





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ غلام کی آزاد عورت کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس عورت کی عدت تین حیض ہے جب کہ آزاد کی لونڈی کو طلاق دو طلاقیں ہیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے۔
اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارقطنی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام عبد الرزّاق نے روایت کیا ہے۔اس اثر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما فرما رہے ہیں کہ مملوک غلام کی بیوی چاہے آزاد عورت ہو یا لونڈی ہو اس کی دو طلاقیں ہیں اس سے زائد اس کے پاس اختیار نہیں اور اگر آزاد عورت ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے۔ اسی طرح آزاد مرد کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہے اگر اس کی بیوی لونڈی ہے اس کے علاوہ اس کے پاس اختیار نہیں اور اس (لونڈی) کی عدت دو حیض ہے۔
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ اوطاس میں گرفتار ہونے والی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا: ”کسی حاملہ عورت سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کی زچگی نہ ہو جائے اور غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کر رہے ہیں کہ مکہ کے قریب واقع اوطاس کے مقام پر نبی ﷺ نے جہاد میں کفار سے گرفتار کی گئی کسی حاملہ عورت سے تب تک مباشرت سے منع فرمایا جب تک کہ بچہ جن دینے کے ساتھ اس کا استبراء رحم نہ ہو جائے اور وہ اپنے نفاس سے پاک نہ ہوجائے۔ جب کہ وہ عورت جو حاملہ نہ ہو اس سے اس وقت تک ہم بستری نہیں کی جائے گی جب تک کہ اسے ایک حیض نہ آ جائے۔ کیونکہ ہمیں اس کے پیٹ کے بچے سے خالی ہونے کا علم حیض ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔ گرفتار شدہ باندی پر قیاس کرتے ہوئے خرید کردہ یا کسی بھی اور طریقے سے ملکیت میں آنے والی باندی کا بھی یہی حکم ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہتی ہیں کہ سالم مولی ابو حذیفہ، ابو حذیفہ کے ساتھ ان کے گھر میں رہتے تھے اور سہل کی بیٹی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ سالم حدِّ بلوغ کو پہونچ گیا ہے اور مردوں کی باتیں سمجھنے لگا اور وہ ہمارے گھر میں آتا ہے اور میں خیال کرتی ہوں کہ ابو حذیفہ کے دل میں اس سے کراہت ہے ، چنانچہ ان سے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ، تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، پھر وہ لوٹ کر نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ انہوں نے اسے دودھ پلا دیا ، چنانچہ ابو حذیفہ کے دل میں جو بات تھی وہ ختم ہو گئی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔سہل کی بیٹی سہلہ جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہما کی بیوی تھیں وہ آئیں، ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم کے بارے میں فتوی پوچھ رہی تھیں، سالم رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابہ کرام میں سے تھے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے انہیں گود لے لیا تھا جس وقت کہ گود لینا جائز تھا یہ واقعہ منسوخ ہونے سے پہلے کا ہے، ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گود میں پلے بڑھے اور ان کی بیوی نے لڑکے کی طرح پرورش کی ، چنانچہ جب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ﴾ یعنی ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے انہیں پکارو، جس کی بنا پر گود لینے کا حکم باطل ہو گیا، اور سالم بچپن کی طرح ان کے یہاں آتے جاتے رہے پھر وہ اسی طرح بدستور ان کے نیز اُن کی بیوی سہلہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور انہیں دیکھتے تھے، یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئے، جس کی وجہ سے ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کو نا گوار گزرتا تھا، اور سابقہ الفت کی بنا پر انہیں منع بھی نہیں کر سکتے تھے ،اسی وجہ سے ان دونوں نےنبی ﷺ سے پوچھا، تو آپ ﷺ نےان سے فرمایا کہ تم سالم کو دودھ پلا دو ،تم اس کے اوپر حرام ہو جاؤ گی اور وہ کراہت جو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے دل میں ہے ختم ہو جائے گی، چنانچہ انہوں نے کہا کہ اسے دودھ پلا دیا اور ایسا ہی ہوا، یہ حکم خاص تھا ان کے لیے ، لہذا جس کسی نے مدت رضاعت ختم ہونے کے بعد کسی عورت کا دودھ پیا تو وہ اس کی رضاعی ماں نہیں ہوگی جیسا کہ لجنہ دائمہ(سعودی عرب) نے اس کا فتوی دیا ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، اور میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ، اور میری گود اس کے لیے جھولا ہے، اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے شکایت کی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی، اور اس نے ارادہ کیا کہ اس کے لڑکے کو اس سے چھین لے، اس عورت نے کچھ ایسے اوصاف بیان کیے تاکہ وہ بچہ اس کے پاس رہ سکے، چنانچہ اس نےکہا کہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لئے برتن تھا جب وہ پیٹ کا بچہ تھا، اور اس کی چھاتی اس کی پیدائش کے بعد اس کے لیے مشکیزہ، اوراس کی گود جس جگہ اسے سمیٹ کر رکھتی تھی اس کے لیے جھولا تھا، چنانچہ نبیﷺ نے اس کی ان باتوں کا اقرار کیا، اور اس سے کہا ’’ تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے،،۔اور جب تو کسی سے نکاح کرلے گی تو تمہارا حق اس پر نہیں رہے گا، بلکہ اس کا باپ اس کا زیادہ حق دار ہوگا،،۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت جب شادی کر لے گی اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہے گا تو ایسی صورت میں اس نئے شوہر کے زیر پرورش ہو جائے گا، چنانچہ اس پر احسان کرے گا، جس کی وجہ سے یہ بچہ اس سے اپنے باپ کے مقابلے زیادہ وابستہ ہو جائے گا، اور بسا اوقات دوسری خرابیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔
ابو میمونہ سلمی جو مدینہ کے آزاد کردہ غلاموں میں سے ہیں، سچے آدمی ہیں کہتے ہیں کہ دریں اثناء کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کےساتھ بیٹھا ہوا تھا فارس کی رہنے والی ایک عورت آئی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا تھا ، اور اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی، اس عورت نے فارسی میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں وہ کہہ رہی تھی ، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قرعہ ڈالو۔ اس کا شوہر آیا ، اور کہنے لگا میرے بیٹے کے بارے میں کون جھگڑتا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا اللہ یہ میں نہیں کہتا مگر میں رسول اللہ کے پاس بیٹھا تھا تو ایک عورت آپ کے پاس آئی کہا اے اللہ کے رسول میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے حالانکہ وہ مجھ کو نفع دیتا ہے، ابو عنبہ کے کنویں سے مجھے پانی پلاتا ہے، آپ نے فرمایا کہ قرعہ ڈالو، اس کے شوہر نے کہا کہ کون میرے بیٹے کے بارے میں جھگڑتا ہے؟ تو رسول نے فرمایا ’’یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، ان میں سے جس کا ہاتھ چاہے پکڑ لے‘‘ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا، چنانچہ اسے لے کر وہ چلی گئی۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں بچے کے مفادات کا خیال کرنے کا بیان ہے اور ایسا اس وجہ سے کہ اس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی، اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہا، اس عورت کی حاجت کے با وجود اس کا شوہر اس کے بیٹے کو لے جانا چاہتا تھا اور اس کی پرورش اور دیکھ بھال میں رکاوٹ بن رہا تھا، حالانکہ و ہ بچہ بھی باپ کی عدم قدرت کی بنا پر اس ماں کی حفاظت ونگرانی کا ضرورت مند تھا، تو اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دیا، جو نبی ﷺ سے سنا تھا، اسی جیسی عورت کے حق کے بارے میں ، کیونکہ پرورش ایسی ذمہ داری ہے جس کے ذریعہ بچے کی پرورش اور اس کے مفادات کا خیال کیا جاتا ہے، بچہ سنِ تمیز سے پہلے اپنی ماں کے پاس رہے گا، جب تک کہ اس کی ماں شادی نہ کر لے، جب سن تمیز کو پہنچ جائے اور اپنے بعض معاملات میں خود مختار ہو جائے، یعنی بہت سارے معاملات میں خود مختار ہو جائے، اس وقت ماں اور باپ اس کی پرورش میں برابر کے حق دار ہوں گے، ایسی صورت میں اس بچے کو اختیار دیا جائے گا، ان میں سے جس کسی کے پاس جانا چاہے وہ اسے لے گا۔
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے تو اسلام قبول کر لیا مگر ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ( جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی )۔ ان کی بیوی نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی "میری بیٹی نے ابھی ابھی دودھ چھوڑا ہے یا چھوڑنے کے قریب ہے" ۔ جب کہ رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ "بیٹی میری ہے" ۔ نبی کریم ﷺ نے رافع سے کہا " ایک طرف بیٹھ جاؤ " اور اس عورت سے کہا کہ "تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ"۔ رافع کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور پھر ان سے فرمایا "تم دونوں اسے بلاؤ" ۔ ( انہوں نے بلایا ) تو بچی اپنی ماں کی طرف جھک گئی۔ نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اﷲ! اس بچی کو ہدایت دے" ۔ اس پر بچی اپنے باپ کی طرف جھک گئی اور انہوں نے اسے لے لیا۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کے پاس والدین کے مابین بچے کی حضانہ (پرورش سے متعلق نزاع) کا مسئلہ آیا جن میں سے ایک یعنی باپ مسلمان تھا ور دوسرا یعنی ماں کافر تھی۔ اپنی بیٹی کے بارے میں نبی ﷺ کے پاس ان دونوں کے مابین نزاع پیدا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے بچی کو ماں باپ کے مابین اختیار دیا تو اس نے ماں کو اختیار کرنا چاہا جو کہ کافر تھی۔ اس پر نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے"۔ یعنی صحیح کی طرف اس کی راہنمائی فرما۔اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور اس بچی نے مسلمان باپ کو چن لیا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا کافر کی نگہداشت اور پرورش میں رہنا اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے برخلاف ہے۔ کیونکہ پرورش میں دیے جانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بچے کی تربیت ہو اور ہر قسم کے ضرر کو اس سے دور رکھا جائے۔ جب کہ سب سے بڑی تربیت اس کے دین کی حفاظت ہے اور اس کا سب سے بڑا دفاع یہ ہے کہ اس سے کفر کو دور رکھا جائے۔ جب بچہ کافر کی پرورش میں ہوگا تو وہ اسے اس کے دین سے پھیر دے گا اور اسے کفر کی تعلیم و تربیت دے کر اسلام سے نکال دے گا جو کہ سب سے بڑا ضرر ہے ۔ پرورش تو ہوتی ہی بچے کی حفاظت کے لیے ہے چنانچہ اس کی کوئی بھی ایسی صورت جائز نہیں جس میں بچے کی ہلاکت ہو یا اس کے دین کا ضیا ع ہو۔
عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے کسی شخص کو پاؤں پر کسی سینگ سے مارا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول(ﷺ)! مجھے قصاص چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کہ جلدی نہ کرو پہلے اپنا زخم ٹھیک ہو لینے دو۔ اس نے انکار کیا اور قصاص کا مطالبہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بدلہ دلوا دیا۔ بدلہ لینے والا اس پر چڑھا اور اپنا بدلہ پورا کر لیاپھر یہ قصاص لینے والا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں لنگڑا ہو گیا اور میرا ساتھی ٹھیک ہو گیا؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اس وقت تک بدلہ نہ لو جب تک تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا؟ تم نے میری نافرمانی کی اللہ نے تجھے دور کر دیا اور تیرے زخم کو بگاڑ دیا۔اس آدمی کے بعد جو لنگڑا ہو گیا تھا، رسول اللہﷺ نے یہ حکم فرمایا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو سینگ سے مارا اور سینگ وہ ہڈی ہوتی ہے جو چوپایوں کے سر میں ہوتی ہے۔ اس نے نبی کریمﷺ سے اُس مار کا قصاص طلب کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو زخم کے مندمل ہونے تک انتظار کرنے کو کہا کیونکہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ یہ زخم مندمل ہوتا ہے یا نہیں، یا عضو پر اثر انداز ہو جائے یا اس کی جان پر اثر انداز ہو جائے اور انسان مر جائے۔اس نے انکار کیا اور قصاص میں جلدی کی۔ رسول اللہﷺ نے مجرم پر حد قائم کروا دی۔ مجرم قصاص کے بعد ٹھیک ہو گیا جب کہ قصاص کا مطالبہ کرنے والا لنگڑا ہو گیا۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس شکایت لے کر آیا تو رسول اللہﷺ نے وضاحت کی کہ تو نے قصاص میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا اور تاخیر پر راضی نہیں ہوا تھا، اس لیے تیری جو دیت بنتی تھی وہ حق تو نے وصول کر لیا۔ اس کی جلد بازی اور نبی کریمﷺ کے حکم کی نافرمانی پر آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹتے ہوئے اس بات پر زور دیا اور زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص لینے میں تاخیر کا حکم دیا۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی رُبَیِّع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے، پھر اس لڑکی سے لوگوں نے معافی کی درخواست کی لیکن انہوں نے معافی سے انکار کر دیا ۔انہوں نے دیت کی پیشکش کی، انہوں نے اسے بھی ٹھکرا دیا اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصاص کے سوا کسی دوسری چیز پر راضی نہیں تھے۔چنانچہ آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا ربیع رضی اللہ عنہاکے دانت توڑ دیے جائیں گے؟ نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ان کے دانت نہیں توڑے جائیں گے! اس پر حضور ﷺ نے فرما یا ، انس ! کتابُ اللہ کا حکم قصاص کا ہی ہے۔ پھر لڑکی والے راضی ہوگئے اور انھوں نے معاف کردیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے“۔
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور الفاظ بخاری کے ہیں۔اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ رُبَیِّع رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے کسی بچی کے سامنے والے کچھ دانت توڑ دیے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے ان پر قصاص لاگو کرنے کا ارادہ فرمایا اور وہ یہ تھا کہ ان کے بھی دانت توڑے جائیں۔ تو انس بن نضر رضی اللہ عنہ (جو کہ ان کے بھائی تھے) نے بطور استفہام نہ کہ اللہ کے حکم کا انکار کرتے ہوئے آپ ﷺ سے پوچھا۔ اور اللہ تعالیٰ سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ قسم اٹھائی کہ ان (رضی اللہ عنہا) کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ کا فیصلہ قصاص کے ساتھ مکمل ہو گا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ دِیت دینے کے لیے راضی ہیں تو انہوں نے قصاص معاف کر دیا۔ اُس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر قسم اٹھائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کی درستگی اور اللہ سے امید کی مضبوطی کی وجہ اس کو مکمل کر دیتا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھا دھند لڑائی جھگڑے میں مارا جائے (اور قاتل دیکھا نہ گیا ہو) کہ ان کی آپس میں سنگباری ہوئی ہو یا ڈنڈے بازی ہوئی ہو تو اس کی دیّت قتلِ خطا والی ہو گی۔ اور جو عمداً جان بوجھ کر قتل کیا گیا ہو تو اس میں قصاص جان کے بدلے جان کی ہوگی اور جو کوئی اس (قصاص لینے) میں آڑے آئے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر کوئی باہمی دھکم پیل، یا کسی غیر مبینہ حالت کی وجہ سے، یا کسی اور خفیہ سبب جیسے ہجوم وغیرہ کی وجہ سے مارا جائے اور اس کے قاتل کی نشاندہی نہ ہو سکے تو اس کو قتلِ خطا پر منحصر کیا جائے گا اور اس کی قتلِ خطا والی دیت مسلمانوں کے بیت المال سے ادا کی جائے گی۔ اور جس کو عمداً (قاتل کی نشاندہی کے ساتھ) قتل کیا گیا ہو تو اس کے ہاتھوں کو سزا دی جائے گی۔ یعنی اس کو جان سے مار کر قصاص لیا جائے گا یا اس کے قتل کا فیصلہ اس کی جان کو قصاص بنایا جائے گا۔ ہاتھ کی تعبیر جان سے مجازی طور پر کی گئی ہے۔ یا پھر اس کا یہ معنی بھی ہے کہ اس کے ہاتھ نے جو کام کیا ہے اس کی سزا ملے گی اور وہ قتل ہے بایں معنی قود (سزا) کی اضافت ید (ہاتھ) کی طرف مجازی طور پر کی گئی ہے۔ اور جو شخص قاتل اور سزا کے درمیان حائل ہو جب کہ مقتول کے ورثاء اس سے قصاص کے خواہش مند ہوں تو مانو اس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی لعنت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ اس کے اس قبیح جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ توبہ قبول کرتا ہےاور نہ ہی اس کا کوئی فرض اور نفل قبول کرتا ہے۔