





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین نام اس شخص کا ہے،جو 'مَلِکَ الاَمْلاک' نام رکھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) مالک نہیں“۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں:”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ ناراضگی کا سزاوار اور سب سے زیادہ خبیث وہ شخص ہوگا، جس کو دنیا میں 'مَلِکَ الاَمْلاک' کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں“۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”جیسے شاہان شاہ“۔ احمد بن حنبل فرماتے ہیں میں نے ابو عَمرو سے اَخْنَع کے معنی دریافت کیے تو انھوں نے اس کے معنی”سب سے زیادہ گھٹیا“ بتلائے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ - متفق علیہنبی کریم ﷺ اس حدیث مبارک میں اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے کم تر اور حقیر وہ لوگ ہیں، جنھیں ایسے نام سے پکارا جاتا ہو، جس میں عظمت اور کبریائی کا معنی و مفہوم ہو، جوصرف اللہ تعالیٰ ہی کے ل لائق و زیبا ہے۔ جیسے 'ملک الاملاک' یعنی شہنشاہ؛ کیوںکہ اس طرح کے ناموں سےاللہ تعالیٰ سے مقابلہ آرائی کی بو آتی ہے۔ ایسے نام رکھنے والا یا تو خود اپنے حق میں یا دوسرے اس کے حق میں اللہ تعالی کے مد مقابل ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نام سے موسوم شخص، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس کے نزدیک سب سے زیادہ خبیث قرار پاتا ہے۔ اس حدیث میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ومکروہ لوگوں میں سے ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ کائنات اور اس میں پائے جانے والے ہر قسم کے مالک و مملوک کا حقیقی مالک اللہ تبارک و تعالی ہی ہے۔ اس حدیث میں ان افراد کے لئے بھی موعظت اور نصیحت کا سامان ہے، جو مخصوص افراد کے لیے اسما اور القاب کا استعمال ان کے معانی اور تقاضوں کو سمجھے بغیر کرتے رہتے ہیںکہ کہیں وہ اس حدیث میں مذکور وعید کے مستحق و سزاوارنہ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ ہی حقیقی مددگار ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قسم کھانا‘ سامان تجارت کی فروخت کا ذریعہ تو ہے مگر اس سے برکت ختم ہوجاتی ہے“۔
حدیث متفق علیہ اور یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔نبی ﷺ قسم کھانے کو معمولی سمجھنے اور سامانِ تجارت کو بیچنے اور کمائی کرنے کی خاطر کثرت سے قسم کھانے سے ڈرا رہے ہیں۔ اس لیے کہ بائع جب کسی سامان پر جھوٹی قسم کھاتا ہے تو خریدنے والا بائع کی قسم کھانے کے سبب اسے اپنی قسم میں سچا سمجھتے ہوئے اس سامان کو زائد قیمت میں خرید لیتا ہے، چنانچہ اس کی پاداش میں برکت ختم ہو جاتی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کہ منافع کے ساتھ ساتھ حقیقی قیمت بھی ضائع ہو جائے۔ یقیناً جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے اسے اس کی نافرمانی کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتے۔ بکثرت قسم کھانا اللہ تعالی کی تعظیم میں کمی کرتی ہے جو کہ توحید کے منافی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ ”عَضْہ“ کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔آپ ﷺ نے اپنی امت کو لوگوں میں ایک دوسرے کی بات کو غلط طریقے سے نقل کرکے لوگوں کی چغلی کھانے سے ڈرانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اپنی بات کو استفہام اور سوال کے صیغے سے شروع فرمایا تاکہ دلوں پر زیادہ اثر کرے اور متنبہ کرنے کا باعث بنے۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے سوال کیا: العَضْه کیا ہے؟ یعنی جھوٹ اور افترا کیا ہے؟ اس کی تشریح جادو کے ساتھ بھی کی گئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے خود اس سوال کا جواب دیا کہ العَضْه لوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے پیدا کرنے کا نام ہے۔ اس لیے کہ یہی فساد، لوگوں کو تکلیف دینا، محبت کرنے والوں کے دلوں میں تفرقہ ڈالنا، رشتے ختم کرنا اور دلوں کو غصے اور کینہ سے بھرنا جادو کی وجہ سے ہوتا ہے، جس کا لوگوں میں مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "دینار کا بندہ ہلاک ہو، درہم کا بندہ ہلاک ہو، نقشے دار ریشمی کپڑے کا بندہ ہلاک ہو، مخملی چادر کا بندہ ہلاک ہو، جسے دیا گیا تو خوش اور نہیں دیا گیا تو ناراض۔ ایسا آدمی ہلاک و نامراد ہو اور اگر اسے کانٹا لگے، تو کوئی نکالنے والا نہ ملے۔ ایسے بندے کے لیے جنت کا مژدہ ہے، جو اللہ کے راستے میں گھوڑے کی لگام تھام کر کھڑا ہو۔ اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہوں اور پاوں غبار آلود ہوں۔ اگر اسے پہرے داری میں لگا دیا جائے تو اسی میں لگا رہے اور اگر فوج کے پچھلے حصے میں رکھ دیا جائے تو وہیں رہ جائے۔ اگر اجازت طلب کرے تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہ کی جائے"۔
امام بخاری نے اسی کے مثل روایت کی ہے۔اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ کچھ لوگوں کی سوچ کی معراج، منتہائے علم اور پہلا اور آخری مقصد دنیا ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ اس طرح کے لوگوں کا انجام ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس قسم کی لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے شدید حریص ہوتے ہیں۔ اگر دنیا مل گئی تو خوش اور نہیں ملی تو ناراض۔ جب کہ کچھ لوگوں کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول اور آخرت کی زندگی کو سنوارنا ہوتا ہے۔ انھیں نہ جاہ و منصب کی طلب ہوتی ہے، نہ شہرت کی تمنا۔ ان کے ہر نیک کام کے پیچھے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دکھاوے سے مطلب نہیں رکھتے۔ جہاں رکھ دیے جائیں اسی پر راضی اور خوش۔ ایسے لوگ، لوگوں کے سامنے بے وقعت ہوتے ہیں اور عہدہ و منصب والے لوگوں سے دور رہتے ہیں۔ اگر ان کے پاس داخل ہونے کی اجازت مانگیں، تو اجازت نہ ملے اور ان کے پاس کسی کی سفارش کریں، تو سفارش قبول نہ کی جائے۔ لیکن ان کا ٹھکانہ جنت ہے جو ایک بہترین بدلہ ہے۔
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تین قسم کے لوگ جنت میں داخل نہیں ہوں گے؛ شراب ہمیشہ پینے والا، رشتے ناتے کو کاٹنے والا اور جادو کو سچ ماننے والا"۔
اسے ابنِ حبان نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ تین قسم کے لوگ ہرگز جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ ایسے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو فرد اور سماج کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں : پہلی قسم کے لوگ ہيں ہمیشہ شراب پینے والے، کیونکہ شراب عقل کو زائل کرتی، آدمی کی انسانیت کو مسخ کرتی اور اس کی مروت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ دوسری قسم کے لوگ ہیں رشتے داروں کے حقوق ادا نہ کرنے والے، کیونکہ اس سے پریوار کے افراد کے بیچ دشمنی اور تفرقہ پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں کبھی کبھی انسان قریب کے لوگوں سے بھی الگ تھلگ پڑ جاتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ ہیں جادو کی تصدیق کرنے والے، کیوں کہ اس سے شعبدہ بازی، فریب کاری اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال ہڑپنے کو بڑھاوا ملتا ہے۔ یاد رہے کہ یہاں جو وعید بیان کی گئی ہے، اس کے اندر جادوگروں کی بتائی ہوئی علم غیب سے متعلق باتوں کی تصدیق کرنے والا بھی آتا ہے۔ جہاں تک اس بات کو ماننے کی بات ہے کہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، تو ایسا ماننے والا اس وعید کے اندر نہیں آتا، کیونکہ جادو کی تاثیر ہوتی ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی اگر یہ مانے کہ جادو سے چیزوں کی ماہیت بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر یہ مانے کہ جادو لکڑی کو سونا بنادیتا ہے یا اس طرح کى کسی اور بات کو مانے، تو اس کے اس وعید میں داخل ہونے میں کوئی شک نہيں ہے، کیوں کہ یہ کام اللہ عز وجل کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔
ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تین آدمی سفر پر نکلیں تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنے میں سے ایک کو امیر بنا لیں“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے مسافروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے میں سے اس ایک شخص کو امیر بنا لیا کریں جو ان میں سے سب سے افضل اور رائے کے اعتبار سے سب سے اچھا ہو تاکہ وہ ان کے امور کا انتظام کر سکے کیوں کہ اگر وہ کسی کو امیر نہیں بنائیں گے تو ان کا معاملہ افراتفری کا شکار رہے گا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کی عیادت کرنے کے لیے گئے، اور نبیﷺ جب کسی کی عیادت کے لیے جاتے، تو آپ ﷺ کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی فکر کی کوئی بات نہیں، ان شاء اللہ (یہ مرض) گناہوں سے پاک کرنے والا ہو گا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک اعرابی کے بیمار ہونے پر اس کی عیادت کرنے کے لیے گئے اور نبی ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کے لیے جاتے، تو کہتے ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ یعنی کوئی سختی اور تکلیف کی بات نہیں اور تمہارا یہ مرض تمہارے گناہوں، عیبوں کو إن شاء اللہ پاک کرنے والا ہو گا، نیز آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب بھی بنے گا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں برص، پاگل پن، کوڑھ کی بیماری اور تمام بری بیماریوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ نبی ﷺ کچھ مخصوص امراض سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امراض بہت ہی خطرناک ہیں اور ان کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ پھر نبیﷺ نے عمومی طور پر کئی برے امراض سے سلامتی اور عافیت طلب کی۔ اس حدیث میں تخصیص بھی ہے اور اجمال بھی۔ نبی ﷺ نے پناہ مانگتے ہوئے کہتے: ”اللَّهمَّ إِنِّي أَعُوُذُ بِكَ مِنَ الْبرَصِ“ ’برص‘ سے مراد وہ سفیدی ہے جو بدن میں ظاہر ہوتی ہے اور اس سے لوگ انسان سے گھن کھانا لگتے ہیں جس کی وجہ سے انسان بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ جاتا ہے جو بسا اوقات ڈیپریشن (ذہنی دباؤ) کا سبب بن جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔ ”وَالجُنُونِ“ اس کا معنی ہے عقل کا زائل ہو جانا۔ عقل ہی کی وجہ سے انسان مکلف ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور اسی کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کی پیدا کردہ اشیاء اور اس کے کلام عظیم میں غور و فکر کرتا ہے۔ عقل کا ختم ہو جانا گویا انسان ہی کا ختم ہوجانا ہے۔ ”والجُذَامِ“ یہ ایک ایسا مرض ہے جس کی وجہ سے اعضاء جسم بوسیدہ ہو جاتے ہیں اور کٹ کر گرنے لگتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔ ”وسّيءِ الأَسْقامِ“ یعنی بُرے امراض سے۔ اس سے مراد وہ جسمانی آفات ہیں جن کی وجہ سے انسان لوگوں کے مابین حقیر ہو کر رہ جاتا ہے اور لوگ طبعی طور پر اس سے دور رہنا شروع کر دیتے ہیں جیسے فالج، اندھا پن اور سرطان وغیرہ کیونکہ یہ بہت سخت قسم کے امراض ہیں جن کے علاج میں کافی پیسے خرچ ہوتے ہیں نیز اُن کا سامنا کرنے کے لیے قوی ترین صبر ہونا چاہیے۔ انہیں صرف وہی برداشت کر پاتا ہے جسے اللہ تعالی صبر دے دے اور اس کا دل باندھ دے۔ اس دعا سے اُس دین کی عظمت عیاں ہوتی ہے جو مسلمان کے جسم اور دین دونوں ہی کا لحاظ رکھتا ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں پڑے ہوئے چھالے دکھانے کے لیے آئيں۔ دراصل ان کو اطلاع ملی تھی کہ آپ کے پاس کچھ غلام آئے ہوئے ہیں۔ آپ نہیں ملے، تو انھوں نے اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کر دیا۔ آپ جب تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ آپ ہمارے یہاں تشریف لے آئے۔ ہم بستر پر جا چکے تھے۔ کھڑے ہونے لگے، تو فرمایا : "جہاں ہو، وہیں رہو۔" پھر آپ آکر میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ آپ ہمارے اتنے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ میں محسوس کی۔ آپ نے کہا : "کیا میں تمھیں جو کچھ تم نے مانگا ہے، اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ جب تم دونوں اپنے بستر پر جاؤ، یا فرمایا کہ جب تم سونے کے لیے جاؤ، تو تینتیس مرتبہ (33) سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ (33) الحمد للہ اور چونتیس مرتبہ (34) اللہ اکبر پڑھ لینا۔ یہ تمھارے لیے خادم سے بہتر ہے۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے والد بزرگوار کو چکی پیسنے کی وجہ سے اپنے ہاتھ میں پڑے ہوئے چھالے کی شکایت کی۔ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ قیدی آئے، تو ان میں ایک قیدی مانگنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئيں، تاکہ گھر کے کام کاج میں آسانی ہو۔ گھر میں آپ نہيں تھے، اس لیے جو کہنا تھا، عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہہ کر واپس آ گئیں۔ آپ تشریف لائے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک خادم کی گزارش کے ساتھ حاضر ہوئی تھیں۔ لہذا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم فاطمہ اور علی رضی اللہ عنہما کے گھر پہنچ گئے۔ اس وقت دونوں بستر میں تھے اور سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ آپ دونوں کے درمیان اس طرح بیٹھ گئے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ میں محسوس کی۔ بعد ازاں فرمایا: تم دونوں نے مجھ سے خادم دینے کا جو مطالبہ کیا ہے، کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ دونوں نے عرض کیا : ضرور بتائيں۔ تب آپ نے فرمایا: جب تم دونوں رات میں سونے کے لیے بستر پر چلے جاؤ، تو 34 بار اللہ اکبر کہو۔ 33 بار سبحان اللہ کہو۔ 33 بار الحمد للہ کہو۔ یہ ذکر تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔