ حرام ہے۔ نکاح متعہ یہ ہے کہ آدمی عورت سے ایک مقررہ مدت تک کے لیے شادی کرے۔ اس سلسلے میں غزوۂ اوطاس کے سال رخصت دی گئی۔ یہ شوال آٹھ ہجری میں پیش آیا اور ضرورت کے تحت صرف تین دن کی اجازت دی گئی۔ پھر نبی ﷺ نے ہمیشہ کے لیے اسے حرام قرار دے دیا۔ کیوں کہ اس میں بہت سے مفاسد و خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلا نسبوں کا اختلاط، شرم گاہوں کو کرایے پر لینا اور ذوقِ سلیم اور طبیعت مستقیمہ کے لیے اذیت ناکی۔