





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں ایک ایسا شخص تھا، جو بیوی کے ساتھ اتنی مرتبہ صحبت کیا کرتا تھا، جو عام طور پر لوگ نہیں کرتے۔ جب ماہ رمضان آیا، تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت (جماع) نہ کر بیٹھوں، جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے۔ چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے، وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا، تو میں اس سے صحبت کیے بغیر نہیں رہ سکا۔ جب میں نے صبح کی تو اپنی قوم کے پاس آیا اور سارا ماجرا سنایا۔ نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس چلیں۔ وہ کہنے لگے:اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا! چنانچہ میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”سلمہ! تم نے ایسا کر ڈالا ہے؟“ میں نے جواب دیا : ہاں اللہ کے رسول! مجھ سے یہ حرکت ہو گئی ہے، -دو بار اس طرح کہا- میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں۔ آپ میرے بارے میں حکم کیجیے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”ایک گردن آزاد کر دو“۔ میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! اس کے علاوہ میں کسی اور گردن (غلام) کا مالک نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو“۔ میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورتِ حال سے دوچار ہوا ہوں! آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: ”تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ“۔ میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانے کا کوئی سامان نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا :”بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمھیں اسے دے دیں گے۔ ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا“ اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمھارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی، جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے مجھے -یا میرے لیے- تمھارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔صحابیٔ رسول سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں اپنی شدتِ شہوت کی وجہ سے اپنی بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے رکنا چاہا۔ انھوں نے اس اندیشے کے تحت ان سے ظہار کر لیا کہ کہیں وہ اپنی بیوی کے ساتھ عملِ جماع میں مصروف ہوں اور فجر طلوع ہو جائے۔ مگر ایک رات انھوں نے جماع پر ابھارنے والی چیز دیکھی اور جماع کر بیٹھے اور اس گناہ کی زود اثری سے خائف ہو کر اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلیں اور اس مسئلے کا حکم دریافت کریں اور ان کا عذر پیش کریں۔ لوگوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ اس لئے وہ خود گئے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا۔ آپ ﷺ نے کہا کہ کیا واقعی تم نے یہ کام کیا ہے اور اس کے مرتکب ہوئے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! تو نبی ﷺ نے اس مسئلے کے سلسلے میں اللہ کا حکم انھیں بتلایا کہ وہ ایک گردن آزاد کریں اور یہ نہ پائیں تو مسلسل دو ماہ کا روزہ رکھیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں۔ انھوں نے اپنی کمزور حالی، قلاشی، غلام آزاد کرنے اورکھانا کھلانے کی عدمِ ملکیت سے باخبر کیا، تو اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں اپنی قوم سے صدقہ لینے کا حکم دیا کہ وہ انہیں کھجور دیں تاکہ اسے اپنے ظہار کا کفارہ بنائیں اور اس میں سے جو بچ رہے اسے اپنے اہل و عیال کو کھلائیں۔
ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ براء بن مالک رضی اللہ عنہ کے اخیافی (ماں شریک) بھائی تھے اور اسلام میں لعان کرنے والے وہ پہلے آدمی تھے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی پر لعان کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت پر نظر رکھو۔ اگر وہ گورا چٹا، سیدھے بالوں اور سرخی مائل ڈھیلی آنکھوں والا بچا جنتی ہے تو وہ ہلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر وہ سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنتی ہے تو وہ شریک بن سمحاء کا ہو گا“۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”مجھے خبر دی گئی کہ اس نے سرمئی آنکھوں، گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابیٔ رسول ﷺ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہےجب کہ اس کا حمل بھی ظاہر ہو چکا تھا۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لعان کر کے بچے کی اپنے نسب سے نفی کر دیں۔ لعان کچھ گواہیوں کا نام ہے جو میاں بیوی کے مابین ہوتی ہیں اور ان کی تاکید قسم اور ہر اس فریق پر لعنت کے ساتھ کی جاتی ہے جو جھوٹا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی نشانیاں بتائیں جن کے ذریعے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ آیا وہ اپنے باپ کا بچہ ہے یا پھر اس شخص کا بچہ ہے جس کی وجہ سے وہ عورت حاملہ ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کے بال سیدھے اور کامل ہوں تو وہ اپنے باپ کا بچہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں ان دونوں کے مابین مشابہت ہو گی۔ اور اگر وہ سرمئی آنکھو ں والا ہوا یعنی اس کے پپوٹوں کی جڑیں بہت زیادہ کالی ہوئیں اور اس کے بال گھنگھریالے یعنی مڑے اور سکڑے ہوئے ہوں تو وہ اس شخص کا بچہ ہو گا جس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہےجو کہ شریک بن سمحاء تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت سے لعان کرنا جائز ہے۔
ابن شہاب سے روایت ہے کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری سے آ کر کہنے لگے: اے عاصم ! ذرا بتاؤ- اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی (اجنبی) شخص کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے (بغیر ضرورت) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم پر رسول اللہ ﷺ کی بات گراں گزری، جب عاصم گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آکر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول ﷺ نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم میں نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ ﷺ کے پاس پہنچ گئے، اس وقت آپ ﷺ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ (اجنبی) آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر آپ لوگ اس کے بدلے میں اسے قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ“۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، جب وہ (لعان سے) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو (گویا) میں نے جھوٹ کہا ہے، چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب (زہری) کہتے ہیں: تو یہی (ان دونوں کا معاملہ) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
متفق علیہحدیث یہ فائدہ دیتی ہے کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ مسئلہ دریافت کرنے آئے کہ کوئی اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی آدمی کو دیکھے تو کیا کرے، تو نبی ﷺ نے ان جیسے مسائل کو ناپسند فرمایا کیونکہ اس میں اپنے آپ کو کسی ناپسندیدہ شے میں مبتلا کرنا ہے، تو انہوں نے اس سوال پر اصرار کیا، اور سوال کیا گیا مسئلہ وقوع پذیر ہو چکا تھا، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس اس حالت کا حکم دریافت کرنے کے لیے آئے، تو نبی ﷺ نے بتایا کہ ان کے اور ان کی بیوی کے بارے میں اللہ نے قرآن کی ایک آیت نازل فرمائی ہے جس میں اس کے متعلق حکم موجود ہے، ان دونوں نےلعان کیا، پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ لعان نے بیوی کو حرام نہیں کیا اور آگے بڑھ کر تین طلاق دے دی، اس طرح یہ اسلام میں پہلا لعان تھا۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ پلک جھپکنے کی حد تک بھی کسی بچے سے اپنے نسب کا اقرار کرے تو پھر اس سے نفی کرنا جائز نہیں ہے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔اس اثر میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب بندہ کسی بچے کے ساتھ اپنے نسب کا اعتراف کر لے تو پھر اس کی نفی اور انکار کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ ان حقوق العباد میں سے ہے جو اقرار سے ثابت ہوتے ہیں اور ان میں جھگڑنا اور انکار کرنا کوئی فائدے مند چیز نہیں۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی، انہوں نے (دورانِ عدت) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا تو ایک آدمی نے انہیں باہر نکلنے پر ڈانٹا، تو وہ نبیﷺ کے پاس آئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، تم اپنی کھجوروں کا پھل توڑو، ممکن ہے کہ تم (اس سے) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی، انہوں نے دورانِ عدت میں اپنے کھجوروں کا پھل توڑنا چاہا تو ایک شخص نے انہیں اس سے منع کر دیا، پس انہوں نے نبی ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے بتایا کہ ان کے نکلنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے، اور یہ اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ مطلقہ بائنہ اپنی عدت گزاری میں متوفیٰ عنہا (جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو) کی عدت گزاری کی طرح نہیں ہے، مطلقہ جب چاہے اپنی ضرورت کے مطابق باہر نکل سکتی ہے، اسی کے ساتھ عمومی طور پر عورت کا اپنے گھر میں رہنا ہی زیادہ افضل و بہتر ہے اور ازحد حفاظت و صیانت کا باعث ہے، اس لیے کہ نبی ﷺکا فرمان ہے کہ ”عورتوں کا گھر ان کے لیے بہتر ہے“۔ یہ فرمان عبادت، مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے اور بھلائی کی باتیں سننے کے متعلق ہے، تو پھر اس کے ماسوا کے بارے میں کیا حکم ہو گا؟!
فُرَیعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا (جو کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں) نے خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ ﷺ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیوں کہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہو جانے والے غلاموں کے پیچھے تلاش میں نکلے تو وہ سب مقام قدوم کے اطراف میں تھے کہ میرے شوہر نے ان کو جا لیا مگر انہوں نے اس کو قتل کر ڈالا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیوں کہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں (وہاں چلی جاؤ)“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ ﷺنے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: ” تم نے کیا کہا؟“ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ” اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہوجائے“ فریعہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کیے، جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلے سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اس صحابیہ کے شوہر انتقال کر گئے اور انہوں نے اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور گھر میں عدت پوری کرنی چاہی تو نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے کہ وہ اسی گھر میں عدت گزاریں جہاں اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ یہ حدیث متوفیٰ عنہا کے متعلق اصل ہے کہ اس پر عدت گزارنا اور متعینہ مدت تک اس گھر میں رہنا واجب ہے جس گھر میں رہتے ہوئے اس کے شوہر کی وفات ہوئی اور اس کے لیے عدت اور اس کے محدّد وقت کو پورا کیے بغیر کسی اور مکان میں منتقل ہونا جائز نہیں ہے۔ اور یہ مدت حاملہ کے لیے وضعِ حمل اور غیر حاملہ کے لیے چار ماہ دس دن پورا کرنا ہے۔
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے ہاں کوئی (چور یا فاجر و فاسق شخص) نہ گھس آئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو وہ وہاں سے (کسی اور جگہ ) منتقل ہو گئیں۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کو بتایا کہ اگر وہ دورانِ عدت اسی گھر میں رہیں جس میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دی ہے تو انہیں اندیشہ ہے کہ کہیں کوئی فاجر یا چور وغیرہ زبردستی ان کے ہاں نہ گھس آئے۔ اس پر نبی ﷺ نےانہیں حکم دیا کہ وہ وہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہو جائیں حالانکہ وہ ہنوز طلاق کی عدت میں تھیں کیونکہ اس کی ضرورت تھی۔
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ”ہم پر ہمارے نبی ﷺ کی سنت کو خلط ملط نہ کرو، ام ولد کی عدت، جب اس کے مالک کی وفات ہو جائےتو چار ماہ دس دن ہے“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔اس اثر میں جلیل القدر صحابی عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جو بغیر دلیل وحجت کے اُس ام ولد کی عدت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں جس کے مالک کی وفات ہو گئی ہو، آپ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس بارے میں سنت یہی ہے کہ وہ آزاد بیوی کی عدت کی طرح اسی کے برابر چار ماہ دس دن ٹھہرے گی، یہ اثر اگرچہ اپنے مفہوم میں صراحت سے دلالت کرتی ہے مگر اکثر علماء نے دوسرے دلائل کی بنا پر اس بات کو ترجیح دی ہے کہ متوفیٰ عنہا ام ولد کی عدت بقیہ لونڈیوں کی طرح ایک حیض ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے۔
عروہ بن زبیر نبی ﷺ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی (بھتیجی) عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جب کہ( وہ تین طہر گزار چکیں) اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں عروہ رحمہ اللہ نے جب یہ روایت بیان کی تو عمرہ بنت عبدالرحمن نے (جو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دوسری بھتیجی ہیں) عروہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے (اس سلسلے میں) عائشہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض بھی کیا، اور کہا: بے شک اللہ تبارک وتعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ”تین قروء“ (البقرة: 228) تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم نے سچ کہا، لیکن کیا تمہیں اَقراء کا (مطلب) معلوم ہے؟ یقینًا اَقراء سے مراد طہر ہیں۔
اسے امام مالک نے روایت کیا ہے۔اس اثر میں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سگے بھائی عبد الرحمان کی بیٹی حفصہ کو جنہیں ان کے شوہر منذر بن عوام نے طلاق دے دیا تھا، تیسرا حیض آنے کے بعد عدت کے گھر سے منتقل کردیا اور ایسا عدت پورا ہونے کی وجہ سے کیا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ ”طلاق والی عورتیں اپنےآپ کو تین قروء تک روکے رکھیں“ میں وارد لفظ ’قرْء‘ کے معنیٰ کے متعلق بعض صحابہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان نزاع تھا۔ صحابہ نے کہا قرء سے مراد حیض ہے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کا جواب دیا کہ بیشک آپ لوگ قراءتِ قرآن میں تو درست اور صحیح ہیں مگر اس کی تفسیر میں خطا کر رہے ہیں کیوں کہ ’قرْء‘ کا مفہوم وہ طہر (پاکی) ہے جو دوحیض کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ لفظ قرء اضداد میں سے ہے یہ طہارت پر بھی دلالت کرتا ہے اس معنی کی طرف امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ گئے ہیں، اور یہ لفظ حیض پر بھی دلالت کرتا ہے اس معنی کی طرف امام ابو حنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ گئے ہیں۔