





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس رفاعہ القرظی کی بیوی آئی اور کہا: میں رفاعہ قرظی کے حرم میں تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور طلاقِ بتّہ دی، اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی۔ لیکن ان کے پاس تو (شرم گاہ) اس کپڑے کی گانٹھ کی طرح ہے۔ آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: کیا تم رفاعہ کے ہاں واپس جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہو سکتا، جب تک تم اس (عبد الرحمن) کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمھارا مزا نہ چکھ لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید دروازے پر اپنے لیے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تو انھوں نے (ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے)کہا: ابوبکر! آپ سن رہے ہیں نا جو یہ زور زور سے رسول اللہ ﷺ سے کہہ رہی ہے؟
متفق علیہرفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ ﷺ کے پاس اپنی حالت کی شکایت لے کر آئی اور کہا کہ میں رفاعہ کے حرم میں تھی۔ اس نے مجھے آخری طلاق یعنی طلاقِ بتّہ دے دی، یہ ان کی تیسری طلاق تھی۔ اس کے بعد انھوں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کی، لیکن وہ ان کا حق ادا نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا آلۂ تناسل کمزور لٹکا ہوا تھا اور اس میں تناؤ نہیں تھا۔ آپ ﷺ ان کی اونچی آواز سے گفتگو کرنے اور ایک ایسے مسئلے کی صراحت کرنے پر مسکر اٹھے، جسے بیان کرنے سے عام طور پر عورتیں شرماتی ہیں۔ آپ ﷺ ان کا ارادہ سمجھ گئے۔ یعنی وہ اپنے پہلے شوہر رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی تھیں۔ ان کے خیال میں عبدالرحمٰن کے ساتھ نکاح کرنے سے یہ رفاعہ کے لئے حلال ہو چکی ہیں۔ لیکن آپ ﷺ نے ان کی بات کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ رفاعہ کے لیے حلال ہونے کے لیے دوسرے شوہر کے ساتھ جماع کرنا ضروری ہے۔ آپ ﷺ کے پاس ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے اور خالد بن سعید دروازے پر کھڑے اجازت ملنے کا انتظار کر رہے تھے۔ خالد رضی اللہ عنہ نے اس عورت پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے، جو اس طرح کی گفتگو رسول اللہ ﷺ کے پاس کر رہی تھی، ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آواز دی۔ یہ اس لیے کہ ان کے دلوں میں آپ ﷺ کا رعب اور جلال تھا۔ اللہ ان سے راضی ہو اور انھیں اپنے سے راضی کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپ ﷺ کے آداب کی رعایت اور اتباع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عائشہ بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے تین شرعی احکام جاری ہوئے:ایک یہ کہ وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اپنے خاوند کی بابت اختیار دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ انہیں بطور صدقہ کہیں سے گوشت آیا۔ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو ہنڈیا آگ پررکھی تھی۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو آپ ﷺ کو روٹی کے ساتھ گھر والا سالن دے دیا گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر رکھی ہنڈیا میں گوشت نہیں پک رہا تھا؟گھر والوں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! لیکن وہ تو وہ گوشت ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے اس لئے ہم نے درست نہیں سمجھا کہ آپ کو اس میں سے کھلائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ تھا لیکن اس کی طرف سے ہمارے لئے تحفہ ہو گا۔ تیسرا یہ کہ رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں ہی فرمایا تھا کہ: حق ولاء اسے حاصل ہوگا جو آزاد کرے۔
متفق علیہعائشہ رضی اللہ عنہا اپنی آزاد کردہ باندی کی برکت بیان کر رہی ہیں اور اس با برکت سودے کا ذکر کررہی جس نے اسے ان کے قریب کر دیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت پر مشتمل اپنے احکامات میں سے تین کو ان کے بارے میں جاری فرمایا جو رہتے زمانے تک شرعی احکامات بن گئے۔ اول: وہ تب آزاد ہوئیں جب وہ اپنے غلام شوہر مغیث کے نکاح میں تھیں۔ انہیں اختیار دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے پہلے نکاح پر ان کے ساتھ رہیں یا پھر انہیں چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو الگ کر لیں۔ کیونکہ وہ مرتبے کے اعتبار سے اب ان کے ہم پلہ نہیں رہے تھے کیونکہ یہ آزاد تھیں اور وہ غلام اور اس معاملے میں برابری کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنے نکاح کو فسخ کر دیا۔ ان کا یہ عمل دوسروں کے لئے سنت بن گیا۔ دوم: ان کو بطور صدقہ گوشت دیا گیا جب کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں جنہوں نے انہیں آزاد کیا تھا۔ نبی ﷺ گھر آئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا۔ آپ ﷺ نے کھانا مانگا تو گھر والوں نے آپ ﷺ کو روٹی اور گھر کا وہ سالن دے دیا جو وہ عموما استعمال کیا کرتے تھے اور بریرہ رضی اللہ عنہا کو جو صدقے کا گوشت آیا تھا اس میں سے آپ ﷺ کو کچھ بھی نہ دیا کیونکہ وہ یہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا آگ پر چڑھی ہنڈیا میں گوشت نہیں تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ: جی بالکل ہے۔ لیکن وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ آیا ہے اس وجہ سے ہم نے اسے آپ کو کھلانا مناسب نہیں سمجھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: وہ ان کے لئے صدقہ ہے اور ان کے طرف سے ہمارے لئے ہدیہ ہو گا۔ سوم: بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکان نے جب انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیچنا چاہا تو انہوں نے شرط لگائی کہ آزاد کرنے پر حق ولاء انہی کے پاس رہے گا کیونکہ جب باندی ان کی طرف منسوب ہو گی تو یہ ان کے لئے فخر کا باعث ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ اس سے انہیں کوئی مادی فائدہ بھی حاصل ہو جیسے وراثت اور نصرت وغیرہ۔ اس پر نبیﷺ نے فرمایا: ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا۔ یہ بیچنے والے یا کسی اور کو نہیں ملتا۔ ولاء در اصل مالک آقا اور مملوک غلام کے مابین اس کے آزاد ہو جانے کے بعد قائم رہنے والا ایک تعلق ہے۔ اگر غلام کا کوئی وارث نہ ہو یا پھر ذوی الفروض کے میراث میں سے اپنا حصہ لے چکنے کے بعد کچھ باقی بچ جائے تو وہ آقا کو بطور میراث مل جاتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں۔ لیکن عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے۔ آپ ﷺ نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی۔ لیکن آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ اے عبد بن زمعہ! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا؛ کیوںکہ بچہ اسی کا ہوتا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر آتے ہیں۔ اور اے سودہ ! تو اس لڑکے سے پردہ کیا کر۔ چنانچہ اس لڑکے نے پھر کبھی سودہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیکھا۔
متفق علیہزمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی باندیوں پر کچھ رقم دینا لازم کر دیتے تھے جسے وہ بدکاری کرکے کماتی تھیں اور ان سے پیدا ہونے والے بچے کا اگر زانی دعوے دار ہوتا تو بچہ اس کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔ عتبہ بن ابی وقاص نے زمانہ جاہلیت میں زمعہ بن اسود کی باندی کے ساتھ زنا کیا۔ اس سے ایک لڑکا پیدا ہو۔ عتبہ نے اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ وہ اس لڑکے کا نسب ان کے ساتھ ملا دیں۔ جب مکہ فتح ہوا اور سعد رضی اللہ عنہ نے اس بچے کو دیکھا تو اپنے بھائی کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے اسے پہچان گئے اور اس کے نسب کو اپنے بھائی کے ساتھ جوڑنا چاہا لیکن اس پر ان کے اور عبد بن زمعہ کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی دلیل دی کہ ان کے بھائی نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے اور ساتھ ہی ان کے مابین موجود مشابہت(بھی اس کی دلیل ہے)۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی اولاد میں سے ہے، یعنی ان کے باپ (زمعہ بن اسود) اس باندی کے مالک ہیں جس نے اس بچہ کو جنا ہے، چنانچہ وہ صاحب فراش ہوئے۔ اس پر نبی ﷺ نے لڑکے کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کو اس کے اور عتبہ کے مابین صاف مشابہت نظر آئی۔ لیکن آپ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا کہ یہ زمعہ کا بیٹا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ باندی کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ اس کے مالک کے تابع ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بچہ بستر کی طرف منسوب ہوتا ہے جب کہ بدکاری کرنےوالے زناکار کے حصے میں محض محرومی اور خسارہ آتا ہے اور بچہ اس کی پہنچ سے دور رہتا ہے۔ تاہم آپ ﷺ کو اس لڑکےمیں جو عتبہ کی مشابہت نظر آئی تھی اس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس بات سے احتیاط کی کہ وہ اس نسب کی بنا پر اپنی بہن سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بطور احتیاط اور ازراہِ تورع سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس سے حجاب کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ ہم بستر ہونے کی موجودگی میں شباہت اور قرائن کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
ابو منھال سیار بن سلامہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں اور میرے والد دونوں ابوبَرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا کہ نبی ﷺ فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ ﷺ عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا اور سورج تیز رہتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں (اسے) بھول گیا، اور کہا کہ آپ ﷺ عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ ﷺ فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ ﷺ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔
متفق علیہابو بَرزہ رضی اللہ عنہ نے فرض نمازوں کے اوقات کا ذکر فرمایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نبی ﷺ زوالِ شمس کے بعد ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ یعنی جب سورج بیچ آسمان سے مغرب کی طرف مائل ہو جاتا۔ یہ ظہرکا اوّل وقت ہے۔ اور عصرکی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ نماز سے فارغ ہوکر کوئی نمازی مدینے سے کافی دور پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا اور سورج میں تپش باقی رہتی۔ یہ عصر کا اوّل وقت ہے۔ رہا مغرب کا وقت تو مذکورہ روایت کے راوی مغرب کا وقت بھول گئے۔ شریعت کے نصوص اور اجماع اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مغرب کا وقت غروبِ شمس سے شروع ہوتا ہے۔ آپ ﷺ عشا کو تاخیر سے پڑھنا پسند کرتے تھے؛ کیوں کہ عشا کا افضل وقت اسے اس کا آخری مختار وقت ہے۔ اور آپ ﷺ عشا سے قبل سونے کو ناپسند کرتے تھے؛ اس ڈر سے کہ کہیں بہتر وقت سے مؤخر نہ ہوجائے، سونے کی وجہ سے جماعت فوت نہ ہو جائے یا نیند میں استغراق کی وجہ سے رات کی نماز نہ چھوٹ جائے۔ اور عشا کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں نمازِ فجر اپنے وقت سے مؤخر نہ ہو جائے یا جماعت نہ چھوٹ جائے۔ اور آپ ﷺ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوتے، تو آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، باوجودیکہ آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اسے غلس یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مرد کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہنبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد اپنے جسم یا کپڑوں پر زعفران ملے۔ یہ عورتوں کے لگانے کی خوشبو تھی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی عورتوں سے مشابہت روکنے کے لیے اس سے منع فرما دیا۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموش رہنا جائز ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔پہلی بات: جب کوئی شخص بالغ ہوجائے تو اسے یتیم نہیں شمار کیا جائے گا۔ دوسری بات: زمانہ جاہلیت میں لوگ خاموش رہ کر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آدمی سارا دن چپ رہتا اور کوئی بات نہ کرتا یہاں تک کی سورج غروب ہوجاتا۔ مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا کیوں کہ اس سے تسبیح و تہلیل، تحمید، امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور قرآن کی قراءت وغیرہ جیسے اعمال چھوٹ جاتے ہیں اور اس سے اس لئے بھی منع کیا گیا ہے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کا ایک عمل ہے۔
قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلۂ احمس کی ایک عورت سے ملے،اس کا نام زینب تھا۔ آپ نے دیکھا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی۔ دریافت فرمایا: کیا بات ہے، یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: بات کرو؛ اس طرح حج کرنا تو جاہلیت کی رسم ہے۔ چنانچہ اس نے بات کی۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابوبکر رضی اللہ عنہ قبیلۂ احمس کی ایک عورت سے ملے، جس کا نام زینب تھا۔ آپ نے اسے پایا کہ وہ بات ہی نہیں کرتی، لوگوں سے دریافت فرمایا: یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے بتایا کہ مکمل خاموشی کے ساتھ حج کرنے کی منت مانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: بات کرو؛ کیوں کہ مکمل گفتگو نہ کرنا جائز نہیں ہے۔ یہ جاہلیت کی عبادتوں میں سے ہے۔ اسلام نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ عورت کے پاس شک وشبہ اور خلوت وتنہائی کے بغیر مرد کا آنا جائز ہے، جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔
عبد الله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاد سے لوٹنا بھی جہاد ہی کی طرح ہے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اللہ تعالی کے اس فضل کا بیان جو وہ اپنے بندوں پر کرتا ہے جب وہ عبادات کی ادائیگی کرتے ہیں۔ جیسے انہیں اس وقت ثواب ملتا ہے جب وہ ان میں کوشاں ہوتے ہیں بالکل اسی طرح انہیں اس وقت بھی ثواب ملتا ہے جب وہ انہیں ادا کر کے واپس لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جہاد سے واپس آنے والا بھی ایسے ہی ہے جیسے جہاد کرنے والا۔ یہ دونوں افراد اجر کے لحاظ سے برابر ہیں جیسا کہ مسجد کی طرف جانے والے کا اجر لکھا جاتا ہے (اسی طرح) وہاں سے اپنے اہل کی طرف لوٹنے کا اجر بھی لکھا جاتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نیکوکار مملوک غلام کے لیے دوہرا اجر ہے“۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے، اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج اور اپنی ماں کی خدمت میرے سامنے نہ ہوتی تو مجھے یہ پسند ہوتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں۔
متفق علیہابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے غلام کے لیے دُہرا اجر ہے جو اپنے مالک کا خیر خواہ اور اپنے رب کے حقوق کو قائم کرنے والا ہو، ایک عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے کی وجہ سے اور دوسرے آقا کی خدمت کرکے اس کا حق ادا کرنے کی وجہ سے۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر غلام پر جہاد ہوتا اور مجھ پر اپنی والدہ کے خرچے اور خدمت کی ذمہ داری نہ ہوتی تو مجھے غلام رہ کر مرنا زیادہ پسند تھا اس پر ملنے والے اجر کی خاطر۔