





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبے کے دوران کہتے ہوئے سنا: " اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے، نمازِ پنجگانہ پڑھو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو، اپنے مال کی زکات ادا کرو اور اپنے امرا کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔"
رواه الترمذي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سنہ 10 ھجری کو حجۃ الوداع کے موقعے پر عرفہ کے دن خطبہ دیا۔ اس حج کو حجۃ الوداع اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس موقعے پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں کو الوداع کہہ دیا۔ اس موقع پر آپ نے تمام لوگوں کو حکم دیا کہ اپنے رب سے ڈریں، بایں طور کہ اس کے احکام کو بجا لایا جائے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے دور رہا جائے۔ پانچ وقت کی نمازیں پڑھیں، جن کو اللہ نے دن ورات میں فرض کیا ہے۔ رمضان مہینے کے روزے رکھیں۔ اپنے اموال کی زکاۃ حق داروں کو دیں اور اس میں بخیلی نہ کریں۔ اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کریں، جب تک کہ وہ اللہ کی معصیت کا حکم نہ دیں۔ جس نے ان کاموں کو انجام دیا، اس کا ثواب دخول جنت ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے، تو اسے سلام کرے۔ پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت ، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے (دوبارہ) ملے، تو پھر اسے سلام کرے۔"
رواه أبو داوداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ایک مسلمان جب بھی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے۔ حتی کہ اگر دونوں ساتھ چل رہے ہوں اور اسی دوران بیچ میں پیڑ، دیوار اور کوئی بڑا پتھر وغیرہ آ جائے، تو دوبارہ ملتے وقت پھر سے اسے سلام کرے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاؤں، جن سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کر دیتا ہے؟" صحابہ نے عرض کیا : ضرور، اے اللہ کے رسولﷺ؟ آپﷺ نے فرمایا : "ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد تک زیادہ قدم چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اور یہی رباط ( دشمنوں سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرہ داری کرنا ) ہے"۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کی رہ نمائی ایسے اعمال کی جانب کی جائے، جو گناہوں کی بخشش، ان کو انسان کے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے رجسٹر سے مٹا دیے جانے اور جنت میں اونچے درجات کے سبب بنتے ہوں؟ صحابہ نے عرض کیا : ضرور رہنمائی فرمائيں۔ آپ نے فرمایا : 1- پریشانی، جیسے ٹھنڈی، پانی کی کمی، جسمانی تکلیف اور پانی گرم ہونے کے باوجود پورے طور پر اور اچھی طرح وضو کرنا۔ 2- مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا۔ اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مسجد سے گھر دور ہو یا مسجد آنا جانا زیادہ ہو۔ حدیث میں آئے ہوئے لفظ "الخُطا" کے معنی دو قدموں کے درمیان کی دوری کے ہيں۔ 3۔ نماز کے وقت کا انتظار کرنا، اس میں دل کا اٹکا رہنا، اس کی تیاری کرنا اور اس کے لیے جماعت کے انتظار میں مسجد کے اندر بیٹھا رہنا۔ ایک نماز پڑھ لینے کے بعد مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ دراصل یہی اعمال حقیقی مرابطہ (دشمن سے حفاظت کے لیے سرحد کی پہرے داری) ہیں۔ کیوں کہ یہ نفس کی طرف آنے والے شیطانی راستوں کو بند کرتے ہيں، خواہشات کو مغلوب کرتے ہيں اور نفس کو وسوسے قبول کرنے سے روکتے ہيں۔ اس طرح اللہ کا لشکر شیطان کے لشکر پر فتح یاب ہوتا ہے۔
ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ”کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتاؤں جو تمھارے سارے اعمال سے بہتر، تمھارے مالک کے ہاں سب سے زیادہ پاکیزہ، تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے، تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ کرنے سے زیادہ بہتر اور تمھارے لیے اس سے بھی زیادہ بہتر ہے کہ تمھارا مقابلہ تمھارے دشمن کے ساتھ ہو اور تم ان کی گردنیں اڑاؤ اور وہ تمھاری گردنیں اڑائیں؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں! (ایسا عمل تو ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : ”(وہ ہے) اللہ تعالیٰ کا ذکر۔“
رواه الترمذي وابن ماجه وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں بتادوں کہ تمھارے عزیز وبرتر مالک کے یہاں تمھارا کون سا عمل سب سے افضل، اشرف اور پاکیزہ ترین ہے؟ جنت میں تمھارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا ہے؟ اور جو تمھارے لیے سونا اور چاندی صدقہ وخیرات کرنے سے بہتر ہے؟ اسی طرح جو تمھارے لیے اس بات سے بھی بہتر ہے کہ میدان جنگ میں تمھارا سامنا کفار سے لڑائى کے لئے ہو اور تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمھاری گردنیں ماریں؟ صحابہ نے جواب دیا : ہم ضرور بالضرور اس چیز کو جاننا چاہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : تمام اوقات اور تمام حالات میں اللہ کا ذکر کرنا۔
سلیمان بن صُرَد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں: میں اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور (قریب ہی) دو آدمی آپس میں گالی گلوج کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص کا چہرہ (مارے غصے کے) سرخ ہو گیا تھا اور اس کی رگیں پھول گئیں تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے، تو اس کا غصہ دور ہو جائے"۔ فرمایا: "اگر یہ شخص کہے: ”أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرجیم“ (میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) تو اس کا غصہ ختم ہو جائے گا"۔ چنانچہ لوگوں نے اس سے کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو، تو اس نے کہا: کیا مجھے جنون لاحق ہے؟
متفق عليهدو لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک دوسرے کو گالی گلوج کر رہے تھے۔ ایک کی حالت تو یہ تھی کہ چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور گردن کی رگیں پھول چکی تھیں۔ یہ منظر دیکھ کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مجھے ایک کلمہ معلوم ہے کہ اگر اس غصے والے شخص نے اسے کہہ لیا، تو اس کا غصہ دور ہو جائے گا۔ اسے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کہہ لینا چاہیے۔ چنانچہ صحابہ نے اس سے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے تجھے "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" پڑھنے کے لئے کہا ہے۔ لیکن اس نے جواب دیا: کیا میں مجنوں ہوں؟ اسے لگتا تھا کہ اللہ کی پناہ وہی مانگتا ہے، جسے جنون لاحق ہو۔
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”اچھا خواب اللہ كى جانب سے ہے اور برا خواب شيطان كى جانب سے۔ چنانچہ جب تم ميں سے كوئى شخص برا خواب ديكھے، تو اپنى بائيں جانب تين بار تھو كے اور شيطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ ایسا کرنے پر یہ خواب اسے كوئى ضرر نہيں دے گا۔“
متفق عليهاللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ اچھا اور خوشی دینے والا خواب اللہ کی جانب سے ہے۔ جب کہ ناپسندیدہ اور رنجیدہ کرنے والا خواب شیطان کی جانب سے ہے۔ لہذا جو شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے، وہ بائيں جانب تھتکارے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ کیوں کہ اللہ نے مذکورہ عمل کو برے خواب کے نتیجے میں سامنے آنے والی ناپسندیدہ بات سے سلامتی کا سبب قرار دیا ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! نجات کیا ہے؟ فرمایا : "اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اور تمہارا گھر تمہارے لئے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کرو۔"
رواه الترمذي وأحمدعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ وہ کون کون سی چيزیں ہیں، جو ایک مومن کے لیے دنیا و آخرت کی نجات کا باعث بنتی ہیں؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہا کہ تین باتوں کا خیال رکھا کرو: 1- تمام طرح کی بری اور غیر مفید باتوں سے اپنی زبان کی حفاظت کرو اور صرف اچھی باتوں کے لیے ہی منہ کھولا کرو۔ 2- اپنے گھر میں رہا کرو، تاکہ تنہائی میں اللہ کی عبادت کر سکو، اس کی بندگی میں مشغول رہو اور گھر میں رہ کر فتنوں سے کنارہ کشی اختیار کرو۔ 3- اپنے گناہوں پر رویا کرو، شرمندہ رہو اور اللہ کے حضور توبہ کرو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کيا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے جسے اگر میں کرتا رہوں، تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز قائم کرو، فرض زکوٰة کی ادائيگی کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔‘‘ اس دیہاتی نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس پر کوئی اضافہ نہیں کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا، تو نبی کريم ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص کو کوئی جنتی ديکھنا پسند ہو، وہ اس شخص کو دیکھ لے۔‘‘
متفق عليهدیہات کا رہنے والا ایک شخص اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا، تاکہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتا دیں، جو اسے جنت میں داخل کر دے۔ لہذا آپ نے اسے بتایا کہ جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے نجات پانے کی سعادت موقوف ہے ارکان اسلام کی ادائیگی پر، جو اس طرح ہیں : ایک اللہ کی عبادت کرنا اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرانا، پانچ وقت کی نمازیں قائم کرنا، جنہیں اللہ نے دن ورات میں اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔ مال کی جو زکاۃ واجب ہے‘ اسے نکال کر مستحقین کو دینا، وقت پر ماہ رمضان کے روزوں کی پابندی کرنا۔ اتنا سننے کے بعد وہ شخص بولا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں آپ سے سنے ہوئے فرض اعمال سے نہ زیادہ کروں گا اور نہ کم۔ لہذا جب وہ شخص جانے لگا، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جسے کو کوئی جنتی انسان ديکھنا پسند ہو، تو وہ اس شخص کو دیکھ لے۔
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو وہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔اس حدیث میں اللہ کے ہاں دنیا کی حقارت کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر اللہ کے ہاں اس کی تھوڑی سی بھی قیمت ہوتی تو کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی نہ پلاتا، چہ جائیکہ کافر کواس دنیا میں نعمتوں سے نوازتا اور اس کو اس دنیا کی خوش گوار اشیاء سے لطف اندوز ہونے دیتا۔ اسی لیے دنیا اللہ کے ہاں حقیر ہے بخلاف آخرت کے کہ یہ خالص مومنوں کے حق میں دائمی نعمتوں کا گھر ہے کفار کےمقابلے۔ اسی لیے اہلِ ایمان پر لازم ہے کہ اس دنیا کی حقیقت کو پہچانیں اور اس کی طرف مائل نہ ہوں، اس لیے کہ یہ گزرگاہ ہے رہنے کی جگہ نہیں۔ چنانچہ یہاں سے اتنا ہی لیں جتنا کہ اپنی آخرت سنوار سکیں جو ان کا ہمیشگی کا گھر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا ۚ وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ * أَفَمَن وَعَدْنَاهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيهِ كَمَن مَّتَّعْنَاهُ مَتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْمُحْضَرِينَ﴾۔ ”اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے وه صرف دنیوی زندگی کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وه بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے، کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالآخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا“۔