





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں زمانۂ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی دین پر نہیں ہیں اور بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ پھر میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں کچھ خبریں بیان کرتا ہے۔ چنانچہ میں اپنی سواری پر بیٹھا اور اس شخص کے پاس (مکہ) آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ چھپ کر اپنا دعوتی کام کر رہے ہیں اور آپ کی قوم آپﷺ پر دلیر ہے۔ بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ میں نے عرض کیا کہ اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ (راوی کا کہنا ہے کہ) اس وقت آپﷺ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آگیا اور رسول اللہ ﷺ (بالآخر مکہ چھوڑ کر) مدینہ تشریف لے آئے۔ ایسے میں میرے اہل خانہ میں سے کچھ لوگ مدینہ آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جو شخص مدینہ آیا ہے اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ لوگ تو بہت تیزی سے اس کی طرف راغب ہو رہے ہیں جب کہ خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ لہذا میں مدینہ آ گیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں، تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں۔ آپﷺنے فرمایا: تم صبح کی نماز پڑھو اور اس کے بعد نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج ایک نیزے کی مقدار کے برابر بلند ہو جائے۔ کیونکہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہو جائے۔ پھر (اس وقت) نماز پڑھنے سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ پھر جب سایہ بڑھنے لگے تو نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے دوسینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: تم میں سے جو بھی آدمی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے تو اس کے چہرے کے سارے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ نکل کر گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ اس کے بالوں کے کناروں سے پانی کے ساتھ گر جاتے ہیں۔ پھر وہ اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ اس کی انگلیوں سے نکل کر گر جاتے ہیں۔ چنانچہ (اس کے بعد) اگروہ کھڑا ہوا اور نماز پڑھی، پس اللہ کی اس کے شایانِ شان حمد و ثنا اور بزرگی بیان کی اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کرلیا تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو کر نکلتا ہے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا تو ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ اس پر عمرو بن عبسہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسولﷺ پر جھوٹ بولوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ، حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا، لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بيان فرما رہے ہیں کہ ان کا زمانۂ جاہلیت میں کیا حال تھا اور کیسے اللہ تعالی نے اسلام کی طرف ان کی رہنمائی فرمائی۔زمانۂ جاہلیت ہی میں ان کے دل میں ایک روشنی موجود تھی جس کی وجہ سے ان پر واضح ہو گیا تھا کہ یہ لوگ باطل پر اور شرک و گمراہی پر ہیں۔ چنانچہ وہ اس عقیدہ کے حامل نہیں تھے جو ان لوگوں کا عقیدہ تھا۔ پھر انہوں نے سنا کہ مکہ میں اس زمانے ميں ایک شخص کا ظہور ہوا ہے جو خبریں دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور نبی ﷺ کے پاس آئے، تو دیکھا کہ نبی ﷺ کفارِ قریش کی اذیت کےخوف سے چھپ کر اپنی دعوت دے رہے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: بہرحال میں نے نرمی سے کام لیتے ہوئے آپﷺ سے ملنے کی تدبیر کی یہاں تک کہ میں مکے میں آپﷺ کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے آپ ﷺ سے پوچھا: آپ کون ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: میں نبی ہوں۔ میں نے کہا: نبی کون ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (جسے اللہ اپنے احکام دے کر بھیجے اور) مجھے اللہ نے بھیجا ہے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کو اللہ نے کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینے، بتوں کو توڑنے اور اس بات کا پیغام دے کر بھیجا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ آپﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے اللہ عز وجل کی طرف دعوت دی اور اس عظیم دین کی خوبیوں کو بیان کیا۔ ان میں سب سے اہم اللہ عز و جل کی توحید اور مکارمِ اخلاق ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے سامنے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں کو اپنی عقل کی بنا پر بھی معلوم ہو جاتی ہیں کہ ان بتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔ اسی لیے یہ صحابی اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی یہ جانتے تھے کہ مشرکین کا طریقۂ عبادت باطل ہے اور وہ حق کے متلاشی تھے، اللہ تبارک وتعالی ان سے راضی ہو۔ چنانچہ جب وہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے انہیں بتایا کہ اللہ تعالی نے ان باتوں کے ساتھ آپﷺ کو مبعوث فرمايا ہے۔ اور فرمایا: اللہ نے مجھے صلہ رحمی کا حکم دینےکے لیے بھیجا ہے۔ صلہ رحمی مکارم اخلاق میں سے ہے۔ اہل مکہ یہ باتیں پھیلا رہے تھے کہ نبیﷺ قطع رحمی کا مقصد لے کر آئے ہیں۔ آپﷺ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ قطع رحمی کے ليے نہیں بلکہ صلہ رحمی کا حکم لے کر آئے ہیں۔ اور بتوں کو توڑنے کے لیے۔ یعنی اس چيز کو توڑنے کے لیے جس کی اللہ کو چھوڑ کر پوجا کی جاتی ہے۔ اوریہ کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، اس کے ساتھ کسی چيز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے پوچھا: اس کام پر آپ کے ساتھ اور کون ہے؟ یعنی آپ کے ساتھ اور کون ہے جو اس دین میں داخل ہوچکا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ایک آزاد شخص اور ایک غلام۔ آزاد شخص ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے جب کہ غلام بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ میں (بھی) آپ کا پیروکار ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم آج اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ آپﷺ کی اتباع کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ مکہ میں رہنے کے لیے اپنی قوم کو چھوڑ دیتے تو آپﷺ انہیں کفار سے نہ بچا سکتے چنانچہ آپ ﷺ نے ان سے کہا: مسلمان ہو کر اپنی قو م میں ہی رہو یہاں تک کہ یہ دین غالب آجائے۔ اس وقت تم آکر ہمارے ساتھ شامل ہو جانا۔ آپﷺ نے ایسا ہمدردی اور از راہِ شفقت و رحمت فرمایا کیونکہ یہ شخص کمزور تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھ رہے؟ یعنی یہ لوگ بہت زیادہ ہیں اور ہمیں اذیت دے رہے ہیں اور میرا ان پر کوئی بس نھیں چلتا، تو میں تمہارا دفاع کیسے کر سکوں گا؟! آپﷺ نے فرمایا: لھٰذا تم (ابھی) اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ، جب تم میری بابت سنو کہ میں غالب آ گیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا۔ معنی یہ ہے کہ اپنے اسلام پر قائم رہو یہاں تک کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ میں غالب آ گیا ہوں تو اس وقت میرے پاس آنا۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے اہل خانہ کے پاس آگیا اور رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے اور میں اپنے اہل خانہ میں تھا۔ چنانچہ میں نے خبروں کی جستجو شروع کردی۔ کیونکہ اسلام ان کے دل میں گھر کر چکا تھا۔ وہ کہتے ہیں: اور جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو میں (آپ کی بابت) لوگوں سے پوچھتا رہتا۔ یہاں تک کہ ہمارے خاندان کے کچھ لوگ مدینہ سے آئے تو میں نے ان سے پوچھا: مدینہ آنے والے اس آدمی کا کیا ہوا؟ گویا کہ وہ اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھ رہے تھے اور اپنی قوم کے ڈر کی وجہ سے اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: لوگ تو اس آدمی کی طرف بہت تیزی سے راغب ہو رہے ہیں ليكن خود اس کی اپنی قوم اسے قتل کر دینا چاہتی تھی لیکن وہ ایسا نہیں كر سکے۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ چلا آیا اور آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ تم وہی ہو جو مجھے مکہ میں ملے تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپﷺ سے عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے آپ کو سکھلائی ہیں اور میں ان سے ناواقف ہوں۔ وہ نبیﷺ سے پوچھ رہے ہیں کہ اسلام کے وہ کون سے احکام ہیں جو آپ پر نازل ہوئے ہیں۔ مجھے وہ کچھ سکھائیں جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور جس سے میں ناواقف ہوں۔ مجھے نماز کے بارے میں بتائیں؟ آپﷺ نے فرمایا: صبح کی نماز پڑھو۔ یعنی اس کے وقت میں اسے ادا کرو۔ پھر نماز سے رکے رہو۔ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ یعنی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے۔ اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک کہ سورج طلوع نہ ہوجائے۔ تاہم آیا جب سورج طلوع ہو رہا ہو تو اس وقت آدمی نفل نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اس وقت تک نماز سے رکے رہو جب تک کہ سورج ایک نیزے کے بقدر بلند نہ ہو جائے۔ یعنی دیکھنے والے کی نگاہ ميں۔ سورج شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے۔ سورج کے طلوع ہونے کے اس وقت میں کفار سورج کو سجدہ کرتے ہیں۔ لھٰذا مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بالارادہ اس وقت تک نماز کو موخر کرے اور نہ ہی سورج کے طلوع ہونے کے وقت اس کے لیے نفل نماز پڑھنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ جنتری میں آپ کو وقت الشروق لکھا ہوا ملے گا۔ یہاں مراد یہی وقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: سورج جس وقت طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین طلوع ہوتا ہے اور کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ہمیں کفار کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر تم نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں۔ یعنی دن کے فرشتے اس نماز میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ اسے لکھ سکیں اور جس نے نماز پڑھی ہو اس کے حق میں گواہی دے سکیں۔ چنانچہ اس کا معنی وہی ہے جو ایک دوسری روایت کا ہے جس میں مشهودة مكتوبة کے الفاظ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہاں تک کہ سایہ (کم ہو کر) نيزے کے برابر ہو آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاو۔ یعنی بوقت زوال جب سورج آسمان کے بالکل درمیان میں انسان کے سر کے عین اوپر آجاتا ہے اور سارا سایہ اس کے پاؤں تلے ہوجاتا ہے تو اس وقت کے بارے میں آپ ﷺ ان سے فرما رہے ہیں کہ اس میں نماز نہ پڑھو۔ یہ تقریبا اتنا وقت ہوتا ہے جس میں دو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں۔ اس وقت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا: اس وقت جہنم بھڑکائی جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے۔ اس وقت میں آدمی کو انتظار کرنا چاہیے یہاں تک کہ نماز ظہر کے لیے اذان دے دی جائے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے۔ سایہ گھٹتا اور کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ آپ کے قدموں تلے آجاتا ہے اور پھر اس کے بعد آپ کے دوسری جانب منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ظہر کی اذان کے وقت یہ سایہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب سایہ بڑھنے لگے تو اس وقت نماز پڑھو۔ اس لیے کہ فرشتے نماز میں گواہ ہوتے ہیں اور اس میں حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو۔ یعنی عصر کے وقت تک فرض نماز بھی پڑھو اور نفل بھی۔ نماز پڑھنے کے لیے یہ وقت کھلا ہے اور اس میں آپ جتنی چاہیں نفل نماز پڑھیں۔ اس میں کوئی کراہت نہیں تاہم جب آپ عصر پڑھ لیں تو اس کے بعد سورج کے غروب ہو جانے تک نفل نماز نہ پڑھیں۔ پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل ایک دفعہ پھر سے وہ وقت آجاتا ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے جیسا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت تھا۔ یہاں حرمت کی علت یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے۔ چنانچہ مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ نماز عصر کو جان بوجھ کر مغرب سے کچھ دیر پہلے تک موخر کرے، کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی سورج پرست کفار کے ساتھ مشابہت ہو گی اور مسلمان ایسا کرنے یعنی نماز عصر کو اس وقت تک موخر کرنے کی صورت میں گویا کفار کی تقلید کرے گا۔ نبی ﷺ نے اسے منافقین کی نماز کا نام دیا ہے۔ کیونکہ منافق ہی ایسا کرتا ہے کہ سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ زرد ہوجاتا ہے تو جلدی جلدی ٹھونگ مار کر چار رکعت پڑھ لیتا ہے اور اس میں بہت کم اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ چنانچہ کفار اور منافقین کی مشابہت سے بچیں اور نماز کو جان بوجھ کر سورج کے زرد پڑ جانے تک موخر کرنے سے پرہیز کریں۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ شیطان کے دو سینگوں کے مابین غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار اس کو سجدہ کرتے ہیں۔ عمر و بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! وضو کے بارے میں بھی مجھے بتائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کے پانی کو اپنے قریب کرکے کلی کرتا ہے اورناک میں پانی ڈال کر اسے جھاڑتا ہے،تو اس کے چہرے، منہ اور ناک کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ یعنی جب انسان وضو کرتا ہے تو پانی کا آخری قطرہ گرنے کے ساتھ اس کے گناہ بھی جھڑ جاتے ہیں۔ پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو سنائی تو ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا بیان کر رہے ہو۔ ایک ہی جگہ پر اس آدمی کو اتنا ثواب مل جائے گا؟ یعنی انہیں یہ بہت زیادہ لگا کہ آدمی کو ایک ہی جگہ پر اتنا کچھ دے دیا جائے کہ جب وہ وضو کرے تو اس کے ساتھ اس کے سارے گناہ جھڑ جائیں اور پھر نماز پڑھ کر جب وہ فارغ ہو تو وہ اس طرح گناہوں سے پاک صاف ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا کہ اس پر کوئی گناہ نہیں تھا۔ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے ہیں کہ اچھی طرح سے یاد کرو کہ کہیں نبیﷺ کی فرمائی ہوئی کوئی بات تم بھول نہ گئے ہو۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ جواب دیا کہ: اے ابو امامہ! میری عمر بڑی ہو گئی، میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور میری موت قریب آگئی ہے، اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ پر اور اللہ کے رسول ﷺ پر جھوٹ بولوں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ نبیﷺ کے صحابہ آپﷺ پر یا اپنے رب سبحانہ وتعالی پر کوئی جھوٹی بات کہیں۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اور نہ ہی مجھے اس بات کی کوئی ضرورت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھوں۔ اگر میں نے یہ حديث رسول اللہ ﷺ سے ایک مرتبہ، دو مرتبہ، تین مرتبہ،حتی کہ سات مرتبہ تک نہ سنی ہوتی تو میں کبھی یہ حدیث بیان نہ کرتا۔ یعنی آپﷺ نے یہ بات ایک دفعہ نہیں بلکہ سات دفعہ فرمائی۔ عربوں کے ہاں سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے اور شاید نبیﷺ نے اس سے بھی زیادہ دفعہ یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: لیکن میں نے تو اسے اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا لڑکا بیمار تھا۔ وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھےکہ بچے کا انتقال ہوگیا۔ ابوطلحہ واپس آئے تو بیوی سے پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ بچے کی ماں ام سلیم نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرسکون حال میں ہے۔ پھر بیوی نے ان کے سامنے شام کا کھانا رکھا۔ ابوطلحہ کھانے سے فارغ ہوگئے۔ اس کے بعد بیوی سے ہم بستری کی۔ جب وہ فارغ ہوگئے، توام سلیم نے کہا کہ بچے کو دفن کردو! صبح ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوۓ اور آپ کو سارے واقعہ سنایا۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تم نے رات کو ہم بستری کی ہے؟ انھوں نے عرض کیا: جی ہاں! نبی ﷺ نے یہ دعا دی: ”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما“۔ پھر ان کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اس بچے کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے جاؤ اور ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھیجیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ ساتھ میں کوئی چیز بھی ہے؟ انھوں نے جواب میں کہا کہ جی ہاں کچھ کھجور ہیں! نبی کریم ﷺ نے ان کھجوروں کو لیا۔ اپنے منہ میں چبایا۔ پھر اس کو اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا۔ بچے کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ ایک اور روایت میں ابن عیینۃ فرماتے ہیں: ایک انصاری شخص کا کہنا ہے کہ میں نے نو لڑکے دیکھے؛ سب کے سب قرآن مجید کے قاری تھے۔ یعنی اس نومولود عبداللہ کی اولاد میں سے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک لڑکے کا انتقال ہوگیا، جو ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھا۔ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے اہل خانہ کو تاکید کردی کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بیٹے کے مرنے کی خبر نہ دینا، یہاں تک کہ میں خود انھیں بتادوں، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آئے۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے انھیں شام کا کھانا پیش کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کھانے پینے سے فارغ ہوئے۔ پھر ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ان کے لیے اس سے بہتر بناؤ سنگھار کیا جو اس سے قبل کیا کرتی تھیں۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ہم بستری کی۔ جب ام سلیم نے دیکھا کہ وہ کھانے سے بھی سیر ہوگئے اور ان کے ساتھ بھی وقت گزار لیا، تو انھوں نے کہا:ابوطلحہ! ذرا یہ تو بتاؤ کہ اگر کچھ لوگ ایک گھرانے کو ادھار دی جانے والی کوئی چیز ادھار دیں، پھر وہ اپنی چیز واپس مانگ لیں، تو کیا ان کو حق ہے کہ ان کو منع کریں؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا:نہیں۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے کہا:تو پھر اپنے بیٹے (کی وفات) پر صبر کیجیے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر غصہ میں آگئے اور کہا:تم نے مجھے بے خبر رکھا، یہاں تک کہ میں آلودہ ہوگیا، پھرتم نے مجھے میرے بیٹے کے بارے میں بتایا!! پھر وہ چل پڑے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو ساری باتیں بتادیں۔ رسول اللہ ﷺ نے دعا دیتے ہوئے فرمایا: ”تمھاری گزرنے والی رات میں اللہ تعالیٰ تمھیں برکت عطا فرمائے!“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ام سلیم رضی اللہ عنہا حاملہ ہوگئیں۔ وہ آگے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے اور ام سلیم آپ ﷺ کے ہم راہ تھیں، رسول اللہ ﷺ جب سفر سے مدینہ لوٹتے تو رات کو آکر مدینہ میں دستک نہیں دیتے تھے۔ سب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دردزِہ نے آلیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس رکنا پڑا اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے۔ ( انس رضی اللہ عنہ) کہہتے ہيں:(اس وقت) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے:میرے پروردگار!مجھے یہی اچھا لگتا ہے کہ میں بھی تیرے رسول کے ساتھ باہر نکلوں، جب آپ (مدینہ سے) باہر نکلیں، اور جب آپ (مدینہ کے) اندر آئیں تو میں بھی آپ کے ساتھ اندر آؤں،(لیکن) میں اس بات کی وجہ سے روک دیا گیا ہوں جو تو دیکھ رہا ہے، (انس رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں:تو ام سلیم رضی اللہ عنھا کہنے لگیں:ابوطلحہ! جو (درد) مجھے محسوس ہورہا تھا، اب محسوس نہیں ہورہا ہے، لہذا چلیے! چنانچہ ہم چل پڑے۔ (انس رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں: جب دونوں (مدینہ) آگئے تو ام سلیم کو (دوبارہ) درد شروع ہوگیا اور ایک بیٹے کو جنم دیا۔ میری ماں (ام سلیم) نے مجھ سے کہا:اسے کوئی بھی دودھ نہیں پلائے گا، یہاں تک کہ صبح تم اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لےجاؤگے۔ جب صبح ہوئی، تو میں نے اسے اٹھالیا، اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا۔ پھر انھوں نے مکمل حدیث بیان فرمائی۔
متفق علیہانس بن مالک رضی اللہ عنہ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا بیمار تھا۔ دراصل ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ (ام سلیم رضی اللہ عنہا) کےشوہر تھے۔ انھوں نے انس رضی اللہ عنہ کے والد کے بعد انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا تھا۔ ابوطلحہ اپنے کسی کام کے سلسلے میں باہر نکلےاور اس دوران بچے کی وفات ہوگئی۔ جب وہ واپس لوٹے تو بچے کی ماں سے اس کے متعلق دریافت کیا کہ میرے بیٹے کی صحت کیسی ہے؟ بیوی نے جواب دیا کہ وہ پہلے سے زیادہ پرسکون حالت میں ہے۔ در حقیقت انھوں نے سچ ہی کہا تھا کہ وہ اپنی سابقہ حالت سے زیادہ پرسکون ہے؛ کیوں کہ بچے کی وفات ہوچکی تھی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ بچہ، بیماری سے صحت یاب ہو کر پرسکون حالت میں ہوگا اور اس کی بیماری دور ہوچکی ہوگی۔ بیوی نے ابوطلحہ کے سامنے شام کا کھانا پیش کردیا اور انھوں نے اس اطمینان کے ساتھ شام کا کھانا کھا لیا کہ بیٹا صحت یاب ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اپنی بیوی سے ہم بستری یعنی جماع بھی کیا۔ جب فارغ ہو گئے تو بیوی نے کہا کہ بچے کو دفنا دیجیے؛ کیوں کہ اس کی وفات ہوچکی ہے! -یہ پہلی روایت کے مطابق ہے- جب صبح ہوئی، تو بچے کو دفن کیا اور نبی کریم ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ تم نے رات میں ہم بستری کی ہے؟ ابوطلحہ نے جواب دیا کہ جی ہاں! آپ ﷺ نے دونوں کے حق میں برکت کی دعا فرمادی، چنانچہ ان کے یہاں ایک بابرکت لڑکے کی ولادت ہوئی۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے ابوطلحہ نے کہا کہ اس بچے کو نبی کریم ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ ساتھ ہی انھوں نے کچھ کھجوریں بھی بھیجیں؛ تاکہ ان سے آپ ﷺ تحنیک فرمادیں۔ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی ﷺ کے لعاب دہن کے ساتھ چبائی ہوئی شے داخل ہو اور اس بچے کی زندگی میں برکتیں نازل ہوں۔ جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس بچے کو حاضر کیا گیا، تو آپ نے دریافت کیا کہ اپنے ساتھ کچھ لائے ہو؟ یعنی جس کے ذریعہ آپ تحنیک فرمائیں۔ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ کچھ کھجوریں ان کے پاس ہیں۔ آپ ﷺ نے کھجور لے کر اپنے منہ میں چبایا؛ تاکہ اپنے بابرکت لعاب دہن کے ساتھ اسے ملادیں اور بچے کے لیے اس کا نگلنا آسان ہوجاۓ۔ اس طرح بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی مصطفیٰ ﷺ کے لعاب دہن کے ساتھ چبائی ہوئی کھجور داخل ہو، جو اس بچے کی نیک بختی کا باعث ہو اور اس کی زندگی میں برکتیں نازل ہوتی رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ نے اپنے منہ سے چبائی ہوئی کھجور نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دی۔ انھیں بچے کے منہ میں پھیرا اور اس کانام عبداللہ رکھا۔ اس بچے کے ہاں نو لڑکے ہوئے اورنبی کریم ﷺ کی دعا کی برکت سے وہ سب کے سب قرآن مجید کے قاری نکلے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، ام سلیم رضی اللہ عنھا نے اپنے گھر والوں کو تاکید کردی تھی کہ"ابوطلحہ کو ان کے فرزند کے بارے میں اطلاع نہ دینا، تاآں کہ میں ہی انھیں اس کے بارے میں بتلاؤں۔"جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر تشریف لائے، انھیں رات کا کھانا پیش کیا۔ وہ کھانے پینے سے فارغ ہوگئے۔ پھر ام سلیم نے ان کے لیے بناؤ سنگھار کیا۔ خود کو خوش بو سے معطر کرلیا اور سج سنور گئیں۔ پھر ابوطلحہ نے ان سے ہم بستری کی اور جب جماع سے فارغ ہوئے تو بیوی نے اپنے بیٹے کی نسبت ادھار کے طور پر لی گئی شے سے مثال بیان کی، جسے اس کے مالک کے حوالہ کردیا جاتا ہے اور ان سے پوچھا کہ اے ابوطلحہ! ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر کچھ لوگ اپنے گھر کی کوئی چیز کسی گھرانے کو ادھار کے طور پردیں اور پھر ان سے اپنی چیز واپس مانگ لیں، تو کیا لینے والے کے لیے درست ہے کہ وہ ادھار دینے والوں کو ان کی چیز واپس کرنے سے انکار کردیں؟ ابوطلحہ نے جواب میں کہا کہ نہیں! تب بیوی نے کہا کہ تو پھر اپنے فرزند کے تئیں اللہ تعالیٰ سے امید رکھو۔ ابوطلحہ یہ سن کر غصے میں آگئے اور کہا:تم نے مجھے اس بات سے اس حد تک بے خبر رکھا کہ میں (کھانے،پینے اور جماع جیسے امور میں پوری طرح) آلودہ ہوگیا اور ان سب کے بعد تم میرے بیٹے کے انتقال کی خبردے رہی ہو؟! پھر نبی کریم ﷺ سے اپنی بیوی کی شکایت کرنے اور ان کے ساتھ پیش آئے سارے ماجرے کو بیان کرنے کے لیے نکل پڑے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے ان دونوں کے حق میں ایسی دعا دی کہ ان دونوں کے اس عمل کا بہترین نتیجہ برآمد ہوا۔ فرمایا: "تمھاری گزرنے والی رات میں اللہ تعالیٰ تمھیں برکت عطا فرمائے!"یعنی اس رات تم دونوں کی ہم بستری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ تمھیں پاکیزہ اولاد اور بہترین نسل سے نواز دے۔ بعدازاں وہ حاملہ ہوئیں۔ وہ اور ان کے شوہر رسول اللہ ﷺ کے کسی سفر میں ہم راہ تھے۔ جب مدینے میں داخل ہونے والے تھے کہ انھیں دردزہ نے آلیا، یعنی ولادت کی تکلیف محسوس ہونی شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ سفر سے لوٹتے تو اہل مدینہ کو قافلے کی آمد کی خبر دینے کے لیے کسی قاصد کوروانہ فرماتے اور اس سے قبل مدینے میں داخل نہ ہوتے۔ اپنی بیوی کی زچگی کے امور میں مشغول ہونے کی وجہ سے ابوطلحہ کو وہیں رک جانا پڑا اور رسول اللہ ﷺ چل پڑے۔ ابوطلحہ اپنے رب سے یوں گویا ہوئے کہ اے میرے پروردگار! تو بخوبی جانتا ہے کہ مجھے بس یہی اچھا لگتا ہے کہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ باہر نکلیں، تو میں بھی تیرے رسول کے ساتھ نکلوں اور جب آپ مدینہ واپس آئیں تو میں بھی آپ کے ہم راہ اندر آؤں، لیکن تو دیکھ رہا ہے کہ مجھے کس وجہ سےروک دیا گیا ہے۔ چنانچہ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا کہ اے ابوطلحہ! مجھے اب وہ درد محسوس نہیں ہورہا ہے، جو پہلے ہورہا تھا۔ یعنی مجھے اب دردزہ کی وہ تکلیف محسوس نہیں ہورہی ہے، جو اس سے پہلے ہورہی تھی۔ پھر ان سے کہا کہ اب چلیے۔ جب یہ لوگ مدینہ پہنچ گئے، تو زچگی کا وقت آگیا۔ انھوں نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ ام سلیم رضی اللہ عنھا نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بچے کو نبی ﷺ کے پاس لے جاؤ۔ اس بات کی بھی تاکید کی کہ اس کو کوئی دودھ نہ پلائے۔ تاکہ بچے کے پیٹ میں سب سے پہلے نبی ﷺ کا لعاب دہن داخل ہو اور اس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اس کی زندگی میں آجائیں۔ اس عمل کا نتیجہ اس لڑکے میں ظاہر ہو گیا کہ اس کی نسل میں نیکوکار، پرہیزگار اور فلاح و کامرانی سے ہم کنار ہونے والے لڑکوں کی بہتات ہوئی۔ اس حدیث کی شرح کے اختتام پر یہ جاننا ازحد ضروری ہے کہ جسم سے نکلنے والی چیز سے تبرک حاصل کرنا صرف اور صرف نبی ﷺ کی خصوصیات سے تعلق رکھتا ہے، جس میں اس امت کا کوئی فرد کبھی شریک و حصہ دار نہیں ہوسکتا۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ نزول وحی کا راست مشاہدہ کرنے والے اور دینی حقائق سے بھرپور واقفیت و آگہی رکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنھم اجمعین نے خلفاے راشدین اور ان کے علاوہ عشرۂ مبشرہ میں سے کسی کے ذریعہ کبھی تبرک حاصل نہیں کیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کو مکہ پر فتح دی تو قبیلہ خزاعہ نے بنی لیث کے ایک آدمی (ابن اثوع) کو جاہلیت کے خون کے بدلے میں قتل کردیا۔اس پر رسول ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ نے مکہ کو ہاتھی والوں سے روک دیا اور وہاں کے باشندوں پر اپنے رسول اور مومنوں کو مسلط کردیا۔ یہ نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا، نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا۔ یہ دن کے تھوڑے سے وقت کے لیے میرے لیے حلال ہوا اور اس وقت وہ پہلے کی طرح حرام ہے۔چنانچہ نہ تو اس کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا گھاس کاٹا جائے اور نہ ہی اس کا کوئی کانٹا ہی اکھاڑا جائے اور نہ کوئی یہاں کی گری پڑی ہوئی چیز اٹھائے ماسوا اس شخص کے جو اعلان کرنے کے اٹھائے۔اور جس کا کوئی آدمی قتل ہوجائے تو اس کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے کہ یا تو قاتل کو بطور قصاص قتل کیا جائے یا پھر وہ خون بہا ادا کردے۔ اہلِ یمن میں سے ایک شخص جس کا نام ابوشاہ تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! یہ ہمارے لیے لکھوادیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ پھر عباس رضی اللہ عنہ کھڑے ہو ئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اِذخر گھاس کو مستثنی کر دیجیے کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سوائے اِذخر کے۔
متفق علیہابوہریرہ رضی اللہ خبر دے رہے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو خزاعہ قبلیہ کے ایک آدمی نے قبیلہ ہذیل کے ایک آدمی کو جاہلیت میں قتل ہونے والے ایک شخص کے بدلے میں قتل کردیا ۔ اس پر نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور وہ باتیں ارشاد فرمائیں جن کا حدیث میں ذکر ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے مکہ کی حرمت بیان کی اور وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالی نے مکہ کو ہاتھی والوں کی دسترس سے دور رکھا اور اسے اپنے نبی کے لیے دن کی صرف ایک مختصر سی گھڑی کے لیے مباح کیا۔ یہاں گھڑی سے مراد کوئی معین گھڑی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد فتح مکہ کے دن کا کوئی تھوڑا سا وقت ہے کیونکہ اس دن صبح سے لے کر عصر کے وقت تک نبی ﷺ کے لیے مکہ کو مباح کر دیا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت کے بعد اس کی حرمت پھر سے ویسے ہی لوٹ آئی ہے جیسے وہ پہلے تھی بایں طور کہ اب نہ تو اس کا کوئی کانٹا ہی اکھاڑا جائے گا اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی یعنی نہ تو اس کا کوئی درخت اور نہ ہی حدود حرم میں اگی ہوئی گھاس کاٹی جائے گی ماسوا اذخر کے اور نہ ہی گری پڑی شے کو اٹھایا جائے گا سوائے اس شخص کے لیے جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
ابو ہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ دوسرے فریق نے جو اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، کہا کہ جی ہاں! کتاب اللہ کے مطابق ہی ہمارا فیصلہ فرمائیے، اور مجھے (اپنا مقدمہ پیش کرنے کی) اجازت دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پیش کر۔ اس نے بیان کرنا شروع کیا کہ میرا بیٹا ان صاحب کے یہاں مزدور تھا۔ پھر وہ ان کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ (زنا کی سزا میں) میرے لڑکے کو سنگسارکر دیا جائے گا، تو میں نے اس کے بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی دے دی۔ پھر اہل علم سے اس کے بارے میں دریافت کیا، تو پتہ چلا کہ میرے لڑکے کو (غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ سے زنا کی سزا میں) سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا جائے گا۔ البتہ اس کی بیوی رجم کر دی جائے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمھارا فیصلہ کتاب اللہ ہی کے مطابق کروں گا۔ باندی اور بکریاں تمھیں واپس ملیں گی اور تمھارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ اچھا، سنو انیس! (قبیلۂ بنو اسلم کے ایک شخص) تم اس عورت کے یہاں جاؤ۔ اگر وہ بھی (زنا کا) اقرار کر لے، تو اسے رجم کر دو“۔ چنانچہ انیس رضی اللہ عنہ اس عورت کے یہاں گئے اور اس نے اقرار بھی کر لیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے حکم سے اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا۔
متفق علیہیہ حدیث بتا رہی ہے کہ ایک شخص نے کسی کے ہاں مزدوری کی اور صاحب خانہ کی بیوی کے ساتھ زنا کا ارتکاب کر بیٹھا۔ زانی کے والد نے یہ بات سن رکھی تھی کہ ہر زانی کی سزا رجم (سنگسار کرنا) ہے؛ لہٰذا اس نے خاتون کے شوہر کو سو بکریاں اور ایک باندی فدیہ میں دے دی۔ پھر بعض اہل علم سے دریافت کرنے پر انھیں پتہ چلا کہ ان کے بیٹے پر نہیں، بلکہ اس خاتون پر رجم کی سزا نافذ ہوگی اور ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے اس کو جلا وطنی کی زندگی گذارنی ہوگی۔ لہٰذا زانیہ خاتون کا شوہر اور زانی شخص کے والد، دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ آپ ﷺ ان کے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ آپ ﷺ نے زانی کے والد کی سو بکریاں اور باندی واپس کرنے کا حکم دیا اور انھیں اس بات سے مطلع فرمایا کہ ان کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کردیا جائے گا؛ کیوںکہ وہ تاحال غیر شادی شدہ تھا اور زانیہ خاتون کے تئیں حکم دیا کہ اس سے بھی اس امر کا تیقن حاصل کرلیا جائے کہ اس نے اس بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا اقرار جرم کے بعد اس خاتون کو سنگسار کردیا گیا؛ کیوں کہ وہ شادی شدہ تھیں۔
عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ کسی وقت آپ ﷺ نے ہمیں نمازِ خوف پڑھائی، ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے مقابلے میں تھی، جو آپ کے ساتھ تھے وہ آپ ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر چلے گئے، دوسری جماعت آئی آپ نے ایک رکعت انہیں پڑھائی۔ یوں دونوں جماعتوں نے (باقی ماندہ) ایک ایک رکعت پوری کی۔
متفق علیہمشرکین کے ساتھ مسلمانوں کی کسی جنگ میں آپ ﷺ نے لڑائی کے وقت ہمیں نماز پڑھائی۔ مسلمانوں کو خوف تھا کہ کہیں نماز میں مشغول ہونے سے کفار ان پر دھاوا نہ بول دیں، دشمن قبلے کی جانب نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو دو جماعتوں میں تقسیم کیا، ایک جماعت آپ کے ساتھ نماز کے لیے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے نمازیوں کے پہرے کے لیے کھڑی ہوئی۔ جو جماعت آپ کے ساتھ تھی آپ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ نماز کی حالت میں چلے گئے اور دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ دوسری جماعت آئی جس نے نماز نہیں پڑھی تھی، آپ نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی اور سلام پھیر دیا۔ جس گروہ نے آخر میں آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اس نے باقی رکعات کی قضا کی اور پھر پہرہ کے لیے چلی گئی، اور پہلی جماعت نے بھی اپنی ایک رکعت پوری کی۔ یہ نماز خوف پڑھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے مُراد وہ ہے جو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا: ”سب لوگ نماز میں تھے، تاہم بعض لوگ بعض کا پہرہ دے رہے تھے“۔ (بخاری)
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی زوجیت میں ام کلثوم بنت عقبہ تھیں، انہوں نے حمل کی حالت میں زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا مجھے ایک طلاق دے کر میرا دل خوش کر دو، لہٰذا انہوں نے ایک طلاق دے دی، پھر وہ نماز کے لیے نکلے جب واپس آئے تو وہ بچہ جن چکی تھیں تو زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا اسے کیا ہو گیا؟ اس نے مجھ سے دھوکا دیا، اللہ اس سے دھوکا دے، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ”کتاب کی میعاد گزر گئی (اب رجوع کا اختیار نہیں رہا) لیکن اسے نکاح کا پیغام دے دو“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔زبیر بن عوام نے امّ کلثوم بنت عقبہ کے ساتھ شادی کی تھی، بیوی نے حاملہ ہونے کی حالت میں ان سے کہا ”طيِّب نفسي بتطليقة“ یعنی مجھے ایک طلاق دے کر خوش کردو۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ شوہر کو پسند نہیں کرتی تھیں اور ان کے نکاح سے ایسے نکلنا چاہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ ان سے رجوع نہ کرسکے، لیکن اس نے بچے کی ولادت قریب ہونے کی وجہ سے شوہر سے ایک طلاق کا مطالبہ کیا، وہ جانتی تھی کہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے ایک طلاق دی اور نماز کے لئے نکل گیے، واپس لوٹے تو بیوی بچہ جن چکی تھی۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا ”ما لها؟ خَدَعتني، خَدَعها اللهُ“ خداع (دھوکا دینا) اللہ تعالیٰ کی صفاتِ فعلیہ خبریہ میں سے ہے۔ لیکن علی الاطلاق اس سے اللہ تعالیٰ کو متصف نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ مقابلۃً اللہ کی صفت بنتی ہے، چنانچہ اس طرح کہا جائے جو اللہ کو دھوکا دیتا ہے اللہ اسے دھوکا دیتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا منافقین کو دھوکا دینا اور مؤمنین کو دھوکا دینے والوں کو دھوکا دینا وغیرہ۔ اس کی تاویل یوں کرنا درست نہیں کہ حضرت زبیر کی مُراد یہ تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بدلہ ہے دھوکے کی شکل میں۔ بلکہ دوسری صفات کی طرح اس صفت کو بھی بغیر رد و بدل، تعطیل اور بغیر تکییف و تمثیل کے اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرنا واجب ہے۔ پھر زبیر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور وہ سارا واقعہ بتایا جو ان کے ان کی بیوی کے درمیان گزرا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا ”سَبَقَ الكتابُ أَجَلَه“ یعنی مقررہ عدت امید سے پہلے پوری ہو چکی اور طلاق واقع ہو گئی۔ پھر اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”اخطِبها إلى نفسِها“ یعنی تم بھی دوسرے لوگوں کی طرح ان کی طرف نکاح کا پیغام بھیجو، عدت گزرنے کی وجہ سے تمہیں ان کی ذات پر کوئی حق نہیں رہا۔
ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے سر کو آخری رکعت ( کے رکوع ) سے اٹھاتے تو فرماتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخش، اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما، اے اللہ! ان پر يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسی قحط سالی مسلط فرما“۔ اور نبی ﷺ فرماتے: ”قبیلہ غفار کی اللہ مغفرت فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے“۔ ابن ابی الزناد اپنے والد سے روايت کرتے ہيں کہ يہ سب صبح (فجر) کی نماز ميں کہتے تھے۔
متفق علیہنبی ﷺ جب صبح کی نماز کی آخری رکعت میں اپنے سر كو اوپر اٹھاتے تو فرماتے: ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، یا اللہ! بے بس و ناتواں مسلمانوں کو نجات بخش“ یہ سب صحابہ ہیں جن کے لیے نبی ﷺ نے عذاب سے نجات اور چھٹکارے کی دعا فرمائی۔ یہ لوگ مکہ ميں کفار کی قید میں تھے۔ عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ ابو جہل کے اخیافی بھائی تھے جنہیں ابو جہل نے مکہ میں قید کر رکھا تھا۔ سلمہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ابو جہل کے حقیقی بھائی تھے جو بہت پہلے اسلام لانے والوں ميں سے تھے۔ انہیں اللہ کے راستے میں سخت تکلیف دی گئی اور ہجرت کرنے سے روک دیا گیا۔ ولید بن ولید رضی اللہ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے جو مکہ میں قید تھے اور بعد ميں ان سے چھوٹ کر بھاگ آئے۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”اے اللہ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما۔ اے اللہ! ان پر يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسی قحط سالی مسلط فرما“ یعنی اے اللہ! قریش کے کفار پر جو قبیلہ مضر سے ہیں، اپنا عذاب اور عقاب سخت کر دے اور ان پر اپنے عذاب کی یہ صورت بنا کہ ان پر سات سال یا اس سے بھی زیادہ مدت تک يوسف عليہ السلام کے زمانے جيسا بڑا قحط مسلط کر دے۔ ہو سکتا ہے کہ ”الوطأة“ - جس کا معنی ”پاوں سے روندنا“ ہے- اس حدیث کی رو سے اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ہو، لیکن ہم نے سلف صالحین اور علمائے مسلمین میں سے کسی کو نہیں پايا جس نے اسے اللہ عز و جل کی صفات میں سے شمار کیا ہو۔ لھٰذا اسے سختی اور عذاب پر محمول کیا جائے گا۔ اس کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی کیونکہ یہ اسی کا فعل اور اسی کا مقدر کردہ ہے۔ واللہ اعلم۔ پھر آپ ﷺ فرماتے: ”غِفَارُ غَفَر اللهُ لها“ ہو سکتا ہے کہ یہ اس كے ليے مغفرت کی دعا ہو (یعنی اللہ غفار قبیلے کی مغفرت کرے) اور یہ بھی احتمال ہے کہ (آپ ﷺ کی طرف سے) خبر ہو کہ اللہ تعالی نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ اسی طرح ”وأَسْلَمُ سالمها الله“ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے یہ قبیلہ اسلم کے لئے دعا ہو کہ اللہ تعالی ان کو سلامت رکھے اور ان کے ساتھ جنگ کا حکم نہ دے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اس بات کی خبر ہو کہ اللہ نے انہیں سلامت رکھا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ بطور خاص ان دو قبیلوں کی لئے دعا کی گئی کیونکہ غفار قبیلہ بہت پہلے اسلام لے آیا تھا اور قبیلہ اسلم نے نبی ﷺ سے صلح کر لی تھی۔ ”ابن ابی زناد اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ: یہ سب صبح کی نماز میں ہوتا تھا“ یعنی ابن ابی زناد نے اس حدیث کو اس سند کے ساتھ اپنے والد سے روایت کیا اور وضاحت کی کہ مذکورہ دعا صبح کی نماز میں ہوتی تھی۔
ابو ہريرہ رضي الله عنہ سے روایت ہےکہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا۔ اس نے بنی اسرائیل کے دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفی قرض مانگا، اس شخص نے گواہوں کو طلب کیا تاکہ وہ ان کو گواہ بنالے قرض مانگنے والا کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ گواہ کے طور پر کافی ہے وہ کہنے لگا کہ اچھا کسی کی ضمانت دے دو قرض مانگنے والے نے جواب دیا کہ اللہ ہی ضمانت کے لیے کافی ہے، اس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو یہ کہہ کر ایک معین مدت کے لیے اس نے اسے ایک ہزار اشرفیاں دے دیں، پھر جس نے قرض لیا تھا اس نے سمندر کا سفر کیا اور اپنا کام پورا کر کے یہ چاہا کہ جہاز پر سوار ہو کر اپنے کیے ہوئے وعدہ پر پہنچ جائے اور قرض ادا کرے، لیکن اسے کوئی جہاز نہ ملا، چنانچہ اس نے ایک لکڑی اٹھا لی اور اس میں کریدا اس میں ایک ہزار اشرفیاں اور ایک خط رکھا اور اس کے منہ کو اچھی طرح بند کر دیا اور سمندر پر آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے میں نےفلاں شخص سے ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے ضمانت مانگی تھی میں نے کہا تھا اللہ ضمانت کے لیے کافی ہے وہ اس پر راضی ہو گیا تھا، اس نے مجھ سے گواہ طلب کیے تھے، چنانچہ میں نے کہا اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے، تو وہ تجھ سے راضی ہو گیا تھا، میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز ملے اور میں اس کے قرض کو ادا کر دوں لیکن میں کیا کروں جہاز ہی نہیں ملا، اب میں اس مال کو تیرے سپرد کرتا ہوں، اس نے یہ کہہ کر اس لکڑی کوسمندر میں پھینک دی یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب گئی، پھر وہ لوٹ کر چلا آیا، اس وقت بھی وہ اپنے شہر کے لیے جہاز ڈھونڈھتا رہا۔ اور وہ شخص جس نے قرض دیا تھا وہ سمندر پر اس خیال سے گیا کہ کوئی جہاز آئے اور اس کی اشرفیاں لائے، کیا دیکھتا ہے کہ وہی لکڑی جس میں مال موجود تھا نظر آئی، اس نے اسے جلانے کے لیے اٹھالی، جب اس کو چیرا تو اس میں اشرفیاں اور خط کو پایا، پھر وہ شخص جس نے قرض لیا تھا وہ ایک ہزار اشرفیاں لے کر آیا اور کہنے لگا اللہ کی قسم! میں نے بہت کوشش کی کہ آپ کی اشرفیاں واپس کر سکوں لیکن جس جہاز میں آیا اس سے پہلے کوئی جہاز نہ ملا، تب اس قرض دینے والے نے کہا تو نے میرے پاس کچھ بھیجا تھا؟، اس نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جس جہاز پر میں آیا ہوں اس سے قبل مجھے کوئی جہاز نہ ملا، قرض دینے والے نے کہا اللہ نے وہ اشرفیاں پہنچا دی ہیں جو تو نے ایک لکڑی میں رکھ کر بھیجی تھیں، پھر وہ اشرفیاں لے کر اطمینان کے ساتھ لوٹ گیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا، اس نے بنی اسرائیل کے دوسرے شخص سے ایک ہزار اشرفیاں بطور قرض مانگا قرض دینے والے نے کہا کہ کوئی گواہ لے آؤ تاکہ وہ گواہ رہے کہ تم نے مجھ سے ایک ہزار دینار قرض لیا ہے۔ قرض مانگنے والے نے کہا: ”اللہ تعالی ہی گواہ کے طور پر کافی ہے“ یعنی یہ بات ہمارے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالی ہم پر گواہ ہے، پھر قرض دینے والے نے کہا کہ کسی ضمانت دینے والے کو لے آؤ جو ضمانت دے، اس نے کہا: ”اللہ کی ضمانت کافی ہے“ یعنی یہ کافی ہے کہ ضامن اللہ تعالی رہے، اس نے کہا کہ تو سچ کہتا ہے اور اس کو ہزار اشرفیاں ایک متعین مدت کے لیے دے دیے، پھر جس نے قرض لیا تھا اس نے اس مال کے ساتھ سمندر کا سفر کیا تاکہ تجارت کر سکے، پھر جب قرض کی ادائیگی کا وقت آپہنچا جہاز کو تلاش کرنے لگا تاکہ قرض دینے والے تک پہنچ جائے، لیکن اسے کوئی جہاز نہ ملا، چنانچہ اس نے ایک لکڑی اٹھا لی اور اس کو کریدا ایک ہزار اشرفیاں اور ایک خط اس میں رکھا جس میں لکھا ’’ فلان کی جانب سے فلان کے لیے خط۔ بے شک میں نے اس میں تمہارا مال اس نمائندہ وکیل کو سونپ دیا ہے جس کو تم نے میرے لیے وکیل تسلیم کیا تھا‘‘! پھر اس بنائے گئے سوراخ کو درست کیا ہے اور اس لکڑی کو لے کر سمندر کے قریب آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ تو جانتا ہے میں نےفلاں شخص سے ایک ہزار اشرفیاں قرض لی تھیں اور اس نے مجھ سے گواہ مانگا تھا میں نے کہا تھا اللہ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے اور وہ اس پر راضی ہو گیا تھا، اس نے مجھ سے ضمانت بھی مانگی تھی، چنانچہ میں نے کہا کہ اللہ ہی ضمانت کے لیے کافی ہے چنانچہ وہ اس پر راضی ہو گیا، میں نے بہت کوشش کی کہ کوئی جہاز ملے اور میں میرے ذمہ جو ہے وہ ادا کردوں، لیکن مجھے جہاز نہ مل سکا، پس میں یہ امانت تیرے سپرد کرتا ہوں، اس نے یہ کہہ کر اس لکڑی کو سمندر میں پھینک دی یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب گئی، پھر وہ لوٹ کر چلا آیا، لیکن وہ ہمیشہ ایک ہزار دینار کے ساتھ جہاز کو تلاش کرتا رہا ، اس گمان کے ساتھ کہ اس نے پہلے جو کیا وہ اس کے لیے کافی نہیں ہے۔یہاں قرض دینے والا اپنے وعدہ کیے ہوئے وقت پر نکلا تاکہ دیکھا شاید کوئی جہاز اس کا وہ مال لے کر آئے جسے اس نے فلاں شخص کو قرض دیا تھا کہ شاید ہو سکتا ہے کہ اس شخص نے کسی سے وہ مال دے کر بھیجا ہو یا وہ خود لے کر آیا ہو لیکن اسے کوئی جہاز نظر نہیں آیا، چنانچہ اتنے میں اسے ایک لکڑی دکھائی دی جس میں مال رکھا ہو تھا، اس نے اسے اپنے لیے لے لیا تاکہ اسے ایندھن کے طور پر استعمال کرے جب کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس میں مال چھپا ہے، جب اس نے آرے سے اس کو چیرا تو اسے اشرفیاں اور قرضدار کا لکھا ہوا خط دستیاب ہوا۔ پھر وہ شخص جس نے قرض لیا تھا وہ مزید ایک ہزار اشرفیاں لے کر آیا اور قرض دینے والے سے کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! جہاز کو تلاش کرنے کی میں نے بہت کوشش کی تاکہ آپ کی رقم واپس لا سکوں لیکن جس جہاز میں آیا اس سے پہلے کوئی جہاز نہ ملا، تب اس قرض دینے والے نے کہا تو نے میرے پاس کچھ بھیجا تھا؟، اس نے کہا کہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جس جہاز پر میں آیا ہوں اس سے قبل مجھے کوئی جہاز نہ ملا، قرض دینے والے نے کہا اللہ نے تمہاری جانب سے وہ ایک ہزار دینار ادا کر دیے ہیں جس کو تم نے لکڑی میں رکھ کر بھیجا تھا، چنانچہ وہ شخص سرخ روئی کے ساتھ دوسرے ایک ہزار دینار جسے وہ ساتھ لایا تھا لوٹ آیا۔
عالیہ بنت سبیع بیان کرتی ہیں کہ احد کی جانب میری بکریاں ہوتی تھیں۔ ہوا یہ کہ وہ مرنا شروع ہو گئیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کے چمڑے اتار لیتی تو ان سے فائدہ اٹھاسکتی تھی۔ کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا یہ حلال ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ قریش کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے، وہ گدھے کی طرح ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ” تم اس کا چمڑا ہی اتار لیتے“، انھوں نے کہا: یہ مردار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور قرظ (کیکر کی مانند ایک درخت ہوتا ہو جو چمڑا صاف کرنے میں استعمال ہوتا ہے) پاک کر دیتا ہے۔“
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔عالیہ بنت سبیع رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ ان کے پاس بکریاں تھیں اور وہ کسی مرض وغیرہ کی وجہ سے مرنا شروع ہو گئیں۔ وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور انہیں بتایا تو انھوں نے ان کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا بکری کے مرنے کے بعد اس کے چمڑے سے فائدہ حاصل کرنا جائز ہے؟ (میمونہ رضی اللہ عنہا نے )جواب دیا :ہاں۔ پھر انھوں نے اپنی بات کا استدلال اس سے ملتے جلتے ایک واقعہ سے کیا اور وہ یہ تھا کہ: قریش کے کچھ لوگ نبی کریمﷺ کے پاس سے گزرے، وہ ایک بکری گھسیٹے جا رہے تھے جیسے کہ گدھا ہو تاکہ اس کو دور کہیں پھینک دیں اور اس سے خلاصی حاصل کریں یا پھر وہ اپنی جسامت میں گدھے کی طرح تھی(موٹی تازی)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ”اس کو پھینکنے کے بجائے اس سے نفع حاصل کرلو۔“ انہوں نے کہا :یہ مردار ہے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا علم نہیں کہ یہ مردہ ہے اور ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ مردار کے تمام اجزاء نجاست کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”اس کو پانی اور قرظ سے دباغت دینے سے نجس مادے ختم ہو جاتے ہیں۔“