





























Hadeeth Cards
Da'wa cards that highlight great meanings from the noble prophetic hadiths in a simple style and attractive display that helps the Muslim to have a deeper understanding of his religion in an easy way
All
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہ تم اپنے خلاف بد دعا کرو اور نہ ہی اپنے مال و اولاد پر۔ایسا نہ ہو کہ تمہاری بد دعا کا وقت اللہ کی طرف سے قبولیت کا ہو اور وہ تمہاری بد دعا قبول کر لے“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔رسول اللہ ﷺ اس حدیث میں (ہمیں) اپنے آپ، اولاد اور اموال کے خلاف بدعا کرنے سے ڈریا اور اس سے منع فرما رہے ہیں کیونکہ دعاء ایک عظیم الشان عمل ہے اور اگر گھڑی قبولیت کی ہوئی تو اللہ تعالی بندوں کی دعا قبول کرلیتا ہے۔ اس طرح سے دعا مانگنے والے اور اس کی اولاد اور مال کو نقصان پہنچتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ميں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے : میں نے اپنے رب سے دعا کی تھی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ مسلم کی روایت میں ہے: ”بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی ہے، جب تک وہ کسی برائی اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے اور جب تک وہ جلدی نہ کرے“۔ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ جلدی کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یوں کہنے لگے کہ میں نے بہت مرتبہ دعا کی تھی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ قبول ہوئی۔ اس پر وہ افسوس شروع کردے اور دعا کرنا چھوڑ دے“۔
متفق علیہنبی ﷺ بتا رہے ہیں کہ بندے کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ دعا کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ ہو اور وہ اس میں جلدی نہ کرے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! اس جلد بازی سے کیا مراد ہے، جو دعا کی قبولیت میں آڑے آتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ یوں کہے: میں نے دعا مانگی اور بار بار مانگی، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوئی۔ چنانچہ جلد بازی کرتے ہوئے وہ دعا ہی کرنا چھوڑ دے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ مجھے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا : ’’رب تعالی بندے کے سب سے نزدیک رات کے آخری حصے میں ہوتا ہے۔ لہذا اگر تم ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہو، جو اس وقت اللہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، تو ہو جاؤ۔‘‘
رواه أبو داود والترمذي والنسائينبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری تہائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہر شخص کی کوشش ہونی چاہیے کہ رات کے اس حصے میں جاگ کر اللہ کی عبادت کرے، نماز پڑھے، ذکر و اذکار میں مشغول رہے اور توبہ کرے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں آپ کے ہاتھ پر ہجرت اور جہاد کے لیے بیعت کرتا ہوں اور اللہ سے اس کا اجر چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا کہ جی ہاں بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم واقعی ﷲ سے (اپنی ہجرت اور جہاد کا) بدلہ چاہتے ہو؟ اس نے کہا کہ جی ہاں (میں اللہ سے اجر چاہتا ہوں)، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ تم لوٹ جاؤ، اپنے ماں باپ کی خدمت میں رہ کر ان کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ بخاری ومسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے آکر آپ ﷺ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت چاہی۔ آپ نے پوچھا : کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔
متفق علیہایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اللہ کی راہ میں جہاد اور ہجرت کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے لگا۔ یہ شخص اپنے پیچھے اپنے والدین کو چھوڑ کر آیا تھا ۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ "وہ رو رہے تھے " اس اندیشے کی وجہ سے کہ وہ مارا جائے گا۔ (یہ شخص گویا آپ ﷺ سے اپنے اس فعل کی تصدیق چاہتا تھا)۔ رسول اللہﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ بلکہ دونوں زندہ ہیں۔ آپ ﷺ نے مزید پوچھا: کیا تم واقعی اللہ تعالی سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں ۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا: اپنے والدین کے پاس لوٹ جاؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ ابوداود کی روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: ان کے پاس لوٹ جاؤ اور انہیں اسی طرح ہنساؤ جس طرح سے تم نے انہیں رلایا ہے ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسے اس کام کی طرف لوٹا دیا جس کا کرنا اس کے لیے زیادہ لائق اور زیادہ ضروری تھا۔ یعنی والدین کے پاس جا کر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔ اس سے مراد ان کی خدمت ، رضا جوئی اور فرماں برداری میں جد وجہد کرنا ہے ۔ جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ان دونوں کی خدمت میں جہاد کرو۔ اس حدیث میں یہ صراحت ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت اور ان کے ساتھ نیکی کا معاملہ کرنا جہاد فی سبیل اللہ سے بہتر عمل ہے ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا: نماز۔ اس نے پوچھا : اس کے بعد کون سا عمل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جہاد۔ وہ کہنے لگا کہ میرے تو والدین ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ اس حدیث کو ابن حبان نے ذکر کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک جہاد فی سبیل اللہ سے افضل ہے ۔ ماسوا اس وقت کے جب جہاد فرض عین ہوجائے کیونکہ فرض ہونے کی وجہ سے اسے والدین کی فرماں برداری پر مقدم رکھا جائے گا۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "سب سے بہتر دینار جو آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے، جسے وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے وہ اللہ کی راہ میں وقف کیے ہوئے اپني سواری کے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے، جو اللہ کی راہ میں اپنے دوست احباب پر خرچ کرتا ہے"۔ ابو قلابہ کہتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے آغاز اہل و عیال سے کیا ہے۔ پھر ابو قلابہ کہتے ہيں کہ اجر و ثواب میں اس آدمی سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے، جو چھوٹے چھوٹے بچوں پر اس لیے خرچ کرتا ہے کہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں یا اللہ تعالی اس سے ان کو نفع پہنچائے اور بے نیاز کر دے"۔
رواه مسلمیہاں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خرچ کرنے کی کچھ صورتیں بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ جب خرچ کرنے کے کئی مقامات آپس میں ٹکرانے لگیں، تو جو جتنا زیادہ اہم ہو، آغاز میں اسے اتنی فوقیت دی جانے چاہیے۔ آپ نے بتایا کہ ایک مسلمان کے ذریعے خرچ کیا گیا سب سے زیادہ ثواب والا مال وہ ہے، جسے وہ ان لوگوں پر خرچ کرے، جن کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ جیسے بیوی بچے وغیرہ۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے تیار کردہ سواری پر خرچ کیے گئے مال کا۔ اس کے بعد نمبر آتا ہے اپنے دوستوں اور ساتھیوں پر خرچ کرنے کا، جو اللہ کی راہ میں جنگ کر رہے ہوں۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی شخص پسندیدہ خواب دیکھے تو (جان لے کہ) یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ لہذا اس پر اللہ کی حمد و ثنا کرے اور اسے بیان کرے۔ اور جب اس کے برعکس ناپسندیدہ بات خواب میں دیکھے، تو (جان لے کہ) یہ شیطان کی طرف سے ہے۔ لہذا اس خواب کے شر سے پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے، کیوں کہ وہ اسےقطعی نقصان نہیں دے سکے گا“۔
رواه البخارياللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ نیند کی حالت میں دیکھا جانے والا اچھا اور خوش گوار خواب اللہ کی جانب سے ہوتا ہے۔ لہذا اس پر اللہ کی تعریف کرنی چاہیے اور اسے بتانا بھی چاہیے۔ اس کے برخلاف جب انسان کو ناگوار اور دکھی کرنے والا خواب نظر آئے، تو جان لے کہ یہ شیطان کی جانب سے ہے۔ لہذا ایسے خواب کی برائی سے اللہ کی پناہ مانگے اور کسی کو نہ بتائے۔ اتنا کر لینے کے بعد اسے کوئی نقصان نہيں ہوگا۔ کیوں کہ اللہ نے مذکورہ امور کو خواب کے نتیجے میں مرتب ہونے والی برائی سے حفاظت کا ذریعہ بنایا ہے۔
صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : "مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب کہ ایسا مومن کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے آسودہ حالی ملتی ہے اور اس پر وہ شکر کرتا ہے، تو یہ شکر کرنا اس کے لیے باعث خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تنگی لاحق ہوتی ہے اور اس پر صبر کرتا ہے، تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے باعث خیر ہے۔"
رواه مسلماللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم مومن کے احوال پر بطور استحسان تعجب فرما رہے ہیں۔ کیوں کہ اس کے سارے احوال خیر کے حامل ہیں۔ جب کہ یہ شرف مومن کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہيں ہے۔ اگر اسے خوشیاں ملتی ہیں اور وہ اللہ کا شکر بجا لاتا ہے، تو اسے شکر کی وجہ سے اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔ جب کہ اگر اسے تکلیف کا سامنا ہوتا ہے اور وہ اسے اللہ کے یہاں اجر و ثواب کا ذریعہ سمجھتا ہے، تو اسے صبر کی بنا پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس طرح اس کا دامن ہر حال میں اجر و ثواب سے بھرا رہتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے رسول ﷺ کو جب چھینک آتی، تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور اس سے اپنی آواز کو ہلکی یا پست کرتے۔
رواه أبو داود والترمذي وأحمداللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو جب چھینک آتی، تو سب س پہلے اپنے منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھتے، تاکہ منہ یا ناک سے کوئی ایسی چیز نہ نکلے، جس سے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو اذیت ہو۔ دوسرے نمبر پر آواز دھیمی کر لیتے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس کا خوف مجھے تم پر مسیح دجال سے بھی زیادہ ہے؟، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیوں نہیں؟ (ضرور بتلائیں)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شرک خفی“ کہ کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو اور اپنی نماز کو محض اس لیے سنوار کر پڑھے کہ کوئی دوسرا اسے دیکھ رہا ہے۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔صحابہ کرام باہم مسیح دجال کے فتنے کا ذکر کر رہے تھے اور اس سے خوف کا اظہار کر رہے۔ نبی ﷺ نے انہیں بتایا کہ ایک ایسی ممنوعہ شے ہے جس کا آپ ﷺ کو ان کے سلسلے میں دجال کے فتنے سے بھی زیادہ ڈر ہے ، اور وہ ہے نیت اور ارادے میں شرک کا ارتکاب کرنا۔ جو لوگوں کے سامنے ظاہر نہیں ہوتا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے عمل کو جس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہو لوگوں کو دکھانے لیے خوب سنوار کر کیا جائے۔