





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : ان سے کہا گیا کہ آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان سے بات کیوں نہيں کرتے؟ لہذا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میں ان سے تمھیں سنا کر ہی بات کروں گا؟ اللہ کی قسم میں نے ان سے تنہائی میں بات کی ہے، تاکہ کسی طرح کے فساد کا دروازہ نہ کھلے۔ میں یہ بھی نہيں چاہتا کہ سب سے پہلے میں ہی فتنے کا دروازہ کھولوں۔ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ حدیث سننے کے بعد یہ بھی نہيں کہتا کہ جو شخص میرا حکمراں ہے، وہ سب لوگوں سے بہتر ہے : "قیامت کے دن ایک شخص کو لایا جائے گا اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جس سے اس کے پیٹ کی انتڑیاں باہر نکل آئيں گی اور وہ ان کے ساتھ ایسے گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں جانب گھومتا ہے۔ ایسے میں سارے جہنمی اس کے پاس جمع ہو جائيں گے اور کہيں گے : اے فلاں! تیرے ساتھ ایسا کیسے ہوا؟ کیا ایسا نہيں ہے کہ تو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور برائی سے روکتا تھا؟ وہ جواب دے گا : یہ تو سچ ہے۔ مگر میں دوسروں کو بھلائی کا حکم دیتا تھا اور خود اس پر عمل پیرا نہيں ہوتا تھا۔ دوسروں کو برائی سے روکتا تھا اور خود اس کا ارتکاب کرتا تھا۔"
متفق عليهکسی نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ عثمان بن عفان کے پاس جاکر ان سے لوگوں کے درمیان رو نما ہونے والے فتنے کے بارے میں بات کیوں نہيں کرتے اور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کیوں نہيں کرتے؟ جواب میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے ان سے بات تو کی ہے، لیکن رازداری کے ساتھ۔ تاکہ مصلحت حاصل ہو جائے اور کوئی فتنہ سر نہ اٹھائے۔ وہ کہنا یہ چاہتے تھے کہ وہ لوگوں کے سامنے کھل کر امراء کی نکیر نہیں کرنا چاہتے، تاکہ خلیفہ کے خلاف زبان درازی کی نوبت نہ آئے۔ کیوں کہ اس سے فتنے اور برائی کا دروازہ کھلے گا اور وہ نہيں چاہتے کہ یہ دروازہ سب سے پہلے ان کے ہاتھ سے کھلے۔ اس کے بعد اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ امرا کو تنہائی میں نصیحت کرتے ہيں اور کسی کی چاپلوسی نہيں کرتے کہ منہ پر ان کی غلط تعریف کریں۔ چاہے امیر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ طرز عمل انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث سننے کے بعد اختیار کیا کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جہنم کی آگ اتنی تیز ہوگی کہ گرنے کے ساتھ ہی اس کے پیٹ سے انتڑیاں نکل کر باہر آجائيں گی۔ ایسے میں وہ شخص اپنی انتڑیوں کے ساتھ ایسے چاروں طرف گھوم رہا ہوگا، جیسے گدھا چکی کے چاروں طرف گھومتا ہے۔ یہ منظر دیکھ جہنمی اس کے اردگرد حلقہ بناکر جمع ہو جائيں گے اور اس سے پوچھیں گے کہ اے فلاں! کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکا نہيں کرتے تھے؟ وہ جواب دے گا: یہ سچ ہے کہ میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ میں برائی سے روکتا تھا، لیکن خود اس میں ملوث ہو جایا کرتا تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالے، تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے“۔ یہ کہتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملا کر دکھایا۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جسے دو بیٹیاں یا بہنیں دی گئيں اور اس نے ان کے اخراجات برداشت کیے، تربیت کی، اچھائی سکھائی اور برائی سے خبردار کیا، پھر دونوں بڑی اور بالغ ہو گئيں، تو وہ اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کے دن کچھ اس طرح آئيں گے۔ یہ کہتے وقت آپ نے اپنی شہات کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملاکر دکھایا۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ’’تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے، جب تک مؤمن نہ بن جاؤ اور مؤمن اس وقت تک نہيں بس سکتے، جب تک ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ کیا میں تمھیں ایسا کام نہ بتاؤں، جسے کرنے سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ اپنے درمیان سلام عام کرو۔‘‘
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جنت میں بس ایمان والے ہی داخل ہوں گے، جب کہ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا اور مسلم سماج کا حال اس وقت تک درست نہیں ہو سکتا جب تک کہ لوگ ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگیں۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے محبت عام کرنے کا سب سے افضل طریقہ بتایا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان سلام عام کیا جائے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ گرنے کی آواز سنائی دی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟“ ہم نےکہا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ”یہ ایک پتھر ہے، جو ستر سال پہلے دوزخ میں پھینکا گیا تھا اور وہ لگاتار دوزخ میں گر رہا تھا۔ اب جاکر اس کی تہہ تک پہنچا ہے“۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک خوف ناک آواز سنی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی چيز اوپر سے نیچے گری ہو۔ چنانچہ اپنے پاس موجود صحابہ سے اس آواز کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو بہتر معلوم ہے۔ لہذا آپ نے ان سے کہا: جو آواز تم نے سنی، داصل وہ ایک پتھر کے گرنے کی آواز ہے، جو ستر سال پہلے جہنم کے کنارہ سے اس کے اندر ڈالا گیا تھا اور وہ اب جاکر اس کی تہہ تک پہنچا ہے، جس کی آواز تم کو سنائی دی۔
سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ کے پاس بائیں ہاتھ سے کھانا کھایا۔ لہذا آپ نے اس سے کہا : "اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ"۔ لیکن اس نے جواب دیا : میں (دائیں ہاتھ سے) کھا نہیں سکتا۔ اس پر آپ ﷺ نے (اس کے حق میں بد دعا کے طور پر) کہا : "تو ایسا کر بھی نہیں سکتا"۔ دراصل اس نے محض تکبر کی وجہ سے آپ کی بات کو ٹھکرایا تھا۔ راوی حدیث کہتے ہيں : چنانچہ وہ شخص اپنا ہاتھ اپنے منہ تک کبھی نہ لے جا سکا۔
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کو اپنے بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا، تو دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم دیا۔ لیکن اس نے تکبر کی وجہ سے جھوٹ بول دیا کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا۔ لہذا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا کر دی کہ وہ کبھی دائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھا سکے۔ چنانچہ اللہ نے اپنے نبی کی بد دعا قبول کر لی اور اس کا دایاں ہاتھ بے کار ہو گیا۔ وہ کبھی اپنا ہاتھ کھانے یا پینے کے لیے منہ تک نہیں اٹھا سکا۔
جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے کہا کہ اللہ کی قسم! اللہ فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا: یہ کون ہے جو مجھ پر قسم اٹھا رہا ہے کہ میں فلاں کی مغفرت نہیں کروں گا؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ہے اور تیرے اعمال کو ضائع کر دیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ ایسا کہنے والا ایک عبادت گزار شخص تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے اس کی دنیا اور آخرت تباہ کر کے رکھ دی۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔نبی ﷺ زبان کی خطرناکی پر متنبہ کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ اللہ فلاں گناہ گار آدمی کو نہیں بخشے گا۔گویا کہ اس نے اللہ کے مقابلے میں اپنا ہی فیصلہ صادر کر دیا اور مغفرت کا دروازہ اس شخص کے لیے بند کر دیا کیونکہ اپنے تئیں وہ سمجھتا تھا کہ وہ اللہ کے ہاں بڑا معزز اور صاحبِ منزلت ہے اور اس کی نگاہ میں وہ گناہ گار شخص قابل حقارت تھا۔ یہ اللہ پر خوامخواہ کا ناز اوراس کے سامنے بے جا جرأت و بے ادبی کا مظاہرہ ہے جس کی وجہ سے وہ شخص دنیا اور آخرت کی بد بختی اور خسارے کا مستوجب ہو گیا۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: ”جو شخص بھی ظلما قتل کر دیا جاتا ہے، اس کے قتل کے گناہ کا ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے؛ کیوںکہ قتلِ ناحق کی ریت اسی نے ڈالی تھی“۔
متفق علیہیہ حدیث اس سبب کو بیان کر رہی ہے، جس کی وجہ سے آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹوں میں سے ایک پر، اس کے بعد بہائے جانے والے ہرناحق خون کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو حسد کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ آدم علیہ السلام کی اولاد میں یہ سب سے پہلے قاتل اور مقتول تھے۔ چنانچہ قابیل کے بعد جو بھی ناحق خون کیا جاتا ہے، اس کے گناہ کا ایک حصہ قابیل کے کھاتے میں جاتا ہے؛ کیوںکہ اسی نے قتل کی ریت ڈالی تھی اور اس کے بعد آنے والا ہر شخص اسی کی اقتدا کرتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اس میں غور وفکر نہیں کرتا، لیکن اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جاگرتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے“۔
متفق علیہنبی ﷺ ہمیں بتا رہے ہیں کوئی آدمی جب گفتگو کرتا ہے تو بالکل بھی نہیں سوچتا کہ آیا یہ بات جو وہ کر رہا ہے اچھی ہے یا نہیں؟۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی گفتگو کرنے والا اس عدمِ تفکیر کی وجہ سے کسی حرام میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ کی صورت میں اللہ کے عذاب کا مستحق بنا دیتا ہے۔ عیاذا باللہ۔ اور بعض اوقات تو وہ اتنی دور جہنم میں جا گرتا ہے جتنی مشرق و مغرب کے مابین مسافت ہوتی ہے۔
انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہے: ”بِسم الله تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حول ولا قُوَّة إِلَّا بالله“ تو (اس وقت) اس سے کہا جاتا ہے: تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی اور تو بچا لیا گیا اور (یہ سن کر) شیطان اس سے پرے ہٹ جاتا ہے۔ ابو داود کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:”اس پر ایک شیطان دوسرے سے کہتا ہے :اس آدمی پر تمہارا بس کیسے چلےگا جسے ہدایت دےدی گئی، جس کی طرف سے کفایت کر دی گئی اور جسے بچا لیا گیا؟“۔
اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ نےبتایا کہ جب کوئی آدمی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ کہتا ہے: ”باسم اللهِ، توَکَّلْتُ على اللهِ، لا حولَ ولا قوَّةَ إلا بالله“ تو ایک فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے: اے اللہ کے بندے!تجھے راہِ حق کی طرف ہدایت مل گئی، تیری پریشانی کا بار اٹھا لیا گیا اور تجھے دشمنوں سے محفوظ کر دیا گیا۔ ایسا کہنے پر اس پر متعین شیطان دور ہٹ جاتا ہے اور ایک دوسرا شیطان اس شیطان سے کہتا ہے: تم اس آدمی کو گمراہ کیسے کر سکتے ہو جسے ہدایت دے دی گئی، جس کی طرف سے اس کا بوجھ اٹھا لیا گیا اور اسے تمام شیطانوں سے بچا لیا گیا؟ چوں کہ اس نے یہ الفاظ کہہ دیے ہیں اس لیے اب تمہارا اس پر زور نہیں چلے گا۔