





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "ظلم سے بچو، کیوں کہ ظلم قیامت کے دن تاریکیاں لائے گا۔ بخل و حرص سے بچو، اس لیے کہ اسی بخل و حرص نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا۔ اسی بخل و حرص نے انھیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپس میں خون خرابہ کریں اور حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیں۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ظلم سے خبردار کیا ہے، جیسے کہ لوگوں پر ظلم، نفس پر ظلم اور اللہ کے حق میں ظلم۔ ظلم نام ہے حق دار کو اس کا حق نہ دینے کا۔ ظلم قیامت کے دن ظلم کرنے والوں پر تاریکیاں بنے گا۔ یعنی اس کی وجہ سے مشکل حالات اور خوف ناکیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپ نے 'شح' سے بھی منع فرمایا ہے، جو کہ حرص کے ساتھ شدید بخل کا نام ہے۔ اس میں مالی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور دنیا کی شدید حرص بھی داخل ہے۔ ظلم کی اس قسم نے ہم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کردیا، کیوں کہ اس نے انھیں ایک دوسرے کی جان لینے پر اور اللہ کی حرام کی ہوئی چيزوں کو حلال کر لینے پر ابھارا۔
ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص کے لیے جنت کے اطراف میں گھر دیے جانے کی ضمانت لیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے اور اس شخص کے لیے جنت کے درمیان میں گھر کا ضامن ہوں جو مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور اس شخص کے لیے جنت کے بالائی حصے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو اچھےاخلاق کا مالک بن جائے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ نے خبر دی کہ وہ جنت کے باہر اس کے گرد و نواح میں اس شخص کے لیے گھر کی ضمانت دیتے ہیں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑدے کیونکہ اس میں وقت کا ضیاع ہے اور اس سے دشمنی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ اس شخص کے لیے جنت کے بیچوں بیچ گھر کے ضامن ہیں جو ازراہ مزاح بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور خلافِ واقع کوئی بات نہ کہتا ہو اور اسی طرح اس شخص کے لیے آپ ﷺ نے جنت کے بالائی حصے میں گھر کی ضمانت دی جو اچھے اخلاق کو اپنا لیتا ہے چاہے ایسا وہ اپنے نفس کو ان کا عادی بنا کر اور ان کی مشق کرا کر ہی کیوں نہ کرے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور جانے پہچانے اور ان جانے سب کو سلام کرو۔"
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ اسلام کا کون سا عمل سب سے اچھا ہے؟ تو جواب میں آپ نے دو اعمال کا ذکر کیا : پہلا : غریبوں کو زیادہ سے زیادہ کھانا کھلانا۔ اس میں صدقہ، ہدیہ، ضیافت اور ولیمہ سب شامل ہے۔ کھانا کھلانے کی یہ اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے، جب فقر و فاقہ ہو اور مہنگائی بڑھی ہوئی ہو۔ دوسرا : ہر مسلمان کو سلام کرنا۔ جانا پہچانا ہو یا ان جان۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا:”اللہ کا ڈر اور اچھے اخلاق“۔ پھر آپ ﷺ سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، جو لوگوں کو سب سے زیادہ جہنم میں داخل کرے گی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ”منہ اور شرم گاہ“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔جن اسباب کی بنیاد پر لوگ سب سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے وہ اللہ کا تقویٰ اوراچھے اخلاق ہیں۔ اللہ کا تقویٰ ہر قسم کی حرام اشیا سے اجتناب کر کے ظہور میں آتا ہے اورحسن خلق مخلوق کے ساتھ اچھا برتاؤ کرکے عمل میں آتا ہے۔ کم ترین حسن خلق یہ ہے کہ مخلوق کو تکلیف نہ دی جائے اور اعلی ترین یہ ہے کہ برا سلوک کرنے والے کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ جن اسباب کی بنیاد پر سب سے زیادہ لوگ جہنم میں جائیں گے، وہ منہ اور شرم گاہ ہیں؛ کیوں کہ انسان عموما انہی کی وجہ سے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور لوگوں کی مخالفت کرتا ہے۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹتے تو اپنے دونوں ہاتھوں میں پھونک مارتے اور معوذات (سورہ اخلاص، سورہ فلق اور سورہ ناس) پڑھتے اور دونوں ہاتھوں کو جسم پر پھیر لیتے۔ ایک دیگر روایت میں ہے کہ ہر رات نبی ﷺ جب اپنے بستر پر جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملا کر ان میں پھونک مارتے اور ان پر ﴿قل هو الله أحد﴾ ، ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ پڑھتے اور پھر دونوں ہاتھوں کو جہاں تک ہو سکتا جسم پر پھیر لیتے۔ آپ ﷺ اپنے سر، چہرے اور جسم کے سامنے کے حصے سے (ہاتھ پھیرنے کی) ابتداء کرتے اور تین دفعہ ایسا کرتے۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔دنیا اور آخرت میں نبی ﷺ کی زوجہ اُم المومنین (عائشہ ) رضی اللہ عنہا ہمارے لیے اس نبوی سنت مبارکہ کو بیان کر رہی ہیں کہ ہر رات رسول اللہ ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنی ہتھیلیوں کو باہم ملا کر ان میں بلا تھوک ہلکی سی پھونک مارتے اور ان میں ﴿قل هو الله أحد﴾ ، ﴿قل أعوذ برب الفلق﴾ اور ﴿قل أعوذ برب الناس﴾ پڑھتے۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ پڑھنے والا پہلے پھونک مار لے اور پھر پڑھے یا پھر پہلے پڑھ لے اور پھر پھونک مارے کیوں کہ حدیث (ان سورتوں کو) ترتیب کے ساتھ یا یکے بعد دیگرے پڑھنے پردلالت نہیں کرتی۔ پھر آپ ﷺ جہاں تک ہو سکتا اپنے ہاتھوں کو اپنے جسم پر پھیر لیتے اور سر، چہرے اور سامنے کے حصے سے آغاز کرتے۔ آپ ﷺ تین دفعہ پڑھتے، تین دفعہ پھونکتے اور تین دفعہ (جسم پر ہاتھ) پھیرتے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ“ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہماری کفایت کی اور ہمیں ٹھکانہ دیا، کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی انہیں ٹھکانہ دینے والا ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے: ”الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، وَكَفَانَا، وَآوَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِيَ لَهُ وَلاَ مُؤْوِيَ“، آپ ﷺ اللہ عز و جل کی حمد بیان کرتے جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا بایں طور کہ اگر اللہ عز و جل آپ کو نہ کھلاتا اور نہ پلاتا تو نہ آپ کچھ کھا سکتے اور نہ پی سکتے۔ چنانچہ آپ اس اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جس نے آپ کو کھلایا اور پلایا۔ یعنی تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، جو ہمارے لیے کافی ہو گیا اور جس نے ہمیں ٹھکانہ دیا۔ یعنی جس نے تمام امور کو ہمارے لیے آسان کردیا اور ان کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے لی اور ہمارے لیے ٹھکانہ بنایا جس میں ہم رہتے ہیں۔ کتنے ہی انسان ایسے ہیں جن کی نہ کوئی کفایت کرتا ہے اور نہ کوئی ان کا ٹھکانہ ہوتا ہے یا جنہیں کوئی بھی ٹھکانہ مہیا نہیں کرتا چنانچہ آپ کو چاہیے کہ جب آپ اپنے بستر پر آئیں تو یہ ذکر (دعا) پڑھیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں؛ مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بچے کے خلاف کی جانے والی دعا“۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔تین قسم کے دعا کرنے والوں کی تین دعاؤں کی اللہ کی طرف سے قبولیت میں کوئی شک نہیں۔ ایک مظلوم کی دعا، اگرچہ مظلوم کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس پر ظلم کیا گیا اور اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالی اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ دوسری مسافر کی دعا جب وہ حالت سفر میں اللہ سے دعا کرتا ہے اور تیسری والدین میں سے کسی کی دعا، چاہے وہ باپ ہو یا ماں اور چاہے وہ اپنے بچے کے حق میں دعا کرے یا اس کے خلاف دعا کرے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے آدمیوں سے نہ تو اللہ تعالی روزِ قیامت کلام کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اورنہ ان کی طرف دیکھے گا اور انہیں درناک عذاب ہوگا: بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور تکبر کرنے والا مفلس“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔اللہ تعالی روز قیامت تین قسم کے لوگوں سے نہ تو کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور انہیں دردناک عذاب ہوگا۔ ایک عمر رسیدہ شخص جو زنا کرتا ہے، دوسرا وہ حکمران جو جھوٹ بولتا ہے اور تیسرا وہ غریب و فقیر جو تکبر کرتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: "اے اللہ! میری رہ نمائی فرما اور راہ راست پر چلا۔ "الْهُدَى" لفظ زبان پر لاتے وقت اپنے راستہ پا لینے کو یاد کر لیا کرو اور "السَّدَاد" لفظ زبان پر لاتے وقت تیر کی راستگی کو یاد کر لیا کرو۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اللہ کے حضور یہ دعا کیا کریں : "اے اللہ! میری رہ نمائی فرما اور راہ راست پر چلا۔" یعنی اے اللہ! میری رہ نمائی فرما، مجھے توفیق دے اور تمام امور میں راہ راست پر چلا۔ "الهُدَى" لفظ کے معنی ہيں : حق کی تفصیلی اور اجمالی معرفت اور ظاہری و باطنی طور پر اس کے اتباع کی توفیق۔ جب کہ "السّداد" لفظ کے معنی ہيں : توفیق اور تمام کاموں میں استقامت کے ساتھ حق پر قائم رہنا۔ قول، فعل اور اعتقاد میں سیدھے راستے پر گام زن رہنا۔ چوں کہ معنوی چيز محسوس طریقے سے واضح ہوتی ہے، اس لیے یہ دعا کرتے وقت اپنے دل میں اس بات کو مستحضر رکھو کہ تم اس شخص کی طرح ہدایت مانگ رہے ہو، جو سفر پر نکلا ہوا ہو کہ وہ بھٹکنے سے بچنے اور بہ سلامت جلدی منزل تک پہنچنے کے لیے ذرا بھی دائيں بائيں منحرف نہیں ہوتا۔ اسی طرح تم تیر چلاتے وقت اس بات کا دھیان رکھتے ہو کہ وہ بہ سرعت صحیح نشانے پر جا لگے۔ جب کوئی شخص کسی چيز کو نشانہ بناکر تیر چلاتا ہے، تو تیر کو بالکل سیدھا رکھتا ہے۔ اسی طرح تم اللہ سے کہہ رہے ہو کہ وہ تم کو تیر کی طرح سیدھا رکھے۔ اس طور پر تم اپنے سوال میں ہدایت کى انتہا او راہ راست کے کمال کو مانگنے والے ہوجاؤ گے۔ اللہ سے راہ راست پر قائم رہنے کی دعا کرتے وقت اپنے دل میں اس پس منظر کو مستحضر رکھو، تاکہ راہ راست پر چلتے وقت تم درست نشانے پر چلنے والے تیر کی عملی تصویر بن سکو۔