





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے دیکھا، وہ گھوم رہے تھے اپنا چہرہ ادھر اور ادھر پھیر رہے تھے اور ان کی انگلیاں ان کے دونوں کانوں میں تھیں، رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ خیمے میں تھے، وہ چمڑے کا تھا، بلال رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے سامنے سے نیزہ لے کر نکلے اور اسے بطحاء (میدان) میں گاڑ دیا۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھائی۔ اس نیزے کے آگے سے کتے اور گدھے گزر رہے تھے۔ اور آپ ﷺ ایک سرخ چادر پہنے ہوئے تھے، میں گویا آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے بالائی مکہ، بطحاء میں پڑاؤ فرمایا تھا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے وضو کے باقی ماندہ پانی کو لے کر باہر آئے تو لوگ اس سے برکت حاصل کرنا شروع کر دیے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے منہ کو دیکھنے لگا وہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کہتے ہوئے دائیں بائیں مڑ رہے تھے تاکہ سب لوگوں کو یہ سنائی دے سکے کیونکہ ان دونوں جملوں میں نمازکے لیے آنے کی ترغیب ہے۔ پھر نبی ﷺ کے لیے ایک چھوٹا سا نیزہ گاڑ دیا گیاتاکہ وہ آپ ﷺ کی نماز کے دوران سترہ کا کام دے۔ پھر آپ ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ جب تک مدینہ واپس نہیں آگئے تب تک چار رکعت والی نماز کو دو رکعت ہی پڑھتے رہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر (اقامت) کہلانے کا زیادہ حق رکھتا ہے“۔
اسے ابنِ ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ مؤذن اذان کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور امام اقامت کہلانے کے متعلق زیادہ مستحق ہے۔
سعید بن حارث کہتے ہیں کہ ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا حکم پوچھا؟ انہوں نے کہا میں نبی ﷺ کے ہمراہ آپ کے کسی سفر میں نکلا، ایک رات اپنی کسی ضرورت سے میں (آپ کے پاس) آیا تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا اور میرے (جسم کے) اوپرایک کپڑا تھا، تو میں نے اس سے اشتمال کیا (یعنی اپنے جسم پر لپیٹ لیا) اور آپ کے پہلو میں (کھڑے ہو کر) نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ اے جابر! رات کو کيسے آنا ہوا؟ میں نے آپ کو اپنی ضرورت سے باخبر کيا، جب میں فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا :”یہ اشتمال جو میں نے دیکھا،کیسا تھا؟“ میں نے کہا ایک کپڑا تھا،یعنی تنگ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:” اگر کپڑا کشادہ ہو تو اسے جسم پر لپیٹ لو، اور اگر تنگ ہو تو اسے تہ بند کی صورت میں باندھ لو۔“ اورصحيح مسلم کی روايت ميں ہے:”جب کپڑا کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ایک دوسرے کے مخالف کندھوں پر ڈال لو (داہنے کنارے کو بائيں کندھے پراور بائيں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈٓال لو) اور جب کپڑا تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔“
متفق علیہجابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ بعض سفر میں نکلے، ایک رات ان کو آپ ﷺ سے کچھ ضرورت پڑگئی، چنانچہ خبر کرنے کے ليے آپ کے پاس آئے تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ جابر رضی اللہ عنہ کےجسم پر صرف ایک کپڑا تھا،تو انہوں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ کر اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھے پر ڈال ليا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی ۔نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نے ان سے دير رات ميں آنے کا سبب پوچھا تو انھوں نے اپنی وہ حاجت بتلائی جس کی وجہ وہ آئے تھے۔ چنانچہ جب اپنی ضرورت بيان کر چکے تو آپ ﷺ نےکپڑے میں لپٹنے کے سلسلے میں ان پر نکیر، کیونکہ وہ تنگ تھا اور انھیں حکم ديا کہ اگر کپڑا کشادہ ہے تو اسے جسم کے اوپر نيچے تمام حصے پر لپيٹ کر کندھے پر ڈال لو۔ بائيں کنارے کو داہنے کندھے پر اور داہنےکنارے کو بائيں کندھے پر ڈال لو تاکہ ازار اور چادر بن جائے اور پورا جسم ڈھک جائے۔ تو يہ سب سےزيادہ ساتر اور ہيئت کے لحاظ سے سب سے خوبصورت ہے۔اور اگر کپڑا اتنا تنگ ہوکہ اس سے ازار اور چادر دونوں نہ بن سکے تو اس کو اپنی کمر پر باندھ کر ازار بنا لو تاکہ بدن کا نچلا حصہ ڈھک جائے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کا وقت ہونے سے پہلے اذان دے دی تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دوبارہ لوٹ کر جائیں اور یہ اعلان کریں: سنو، بندہ سو گیا تھا سنو، بندہ سو گیا تھا۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن اگر وقت اذان کے تعلق سے غلطی کر بیٹھے تو اس پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اس غلطی سے لو گوں کو آگاہ کرے کیونکہ نبی ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا جب ان سے غلطی سرزد ہوئی کہ وہ لوگوں کے بیچ یہ اعلان کریں: سنو، بندہ سو گیا تھا۔
صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یعلیٰ (بن امیہ ) رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کبھی آپ مجھے نبی کریم ﷺکو اس حال میں دکھائیے جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک بار رسول اللہ ﷺجِعِرّانہ میں اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ٹھہر ے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا یا رسول اللہ (ﷺ) !اس شخص کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے جس نے عمرہ کا احرام اس طرح باندھا کہ اس کے کپڑے خوشبو میں بسے ہوئے ہوں۔ نبی کریم ﷺ اس پر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے تو رسول اللہ ﷺپر ایک کپڑا تھا جس کے اندر آپ تشریف رکھتے تھے۔ انہو ں نے کپڑے کے اندر اپنا سر کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ روئے مبارک سرخ ہے اور آپ خراٹے لے رہے ہیں۔ پھر یہ حالت ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے جس نے عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ شخص مذکور حاضرکیا گیا تو آپ ﷺنے فرمایا کہ تم نے خوشبو لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھولو، اپنا جبہ اتاردے اور عمرہ میں بھی اسی طرح کرو جس طرح حج میں کرتے ہو۔ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپﷺ کے تین مرتبہ دھونے کے حکم سے پوری طرح صفائی مراد تھی؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔
متفق علیہیعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نےعمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ مجھے بھی اس وقت اطلاع کرنا جب نبی کریمﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہو ۔میں اس دوران آپ ﷺ کو دیکھنا چاہتا ہوں اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ نزول وحی کے وقت آپ ﷺکی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ اسی دوران نبی کریمﷺ جِعِرّانہ مقام پر موجو د تھے جو کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں مکہ سے آنے والا شخص عمرہ کی نیت سے احرام باندھتا ہے ــــــــــ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے بتایا کہ اس نے عمرے کے لیے احرام باندھا ہے جب کہ اس کے کپڑے اور اس کا جسم خوشبو سے رچا ہوا ہے تو وہ ایسی حالت میں کیا کرے؟ رسول اللہﷺ نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کر لی اور یہ آپ پر ضروری بھی نہیں کہ سوال کے فوراً بعد جواب دیں۔ رسول اللہ ﷺ پر وحی آئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ یعلیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ وہ نبی کریمﷺ کے پاس آ جائے اور آپﷺ پر نزول وحی کی کیفیت کو دیکھ لے۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے سر پر ایک کپڑے کے ساتھ سایہ کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنا سر کپڑے میں داخل کر لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہے، سانس کی تیزی کی وجہ سے آواز سنائی دے رہی تھی۔ آپ ﷺ سے نزول وحی کا وقت ختم ہوا تو آپ ﷺ کی سانسیں بحال ہوئیں اور اس شخص سے فرمایا کہ خوشبو کو بار بار دھوؤ اور یہ تین مرتبہ تک ہو جائے، اور اس کو حکم دیا کہ خوشبو کے آثار اپنے جسم اور کپڑوں سے زائل کرے اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ اپنا جبہ اتار دے کیونکہ یہ سلا ہوا ہوتا ہے ۔اور اپنے عمرے میں بھی ویسے ہی کرے جیسا حج میں کیا جاتا ہے کہ خوشبو وغیرہ سے بچا جائے کیونکہ حج اور عمرہ میں جن چیزوں سے احتزار کیا جاتا ہے وہ ایک ہی ہیں۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ پس وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“۔ مُعَیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا فرمایا: ”اگر ایسا کرنا ناگزیر ہو تو صرف ایک ہی بار کرو“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں درج ذیل باتوں کا بیان ہے: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو“ یعنی جب وہ نماز شروع کر دے۔ مطلب تکبیرِ تحریمہ سے پہلے کنکریاں صاف کرنا ممنوع نہیں ہے۔ ”وہ کنکریوں پر ہاتھ نہ پھیرے“ یعنی کسی معمولی چیز کی وجہ سے نماز سے رو گردانی نہ کرے کیوں کہ اس سے نماز سے توجہ ہٹتی ہے اور اس کی وجہ سے وہ اس رحمت سے محروم ہو جاتا ہے جو نماز کی طرف متوجہ ہونے کی وجہ سے ملا کرتی ہے۔ یہ اس وقت کے لیے ہے جب ایسا سجدے کے مقام کو درست کرنے کے لیے نہ کیا جائے وگرنہ بقدر ضرورت ایک دفعہ ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ "حصی" چھوٹی چھوٹی کنکریاں ہوتی ہیں۔ یہاں کنکریوں کا ذکر تغلیبا ہوا ہے کیوں کہ مساجد کے فرش پر عموما یہی ہوتی ہیں۔ اس مسئلے میں کنکریوں، مٹی اور ریت کےمابین کوئی فرق نہیں۔ معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس شخص کے بارے میں بیان فرمایا ہے جو سجدے میں جاتے وقت مٹی برابر کرتا تھا کہ اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کرلو۔ ”آپ ﷺ نے اس شخص کے بارے میں کہا“ یعنی جس نے آپ ﷺ سے اپنے متعلق پوچھا تھا، کہ وہ جہاں سجدہ کرتا ہے اس جگہ کی مٹی کو برابر کرتا ہے۔ یعنی سجدے کی جگہ کو برابر کرتا ہے یا اس پر سجدہ کرنے کے لیے اسے برابر کرتا ہے۔ (کہ اس کا کیا حکم ہے؟) آپ ﷺ نے اسے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی ہو اورؤتمہیں اس کی ضرورت ہو تو پھر ایک دفعہ کرلیا کرو، ایک سے زیادہ بار نہ کرو۔ چنانچہ کنکریوں کو صاف کرنا مکروہ ہے اِلاّ یہ کہ کنکریوں کی وجہ سے سجدہ کرنا ممکن نہ ہو یعنی یہ بہت زیادہ اوپر نیچے ہوں اور پیشانی اس پر اتنی دیر نہ ٹھہر سکتی ہو جس سے فرض پورا ہو سکے۔ اس صورت میں ایک یا دو دفعہ انھیں برابر کر سکتا ہے۔ کیوں کہ اس سلسلے میں دو روایات ہیں۔ ایک روایت میں ایک دفعہ برابر کرنے کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں دو بار برابر کرنے کا ذکر ہے۔ دونوں میں سے جو روایت زیادہ صحیح ہے اس کے مطابق ایک ہی دفعہ برابر کرے، اس سے زیادہ دفعہ نہیں۔ ”رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے“ میں نہی کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ (نماز میں) اس پر رحمت کا نزول ہو رہا ہوتا اور وہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ یہ نہی کی علت ہے۔ یعنی کسی عقل مند کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اتنے ہیچ کام میں لگ کر اتنی عظیم الشان نعمت کو وصول کرے۔ یہ بات علامہ طیبی رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ علت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کنکریاں صاف کرنے سے ممانعت اس لیے وارد ہے کہ نمازی اپنے دل کو کسی ایسے کام میں مشغول نہ کرے جو اسے اس کی طرف آنے والی اللہ کی رحمت سے غافل کر دے اور یوں وہ اس سے اپنا حصہ پانے سے محروم رہ جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا، تو وہ قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو پکڑ لائے جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ وہ اہل یمامہ کا سردار تھا۔ انہوں نے اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا، رسول اللہ ﷺ (گھر سے) نکل کر اس کے پاس آئے اور پوچھا: ’’ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: اے محمد! میرے پاس خیر ہے۔ اگر آپ قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا اور اگرآپ احسان کریں گے توایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو شکر کرنے والا ہے۔ اور اگر آپ کو مال مطلوب ہے تو جتنا چاہیں مجھ سے مال طلب کر سکتے ہیں، آپ کو دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے اس کو (اس کے حال پر) اگلے دن تک کے لیے چھوڑ دیا جب اگلا دن ہوا تو آپﷺ نے پوچھا: ثمامہ تمہارے پاس (کہنے کو) کیا ہے؟ انہوں نے کہا: (وہی) جو میں نے آپ سے کہا تھا، اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر کرنے والے پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک خون والے کو قتل کریں گے اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجیے، آپ جو چاہتے ہیں آپ کو وہی دیا جائے گا۔ آپﷺ نے پھر انہیں یوں ہی چھوڑ دیا، پھر جب اگلا دن ہوا تو آپﷺ نے پوچھا: ’’ثمامہ تمھارے پاس کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: میرے پاس وہی ہے جو میں نے آپ سے کہا تھا کہ اگر آپ احسان کریں گے تو ایک احسان شناس پر احسان کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون ضائع نہیں جاتا، اور اگر مال چاہتے ہیں تو طلب کیجیے آپ جو چاہیں گے وہی آپ کو دیا جائے گا۔ پھر رسول اللہ صﷺ نے فرمایا: ’’ثمامہ کو آزاد کر دو۔‘‘ (رسی کھول دی گئی) تو وہ مسجد (نبوی) کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں گئے، غسل کیا پھر مسجد نبوی میں حاضر ہوئے اور کہا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے محمدﷺ! اللہ کی قسم روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرے سے زیادہ میرے لیے برا نہیں تھا لیکن آج آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ میرے لیے محبوب نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ مجھے برا نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا دین مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور عزیز ہے۔ اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ کے شہر سے زیادہ برا مجھے نہیں لگتا تھا لیکن آج آپ کا شہر میرا سب سے زیادہ محبوب شہر ہے۔ آپ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑا تو میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا، اب آپ کا کیا حکم ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے انہیں (ایمان کی قبولیت کی) بشارت دی اور حکم دیا کہ عمرہ ادا کریں۔ جب وہ مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے ان سے کہا کہ تم بےدین ہو گئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا ہوں، اور اللہ کی قسم! یمامہ سے گیہوں کا ایک دانہ بھی تمھارے پاس نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس کی اجازت دے دیں۔
متفق علیہنبی ﷺ نے محمد بن مسلمہ کی نگرانی میں دس محرم سن چھ ہجری کو گھوڑ سواروں کا ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا تھا تاکہ وہ بنو بکر کے قبائل جس میں بنو حنیفہ کے لوگ بھی ہیں ان سے قتال کریں۔ چناں چہ انہوں نے ان پر حملہ کیا اور شکست دی اور ثمامہ بن اثال کو قید کر لیا اور انہیں مدینہ لے کر آئے اور مسجد نبوی کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ نبی ﷺ نے ان کے پاس جا کر کہا: ثمامہ! تمہارے پاس کیا ہے؟ یعنی تمہارا میرے بارے میں کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟ انہوں نے کہا: میرا خیال بہت اچھا ہے یعنی میرا یہی گمان ہے اور میں یہی امید رکھتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ جو بھی برتاؤ کریں گے بہتر کریں گے۔ ثمامہ کا یہ کہنا: ’’اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کے خون کا بدلہ لیا جائے گا’’ یعنی اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایسے لوگ موجود ہیں جو میرے قتل کا بدلہ لیں گے کیوں کہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ: اگر آپ مجھے قتل کریں گے توآپ کا یہ اقدام انصاف پر مبنی ہوگا اور آپ گویا میرے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں جس کا میں مستحق ہوں کیوں کہ ایک خون میں مَیں مطلوب ہوں، اس لئے اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو میرا قتل کیا جانا قصاص کے طور پر ہوگا اور آپ ہرگز میرے اوپر ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے۔ اور رہا ثمامہ کا یہ کہنا: ’’اور اگر آپ مجھ پر احسان کرتے ہیں توایک ایسے شخص پر احسان کریں گے جو احسان فراموش نہیں بلکہ احسان کا قدر دان ہے‘‘ یعنی اگر آپ میری معافی کے ذریعہ میرے ساتھ احسان کریں تو معاف کر دینا بھلے لوگوں کے اخلاق میں سے ہے اور میرے یہاں آپ کے اس احسان کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور آپ ایک ایسے شخص کے ساتھ احسان کریں گےجو احسان کا قدر دان ہے، احسان فراموش نہیں۔ اور ثمامہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں کہ: ’’اور اگر آپ مال چاہتے ہیں‘‘ یعنی اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ مال دے کر میں اپنی جان کا فدیہ ادا کروں تو جس قدر چاہتے ہیں کہیے آپ کو طلب کے مطابق دیا جائے گا۔ اس گفتگو کے بعد نبی ﷺ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ ’’اور جب اگلا دن ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ثمامہ! تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: وہی جو میں نے آپ سے کہہ دیا تھا‘‘ یعنی آپ نے ان کو ان کے حال پر کھمبے سے بندھا ہوا چھوڑ دیا یہاں تک کہ جب دوسرا دن ہوا تو پھر آپ ﷺ نے ان پر پہلا سوال دہرایا تو ثمامہ نے پھر پہلے دن والا جواب ہو بہو دہرایا، آپ نے ان کو تیسرے دن تک کے لیے ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ تیسرے دن آپ نے ان پر سوال دہرایا تو ثمامہ نے ہو بہو وہی جواب دہرایا۔ تیسرے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ ’’ثمامہ کو آزاد کردو‘‘ یعنی ان کے بند ڈھیلے کر دو۔ ’’ثمامہ فوراً مسجد کے قریب کھجوروں کے ایک باغ میں چلے گئے‘‘ یعنی مسجد کے قریب پانی کے پاس چلے گئے۔ ’’وہاں انہوں نے غسل کیا اور پھر مسجد میں داخل ہوئے اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں‘‘ یعنی انہوں نےاپنے اسلام لانے کا اعلان کر دیا اور شہادتین کو پڑھا ،اور یہ صحیحین کی روایت ہے کہ ثمامہ رضی اللہ عنہ نے خود سے غسل کیا نبی ﷺ کے کہنے سے نہیں۔ اس کے بعد ثمامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ پر نازل شدہ دین حنیف اور آپ کے محبوب شہر مدینہ نبویہ کے تعلق سے اپنے احساسات کو بیان کیا۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ یہ تھے: میرے نزدیک روئے زمین پر کوئی چہرہ آپ کے چہرہ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا لیکن اسلام لانے کے بعد اب آپ کا چہرہ میرے لیے تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے بایں طور کہ نفرت اور ناپسندیدگی ایسی محبت میں تبدیل ہو گئی جس کی برابری کوئی دوسری محبت نہیں کر سکتی۔ ’’اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی دین مجھے آپ ﷺ کے دین سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھا اور اب آپ ﷺ کا دین مجھے سارے دینوں سے زیادہ پیارا اور محبوب ہے‘‘ اور یہی ہے ایمان کی تاثیر جب اس کی چاشنی دل کو چھو لیتی ہے۔ ’’اللہ کی قسم! کوئی شہر آپ ﷺ کے شہر سے زیادہ برا دکھائی نہیں دیتا تھا اور اب آپ ﷺ کا شہر مجھے سب شہروں سے زیادہ محبوب دکھائی دیتا ہے‘‘ اس لئے کہ آپ کی محبت نے مجھے آپ کے شہر سے مزید محبت کرنے پر ابھارا ہے۔ پھر انہوں نے کہا: ’’اور آپ کے گھڑ سواروں نے جب مجھے گرفتارکیا اس وقت میں عمرہ کا ارادہ کر چکا تھا، تواب آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ یعنی کیا آپ مجھے عمرہ کر لینے کی اجازت دیں گے؟ ’’تو آپ ﷺ نے انہیں بشارت دی‘‘ یعنی ان کے تمام گناہوں کے بخشے جانے اور دنیا وآخرت کی بھلائی کی بشارت دی۔ ’’اور حکم دیا کہ وہ عمرہ کر لیں،جب وہ مکہ پہنچے تو کسی کہنے والے نے کہا تو بدمذہب ہوگیا ہے‘‘ یعنی ایک دین سے نکل کر دوسرا دین اپنا لیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہرگز نہیں اللہ کی قسم بلکہ میں تو محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاکر مسلمان ہوچکا ہوں‘‘ یعنی میں جھوٹے دین کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کر چکا ہوں۔ ’’اللہ کی قسم! اس کے بعد یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ بھی نہیں آیا کرے گا یہاں تک کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ اجازت دے دیں‘‘ یعنی یہاں تک کہ رسول ﷺ تم لوگوں تک اس کے بھیجنے کے بارے میں اجازت دے دیں۔ ثمامہ رضی اللہ عنہ یمامہ لوٹ گئے اور وہ مکہ کا دیہی علاقہ تھا۔ وہاں پہونچ کر ان کو گندم روک دیا یہاں تک کہ قریش کے لوگ فاقہ کرنے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قرابت داری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ آپ (ﷺ) ثمامہ سے سفارش کر دیں، تو آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا۔
حكيم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی قصاص لیا جائے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔جلیل القدرصحابی حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مسجد میں کسی قسم کی حدود کا نفاذ کیا جائے، یعنی ایسی حدود جن کا تعلق اللہ سے ہو یا انسانوں سے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے مسجد کی حرمت پامال ہوتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ مسجد زخم یا نجاست سے ملوث ہو جائے اور اس لیے بھی کہ مساجد کو نماز اور ذکر کے لیے بنایا گیا ہے نہ کہ حدود کے نفاذ کے لیے۔ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد میں حدود قائم کرنا اور ان میں قصاص لینا حرام ہے کیونکہ نہی حقیقت میں تحریم کے لیے ہے جیسا کہ اصولِ فقہ میں ثابت ہے۔ اور یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں پایا جاتا جو اس کے حقیقی معنیٰ مراد لینے سے روکنے والا ہو۔
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلۂ قریش کے حبان بن عرقۃ نامی ایک شخص نے - جو کہ قبیلۂ معیص بن عامر بن لؤی سے تعلق رکھنے والا حبان بن قیس ہے - ان پر تیر مارا، اس نے انہیں بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا تھا، تو نبی ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگوایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ پھر جب آپ ﷺ غزوۂ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ ﷺ کے پاس آئے وہ اپنے سر سےگرد و غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیے؟ اللہ کی قسم ! ہم نے اسلحہ نہیں اتارا، ان کی طرف نکلیے۔ نبی ﷺ نے دریافت فرمایاکہ: ’’کہاں؟‘‘ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ بنو قریظہ کے پاس پہنچے، وہ آپ ﷺ کے فیصلہ پر اتر آئے، تو آپ ﷺ نےسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ان کا حکَم بنا یا، چناں چہ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کر تاہوں کہ ان کے جنگ جو افراد قتل کر دیے جائیں، عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کے اموال تقسیم کر لیے جائیں۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی: ’’اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیرے راستے میں، اس قوم کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کسی کے خلاف جہاد کرنا محبوب نہیں جنہوں نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں نکال باہر کیا۔ اے اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ اب تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کو ختم کر دیا ہے۔ پس اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہو تو مجھے اس کے لیے باقی رکھ تاکہ میں ان سے تیرے راستے میں جہاد کروں، اور اگر لڑائی تو نے ختم کر دی ہے تو اسی زخم کو جاری کرکے اسے میری موت کا سبب بنادے۔ چناں چہ ان کے سینے کا زخم پھوٹ کر بہنے لگا، مسجد میں بنو غفار کا بھی ایک خیمہ تھاـ وہ یہ دیکھ کر چونکے کہ ان کی جانب خون بہہ کر آ رہا ہے۔نے ہی خوف زدہ کر دیاجو ان کی طرف بہ رہا تھا، انہوں نے پوچھا: اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری جانب سے ہماری طرف آرہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون کی دھار رواں تھی۔ پھر اسی سے ان کی موت واقع ہوگئی۔ اللہ ان سےراضی ہو۔
متفق علیہحدیث شریف میں صحابیٔ جلیل سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان ہے، اس طور پر کہ دورانِ جہاد وہ زخمی ہو گئے تو ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا گیا تاکہ نبی ﷺ ان کی عیادت کر سکیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بنو قریظہ کے بارے میں جو فیصلہ دیا وہ فیصلہ ساتوں آسمانوں کے اوپر سے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے عین موافق تھا، اور وہ یہ کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیے جائیں، ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال ضبط کر لیا جائے، اور یہ سب کچھ مسلمانوں کے ساتھ ان کی خیانت اور عہد شکنی اورخندق کے جنگی حالات اور قریش کے مدینہ کے اطراف جم گھٹے سے غلط فائدہ اٹھانے کے سبب تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری فضیلت ان کی دعا سے آشکار ہوتی ہے کہ اللہ تعالی انہیں باحیات رکھے اگر قریش اور مسلمانوں کے مابین لڑائی ابھی باقی ہو اور اگر قریش کے ساتھ مسلمانوں کی لڑائی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے تو میرے ان زخموں کو پھر سے ہرا کر دے جو خندق کے دن مجھے لاحق ہوئے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ (اور ایسا ہی ہوا)