





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: نبی ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا، اس پر آپ ﷺ نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر چاندی کا تار لگا کر اسے جوڑ دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ کا ایک برتن تھا جس میں آپ ﷺ پانی پیا کرتے تھے۔ یہ برتن ٹوٹ گیا تو آپ ﷺ نے چاندی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس سے ٹوٹے ہوئے دونوں اطراف کو باہم جوڑ دیا۔
عمرو بن خارجہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، اس وقت میں اس کی گردن کے نیچے تھا، وہ جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے کاندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کا حق دے دیا ہے، کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ جو شخص اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف (اپنے بیٹے ہونے کی) نسبت کرے یا (جو غلام) اسے آزاد کرنے والوں کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے؛ انھیں ناپسند کرتے ہوئے، تو ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نہ نفلی عبادت قبول فرمائے گا اور نہ فرض“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ اس بات کا ذکر کر رہے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے قریب موجود تھے، آپ علیہ الصلاۃ والسلام ،اپنی اونٹنی پر بیٹھ کر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے اور اس اونٹنی کا لعاب بہتے ہوئے عمرو کے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے اس خطبے میں کچھ احکام کی وضاحت فرمائی،جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے اور اس کے حق میں پہنچنے والے فرض کردہ حصے اور متعین مقدار کو واضح کردیاہے؛ لہٰذا وارث کے لیے وصیت کرنے کا اب کوئی جواز باقی نہ رہا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ بیان کیا کہ بدکاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ بستر والے کا ہوگا؛ لہٰذا اس بچے کی نسبت بستر والے کے علاوہ کسی اور کی طرف نہیں کی جائے گی، چاہے وہ صاحب فراش شوہر ہو یا مالک۔ زانی کو بچے کی نسبت اپنی طرف کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اس کی بدکاری کے نتیجے میں اس کے حق میں رسوائی و نامرادی ہے اور اس پر حد جاری کیے جانے کا حکم ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی حرمت بیان فرمائی کہ کوئی انسان خود کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے یا غلام اپنی نسبت، اس کو آزاد کرنے والے مالکان کے علاوہ کسی اور کی جانب کرے۔ آپ ﷺ نے واضح فرمادیا کہ غیر باپ کی طرف انتساب کرنا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں، یا غلام کا اسے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی جانب منسوب ہونا، اللہ تعالیٰ کی لعنت کا موجب ہے۔ اللہ جل و علا کی ذات ایسے شخص کی کوئی فرض اور نفل نیکی نہیں قبول فرمائے گی۔
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں جب وہ (دونوں آنکھیں) سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔حدیث کا معنی: ”دونوں آنکھیں سرین کا بندھن ہیں“ یعنی دونوں آنکھیں بیداری کی حالت میں سرین کی حفاظت کرتی ہیں اور ازخود سرین سے کوئی چیز نکلے، اُسے روک دیتی ہیں اور اگر کوئی چیز نکلے تو انسان اسے محسوس کر لے۔ ”جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے“ یعنی انسان جب سوجاتا ہے تو اس کے بدن کے حصے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور وہ رسی اپنی جگہ سے کھسک جاتی ہے جو سرین کے دائرے کو باندھے ہوئے ہوتی ہے اور پھر وہا ں سے ہوا (بو) احساس ہوئے بغیر نکلنے لگتی ہے۔ حدیث کے اس ٹکڑے میں نبی ﷺ نے آنکھ کو اس رسی سے تشبیہ دی ہے جس سے برتن باندھا جاتا ہے دونوں آنکھیں اگر بیدار ہوں گی تو سرین کے دائرے پر رسی کی پکڑ مضبوط ہوگی اور وہاں سے کوئی چیز نکلی تو اسے محسوس ہو گی اس کے برخلاف جب دونوں آنکھیں سو جائیں تو بندھن ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور مشک کے اندر کی چیز اسے محسوس ہوئے بغیر نکل جاتی ہے۔یہاں پر نبی ﷺ نے انتہائی عمدہ اور لا جواب تشبیہ بطور مثال کے ذکر دی ہے تاکہ شرعی حکم کو ذہن کے قریب کیا جا سکے، اس (تشبیہ) کا شمار جوامع الکلم میں ہوتا ہے اور یہ نبی ﷺ کی خصوصیات میں سے ہے۔
عوف بن مالک -یا ابن حارث- بن طفیل سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بیان کیا گیا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بیع اور عطیہ کے بارے میں فرمایا، جسے عائشہ رضی اللہ نے دیا تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایسے معاملوں سے باز رہنا چاہیے، نہیں تو اللہ کی قسم میں انھیں مال میں تصرف سے روک دوں گا۔ ام المؤمنین نے کہا: کیا واقعی اس نے یہ بات کہی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں! فرمایا: میں اللہ کے نام پر منت مانتی ہوں کہ ابن زبیر سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی! اس کے بعد جب ان کے قطع تعلقی پر عرصہ گزر گیا تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ان سے سفارش کی گئی (کہ انھیں معاف فرما دیں)، ام المؤمنین نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اس کے بارے میں کوئی سفارش نہیں قبول کروں گی اور اپنی نذر نہیں توڑوں گی۔ جب یہ قطع تعلق عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے لمبا ہو گیا، تو انھوں نے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن اسود بن عبد یغوث سے اس سلسلے میں بات کی اور ان دونوں سے کہا کہ میں تمھیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی طرح تم لوگ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل کرا دو؛ کیوں کہ ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ میرے ساتھ صلہ رحمی کو توڑنے کی نذر مانیں۔ چنانچہ مسور اور عبدالرحمٰن دونوں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت چاہی اور عرض کیا: "السلام علیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا آ جاؤ۔ انھوں نے عرض کیا: ہم سب؟ کہا: ہاں، سب آ جاؤ۔ ام المؤمنین کو اس کا علم نہیں تھا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ان کے ساتھ ہیں۔ جب یہ اندر گئے، تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پردہ ہٹا کر اندر چلے گئے اور ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے لپٹ کر اللہ کا واسطہ دینے لگے اور رونے لگے (کہ معاف کر دیں، یہ ام المؤمنین کے بھانجے تھے) مسور اور عبدالرحمٰن بھی ام المؤمنین کو ابن زبیر سے بات کرنے اور ان کی معذرت قبول کرنے کے لیے قسمیں دیتے رہے اور کہنے لگے کہ آپ کو بھی معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قطع کلامی سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی جائز نہیں ہے۔ جب دونوں نے بار بار یاد دلایا تو ام المؤمنین بھی انھیں یاد دلانے لگیں اور رونے لگیں اور فرمانے لگیں کہ میں نے تو نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ سخت ہے! لیکن یہ لوگ برابر کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی قسم (توڑنے) کی وجہ سے چالیس غلام آزاد کیے۔ اس کے بعد جب بھی آپ اپنی یہ نذر یاد کرتیں، تو رونے لگتیں، یہاں تک کہ آنسوں آپ کے دوپٹے کو تر کر دیتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کافی کچھ عطیہ و صدقہ کیا ہے۔ انھیں عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عطیہ بہت زیادہ نظر آیا، اس لیے کہا: اگر وہ باز نہیں آئیں، تو میں انھیں مال میں تصرّف کرنے سے روک دوں گا۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں بہت سخت بات تھی؛ کیوں کہ وہ ان کی خالہ تھیں اورعقل و فکر، حلم و بردباری اور حکمت ودانش والی تھیں؛ اس لیے ان کے بارے میں ایسی بات کہنا مناسب نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سن لی۔ انھیں بتانے کا کام غیبت کرنے والوں اور چغل خوری کے ذریعے آپس میں فساد پھیلانے والوں نے کیا۔ جب یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا تک پہنچی، تو انھوں نے ان سے ہمیشہ نہ بات کرنے کی قسم کھا لی۔ انھوں نے اپنے بھانجے پر شدید ناراضگی کی وجہ سے کیا۔ انھوں نے قطع تعلق بھی کر لیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا اپنے بھانجے سے ترکِ تعلق اختیار کرنا، ابن زبیر پر بہت سخت گزرے گا۔ چنانچہ وہ انھیں راضی کرنے کی کوشش کرنے لگے؛ لیکن ام المؤمنین رضی اللہ عنہا اپنے عزم پر قائم رہیں۔ کیوں کہ وہ نذر کو بہت اہم جانتی تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دو ساتھیوں کو اپنا سفارشی بنایا۔ ان دونوں نے ام المؤمنین کے ساتھ حیلہ کا راستہ اختیار کیا، جو بجا بھی تھا؛ کیوں کہ اس کا نیک مقصد تھا۔ اصلاح بین الناس کا مقصد۔ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی؛ چنانچہ سلام کیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ جب انھوں نے داخل ہونے کی اجازت دے دی، تو دونوں نے کہا: ہم داخل ہو جائیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں! ان لوگوں نے کہا: ہم سب؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سب لوگ! عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہیں تھا کہ عبد اللہ بن زبیر بھی ان دونوں کے ساتھ ہیں۔ پھر بھی انھوں نے یہ نہیں کہا کہ کیا تمھارے ساتھ عبد اللہ بن زبیر ہیں؟ انھوں نے کوئی تفصیل نہیں طلب کی؛ بلکہ عام بات کہہ دی کہ تم سب داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ وہ داخل ہوئے۔ جب وہ اندر داخل ہوئے تو ان پر امہات المومنین کا حجاب تھا۔ یعنی ایک ایسا پردہ جس سے امہات المؤمنین پردہ فرمایا کرتی تھیں؛ تاکہ لوگ انھیں دیکھ نہ پائيں، وہ عام عورتوں والا حجاب نہیں تھا؛ کیوں کہ عام عورتوں کے حجاب میں چہرہ اور جسم کو ڈھاکنا ہوتاہے، لیکن یہ حجاب ایسا تھا جو لوگوں اور امہات المومنین کے درمیان حاجب اور حائل ہوا کرتا تھا۔ جب وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے، تو عبد اللہ بن زبیر پردے کے اندر داخل ہوگئے؛ کیوں کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔ اس طرح وہ ان کے محارم میں سے تھیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما ام المؤمنین کی طرف متوجہ ہوئے، انھیں بوسہ دینے لگے، رونے لگے، اللہ کا واسطہ دے کر قطع کلامی سے ڈرانے لگے اور کہنے لگے کہ یہ جائز نہیں ہے۔ لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نذر کا معاملہ سخت ہے۔ پھر ان دونوں نے انھیں اس قطع کلامی سے، جس کا انھوں نے پختہ عزم کر رکھا تھا، رجوع کرنے پر آمادہ کیا اور نبی ﷺ کی وہ حدیث سنائی، جس میں ہے کہ کسی مومن کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا مطمئن ہوگئیں اور رونے لگیں اور عبد اللہ بن زبیر سے بات چیت شروع کردیں۔ لیکن یہ بات عائشہ رضی اللہ عنہا کو کافی غمگین کرتی رہی۔ چنانچہ جب بھی عائشہ رضی اللہ عنہا اسے یاد کرتیں، رونے لگتیں۔ کیوں کہ یہ بات بہت سخت تھی۔ اس نذر کی بنا پر انھوں نے چالیس غلام آزاد کیے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی گردن کو جہنم سے آزاد کردے۔ ان کا یہ عمل مزید تقوی و پرہیزگاری کے طور پر تھا؛ ورنہ واجب تو ایک ہی گردن آزاد کرنا تھا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک شخص نے کہا: میں ضرور صدقہ دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے۔ پھر اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے چور کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی۔ میں اور بھی صدقہ دوں گا۔ چنانچہ (دوسرے دن) وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور ایک زانیہ عورت کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے پھر کہا: اللہ تیرا شکر ہے زانیہ کے ہاتھ میں چلے جانے پر بھی۔ میں پھر صدقہ دوں گا۔ چنانچہ (تیسرے دن) پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک مال دار شخص کو تھما آیا۔ پھر صبح کو لوگ باتیں کرنے لگے کہ ایک مال دار شخص کو صدقہ کیا گیا ہے۔ اس نے کہا : اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ چنانچہ اس کے پاس کوئی آیا اور کہا: جہاں تک چور کو تیرے صدقہ کرنے کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ چوری سے باز آ جائے۔ جہاں تک زانیہ کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ زنا سے کنارہ کش ہو جائے اور جہاں تک مال دار کی بات ہے، تو ممکن ہے کہ وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔
متفق علیہہمیں نبی ﷺ نے پچھلی امتوں کے واقعات میں سے یہ واقعہ بتایا؛ تاکہ ہم اس سے عبرت حاصل کریں۔ آپ نے جو کچھ فرمایا، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی صدقہ دینے کی غرض سے نکلا۔ یہ معروف بات ہے کہ صدقہ فقرا اور مساکین کو دیا جاتا ہے؛ لیکن اس کا صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں پڑ گیا۔ صبح لوگ باتیں کرنے لگے کہ رات میں ایک چور کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ چور کی سرزنش کا حق دار ہوتا ہے؛ مال و دولت دیے جانے کا نہیں۔ ایسے میں صدقہ دینے والے نے کہا: اللہ تیری تعریف و شکر ہے؛ کیوں کہ ہر حال میں اس کی تعریف و شکر ہونا چاہیے۔ پھر یہ آدمی نکلا اور کہا: آج رات میں صدقہ کروں گا۔ لیکن اس نے ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں صدقہ رکھ دیا، جو لوگوں سے زنا کرواتی تھی۔ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے، جب کہ عقل و فطرت تسلیم نہیں کرتی کہ ایک زانیہ کو صدقہ دیا جائے۔ اس آدمی نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے۔ پھر اس نے کہا: آج رات صدقہ کروں گا۔ گویا وہ اپنے پہلے اور دوسرے صدقے کو نامقبول سمجھے ہوئے تھا۔ اس نے صدقہ دیا، تو ایک مال دار آدمی کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ جب کہ مال دار آدمی صدقے کا مستحق نہیں ہوتا؛ بلکہ اسے تحفہ تحائف وغیرہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ صبح لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ دیا گیا ہے۔ اس نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے، زانیہ، چور اور مال دار کو دے دینے پر بھی۔ اس کی چاہت تھی کہ اس کا صدقہ کسی پاک باز متعفف فقیر کو ملے؛ لیکن اللہ کی لکھی تقدیر ہوکر رہتی ہے۔ اسے اس امت کے نبی کے ذریعے خبر دی گئی کہ تمھارا صدقہ قبول کر لیا گیا؛ کیوں کہ وہ مخلص تھا اور اس کی نیت اچھی تھی، لیکن اس کی نیت پوری نہ ہو سکی۔ جب کہ ممکن ہے کہ چور صدقہ پا نے کے بعد یہ سمجھے کہ میرے لیے یہ مال کافی ہے اور وہ اپنی چوری سے باز آ جائے یہ کہتے ہوئے کہ میرے لئے یہ مال کافی ہے۔ رہی زانیہ تو شاید وہ زناکاری سے باز آ جائے؛ کیوں کہ بسا اوقات وہ حصول مال کے لیے زنا میں ملوث ہوتی ہے (اللہ بچائے) اور اسے زنا سے روکنے لائق مال حاصل ہو چکا ہے اور رہا مال دار آدمی تو شاید وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اللہ عزوجل نے اسے جو دولت دے رکھی ہے، اس میں سے خرچ کرنے لگے۔
ابو جعفر عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک دن اپنے پیچھے سوار کر لیا، پھر مجھ سے چپکے سے ایک راز کی بات کہی، جو میں کسی سے بیان نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ کو قضاے حاجت کے لیے چھپنے کے لیے دو جگہیں بہت ہی پسند تھیں؛ یا تو کوئی اونچا مقام (ٹیلہ) یا کھجور کے درختوں کا جھنڈ یعنی کھجور کا باغ۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کسی انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، تو سامنے ایک اونٹ نظر آیا۔ جب اس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو بلبلایا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ نبی اکرم ﷺ اس کے پاس آئے اوراس کے کوہان اور کانوں کے پیچھے ہاتھ پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد پوچھا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری جوان آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان جانوروں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں، جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے؟ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا مارتے اور تھکاتے ہو“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انھیں ایک رات اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور چپکے سے انھیں ایک بات کہی، جس کا یہ صحابی رسول ﷺ لوگوں کے سامنے ذکر کرنا نہیں چاہتے؛ کیوں کہ نبی ﷺ نے انھیں وہ بات رازداری سے بتائی تھی۔ اس حدیث میں نبی کریم ﷺ کی عادت شریفہ کا بھی ذکر کیا کہ جب آپ ﷺ قضاے حاجت کا ارادہ فرماتے، تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ یا تو کسی اونچی و بلند چیز کی آڑ میں یا کسی ایسے باغ میں چھپ جائیں، جہاں کھجور کے گھنے درخت ہوں؛ تاکہ آپ پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اور یہ باغ ایسی جگہ ہے، جہاں اونچی اونچی فصلیں ہوتی ہیں؛ لیکن لوگوں کے بیٹھنے کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ ایک انصاری شخص کے باغ میں تشریف لے گئے، تو وہاں ایک اونٹ کو دیکھا، جب رسول اللہ ﷺ پر اونٹ کی نظر پڑی تو وہ رونے لگا۔ آپ نے اس کی کوہان اور کانوں کے پیچھے سہلایا۔ اس کے بعد اونٹ کے مالک کے تعلق سے دریافت فرمایا۔ ایک انصاری نوجوان نے آکر بتایا کہ وہ اس کا مالک ہے۔ تب آپ ﷺ نے انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمھیں اس اللہ عز وجل کا کوئی ڈر و خوف نہیں، جس نے تمھیں اس اونٹ کا مالک بنایا ہے؟ کیوں کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکے رکھنے کے ساتھ ساتھ تھکا دینے کی حد تک کام لیتے ہو۔
ابو علی سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ ميں مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتواں تھا (يعنی ہم سات بھائی تھے)۔ ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی۔ ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول الله ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کرديں۔ ايک روايت میں «سابع إخوة لي» کے الفاظ ہیں۔ يعنی ميں اپنے بھائيوں ميں ساتواں تھا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔سوید بن مقرن بتا رہے ہیں کہ میں بنی مقرن کے سات بھائیوں میں سے ایک تھا جو سب کے سب صحابہ اور مہاجر تھے۔ اس خصوصیت میں کوئی اور شخص ان کا شریک نہیں یعنی ہجرت کرنے میں سات بھائی شریک ہوں۔ ہم ساتوں کی خدمت کے لئے ایک ہی باندی تھی۔ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اس کے گال پر تھپڑ مار دیا۔ تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے غلامی سے آزاد کردیں تاکہ اس کی آزادی اسے مارنے کا کفارہ بن جائے۔
كثیر بن زیاد سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے مُسّہ ازدیہ نے بیان کیا: میں حج کو گئی تو ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ عورتوں کو حیض کی نمازیں قضا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا: وہ قضا نہیں کریں گی۔ نبی ﷺ کی (رشتہ دار) خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ہم جھائیوں کو دور کرنے کے لیے اپنے چہروں پر وَرس (ایک قسم کا پودا جو رنگائی کے کام ميں لايا جاتا ہے ) ملا کرتی تھیں۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔ہماری ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عظیم القدر صحابی سمره بن جندب رضی اللہ عنہ کے فتوے کی اصلاح فرمائی جب انہوں نے عورتوں پر لازم قرار دیا کہ وہ مدتِ حیض میں چھوٹ جانے والی نمازوں کی قضا کریں۔ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ قضا نہیں کریں گی، یعنی نماز کی قضا نہیں کریں گی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس فتوے کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا: نبی ﷺ کی رشتہ دار خواتین میں سے کوئی عورت چالیس دن تک نفاس میں رہتی اور آپ ﷺ اسے مدتِ نفاس کی نمازوں کو قضا کرنے کا حکم نہیں دیتے تھے۔ یہاں ”نساء النبی“ سے مراد آپ ﷺ کی بیویوں کے علاوہ آپ ﷺ کی بیٹیاں اور قریبی رشتہ دار خواتین ہیں۔ ”النساء“ کا لفظ بیویوں سے عام ہے کیونکہ اس کے تحت بیٹیاں اور باقی رشتہ دار خواتین آتی ہیں۔ یہاں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول: ”نفاس میں رہتی ...الخ“ کی وجہ سے ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ مسہ ازدیہ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے حالت ِحیض میں نماز پڑھنے کے حکم کے بارے میں پوچھا تھا اور انہیں بتلايا تھا کہ سمرۃ رضی اللہ عنہ ان کی قضا کا حکم دیتے ہیں، جب کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نفاس والی عورتوں کی نماز کے بارے میں جواب دیا۔ اس کا جواب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے: اول: جواب کے قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حیض کے لفظ سے نفاس مراد ہے۔ دوم: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے حالتِ نفاس کی نماز کے بارے میں جواب دیا جو مدت میں حیض سے کم ہوتا ہے۔ کیوں کہ حیض دورانِ سال بارہ دفعہ آتا ہے، جب کہ نفاس اس طرح نہیں ہوتا بلکہ وہ اس کی بنسبت بہت ہی کم ہوتا ہے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب شارع نے حالتِ نفاس میں نماز کو معاف کر دیا جو بار بار نہیں آتا تو حالت حیض کی نمازوں کو کیسے معاف نہیں کرے گا جو بار بار آتا ہے؟!۔ واللہ اعلم۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول: ”وكنا نطلي على وجوهنا“ یعنی ہم ملتی تھیں۔ ”الطلی“ کا معنی تیل ملنا آتا ہے۔ ”الورس“ ایک زرد رنگ کا پودا ہے جس سے چہرے پر ملنے کی کریم بنائی جاتی ہے۔ ”تعني من الكَلَف“ الکلف سے مراد وہ رنگ ہے جو سیاہی اور سرخی کے درميان ہوتا ہے یعنی سرخی مائل مٹیالی رنگت يا کوئی اور چيز جو چہرے پر ظاہر ہوجاتی ہے۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے، ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا۔ جب سرف کے مقام پر پہنچے، تو میرے ایام شروع ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺمیرے پاس آئے جبکہ میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کونسی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلی ہوتی! آپ نے پو چھا: تمھارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فر مایا: یہ چیز تو اللہ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے۔ تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ جیسے حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: جب میں مکہ پہنچی، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو۔ چنانچہ جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام لوگ حلال ہو گئے۔ قربانی کے جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں۔ جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا۔ اور جب قربانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے مجھے حکم دیا اور میں نے طواف کر لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس گائے کا گوشت لا یا گیا، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قر بانی دی ہے۔ جب محصب (مینا سے روانگی) کی رات آئی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے لوٹیں اور میں صرف حج کر کے لوٹوں؟ تو آپ ﷺنے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا۔ وہ کہتی ہیں: مجھے یا د پڑتا ہے کہ میں (اس وقت) نو عمر لڑکی تھی، (راستے میں) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ (بار بار) کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکرا رہا تھا، حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا، عمرے کا تلبیہ پکارا۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کا مفہوم: ”ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ نکلے۔ ہمارا موضوع سخن حج ہی تھا“ یعنی مدینہ سے۔ آپ ﷺ مدینے میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھنے کے بعد نکلے تھے۔ سنیچر کا دن تھا اور ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے عصر کی نماز دو رکعت پڑھی تھی۔ ”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ایک روایت میں ہے: ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ جب کہ ان سے ایک اور صحیح حدیث میں اس طرح آیا ہے: ”ہم میں سے کچھ عمرہ کا تلبیہ کہہ رہے تھے اور کچھ حج کا اور میں عمرہ کا تلبیہ کہہ رہی تھی“، اس طرح ان کے یہ اقوال: ”ہم حج کا ہی ذکر کر رہے تھے“ اور ”ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا“ مندرجہ ذیل احوال میں سے کسی ایک حالت سے خالی نہیں: پہلی حالت: اصل میں اس سے ان کی مراد فریضۂ حج ہے۔ اس قسم کا بیان نہیں جس کا انھوں نے احرام باندھا تھا۔ دوسری حالت: اس سے ان کی مراد گھر سے نکلتے وقت اور میقات پر پہنچ کر احرام باندھنے سے پہلے تک کا حال بیان کرنا ہے۔ تیسری حالت: ان کے علاوہ دیگر صحابہ کا حال بیان کرنا مقصود ہو گا۔ خود ان کے بارے میں نہیں۔ ”یہاں تک کہ ہم سرف کے مقام تک پہنچ گئے“ یہ مکہ کے قریب ایک جگہ ہے۔ ”فَطَمِثْتُ“ یعنی وہ حائضہ ہو گئیں۔ ”رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، تو میں رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے پو چھا: تمھیں کون سی بات رلا رہی ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی!“ یعنی جب انھیں حیض آ گیا، تو وہ رونے لگیں اور یہ خواہش کرنے لگیں کہ کاش وہ اس سال حج کا ارادہ نہ کرتیں! کیوں کہ ان کا یہ خیال تھا کہ وہ حائضہ ہونے کی وجہ سے حج کے تمام اعمال سے منقطع ہو جائیں گی اور اس وجہ سے بہت بڑی خیر سے محروم رہ جائیں گی۔ ”فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کہیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے؟“ یعنی حائضہ تو نہیں ہو گئی؟ میں نے کہا: ہاں! آپﷺ نے فرمایا: ”یہ چیز تو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے“ یعنی حیض ایک طے شدہ امر ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے بنات آدم کے لیے لکھ دیا ہے، یہ نہ تیرے ساتھ خاص ہے اور نہ تیرے ہاتھ میں کچھ ہے۔ اس لیے رونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”تم تمام کام ویسے کرتی جاؤ، جیسے (تمام ) حاجی کریں، مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ، بیت اللہ کا طواف نہ کرو“ رسول اللہ ﷺ نے انھیں بتادیا کہ حیض مناسک حج کی ادائیگی میں رکاوٹ نہیں اور نہ ہی احرام کے لیے مخل ہے۔ اس لیے دیگر حاجی جو کچھ کریں، تم بھی کرتی جاؤ۔ جیسے وقوف عرفہ ومنیٰ، وقوف مزدلفہ اور رمی جمار وغیرہ۔ طواف کے علاوہ دیگر تمام ارکانِ حج ادا کر سکتی ہیں۔ جب تک پاک ہونے کے بعد غسل نہیں کر لیتیں، طواف کرنے سے اجتناب کریں گی۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ تم اسے (حج کی نیت کو بدل کر) عمرہ کر لو“ یعنی نبی کریم ﷺ جب مکہ پہنچے، تو جو لوگ اپنے ساتھ قربانی نہیں لائے تھے، انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام کو عمرے کا بنا لیں؛ چنانچہ جس نے حج کے لیےاحرام باندھا تھا، لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہیں لایا تھا، وہ اپنے احرام کو بدل کر عمرہ کا احرام کر لے۔ وہ طواف کرے، سعی کرے، بال کٹوائے اور حلال ہو جائے۔ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ جس کے پاس قربانی نہیں ہے، وہ حلال ہو جائے۔ ۔ہم نے کہا کہ کس طرح حلال ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: مکمل حلال۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جن کے پاس قربانی کے جانور تھے، ان کے علاوہ تمام صحابہ حلال ہو گئے۔ اور قربانی کا جانور صرف رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور بعض اصحاب ثروت صحابہ ہی کے پاس تھیں“ یعنی جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں، وہ طواف، سعی اور بال کٹوانے کے بعد حلال ہو گئے۔ جب کہ نبی کریم ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور وہ صحابہ جنھیں اللہ تعالیٰ نے فراوانی سے نوازا تھا، حالت احرام میں باقی رہ گئے؛ کیوں کہ وہ اپنے ساتھ قربانیاں لائے تھے اور قربانی لانے والے کے لیے عمرہ کے بعد احرام اتارنے کی اجازت نہیں ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”اگر میں قربانی لے کر نہ آیا ہوتا، تو میں بھی وہی کرتا، جو تمھیں کرنے کا حکم دیا ہے“۔ ”جب وہ (ترویہ کے دن منی کی طرف) چلے تو حج کا تلبیہ پکارا“ یعنی جن لوگوں نے طواف کر لیا، سعی کر لی اور بال کٹوا لیے، انھوں نے ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو یعنی ترویہ کے دن منی کی طرف نکلتے وقت حج کا تلبیہ پکارا۔ ”عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب قر بانی کا دن آیا، تو میں پاک ہو گئی“ یعنی قربانی کے دن حیض سے پاک ہو گئیں۔ یہ دس ذی الحجہ کا دن تھا۔ اس دن کا نام ”یوم نحر“ قربانیوں کو نحر کرنے کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے طواف افاضہ کر لیا“ یعنی یوم نحر کو جب حیض سے پاک ہوئیں، تو نبی کریم ﷺ نے انھیں طواف افاضہ کرنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ اس سے فارغ ہو گئیں۔ ”ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟“ یعنی ان کے اور ان کے ساتھ موجود دیگر عورتوں کے لیے گائے کا گوشت بھیجا گیا، تو انھوں نے اس کے بارے میں پوچھا۔ ”جواب دیا گیا کہ اللہ کے رسول اللہ ﷺنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی دی ہے“ یعنی نبی کریم ﷺ نے اپنی ہر بیوی کی طرف سے ایک ایک گائے قربانی کی ہے۔ ”جب محصب کی رات آئی“ یعنی جب منیٰ سے روانگی کی رات آئی۔ یہ ایام تشریق کے بعد والی رات ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا، کیوں کہ حجاج منی سے نکل کر محصب آکر رات گزارتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے: رسول اللہﷺ محصب کی رات کچھ دیر سوئے اور سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ آئے اور طواف کیا۔ ”میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! لوگ حج اور عمرہ (دونوں) کر کے لو ٹیں گے اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟“ یعنی وہ مستقل حج اور مستقل عمرہ کر کے لوٹیں گے؛ کیوں کہ انھوں نے حج تمتع کیا تھا اور میں الگ سے عمرہ کیے بغیر ہی لوٹ جاؤں گی؛ کیوں کہ وہ قارن تھیں اور حج قران میں عمرہ ساتھ ہی ہوتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت میں ہے: ”لوگ دو اجر لے کر لوٹیں اور میں ایک ہی اجر کے ساتھ لوٹوں؟“، وہ چاہتی تھیں کہ انھیں بھی حج کے علاوہ الگ سے عمرہ کی سعادت نصیب ہو، جیسے دیگر امہات المؤمنین اور صحابہ کو نصیب ہوئی تھی، جنھوں نے اپنے حج کے احرام کو عمرہ کے کے احرام میں بدل لیا، عمرہ مکمل کر کے یوم الترویہ سے پہلے حلال ہو گئے، پھر ترویہ کے دن مکہ سے حج کا احرام باندھا۔ اس طرح انھیں الگ الگ حج اور عمرہ ادا کرنے کا موقع مل گیا۔ جب کہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا عمرہ حج قران ہی میں شامل تھا۔ چنانچہ واپسی کے دن رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تمھارا طواف حج اور عمرہ دونوں کو کافی ہے۔ یعنی دونوں مکمل ہو گئے ہیں اور یہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لیکن انھوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور دیگر لوگوں کی طرح الگ عمرہ کرنے کی خواہش پر مصر رہیں۔ ”وہ کہتی ہیں: آپ ﷺ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا اور انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھایا“ یعنی نبی کریم ﷺ نے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ مجھے تنعیم لے جائیں؛ تاکہ میں وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر آؤں؛ تاکہ باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی الگ عمرے کی سعادت نصیب ہوجائے۔ چنانچہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے سوار کر لیا جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے۔ ”وہ کہتی ہیں: مجھے یاد پڑتا ہے، میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی، راستے میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ بار بار کجاوے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا“ یعنی جب عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پیچھے سوار کیا اور تنعیم کی طرف چلے تو راستے میں شدید اونگھ کی وجہ سے ان کا سر ادھر ادھر گرتا اور کجاوے سے ٹکرا جاتا۔ ”حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا عمرہ کا احرام باندھا“ یعنی جب وہ مقام تنعیم پہنچ گئے، تو انھوں نے وہاں سے مستقل عمرہ کے لیے احرام باندھا، اس عمرہ کے بدلے میں جو لوگ پہلے ہی کر چکے تھے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے عمرے کی ادائیگی کے بعد فرمایا: ”یہ تمھارے اس عمرے کے بدلے میں ہے“ یعنی یہ عمرہ اس عمرے کی جگہ ہے، جو تم حج سے الگ مستقل طور پر کرنا چاہتی تھی اور حیض کی وجہ سے کر نہیں پائی تھی۔